0
Tuesday 20 Mar 2018 13:30

گریٹر اسرائیل تشکیل دینے کی امریکی کاوشیں اور عرب حکمرانوں کی حمایت

گریٹر اسرائیل تشکیل دینے کی امریکی کاوشیں اور عرب حکمرانوں کی حمایت
تحریر: مجید صفا تاج

حال ہی میں امریکی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ 14 مئی کو اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ یاد رہے یہ دن یعنی 14 مئی مقبوضہ فلسطین پر غاصب صہیونی رژیم کے قبضے کا دن ہے اور اس سال اس غاصبانہ قبضے کو ستر سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی حکام کے اس اعلان پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قدردانی کی ہے۔ امریکہ کے اس دشمنانہ اعلان پر مختلف قسم کے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ شام کی وزارت خارجہ نے اس بارے میں اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے:
"امریکی حکومت کے اس فیصلے نے ایک بار پھر امت عربی سے اس کی دشمنی برملا کر دی ہے۔ امریکی حکام اس فیصلے کے ذریعے عرب اور اسلامی اقوام کی تحقیر کرنے کے علاوہ صہیونی مفادات کی تکمیل کے بھی خواہاں ہیں۔ یہ اقدام بین الاقوامی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس فیصلے کو عملی شکل دیئے جانے کی صورت میں عالمی برادری کی توہین اور تحقیر ہو جائے گی۔"

دوسری طرف اسلامی مزاحمت کی تنظیم "حماس" کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے بھی اس بارے میں اپنے جاری کردہ بیان میں یوں کہا ہے:
"اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے پر مبنی امریکی اقدام ہر گز غاصب صہیونی رژیم کو مشروعیت فراہم نہیں کر سکے گا اور قدس شریف کے تاریخی حقائق اور آثار کو تبدیل نہیں کر پائے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور بیت المقدس کے بارے میں موجود تمام بین الاقوامی معاہدات کے خلاف ہے۔" اسی طرح اسلامک جہاد نے بھی امریکی حکومت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے فلسطینی سرزمین پر غاصب صہیونی رژیم کے ناجائز قبضے کی سترویں برسی کے موقع پر اپنا سفاتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا فیصلہ درحقیقت مظلوم فلسطینی قوم اور پوری امت مسلمہ اور عرب دنیا کے خلاف اسرائیلی مظالم سے بے توجہی کا اظہار ہے۔

"گریٹر اسرائیل" تشکیل دینے پر مبنی امریکی ہدف
امریکہ آغاز سے ہی یکطرفہ پالیسیاں اختیار کر کے مکمل طور پر اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی حمایت کرتا آیا ہے۔ "اوسلو" معاہدہ منعقد ہونے کے بعد سے ہی امریکی حکام مقبوضہ فلسطین میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کے درپے تھا۔ لیکن اب تک امریکی حکام اسے عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے کیونکہ سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے قدس شریف کو اپنی ریڈ لائن قرار دے رکھا تھا۔ اگرچہ یہ مقصد اب تک پورا نہیں ہو سکا لیکن واشنگٹن اور تل ابیب ہمیشہ ایسے موقع کی تاڑ میں رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر اعلان کر دیا جائے۔ امریکہ اور اسرائیل کے نیو کنزرویٹو سیاسی لیڈران اس عقیدے کے حامل ہیں کہ "آخرالزمان کا معرکہ" اس وقت شروع ہو گا جب قدس شریف کی مرکزیت میں یہودی ریاست اسرائیل تشکیل پائے گی۔ لہذا ان کی نظر میں گریٹر اسرائیل کی تشکیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بیت المقدس اس کا دارالحکومت نہیں بن جاتا۔

امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے قدس شریف منتقلی کا مسئلہ ایسا نہیں جو نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اٹھایا گیا ہو بلکہ کئی سال پہلے سے اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا منصوبہ امریکی کانگریس میں منظور کیا جا چکا ہے۔ ٹرمپ سے پہلے امریکی حکومتیں اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں جھجک کا شکار رہی ہیں کیونکہ وہ عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے اس اقدام کے ممکنہ ردعمل سے خوفزدہ تھیں۔ لہذا وہ کسی نہ کسی بہانے اس منصوبے کے اجراء کو موخر کرتی رہیں۔ لہذا گذشتہ امریکی حکومتوں کی جانب سے اپنا سفارتخانہ قدس شریف منتقل نہ کرنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتی تھیں۔ امریکی حکام کا ہمیشہ سے اصلی اور بنیادی مقصد بیت المقدس کی مرکزیت میں گریٹر اسرائیل کی تشکیل رہا ہے۔

یہاں اس نکتے کی جانب توجہ بھی ضروری ہے کہ امریکہ اپنے سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کو عالمی سطح پر اپنی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافے کی لازمی شرط سمجھتا ہے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں برسراقتدار آئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسلامی دنیا بدامنی اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ عالم اسلام میں انتشار پھیل چکا ہے اور بعض اسلامی ممالک جیسے عراق اور شام جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں۔ لہذا انہوں نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا بہترین موقع پایا اور اس اقدام کا اعلان کر دیا اور دوسری طرف گذشتہ امریکی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی نالائقی اور کوتاہی کے سبب اب تک اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔

قدس شریف سے متعلق امریکی فیصلے میں عرب شیوخ کا کردار
قدس شریف کے بارے میں حالیہ امریکی فیصلے کے بارے میں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ خطے کے بعض عرب ممالک جیسے سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، اردن اور بعض دیگر اسلامی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم سے دوستانہ تعلقات بڑھانے کا عمل اس امریکی فیصلے میں بہت موثر واقع ہوا ہے۔ ان اسلامی عرب ممالک نے نہ صرف فلسطین کی سرزمین اور تشخص کو پس پشت ڈال دیا بلکہ اپنے اقدامات کے ذریعے غاصب صہیونی رژیم کو ایک حد تک مشروعیت بھی عطا کی۔ یہ ایک واضح امر ہے کہ جب اسلامی ممالک اس قدر کمزوری اور ناتوانی کا مظاہرہ کریں گے تو امریکی حکام بھی اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔

آج بعض نادان عرب اسلامی ممالک اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی بجائے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔ امریکی حکام کی بھی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ عرب اسلامی ممالک کو اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی ترغیب دلائیں اور عرب حکمرانوں پر یہ تاثر قائم کریں کہ اسرائیل ان کا دشمن نہیں بلکہ ایران انکا اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ہے۔ اب جبکہ ایک طرف بعض عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور دوسری طرف اسلامی دنیا جنگ اور بدامنی کی آگ میں جل رہی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی حکام نے اسے بہترین موقع جانا اور کئی سالوں سے موخر ہوتے ہوئے اپنے منصوبے کو عملی شکل دینے کا اعلان کر دیا۔

سفارت منتقلی کے امریکی منصوبے پر شدید ردعمل
"انتفاضہ" کا لفظ ایک خاص معنی کا حامل ہے۔ انتفاضہ کا مطلب "وسیع اور بھرپور قیام" ہے جو 1948ء اور 1967ء میں غصب کی گئی مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں انجام پاتا ہے۔ جس احتجاجی تحریک کا مشاہدہ ہم آج کر رہے ہیں وہ بنیادی طور پر 1967ء میں غصب ہونے والی مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں شروع ہوئی جبکہ 1948ء میں غصب کی گئی مقبوضہ فلسطینی سرزمین یا مقبوضہ گولان ہائٹس میں یہ احتجاجی تحریک کمزور سطح پر رہی ہے۔ ہو سکتا ہے امریکہ کی جانب سے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے ردعمل میں ایک طولانی مدت انتفاضہ تحریک جنم نہ لے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس امریکی اقدام کے فلسطینی عوام، خطے اور اسلامی دنیا کی رائے عامہ پر انتہائی منفی اثرات پڑیں گے اور مسلمانان عالم کی جانب سے ایسا شدید ردعمل ظاہر ہو گا جس کے اثرات طولانی مدت ہوں گے اور امریکہ اور اسرائیل لمبے عرصے تک ان کی لپیٹ میں رہیں گے۔

دوسری طرف خطے کی عرب رجعت پسند حکومتوں کی جانب سے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی قباحت ختم کرنے کے باعث ہو سکتا ہے امریکہ کی جانب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے ردعمل میں ایک بھرپور انتفاضہ جنم نہ لے سکے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم اپنے اس اقدام کے منفی اور ناپسندیدہ اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ جیسا کہ پہلے بیان کر چکے ہیں یقیناً امریکہ اور اسرائیل کے خلاف وسیع سطح پر اعتراضات اور احتجاجی مظاہرے سامنے آئیں گے۔ امریکی اقدام کے خلاف ردعمل اسی حد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ جہادی تحریکیں مسلح اقدامات بھی انجام دیں گی۔ اسی طرح خود مقبوضہ فلسطین کے اندر استشہادی آپریشنز کی صورت میں بڑا ردعمل ظاہر ہونے کا بھی امکان موجود ہے۔

"مسلح جدوجہد" مقابلے کا واحد راستہ
امریکی حکومت کی جانب سے غاصب صہیونی حکام کی مسلسل اور غیر مشروط حمایت کے نتیجے میں فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس جو امن مذاکرات پر یقین رکھتے تھے بھی مایوس ہوتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ فلسطین اتھارٹی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی کھلم کھلا طرفداری کے باعث امن مذاکرات ترک کر دے گی۔ یقیناً ایسے حالات میں اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی کے درمیان جاری امن پروسس کا کوئی روشن مستقبل قابل تصور نہیں ہو گا۔ اسرائیل کی جانب سے مسلسل عہد شکنی اور امریکہ کی جانب سے اس کی حمایت اور آخرکار اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی پر مبنی فیصلے کے نتیجے میں حتی فتح آرگنائزیشن کا ملٹری ونگ الاقصی بٹالینز بھی دیگر فلسطینی جہادی گروہوں جیسے حماس کی مانند اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے منحوس اقدامات سے مقابلے کا واحد راہ حل "مسلح جدوجہد" ہے۔ یہ وہ آپشن ہے جس کی توثیق اسلامک ورلڈ علماء یونین نے بھی کر دی ہے۔
خبر کا کوڈ : 712769
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے