0
Wednesday 14 Feb 2018 12:40

انقلاب اسلامی ایران کا پیغام، ما می توانیم!

انقلاب اسلامی ایران کا پیغام، ما می توانیم!
تحریر: عرفان علی

11 فروری 2018ء کو انقلاب اسلامی کی انتالیسویں سالگرہ کے اگلے روز سحر اردو ٹی وی چینل کے سیاسی ٹاک شو انداز جہاں میں بائیس بہمن (گیارہ فروری) انقلاب کی سالگرہ کے اجتماعات میں عوام کی بھرپور شرکت اور صدر حسن روحانی کے خطاب سے متعلق اظہار رائے کا موقع ملا۔ ہمارے بہت ہی محترم اور ہر دلعزیز جناب سید ساجد رضوی صاحب میزبان تھے۔ مجھ سے دو سوال ہوئے۔ پہلا سوال عالمی و علاقائی ذرایع ابلاغ نے ان اجتماعات کو کیسے دیکھا۔ دوسرا سوال ایران پر امریکی و اتحادیوں کے الزامات سے متعلق تھا، جس پر وقت کی کمی کے باعث بات مکمل نہ ہو پائی۔ اس لئے اس سال انقلاب کی سالگرہ کے حوالے سے اور نامکمل بات کو مکمل کرنے کے لئے چند نکات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ دنیا بھر میں یہ مناظر دیکھے گئے کہ عوام کا اوقیانوس ایران کی مرکزی شاہراہوں پر جمع تھا۔ محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا۔ ریکارڈ کی درستگی کے لئے عرض کر دوں کہ ایران کے ایک ہزار سے زائد شہروں اور چار ہزار سے زائد قصبوں اور دیہاتوں میں انقلاب اسلامی کی سالگرہ کا جشن منانے کے لئے ریلیاں نکالی گئیں۔ یہ ایک ریکارڈ عوامی شرکت تھی۔ ان ریلیوں اور خاص طور پر تہران کی مرکزی ریلی کی کوریج کے لئے دنیا بھر اور اس خطے کے 71 ذرائع ابلاغ کے 125 نمایندگان ایران وارد ہوئے تھے۔ ڈیڑھ سو سے زائد ایرانی صحافی اس کے علاوہ تھے۔

پچھلے کئی برسوں سے گیارہ فروری (ایرانی کیلنڈر کے مطابق بائیس بہمن) کی ان ریلیوں کی مانیٹرنگ کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ملت ایران ہر سال اس دن ایک ریفرنڈم برپا کرتی ہے۔ اس انقلاب کے دوام کے لئے کروڑوں کی تعداد میں عوامی شرکت درحقیقت خود ایک انقلاب سے کم نہیں۔ میری نظر میں ایران میں گرمی، سردی، بہار و خزاں کے علاوہ گیارہ فروری کا ایک دن ایسا ہوتا ہے، جب ایرانی پانچواں موسم ایجاد کرتے ہیں۔ ایرانی سردی و بہار کے مزے لینے کے لئے اپنے وجود میں انقلاب سے وفاداری کے عہد کی حرارت (گرمی) پیدا کرتے ہیں اور اس طرح جب وہ پانچواں موسم یعنی سالانہ انقلاب کا موسم ایجاد کرتے ہیں تو دشمن و مخالفین کے ساتھ ساتھ شک و تردد کے شکار ’’اپنوں‘‘ پر خزاں طاری کر دیتے ہیں۔ ملت ایران ایک معجزہ ساز ملت ہے اور اس ملت کو انقلابی ملت میں تبدیل کرنے والے ہنر ساز امام خمینی ؒ تھے اور ان کو اس حالت پر برقرار رکھنے کا کریڈٹ امام خامنہ ای کو جاتا ہے۔ ملت ایران استقامت، خود اعتمادی، خود انحصاری و مقاومت کا استعارہ بنی ہے تو اس کے پیچھے صرف ایک توانائی بخش نعرہ ہے اور یہ نعرہ خمینی ؒ بت شکن کی ایجاد ہے، جو صرف ایرانیوں کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام و سارے مستضعفین جہاں کے لئے ہے اور وہ نعرہ ہے ما می توانیم! ’’ہم کرسکتے ہیں!‘‘Yes, we can do!

ہر سال کروڑوں افراد کا فروری کے سرد ترین موسم میں اور وہ بھی ایران کی سردی جو کہ ویسے ہی شدید ہوتی ہے، ایسے موسم میں ایرانی پرچم اٹھا کر انقلاب اسلامی ایران کے نظام حکومت اور اپنی مملکت سے وفاداری و محبت کے اظہار کے لئے پورے خانوادے کے ساتھ ریلیوں میں شرکت، ہمیں تو یہ سوچ کر ہی کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ متعدد مرتبہ دیکھا ہے کہ شدید ترین برفباری میں بھی اس انقلاب کی سالگرہ کی ریلیوں میں شرکت کے لئے گھروں سے نکلے۔ صدر حسن روحانی سمیت ایرانی حکومت کے عہدیداروں نے بالکل درست کہا کہ یہ ریلیاں اور اس میں عوام کی بھرپور شرکت امریکہ و اسرائیل کو ایرانیوں کا جواب ہے۔ کہاں ہیں امریکی صدر ٹرمپ اور اس کے اتحادی جو ملت ایران اور ان کے اس نمائندہ نظام کے درمیان فاصلوں کا جھوٹا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کرکے پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ ایران کی جانب سے امریکی حکومت، جعلی ریاست اسرائیل اور ان کی اتحادی منافق حکومتوں کو گیارہ فروری کو کرارا جواب دیا گیا اور یہ بھرپور شرکت کہہ رہی تھی کہ جی ہاں! ہم کرسکتے ہیں! ما می توانیم۔ صوبہ سیستان و بلوچستان کا سنی و بلوچ ہو، یا کردستان کا کرد، یا آذربائیجان شرقی و غربی کے آذری ایرانی ہوں یا خوزستان کے عرب ایرانی، یا دیگر علاقوں کے فارسی زبان ایرانی، حتٰی کہ غیر مسلم اقلیتیں بھی، یہ سبھی ان ریلیوں میں پیش پیش نظر آئیں، یہ ہے ایرانی قوم کی یکجائی، محبت، و یگانگت و ہم دلی و ہم زبانی۔

ایران کے اسلامی انقلاب اور انقلابی اسلامی قیادت کا یہ نعرہ محض نعرہ نہیں بلکہ دنیا کی ستم رسیدہ ملتوں کے لئے ایک پیغام ہے اور دکھی انسانیت کو اسی ایک نعرے کی ضرورت تھی، کیونکہ نوآبادیات و تعمیر نو کے نام پر مسلط کی گئی صدیوں پر محیط سامراجیت نے زیر تسلط علاقوں میں کئی نسلوں تک صرف ایک ہی سوچ کو راسخ کیا کہ تم نہیں کرسکتے! تم اس قابل نہیں ہو کہ کچھ کرسکو! آج بھی مسلمان ممالک میں، پسماندہ ممالک میں مغربی ممالک کے ڈنکے بجتے ہیں، یہ کس نے ایجاد کیا، وہ کس نے ایجاد کیا؟ وہی کرسکتے ہیں، ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ مغربی چکا چوند کے ذہنی غلاموں کا بیانیہ تھا، لیکن امام خمینی ؒ نے اس کا جواب صرف ایک جملے میں دیا: ما می تو انیم! ہم کرسکتے ہیں! آج ایران کار سے لے کر میزائل، بحری اور ہوائی جہاز و ہیلی کاپٹر سے لے کر مختلف اقسام کا اسلحہ خود بنا رہا ہے، ایٹمی بجلی گھر کا ایندھن خود بنا رہا ہے، نینو ٹیکنالوجی میں بہت پیش رفت کرچکا ہے۔ ایٹمی توانائی کا طب کے شعبے میں استعمال کر رہا ہے۔ ایران میں زیر زمین ریل (میٹرو ٹرین) چلتی ہے۔ ایران کی فلموں اور ڈراموں کا بین الاقوامی سطح پر ڈنکا بج رہا ہے۔ یہ صرف اکا دکا مثالیں ہیں، ورنہ کونسا شعبہ زندگی ایسا نہیں ہے کہ جہاں ایرانیوں نے انقلاب اسلامی کے اس نعرے ما می توانیم کو سچ کر نہ دکھایا ہو۔ ایرانیوں نے صرف کہا نہیں بلکہ کرکے دکھایا ہے: ما می توانیم! اب سوال یہ کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے ایران پر الزام تراشی کیوں کی جا رہی ہے، ان الزامات کی حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب خود مغربی ممالک کے خواص اور اہل دانش دے چکے ہیں کہ امریکہ سمیت پورا مغربی بلاک اپنے داخلی مسائل سے اپنے اپنے ملک کے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں ایران پر الزامات لگا کر ایک فرضی خطرے سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ ان کے اندرونی مسائل یہ ہیں کہ وہ نسل پرست ہیں اور سفید فام نسل کی برتری کے قائل ہیں، مسلمانوں، عربوں دیگر ایشیائی عوام، ریڈ انڈین، نیٹیو امریکن، میکسیکن نژاد اور خاص طور افریقی نژاد انسانوں کو کم تر اور گھٹیا نسل سمجھتے ہیں۔

تعلیمی اداروں اور رہائشی علاقوں کو بھی اسی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا ہے۔ امیر اور غریب کا فرق بہت زیادہ ہے، سرمایہ دار طبقہ حاکم ہے، اخلاقی بحران ہے، بغیر نکاح کے جنسی تعلقات اور اس کے نتیجے میں ناجائز بچوں کی پیدائش، ہم جنس پرستی، سمیت ان گنت مسائل سے دوچار ہیں۔ خارجہ محاذ پر دیگر ممالک کے وسائل پر قبضہ اور اس کے لئے دیگر ممالک کے امور میں مداخلت، یہ سب وہ مسائل ہیں، جن سے توجہ ہٹانے کے لئے وہ ایران پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ ایک جھوٹا الزام یہ کہ ایران دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، اس جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کے لئے لبنان کی مثال پیش کی جاسکتی ہے، لبنان کے وزیراعظم سعد حریری سعودی عرب کے شہری ہیں! کیا ایک سعودی شہری کا لبنان کا وزیراعظم بن جانا، ایرانی مداخلت ہے یا سعودی مداخلت؟ پھر اس سعودی شہری کو سعودی عرب طلب کرکے اسکو وزیراعظم کے عہدے سے زبردستی مستعفی ہونے کا ااعلان کروانا، کیا یہ سعودی مداخلت ہے یا ایرانی؟ بحرین میں پرامن سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے کس ملک نے ٹینک اور فوجی بھیجے، سعودی عرب نے یا ایران نے؟ یمن پر جنگ کس نے مسلط کر رکھی ہے اور وہاں نہتے مسلمان عربوں کا قتل عام کون کر رہا ہے؟ امریکی سعودی اتحاد یا ایران؟ کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب میں کس کے فوجی اڈے ہیں، امریکہ کے یا ایران کے؟ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کی حکومت کی مخالفت کے باوجود وہاں زبردستی کس ملک نے اپنے فوجی بھیجے ہیں، امریکہ نے یا ایران نے؟ براعظم افریقہ، بحر احمر، باب المندب، خلیج عدن کے جزائر اور یمن کی بندرگاہوں عدن، مکلہ، موکھا وغیرہ پر کس ملک کی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے، متحدہ عرب امارات نے یا ایران نے؟ دنیا بھر میں، مغربی ایشیاء میں، مشرقی ایشیاء میں، یورپ میں، افریقہ میں جہاں بھی جایئے گا، امریکی فوجی اڈے، امریکی فوجی موجودگی نظر آئے گی، کہیں بھی ایران نہیں ہے۔ جب ہے ہی نہیں تو مداخلت کہاں سے اور کیسے کرے گا۔؟

اصل میں ایران کے اسلامی انقلاب نے اقوام عالم اور خاص طور پر مسلمانوں اور عربوں کو خواب غفلت سے بیدار کر دیا ہے۔ انہیں اپنے تجربات کے ذریعے سمجھا دیا ہے کہ امریکہ اور یورپ جو سائنسی ایجادات کرسکتے ہیں، کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو ہم نہیں کرسکتے۔ وہ یورینیم کی افزودگی کرسکتے ہیں تو ہم بھی کرسکتے ہیں، وہ جہاز، ریل، بحری جہاز بنا سکتے ہیں تو ہم بھی بنا سکتے ہیں۔ وہ خلاء میں تجربات کرسکتے ہیں تو ہم بھی کرسکتے ہیں، وہ میزائل کی طاقت سے مالا مال ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سامراج اور اس کے لے پالک پریشان ہیں، مایوس ہیں کہ ان کا یہ جھوٹا بھرم ٹوٹ رہا ہے۔ وہ سمجھ چکے ہیں دنیا کے دیگر ممالک کے وسائل کو انہوں نے مکاری سے اپنا دسترخوان بنا کر مال مفت سمجھ کر جو لوٹ مار مچا رکھی تھی، اس مفت کے کھانے پینے کا دورختم ہو رہا ہے۔ اب وہ دیگر اقوام کے وسائل کی بندر بانٹ اس طرح نہیں کرسکتے، جیسے اس انقلاب سے پہلے کرتے تھے۔ اس انقلاب کے بعد لبنان، عراق، یمن، بحرین، فلسطین سمیت ہر ملک کے غیرت مند عوام اغیار کے پٹھو طبقات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ مقاومت و بیداری، ایران کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے آئی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت ایران فوبیا اور اسلام فوبیا پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ساری توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ پاکستانیوں کے لئے بھی اسلامی انقلاب کا پیغام یہی ہے کہ ہم بھی ایرانیوں کی طرح خود اعتمادی، خود انحصاری، قومی غیرت، اسلامی حمیت کے جذبے سے سرشار ہوکر امریکی اثر و رسوخ سے مادر وطن کو آزادی دلا سکتے ہیں۔ جی ہاں، ہم کرسکتے ہیں!
خبر کا کوڈ : 704949
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب