0
Wednesday 14 Feb 2018 12:17

انقلاب اسلامی ایران کا انقلابِ فرانس اور روس سے تقابلی جائزہ

انقلاب اسلامی ایران کا انقلابِ فرانس اور روس سے تقابلی جائزہ
تحریر: عباس حسینی

انقلاب ِفرانس (1789ء)، انقلابِ  روس(1917ء) کے بعد ایران کا اسلامی انقلاب (1979ء) تاریخ معاصر کے اہم ترین واقعات میں سے ہیں، جن سے نہ صرف یہ ممالک بلکہ پوری دنیا متاثر ہوئی۔ انقلابِ فرانس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص یورپ پر بہت وسیع تھے۔ روس کے انقلاب نے گرچہ نظام سرمایہ دارای کو کچھ مدت کے لئے  ورطہ حیرت میں ڈال دیا اور روس جیسے پسماندہ ملک کو کچھ ہی مدت میں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا، لیکن یہ انقلاب بہت زیادہ دوام پیدا نہ کرسکا۔ آج ہمیں، بقول امام خمینی (رہ)، انقلابِ روس کو تاریخ کے عجائب گھر میں ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔ باقی اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ ایران کا اسلامی انقلاب دین اور عقیدہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والا انقلاب ہے، جس نے اڑھائی سو سالہ شہنشائیت کو چلتا کر دیا۔ تمام تر سختیوں، چیلنجز، مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود یہ انقلاب آج بھی قائم و دائم ہے۔ یقیناً یہ بات قابلِ تحقیق ہے کہ ان انقلابوں میں کونسی چیز آپس میں مشترک تھی اور کونسی بات ان انقلابوں کو ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز کرتی ہے؟ کیوں ایک انقلاب دوام پیدا کرتا ہے اور دوسرا کچھ عرصے بعد ہی اپنی ڈگر سے ہٹ جاتا یا ختم ہو جاتا ہے۔؟ اس حوالے سے ایک تقابلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور اس مختصر تحقیق میں اسی زاویے سے ان کی طرف نگاہ کی گئی ہے۔

انقلاب کا لغوی معنی:
انقلاب کا لفظ "قلب" سے نکلا ہے۔ قلب کے لغوی معنی کسی چیز کو الٹانے اور پلٹانے کے ہیں(قلب یقلب)۔ انسانی دل کو بھی اگر عربی زبان میں قلب کہا جاتا ہے تو اسی وجہ سے ہے، چونکہ یہ عضو خون کو اپنے اندر سے پلٹا کر صاف خون پورے جسم تک پہنچاتا ہے۔ انقلاب میں بھی یہی لغوی معنی مدنظر ہے۔ ایک فاسد نظام کو پلٹا کر اس کی جگہ نئے صاف نظام کو اس کی جگہ دی جاتی ہے۔
انقلاب کا اصطلاحی معنی:
انقلاب کے متعدد اصلاحی معانی بیان کئے گئے ہیں۔  انقلاب عام طور اس عوامی تحریک کا نام ہے، جس میں سختی کا عنصر پایا جاتا ہو اور جو کسی بھی ملک کی رہبریت اور سیاسی اجتماعی نظام  میں بنیادی اور اچانک تبدیلی پر منتہی ہو۔ سیاسی نظام میں تبدیلی کا نتیجہ عام طور اقتصادی، اجتماعی، تعلیمی اور تہذیبی نظام وغیرہ میں بھی تبدیلی ہے۔  انقلاب کی اس تعریف کے ساتھ اس کا اس سے مشابہہ دوسری اصطلاحات جیسے اورٹیک، اصلاح اور بغاوت وغیرہ سے فرق واضح ہو جاتا ہے۔

اسلامی انقلاب اور انقلابِ روس و فرانس میں مشترکات
عمومی حالات:
انقلاب سے پہلے کے حالات میں عوام میں نارضایتی اور شکوہ شکایت کا عنصر عروج پر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات اور نظام سے عوامی غصہ، غیض و غضب ہی انقلاب کی وہ چنگاری ہے، جو آگ کی صورت میں پھیلتی جاتی ہے اور آخرکار پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے کر اسے بھسم کر دیتی ہے۔ فرانس میں بوربن، روس میں رومانوف اور ایران میں پہلوی خاندان کی بادشاہت تھی۔ تینوں ملکوں میں ظلم و استبداد اور عوام کو دبانے کی سیاست کار فرما تھی۔ سب کی کوشش تھی کہ اقتصاد سے لے کر ملکی و بین الاقوامی سیاست اور لوگوں کے رہن سہن کے طور طریقے تک سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ پس ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ ایک خاندان کی رائے تھی، جسے جبر اور طاقت کے زور پر لوگوں پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔
عوامی جدوجہد:
عوام کی شرکت کا اندازہ تینوں ممالک میں مختلف ہے۔ کہیں زیادہ عوام بلکہ پورا ملک اٹھ کھڑا ہوا تو کہیں ایک خاص طبقہ اور جماعت اٹھ کھڑی ہوئی، جس کے ساتھ باقی لوگ ملتے گئے۔

اختلافات:
* اقتصادی حوالے سے:
انقلاب سے پہلے فرانس اور روس کے اقتصادی حالات انتہائی خراب تھے۔ (فرانس کی ملکہ کا قول: لوگوں نے کہا کھانے کو روٹی نہیں: کہا کیک کھا لیں۔) سیاسی حوالے سے بھی شاہ کی قدرت کمزور ہوگئی تھی۔ لیکن ایران میں حالات اس کے بالکل برعکس تھے۔ اقتصادی خوشحالی ملک پر حاکم تھی۔ تیل کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی تھی۔ ایران مشرق وسطٰی کا ترقی یافتہ ترین ملک تھا۔ کسی قسم کا قحط یا خشک سالی وغیرہ نہیں تھی۔ کوئی اقتصادی بحران نہیں تھا۔ کھانے پینے کے حوالے سے لوگوں کو مشکل نہیں تھی۔
* سیاسی حوالے سے:
فرانس اور روس میں انقلاب سے پہلے کی حکومتیں انتہائی کمزور تھیں، جبکہ ایران کی پہلوی حکومت سیاسی حوالے سے انتہائی مضبوط تھی اور اپنی قدرت کے اوج کو چھو رہی تھی۔ شاہ کو امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اسی لئے انقلاب سے 4 ماہ پہلے کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ ایران میں انقلاب کے کچھ بھی اثرات نہیں دکھائی دے رہے۔ شاہ کی حکومت کم از کم مزید دس سالوں کے لئے ضمانت شدہ ہے۔ 
* اجتماعی حوالے سے:
فرانس کا انقلاب درحقیقت ایک خاص طبقے کا انقلاب تھا۔ کچھ کے نزدیک یہ ایلیٹ کلاس تھی جو اپنا حصہ بڑھانے کی خاطر اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور بعض کے نزدیک بورژوازی طبقہ تھا، جو اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ روس میں بھی اصل انقلاب مزدوروں کا تھا۔(خصوصاً فروری والا انقلاب۔۔ جبکہ اکتوبر میں ایک نیا انقلاب آیا اور عبوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پہلی اشتراکی حکومت کی بنیاد رکھی۔) لیکن ایران میں زندگی کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد انقلاب میں برابر کے شریک تھے۔ شہر، دیہات، قریے سب اس انقلاب میں شریک تھے۔
* رہبریت:
فرانس اور روس کے انقلاب میں ایک خاص لیڈر نہیں تھا، جو اس کی رہبری کر رہا ہو، بلکہ مختلف مراحل میں مختلف رہبر سامنے آتے رہے اور اکثریت کا تعلق مرفہ یا متوسط طبقے سے تھا۔ (اگرچہ فرانس کے انقلاب میں روسو کے افکار اور روس کے انقلاب میں مارکس اور لنین کے افکار زیادہ موثر تھے۔) لیکن ایران کے انقلاب کے حوالے سے دوست دشمن سب کا اتفاق ہے کہ ایک مشخص رہبر تھا۔ حضرت امام خمینی (رہ) جنہوں نے اول سے آخر تک انقلاب کی رہنمائی کی اور ان کا تعلق معاشرے کے محروم طبقے سے تھا۔
* نعرے:
عوامی مطالبات کا نچوڑ انقلاب کے دوران لگائے گئے نعروں سے واضح ہوتا ہے کہ ایرانی عوام کا انقلاب دینی ماہیت رکھتا تھا، جبکہ فرانس کے انقلاب میں آزادی و مساوات اور روس کے انقلاب میں مادی چیزوں جیسے روٹی اور زمین وغیرہ کا مطالبہ کیا گیا۔
* فکری پس منظر:
ایران کے انقلاب میں رہبران کے ذہن میں صرف موجودہ حکومت کو گرانا مقصد نہیں تھا، بلکہ ایک متبادل مکمل نظام رکھتے تھے، جس کو نافذ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن روس اور فرانس میں مظاہرین کا اصل ہدف موجودہ حکومت کو گرانا تھا۔ لہذا روس میں نئے نظام کے آنے میں لگ بھگ آٹھ ماہ لگے۔
* روس اور فرانس کے مقابلے میں ایرانی انقلاب کے پیچھے دینی فکر اور نظریہ کارفرما تھا: فرانس کا انقلاب لیبرال ازم اور دین و سیاست کی جدائی کی بنیاد پر، جبکہ روس کا انقلاب مارکس ازم اور دین سے لڑائی کی بنیاد پر قائم ہوا۔ (مارکس کا قول: دین قوموں کے لئے افیون کی حیثیت رکھتا ہے)، جبکہ ایران کا انقلاب دین اور سیاست کی اکائی اور ولایت فقیہ کے نظریئے پر قائم ہے۔
خبر کا کوڈ : 705056
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب