0
Saturday 3 Mar 2018 09:06

سینیٹ کے انتخابات پر ایک نظر

سینیٹ کے انتخابات پر ایک نظر
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

آئین پاکستان کے مطابق سینیٹ ایک سو چار ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں سے، چودہ ہرایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے، آٹھ وفاق کے زیراہتمام قبائلی علاقوں سے ایسے طریقے سے منتخب کئے جائیں گے جو صدر فرمان کے ذریعے مقرر کرے گا، دو عام نشستوں پر اور ایک خاتون ایک ٹیکنوکریٹ بشمول عالم وفاقی دارالحکومت سے ایسے طریقے سے منتخب کئے جائیں گے جو صدر فرمان کے ذریعے مقرر کرے گا، چار خواتین ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے، چار ٹیکنوکریٹ بشمول علما ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے اور چار غیرمسلم، ہر صوبے سے ایک، ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ارکان منتخب کریں گے، سینیٹ میں ہرصوبے کے لئے متعین نشستوں کو پُر کرنے کے لئے انتخاب، واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے متناسب نمائندگی کے نظام کے مطابق کیا جائے گا، سینیٹ تحلیل کے تابع نہیں ہوگی، لیکن اس کے ارکان کی میعاد چھ سال ہوگی، ارکان میں سے سات پہلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائیں گے، ارکان میں سے چار پہلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائیں گے اور چار اگلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائیں گے۔ اسی طرح عام نشست پر منتخب ہونے والا ایک رکن پہلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائے گا اور دوسرا اگلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائے گا اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب ہونے والا ایک رکن پہلے تین سال کے اختتام کے بعد سبکدوش ہوجائے گا اور خواتین کے لئے مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی ایک رکن اگلے تین سال کے اختتام پر سبکدوش ہوجائے گی۔ کسی اتفاقیہ خالی جگہ کو پر کرنے کے لئے منتخب شدہ شخص کے عہدے کی میعاد اس رکن کی غیرمنقضی میعاد ہوگی جس کی خالی جگہ اس نے پر کی ہو۔

سینیٹر منتخب ہونے کیلئے پنجاب میں ہر جنرل نشست کیلیے امیدوار کو صوبائی اسمبلی کے 53 اراکین کی حمایت چاہیے ہوگی۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر اراکین کے اکثریتی ووٹ درکار ہوں گے۔ اقلیتی نشست پر بھی اکثریتی ووٹ کی ضرورت ہوگی۔ جبکہ سندھ سے سینیٹ کی نشست کو جیتنے کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو سات جنرل نشستوں کے لیے ایک امیدوار کو تقریباً 24 ووٹ لینے ہوں گے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں کے لیے امیدواروں کو انفرادی طور پر 80 سے زائد ووٹ درکار ہوں گے۔ اقلیتی رکن کا انتخاب ایوان کے اکثریتی ووٹ پر ہوگا۔ خیبرپختونخوا کی سات جنرل نشستوں پر ایک امیدوار کو جیتنے کیلیے 18 ووٹ لینا ہوں گے۔ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو، دو نشستوں پر ایک امیدوار کو 61، 61 ووٹ لینا ہوں گے۔ بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد کے لحاظ سے سینیٹ کی سات جنرل نشستوں میں سے ہر نشست کے لیے امیدوار کو نو (9) ووٹ لینے ہوں گے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی دو، دو نشستوں کے لیے امیدواروں کو 50 فیصد یا 33 اراکین کے ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔اسلام آباد اور فاٹا کی بات کی جائے تو ان نشستوں کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی ہوتا ہے، کسی بھی امیدوار کو جیت کے لیے قومی اسمبلی کے آدھے اراکین یعنی 171 کی حمایت حاصل کرنا ہوگی، سینیٹ میں فاٹا کے آٹھ میں سے چار نئے اراکین کا انتخاب کیا جائے گا، فاٹا کی چار جنرل نشستوں کو پْر کرنے کی ذمہ داری قومی اسمبلی میں موجود فاٹا اراکین کی ہے۔ فاٹا کے قومی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 12 ہے تاہم ایک حلقے میں امن امان کی صورتحال کے پیش نظر انتخاب نہیں ہوا تھا اس لیے فاٹا کے11 اراکین چار نئے سینیٹرز کو منتخب کریں گے۔اس طرح ایک امیدوار کو فاٹا کے صرف تین اراکین کی حمایت درکار ہوگی، جو کسی طرح ان تین اراکین کو رام کرنے میں کامیاب ہوگیا، وہ چھ سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوجائے گا۔

موجودہ الیکشن کے نتیجے میں نومنتخب سینیٹرز 11 مارچ کو ریٹائر ہونے والے سینیٹروں کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ 104 نشستوں پر مشتمل ایوانِ بالا کے 11 مارچ کو ریٹائر ہونے والے نصف سینیٹرز کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے، جبکہ ان میں آزاد حیثیت رکھنے والے بعض سینیٹرز بھی موجود ہیں جو اپنے عہدے کی چھ سال کی مدت پوری ہونے کے بعد ذمہ داریوں سے سبکدوش ہورہے ہیں۔ آج ہونے والے انتخابات سے قبل سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کچھ یوں ہے، مسلم لیگ نون کے27، پیپلز پارٹی پارلیمنٹریئنز کے 26، ایم کیو ایم پاکستان کے 8، تحریک انصاف کے 7، عوامی نیشنل پارٹی کے 6، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے 5، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 4، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے 3،نیشنل پارٹی کے 3، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے 2، بلوچستان نیشنل پاٹی مینگل کا 1، مسلم لیگ فنکشنل 1، جماعت اسلامی 1 اور اور آزاد اراکین کی کل تعداد 10 ہے، جس میں فاٹا کے 8 اراکین بھی شامل ہیں۔ ریٹائر ہونے والے سینیٹروں میں سب سے زیادہ تعداد پیپلز پارٹی کے ارکان کی ہے، جن کی تعداد 18 ہے، ان میں چئیرمین سینیٹ رضا ربانی بھی شامل ہیں، مسلم لیگ نون کے ریٹائر ہونے والے سینیٹروں کی تعداد 9 ہے جبکہ، عوامی نیشنل پارٹی کے پانچ، ایم کیو ایم کے چار، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تین، مسلم لیگ (ق) کے دو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو، تحریک انصاف کے ایک، مسلم لیگ فنکشنل ایک، جبکہ پانچ آزاد امیدوار بھی شامل ہیں۔

ملک میں ایک عمومی خیال تھا کہ سینیٹ انتخابات سے قبل ہی مسلم لیگ نون کی حکومت ختم کردی جائے گی، بعض اپوزیشن جماعتوں کے دھرنوں اور اسی نوع کی دیگرسرگرمیوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا رہا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق بھی انہی خدشات کا اظہار کرچکے تھے کہ انہیں لگتا ہے، شاید حکومت اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہیں کریں گی۔ سینیٹ انتخابات کے بارے میں مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت کا بھی یہی خیال تھا کہ وفاقی حکومت کے خلاف باربار مہم جوئی کا مقصود صرف سینیٹ الیکشن سے پہلے حکومت کا خاتمہ ہے تاکہ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل نہ ہوسکے۔ وفاقی حکومت نے کہیں سختی اور کہیں نرمی سے کام لیتے ہوئے سینیٹ انتخابات تک کا سفر طے کرہی لیا، الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا تو حکمران جماعت کے قائدین کی سانسیں بحال ہونا شروع ہوئیں، تاہم انھیں اُس وقت سخت دھچکا پہنچا، جب سپریم کورٹ نے میاں نوازشریف کو مسلم لیگ نون کی قیادت کے لئے نااہل قرار دیا اور ان کے فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیدیا۔ فیصلے کے فوراً بعد مسلم لیگ نون کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے سینیٹ انتخابات کے لیے پارٹی ارکان کو نہ صرف نئے ٹکٹ جاری کردیے، بلکہ یہ ٹکٹ لے کر بذات خود الیکشن کمیشن جا پہنچے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے مسلم لیگی امیدواران کو جاری ہونے والے نئے ٹکٹ مسترد کر دیے، البتہ انھیں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی۔ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ سینیٹ انتخابات کے شیڈول کے مطابق اب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے ٹکٹس جاری نہیں کیے جاسکتے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چار راستے تھے۔ اولاً، سینیٹ اور آئیندہ سرگودھا اور گھوٹکی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کردیا جائے، ثانیاً، مسلم لیگ نون کے نامزد امیدواروں کے بغیرہی سینیٹ انتخابات کرادیے جائیں، ثالثاً، انتخابات کو ملتوی کر کے نئے ٹکٹ جاری کرنے کا موقع دیا جائے، اور رابعاً،  مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والوں کو آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے چوتھا راستہ اختیار کیا، یوں مسلم لیگ نون بطور جماعت سینیٹ انتخابات سے باہر ہوگئی۔اب مسلم لیگ نون کے پاس راستہ کیا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کی پارٹی سے وابستگی کو ختم کیا ہے، انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد ان کی صوابدید پر ہوگا کہ وہ کسی بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں یا آزاد رکن کی حیثیت سے بھی سینیٹ کے رکن رہ سکتے ہیں۔ اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ آج کے انتخابات کے بعد سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کیا ہوگی؟۔ غالب امکان ہے کہ مسلم لیگ نون کے امیدواران آزاد حیثیت سے انتخاب جیت کر اپنی پارٹی میں شامل ہوجائیں گے، اگر ایسا ہوا تو مسلم لیگ نون کے سینیٹرز کی تعداد 36 ہوجائے گی اور وہ ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت بن جائے گی، تاہم اس کے باوجود وہ چئیرمین سینیٹ کی سیٹ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوگی، یوں سینیٹ میں موجود چھوٹی جماعتوں کی اہمیت دوچند ہوجائے گی، زیادہ امکان ہے کہ مسلم لیگ نون چھوٹے گروہوں کا ووٹ حاصل کرکے چئیرمین شپ کی سیٹ سنبھال لے گی۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی ایوان بالا میں اپنی برتری برقرار رکھے۔ اگرچہ بظاہر اس کے امکانات بہت کم ہیں لیکن بعض ماہرین آصف علی زرداری کی گزشتہ دنوں غیرمعمولی سرگرمیوں کو کافی اہمیت دے رہے ہیں، بالخصوص بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کے بارے میں کہا جا رہاہے کہ وہ غیرمتوقع طور پر کسی دوسرے پلڑے میں اپنا وزن ڈال سکتے ہیں۔ بعض لوگ اسی بنا پر خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ آج کے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا اس قدر بازار جمے گا کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملے گی، اگر کوئی زرداری کے اندازسیاست کے نتیجے میں کوئی کرشمہ ہوگیا تو پیپلزپارٹی کے ہاتھ میں زیادہ نشستیں آجائیں گی ورنہ اسے شاید سات سے زیادہ نہ مل سکیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مسلسل کہہ رہے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں پیسہ چلایا جا رہا ہے، سینیٹ کے انتخابات میں ایسے لوگ حصہ لے رہے ہیں، جن کی صوبائی اسمبلی میں دو سیٹیں بھی نہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلایا جا رہا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کا سب سے زیادہ خطرہ تحریک انصاف ہی کو ہے، اس نے اپنے ارکان اسمبلی کو قابو کرنے کے لئے ان کی خوب برین واشنگ کی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے خواتین ارکان اسمبلی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انھیں پارٹی سے وفادار رہنے کی تلقین کی۔ ہارس ٹریڈنگ سے خوف ان سب جماعتوں کو ہے جو اندرونی خلفشار کی شکار ہیں۔ اگر ان کے ارکان اِدھراُدھرہوئے تو ان پارٹیوں کو خوب خفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم اگر گھوڑوں کا بازار نہ لگا تو اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن ہی کی بنیاد پر مسلم لیگ ن کو 19 نشستیں، پیپلز پارٹی کو سات، تحریک انصاف کو سات، ایم کیو ایم پاکستان کو چار، جے یو آئی (ف) کو دو، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کو تین، نیشنل پارٹی کو دو نشستیں ملیں گی۔

یوں ایوان بالا میں حکومتی جماعت کے سینیٹرز کی کل تعداد 37، پیپلز پارٹی 15، تحریک انصاف 13، جے یو آئی (ف) چار، ایم کیو ایم کی آٹھ اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی تعداد 6 ہوجائے گی۔ قاف لیگ سینیٹ سے آؤٹ ہوتی نظرآرہی ہے۔ یہ بات طے ہے کہ پنجاب، خیبر اور بلوچستان میں اپوزیشن جماعتیں مشترکہ حکمت عملی اختیارکریں گی تو وہ کچھ سیٹیں حاصل کرسکتی ہیں بصورت دیگر حکمران جماعت اپوزیشن کے داخلی انتشار کاخوب فائدہ اٹھائے گی۔ سینیٹ انتخابات کا حالیہ مرحلہ اس اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے سبب ملک کے سیاسی نظام پر غیریقینی صورت حال کے چھائے ہوئے بادل چھٹ جائیں گے، جمہوریت کے تسلسل اور اگلے عام انتخابات کے اسی سال انعقاد کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔ وہ اپوزیشن گروہ جو مسلم لیگ نون کی حکومت ٹوٹنے کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ اب عام انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہوجائیں گے۔

پنجاب میںسینٹ کی خالی ہونے والی 12 نشستوں پر 20 امیدواران میدان میں ہیں۔ جن میں سے 13 امیدواروں کا تعلق مسلم لیگ (ن)، چار کا تحریک انصاف، دو کا پیپلزپارٹی اور ایک امیدوار کا تعلق مسلم لیگ (ق) سے ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کی کل 371 نشستوں میں سے پارٹی پوزیشن کے لحاظ سے مسلم لیگ (ن) کے پاس 310 نشستیں ہیں۔ تحریک انصاف کے پاس 31 ہیں جبکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کی نشستوں کی تعداد آٹھ، آٹھ ہے۔ بظاہر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو اپنے سینیٹر منتخب کرانے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔ پنجاب میں اپوزیشن کی تینوں جماعتیں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کسی ایک امیدوار پر اکٹھی نہ ہوسکیں، یوں اپوزیشن کے کم از کم ایک امیدوار کی یقینی فتح کا موقع ہاتھ سے گنوانے کا امکان پیدا کیا۔ خیبرپختون خوا سے سینیٹ کی11 نشستوں کے لیے 25 امیدوار میدان میں رہ گئے ہیں، سات جنرل نشستوں پر 13 امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔ سینیٹ کے انتخابات میں سندھ سے 12 امیدواروں کا انتخاب ہوگا۔ 7 جنرل نشستوں، 2 ٹیکنوکریٹ، 2 خواتین اور ایک اقلیتی نشست۔ سندھ اسمبلی کی 168 نشستوں پر اراکین کی تعداد 166 ہے۔ صوبے کی حکم راں جماعت پیپلز پارٹی کے اسمبلی میں 95 جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے 50 اراکین ہیں۔ مسلم لیگ فنکشنل 9، تحریکِ انصاف 4، ن لیگ 7 جبکہ نیشنل پیپلز پارٹی کا سندھ اسمبلی میں ایک رکن موجود ہ، ایک ممبر آزاد حیثیت میں اسمبلی میں پہنچا ہے۔ بلوچستان سے سینٹ کی 11 نشستوں پر مجموعی طور پر 25 اُمیدوار میدان میں ہیں، جن میں جنرل کی سات نشستوں پر 15 اُمیدوار، ٹینکوکریٹس کی دو نشستوں پر چار اور خواتین کی دو نشستوں پر چھ اُمیدوار ہیں۔ ٹیکنو کریٹس کی دو نشستوں پر حکومت کے دو حامی اُمیدواروں کے کاغذات مسترد ہونے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں ہے اگر ان اُمیدواروں کی اپیل منظور ہوجاتی ہے تو پھر صورتحال بھی بدل جائے گی۔

بلوچستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد حکومتی ہم خیال گروپ کا دعویٰ ہے کہ وہ سات سے آٹھ نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل کرے گا، جبکہ سابقہ حکومت کی اتحادی جماعتیں نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی بھی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہوئے میدان میں اتری ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنرل کی7 نشستوں میں سے حکومتی گروپ جسے ہم خیال گروپ کا نام دیا گیا ہے، تین سے چار نشستیں حاصل کرے گا جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام اور نیشنل پارٹی بھی ایک ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، بی این پی مینگل بھی اپنے اُمیدوار کی کامیابی کیلئے زور لگارہی ہے۔ ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر جمعیت علماء اسلام (ف) واضح طور پر ایک نشست لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ اگر سپریم کورٹ سے ہم خیال گروپ اپنے دو اُمیدواروں میں سے کسی ایک کے کاغذات درست کرانے کی اپیل میں کامیاب ہوگیا تو پھر اس کا میچ نیشنل پارٹی کے اُمیدوار سے پڑسکتا ہے وگرنہ نیشنل پارٹی دوسری نشست حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ خواتین کی دو نشستوں پر حکومتی ہم خیال گروپ بہتر حکمت عملی سے چلا تو دونوں نشستیں نکالنے میں کامیاب ہوجائے گا کیونکہ خواتین کی نشستوں میں سے ایک نشست پر نیشنل پارٹی اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے درمیان اتحاد ہوا ہے خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نشستوں پر کانٹے دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے، بعض دیگر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ تمام صورتحال میں حکومتی ہم خیال گروپ گروپ 7 سے 8 اور دیگر اتحادی جماعتیں 3 سے 4 نشستیں حاصل کرلیں گی۔
خبر کا کوڈ : 708585
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے