0
Friday 12 Jan 2018 19:18

اردن میں ناکام سعودی بغاوت

اردن میں ناکام سعودی بغاوت
تحریر: علی کاشانی

حال ہی میں اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم نے ممکنہ بغاوت روکنے کیلئے اپنے انتہائی قریبی تین شہزادوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جس کے نتیجے میں انہیں ان کے گھروں میں ہی نظربند کر دیا گیا۔ سننے میں آیا ہے کہ عمان کے انٹیلی جنس اداروں نے ملک عبداللہ دوم کے بھائیوں اور چچازاد بھائی کے ساتھ بعض سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اعلی سطحی حکام کی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کی تھی جس میں واضح طور پر اردن کے فرمانروا کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

اردن کے باخبر ذرائع کے مطابق سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم کے خلاف بغاوت کی سازش تیار کی تھی جو اب ناکام بنا دی گئی ہے۔ یاد رہے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اس سے پہلے لبنان کے اندرونی معاملات میں بھی کھلی مداخلت کرتے ہوئے لبنانی وزیراعظم سعد حریر کو استعفی دینے پر مجبور کیا اور انہیں کئی دنوں تک سعودی عرب میں نظربند کر دیا گیا۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں بھی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ذریعے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرنے کی سازش تیار کی لیکن اسے بھی مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا اور علی عبداللہ صالح بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اسرائیل کے بعض باخبر ذرائع کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ ثانی نے اپنے دو بھائیوں شہزادہ فیصل بن الحسین اور شہزادہ علی بن الحسین اور اپنے چچازاد بھائی طلال بن محمود کو ان کے عہدوں سے برطرف کر کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے۔ یہ تینوں شہزادے اردن آرمی میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ان سے ان کے عہدے واپس لے لئے گئے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی نیوز ویب سائٹ "برٹ بارٹ نیوز" لکھتی ہے کہ یہ تینوں اردنی شہزادے سعودی اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں اور فوجی کمانڈرز سے مل کر اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ ثانی کے خلاف بغاوت کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

دوسری طرف موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے استنبول میں قدس شریف کے بارے میں منعقد ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ ثانی کی شرکت روکنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ یاد رہے اس اجلاس میں سعودی عرب نے نچلی سطح کے حکومتی عہدیدار کے ذریعے شرکت کی تھی اور اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم اس اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔

سعودی عرب کا جوان ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے مطلوبہ اہداف میں ناکامیوں کے باعث اردن اور فلسطین اتھارٹی کے حکام سے شدید ناراضگی کا اظہار کر چکا ہے۔ دوسری طرف اردن خطے سے متعلق سعودی پالیسیوں کو غیرمفید قرار دے کر ان سے دور ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اردن کی نظر میں آل سعود رژیم کی پالیسیاں شدت پسندی پر مبنی ہیں اور خطے کیلئے خطرناک ہیں۔ لہذا اردن کا جھکاو قطر، ترکی اور ایران کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے اردن میں سیاسی تبدیلی کی غرض سے بغاوت کی کوشش کے بعد اردن اور سعودی عرب میں تعلقات شدید تناو کا شکار ہو گئے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے کیا سوچ کر بغاوت کے ذریعے اردن میں فرمانروا ملک عبداللہ ثانی کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی ہے؟ یہ پہلی بار نہیں کہ سعودی ولیعہد اس طرح کے غیرقانونی اقدام میں شکست کا شکار ہوا ہے۔ 32 سالہ محمد بن سلمان نے تقریباً دو ماہ قبل لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو سعودی عرب بلا کر استعفی دینے پر مجبور کیا اور انہیں سعودی عرب میں ہی نظربند کر دیا۔ ان کے اس اقدام کا مقصد حزب اللہ لبنان اور ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ شروع کرنا تھا۔

سعودی ولیعہد لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کو ہٹا کر ان کے بھائی کو آگے لانا چاہتے تھے لیکن انہیں اپنے مقصد میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں بھی انصاراللہ یمن کے اتحادی اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو اپنے ساتھ ملا کر دارالحکومت صنعا کو اپنے قبضے میں لینے کی سازش تیار کی لیکن یہ سازش بھی ناکامی کا شکار ہوئی اور علی عبداللہ صالح ناکام بغاوت کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قبول کرنا بھی اردن اور سعودی عرب میں فاصلے بڑھنے کا باعث بنا ہے۔

سعودی عرب اور اردن کے درمیان تعلقات میں تناو کی شدت کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہے کہ اردن کے فرمانروا ملک عبداللہ دوم بذات خود استنبول میں منعقدہ او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ہمراہ امریکی صدر کی جانب سے قدس شریف اور اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کی شدید مخالفت کا اظہار کیا۔

اسی طرح اردن نے شام سے متعلق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پالیسی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں سے اختلافات کی شدت کے باعث اردن اس وقت ترکی، قطر اور ایران سے تعلقات بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران اردن کی پارلیمنٹ کے چیئرمین ترکی کے اعلی سطحی حکام سے ملاقات کے علاوہ ایرانی سفیر اور شام کے ناظم الامور سے بھی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ سعودی عرب نے ان ملاقاتوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اردنی حکام اپنی سابقہ پالیسیاں جو آل سعود رژیم اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی ایماء پر ایران دشمنی پر مبنی تھیں ترک کر چکے ہیں اور اب خطے سے متعلق نئی پالیسی وضع کرنے میں مصروف ہیں۔ عراق اور شام میں داعش کے خاتمے کے بعد خطے میں نئی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال معرض وجود میں آئی ہے جس نے خطے کے ممالک کو جدید زمینی حقائق کی روشنی میں اپنی خارجہ پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیل کا مستقل دارالحکومت قرار دیئے جانے کے بعد امریکہ کا حقیقی چہرہ کھل کر سامنے آ گیا ہے اور خطے کے ممالک اس کی بدنیتی کو اچھی طرح بھانپ گئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ خطے میں امریکی پٹھو حکومتوں سے بھی دور ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ قدس شریف اور مسئلہ فلسطین ایک ایسا ایشو ہے جسے کوئی بھی مسلمان آسانی سے نظرانداز نہیں کر سکتا اور جن مسلمان حکمرانوں میں ذرہ بھر اسلامی غیرت موجود ہے وہ اب اپنی صفیں امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے پٹھو حکمرانوں یعنی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے علیحدہ کرنے میں مصروف ہو گئے ہیں۔

اردن کی کل آبادی 60 لاکھ ہے جس کا 50 فیصد حصہ فلسطینی مہاجرین پر مشتمل ہے۔ لہذا اردن ہر گز مسئلہ فلسطین پر سودابازی نہیں کر سکتا اور فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کی منحوس سازش میں شریک نہیں ہو سکتا۔ یہ سازش دراصل امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی ہے اور خطے کے بعض عرب ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر بھی اس میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اردن کے شمال میں شام واقع ہے، شمال مشرق میں عراق اور مشرق اور جنوب میں سعودی عرب واقع ہے۔ اسی طرح اردن کے مغرب میں مقبوضہ فلسطین کا علاقہ مغربی کنارہ واقع ہے۔ اردن کی معیشت کا زیادہ تر انحصار ٹورازم، چھوٹے خام تیل کے ذخائر اور اپنے ملک سے گزرنے والی خام تیل کی پائپ لائنز پر ہے۔
خبر کا کوڈ : 696575
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب