0
Friday 16 Mar 2018 22:13

شہزادہ محمد بن سلمان کا خط بنجمن نیتن یاہو کے نام

شہزادہ محمد بن سلمان کا خط بنجمن نیتن یاہو کے نام
تحریر: علی احمدی

ہر روز سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی قربتوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ریاض بھی ان اخبار کے منظرعام پر آنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتا اور حتی ان خبروں کے منظرعام پر آنے میں خود سعودی حکومت کے ملوث ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ آج اگر سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے یہ سوال پوچھا جائے کہ آپ دونوں کو درپیش مشترکہ خطرہ کیا ہے تو دونوں کا جواب ایک ہی ہو گا اور وہ کہیں گے "ایران"۔ سعودی فرمانروا ملک سلمان کے خاندان کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ناپسندیدہ شخصیت تھی کیونکہ سعودی حکام نے امریکہ کی صدارتی الیکشن مہم کے آخری لمحات تک ہیلری کلنٹن کی حمایت کی تھی۔ لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ نئے امریکی صدر کے طور پر سامنے آئے تو آل سعود رژیم نے ان کی تاجرانہ خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیسے کے ذریعے انہیں اپنے قریب کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔

چند دن پہلے "مڈل ایسٹ مانیٹر" نامی ویب سائٹ نے اسرائیلی اخبار "اسرائیل ہیوم" کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاض اور تل ابیب خطے کے امور میں ایکدوسرے سے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ رپورٹ کا عنوان تھا "ایران سے مشرق وسطی امن پروسس تک"۔ رپورٹ میں مصر کے ایک باخبر ذریعے کے بقول کہا گیا تھا کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ قاہرہ کے دوران ریاض اور تل ابیب میں چند خطوط کا تبادلہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ مصر انٹیلی جنس کے ایک اعلی سطحی عہدیدار نے ان خطوط کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ البتہ اسی باخبر ذریعے کے بقول مصر میں شہزادہ محمد بن سلمان کی سکونت کے دوران اسرائیلی اور سعودی حکام میں کسی قسم کی ملاقات کی تکذیب کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریاض اور تل ابیب کے درمیان رد و بدل ہونے والے ان خطوط میں جنکی تعداد ایک اندازے کے مطابق دو سے زیادہ بتائی گئی ہے، ایران سے متعلق امور اور اس امن منصوبے کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے جو امریکہ نے فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں بنایا ہے اور وہ "صدی کا معاہدہ" کے طور پر مشہور ہو گیا ہے۔ اس باخبر ذریعے کے بقول سعودی عرب اور اسرائیل اپنے بقول مشرق وسطی کو ایران سے درپیش خطرے کے بارے میں مشترکہ موقف کے حامل ہیں۔ یہ مشترکہ موقف اور نقطہ نظر باہمی تعاون کی اس سطح کو ظاہر کرتا ہے جو خطے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تشکیل پا سکتا ہے۔ سعودی عرب اور خطے کے دیگر سنی ممالک جیسے مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات بھی مشرق وسطی امن منصوبے میں اپنی اہمیت کے قائل ہیں اور حتی اپنے فلسطینی ہم منصب افراد کی حتمی رائے جانے بغیر خطے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں۔

مصر کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اردن نے بعض عرب ممالک کی جانب سے پیش کردہ وہ منصوبہ مسترد کر دیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ قدس شریف بین الاقوامی فورسز کے حوالے کر دیا جائے اور اسے انجام پانے والے تمام مذاکرات سے مستثنی قرار دے دیا جائے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کرد منصوبے کے اکثر نکات منظرعام پر نہیں لائے گئے لیکن بعض مغربی اور عرب میڈیا نے کچھ نکات فاش کئے ہیں جن میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ قدس شریف کو یہودی ریاست اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگرچہ مصر کے ذرائع ابلاغ نے صرف اس حد تک خبر دی ہے کہ تل ابیب اور ریاض میں چند خطوط کا تبادلہ ہوا ہے لیکن چند دن پہلے بعض عرب ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قاہرہ دورے کے دوران اسرائیل کے بعض سیاسی اور سکیورٹی حکام سے ملاقاتیں بھی انجام دی ہیں۔

"العربی الجدید" وہ پہلا ذریعہ ابلاغ تھا جس نے سعودی اور اسرائیلی حکام کے درمیان انجام پانے والی ان ملاقاتوں کا اعلان کیا اور تصدیق کی کہ ان ملاقاتوں میں ایران، امن منصوبے اور شدت پسندانہ مذہبی رجحانات کا مقابلہ کرنے کے بارے میں گفتگو اور بات چیت کی گئی ہے۔ اگرچہ کسی سعودی یا اسرائیلی حکومتی عہدیدار نے ان ملاقاتوں کی تصدیق نہیں کی لیکن گذشتہ چھ ماہ کے دوران یہ دوسری بار ہے جب اسرائیلی حکام سے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات پر مبنی خبریں منظرعام پر آ رہی ہیں۔ گذشتہ سال نومبر میں پہلی بار یہ خبر منظرعام پر آئی کہ محمد بن سلمان نے اسرائیل جا کر بعض اسرائیلی حکام سے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔ اسی طرح اس سال جنوری میں بھی سوئٹزرلینڈ کے ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ سعودی عرب اور ریاض میں خفیہ فوجی تعاون کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ اس خبر میں دعوی کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف علاقائی ایشوز جیسے ایران کے بارے میں اسرائیل سے تعاون کر رہا ہے بلکہ صہیونی رژیم سے دفاعی سسٹم بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اگرچہ سعودی حکام جیسے جیسے عادل الجبیر یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کے اسرائیل سے کسی قسم کے کوئی تعلقات نہیں لیکن شائع شدہ اخبار اور رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل نے خطے میں ایران کا مل کر مقابلہ کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اس میدان میں ایکدوسرے سے گہرا تعاون کر رہے ہیں۔ ریاض نے ایسے دنوں میں اسرائیل سے قربتیں بڑھانا شروع کی ہیں جب مسئلہ فلسطین کو اسلامی دنیا کا فرعی مسئلہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی اقدام انجام دیتے ہوئے قدس شریف کو اسرائیل کا درالحکومت قرار دے دیا اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ بذات خود اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی قدس شریف منتقلی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ دوسری طرف اسرائیل میں غیر قانونی یہودی بستیوں کی تعمیر کا کام روز بروز تیز ہوتا جا رہا ہے جبکہ اکثر عرب اور اسلامی ممالک نے اس بارے میں چپ سادھ رکھی ہے۔
خبر کا کوڈ : 711968
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب