0
Friday 26 Jan 2018 22:19

شام میں ترکی کا فوجی آپریشن

شام میں ترکی کا فوجی آپریشن
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

ترک حکام شام میں اپنے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد عناصر کی تنظیم نو اور 22 ہزار افراد پر مشتمل نئی فوج بنانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ اسی طرح ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی شام کے شمال میں واقع شہر عفرین کے نواح اور دریائے فرات کے مغرب میں موجود کردی علاقے "کینٹن" پر فوجی چڑھائی کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکی حکام بھی شام کے زیر کنٹرول کردستان میں کرد جنگجووں پر مشتمل 30 ہزار افراد کی فوج بنانے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔ اسی بات کے پیش نظر بعض ماہرین کے خیال میں عنقریب ہم شام میں امریکی کی نئی فوجی مہم جوئی کے شاہد ہوں گے۔ شام میں امریکہ، ترکی اور کرد جنگجووں کی سرگرمیوں اور مستقبل میں ان کے ممکنہ اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ تحریر حاضر میں شام کے شمالی حصے میں جاری سیاسی تبدیلیوں کی دقیق تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس بارے میں موجود مختلف مفروضات اور قیاس آرائیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

1)۔ ترکی حکومت نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ اور روس کے شہر سوچی میں ایران اور روس کے ساتھ جاری مذاکرات نیز جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت شام حکومت اور حکومت مخالف گروہوں کے درمیان جاری مذاکرات کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کے شمالی شہر عفرین پر فوجی چڑھائی کر دی ہے۔ ترکی کا دعوی ہے کہ اس نے یہ فوجی آپریشن شام کے زیر کنٹرول کردستان میں موجود کرد جنگجووں کی جانب سے ترکی کو درپیش قومی سلامتی سے متعلق خطرات کے پیش نظر شروع کیا ہے۔ شام کا شہر عفرین ترکی کی سرحد سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ اسی طرح ترک حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام حکومت کے مخالف مسلح گروہوں پر مشتمل 22 ہزار افراد کی نئی فوج بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو تین ڈویژنز پر مشتمل ہو گی۔ یاد رہے ترکی ان گروہوں کو "اعتدال پسند" قرار دیتا ہے جبکہ شام حکومت نے انہیں دہشت گرد گروہ قرار دے رکھا ہے۔ ان میں سے ایک فری سیرین آرمی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں "جارحیت" کا واضح مصداق ہے۔ اسی طرح ترکی کی اس فوجی کاروائی کے خطے پر بھی انتہائی منفی اثرات ظاہر ہوں گے کیونکہ ایک ملک کی جانب سے دوسرے ملک کی حدود میں کسی قسم کی فوجی سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کا مقدمہ فراہم ہونے کا سبب بنتا ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ شام میں ترک فوج کی یکطرفہ اور غیر قانونی کاروائی سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر خود ترکی کو نقصان پہنچائے گی۔ دوسری طرف ماضی کے تجربات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شام آرمی اور اس کے اتحادی اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ترکی کی فوج بڑے پیمانے پر براہ راست مداخلت کے بغیر اور محض شام کے حکومت مخالف ایسے مسلح دہشت گرد عناصر کی مدد سے جنہیں گذشتہ کئی سالوں سے ترکی کے حساس اداروں کی جانب سے فوجی اور مالی امداد مہیا کی جا رہی ہے، وہ اہداف حاصل کر پائے گی جو ترک حکام کے بیانات اور سرکاری اعلامیوں میں بیان کئے گئے ہیں؟ ترک آرمی کی جانب سے ایک قدم آگے بڑھانے اور ایک قدم پیچھے ہٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آپریشن کا کنٹرول روم شدید تذبذب کا شکار ہے۔ دوسری طرف وہ 22 ہزار جنگجو جن کی بات انقرہ کر رہا ہے درحقیقت وہی دہشت گرد عناصر ہیں جنہیں آستانہ مذاکرات میں "مذاکرات کے قابل گروہ" قرار دیا گیا ہے اور ان کے کمانڈرز بھی ان مذاکرات میں شرکت کر چکے ہیں۔

انتہائی واضح ہے کہ جب ایک مسلح گروہ، حکمفرما سیاسی نظام کے خلاف ایک عرصے تک مسلح کاروائیاں کرنے کے بعد اسی نظام کے لیڈران سے مذاکرات کی میز پر بیٹھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ فوجی میدان میں اپنی شکست مان چکا ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ ان مسلح دہشت گرد گروہوں کو ایسے حالات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جب بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر اور خود شام کے اندر صدر بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے پر مبنی فضا قائم کر دی گئی تھی۔ ترکی آج ایسی نئی فوج کی تشکیل کی بات کر رہا ہے جس میں شامل جنگجو عناصر حقیقت میں نئے نہیں بلکہ وہ ماضی میں شام حکومت کے خلاف لڑتے ہوئے میدان جنگ میں شکست کا سامنا کر چکے ہیں۔

2)۔ اگرچہ ترکی اس بابت پریشان ہے کہ کہیں اس کی جنوبی سرحد کے قریب ایک کرد طاقت معرض وجود میں نہ آ جائے لیکن بعید ہے وہ اپنے اندر ان سے مقابلے کی صلاحیت محسوس کرتا ہو لہذا یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ حالیہ فوجی آپریشن سے ترکی کا مقصد کردوں کی پوزیشن کمزور کرنا ہے۔ ترک حکام اپنے ایران ہم منصب افراد سے ملاقات کے دوران انقرہ کے نامناسب فیصلوں پر تنقید کی فضا کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا وہ شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کی حقیقی وجہ صالح مسلم کی سربراہی میں سرگرم کردوں کو طاقت پکڑنے سے روکنا بیان کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ شام کے شمال میں ترکی کی فوجی سرگرمیاں مشکوک دکھائی دیتی ہیں۔

ایران، روس اور ترکی کے درمیان انجام پائے معاہدے میں اس بات پر اتفاق رائے کرنے کے باوجود کہ شام میں ان تین ممالک میں سے کسی ملک کی جانب سے ہر قسم کی فوجی سرگرمی باقی دونوں ممالک کو اعتماد میں لے کر انجام دی جائے گی، ترکی نے مذکورہ بالا فوجی اقدام سے پہلے ایران اور روس کو باخبر نہیں کیا جو ان سرگرمیوں کے مشکوک ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح ترکی کے اس موقف کے تناظر میں کہ عراق اور شام ماضی میں خلافت عثمانیہ کا حصہ رہنے کے باعث اب بھی ترکی کے زیر کنٹرول رہنے چاہئیں، اس بات کا قومی امکان ہے کہ ترکی کی جانب سے شام میں حالیہ فوجی آپریشن کا مقصد اس ملک کے شمالی حصے میں ایک اہم علاقے پر قبضہ جمانا ہے تاکہ اگر مستقبل میں شام پر فیڈرل نظام حکومت نافذ کیا جاتا ہے تو ترکی اپنی سرحد کے قریب واقع خودمختار ریاست پر کافی حد تک اثرورسوخ کا حامل ہو سکے۔

3)۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترکی شام کے صوبہ حلب میں واقع کرد نشین علاقوں یعنی حلب کے مشرق میں واقع شہر الباب سے لے کر شام کے شمال مغرب میں واقع شہر ادلب تک ایک ایسی خودمختار ریاست قائم کرنے کے درپے ہے جس کا انحصار ترکی پر ہی ہو۔ اس اقدام کا ایک مقصد شام میں فیڈرل نظام حکومت کے نفاذ کا مقدمہ فراہم کرنا بھی ہے۔ ترکی کئی سالوں سے پہلی عالمی جنگ کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں منعقد ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کے درپے ہے۔ ترکی درحقیقت دمشق حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ فوجی اقدام کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس کی نظر میں اس علاقے کا شام کی مرکزی حکومت سے کوئی تعلق نہیں لہذا اس علاقے کا اپنی سابقہ سیاسی صورتحال کی جانب واپسی کا کوئی ٹائم فریم مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

دوسری طرف شام کا وہ علاقہ جس پر ترکی اپنا حق جتانے کی کوشش کرتا ہے خاص طور پر صوبہ حلب کے شمال مشرق میں واقع شہر الباب سے لے کر اس کے شمال مغرب میں واقع شہر عفرین تک کا علاقہ کرد اور ترکمن باشندوں پر مشتمل ہے جس کا ترکی کی مرکزی حکومت سے کوئی قومی تعلق نہیں بنتا۔ شام میں ترکی کا فوجی اقدام شام کی علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ ثابت ہونے کے علاوہ ایک نئی جنگ اور فوجی ٹکراو بھی ہے۔ اس جنگ کے کئی فریق ہیں جن میں سے ایک ترکی کی فوج ہے۔ اسی وجہ سے اس میں کوئی شک نہیں کہ ترکی انتہائی کم وقت میں اور آسانی سے شکست کا شکار ہو جائے گا۔

4)۔ اس مسئلے میں روس کا موقف خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایک طرف ترکی کا یہ اقدام عملی طور پر آستانہ مذاکرات اور مستقبل میں انجام پانے والے معاہدوں کیلئے خطرناک ثابت ہو رہا ہے جبکہ روس نے اپنے پیش کردہ راہ حل پر عزت اور حیثیت کی بازی لگا رکھی ہے، اور دوسری طرف شام کا شمالی علاقہ روس کی آمدورفت کا علاقہ ہے لہذا انقرہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے بغیر اس طرح کی فوجی کاروائی کی جرات نہیں رکھتا تھا۔ گذشتہ ہفتے ترکی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی کے سربراہ اور ترکی کے چیف آف آرمی سٹاف کے دورہ ماسکو سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بارے میں پہلے سے ترکی اور روس میں مفاہمت موجود نہیں تھی۔

دوسری طرف روس کی مسلح افواج کا عفرین سے باہر نکل جانا یہ تاثر دیتا ہے کہ روسی حکومت نے اس علاقے میں ترکی کو فوجی آپریشن کیلئے فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ لہذا اکثر سیاسی ماہرین اس بات پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ماسکو اور انقرہ مل کر شام کے شمالی حصے کو مطلوبہ شکل دے رہے ہیں۔ اگر یہ مفروضہ حقیقت کے مطابق ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ماسکو نے ایک کم اہمیت اور مختصر مدت والے فائدے کو ترجیح دی ہے جو روسی حکام کی ذہانت اور عقلمندے کے منافی ہے۔ یہاں روسی حکام پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ترکی کے مقابلے میں سستی کا مظاہرہ کیا ہے۔

5)۔ اگرچہ کرد، ترکی کے اس فوجی آپریشن کی نذر ہو رہے ہیں کیونکہ ان میں ترک آرمی اور ترکی کے حمایت یافتہ مسلح دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں لیکن وہ کافی حد تک اس صورتحال کے ذمہ دار بھی ہیں۔ کردوں کی جانب سے امریکہ کا دامن تھامنا اور جھوٹی طاقت کا مظاہرہ کرنا ترکی کی فوجی جارحیت کا باعث بنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صالح مسلم کی قیادت میں کرد گروہوں نے شام حکومت کی جانب سے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں شام آرمی تعینات کرنے کی پیشکش مسترد کر کے امریکہ اور ترکی کی مداخلت کا مقدمہ فراہم کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صورتحال کردوں کے نقصان میں ہے کیونکہ وہ ہر طرف سے بیرونی طاقتوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں اور ان کا ہر اقدام انہیں کیلئے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

6)۔ ترکی کی جانب سے شام میں فوجی کاروائی "کشیدگی کم کرنے والے علاقوں" پر مبنی منصوبے کو شدید متاثر کرے گی کیونکہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں گذشتہ سال سے شروع ہونے والے مذاکرات کا اصل مقصد فوجی ٹکراو میں کمی لانا اور شام میں موجود سکیورٹی بحران کا خاتمہ تھا۔ دراصل ممکن ہے شام میں جاری ترکی کی فوجی سرگرمیوں سے یہ تاثر ملے کہ ترکی آستانہ مذاکرات، سوچی اجلاس اور جنیوا مذاکرات سے باہر نکل گیا ہے۔ اگر یہ تاثر صحیح ہو تو ایران بھی ان مذاکرات سے باہر آ جائے گا۔ یہ امر روس کی جانب سے شام میں جاری بحران کے حل سے متعلق پیش کردہ منصوبے کے مکمل طور پر ختم ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسری طرف شام میں ترکی کی فوجی کاروائی نے خطے کے ممالک کو بھی شدید پریشانی کا شکار کر دیا ہے اور ترکی سے ان کے تعلقات پر بھی منفی اثرات ڈالے ہیں۔

7)۔ ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف مسلسل دھمکیوں کے اظہار کے باوجود امریکہ نے عملی طور پر کردوں کے دفاع کیلئے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا۔ حتی پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ ترکی کے تحفظات کو سمجھتا ہے۔ شام کے کرد جنگجووں کے ایک کمانڈر سیبان حمو نے کہا تھا کہ امریکہ مشکل گھڑی میں کردوں کی مدد کرنے کیلئے تیار ہے لہذا ترکی ہر گز عفرین پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس موقع پر امریکی حکام کے جھوٹے وعدوں کی ایک اور مثال قائم ہو گئی ہے۔ ترکی کی فوج کے مقابلے میں امریکہ کی خاموشی نے کردوں کو آسان ہدف اور سستا شکار بنا ڈالا ہے۔ اس لڑائی میں کرد نہ صرف رقہ، حلب کے مشرق، مغرب اور جنوب میں واقع علاقے ہاتھ سے گنوا بیٹھیں گے بلکہ ممکن ہے حتی صوبہ حسکہ کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں باقی نہ رکھ پائیں۔
خبر کا کوڈ : 699934
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب