0
Monday 2 Apr 2018 15:18
15 رجب روز وفات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے

دشمنوں کے مقابلے میں حضرت زینب س کی جدوجہد کا انداز

دشمنوں کے مقابلے میں حضرت زینب س کی جدوجہد کا انداز
تالیف: زیڈ اے حسینی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا ایک ایسی مجاہد خاتون تھیں جنہوں نے اسلام کی تاریخ میں انتہائی شجاعانہ کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر آج دنیا پر اسلام اور مسلمانوں اور مسلمانی کا نشان باقی ہے تو وہ صرف اور صرف کربلا جیسے عظیم واقعے اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام، ان کے عزیز و اقارب اور باوفا اور مخلص ساتھیوں کی عظیم قربانی کا نتیجہ ہے۔ جبکہ خود کربلا جیسے عظیم واقعے اور امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلبیت علیہم السلام اور باوفا ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو زندہ رکھنے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا انتہائی بنیادی اور منفرد کردار ہے۔

آج دین مبین اسلام کی بقا اور وجود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محنتوں، ائمہ معصومین علیہم السلام کی کاوشوں اور ان کے مخلص پیروکاروں کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مجاہدانہ کردار کا بھی مرہون منت ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی جدوجہد اور مجاہدانہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1)۔ اپنے والد امام علی علیہ السلام اور بھائیوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جدوجہد، اور
2)۔ واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جدوجہد۔

اپنی زندگی کے پہلے حصے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے سیاسی امور میں مداخلت سے پرہیز کیا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے اسلام کی ترویج اور تبلیغ کیلئے کچھ نہ کیا بلکہ اس دوران بھی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بھرپور انداز میں دین کی تبلیغ کا کام انجام دیا۔ سیاسی امور سے پرہیز کی بنیادی وجہ بھی دین مبین اسلام میں نامحرم افراد سے پردہ اور حجاب پر حد سے زیادہ تاکید تھی لہذا آپ سلام اللہ علیہا صرف بہت ضروری موارد میں ہی معاشرے میں ظاہر ہوتی تھیں۔ اہلبیت سلام اللہ علیہا کی تقریباً تمام خواتین اسلامی معاشرے کی خواتین کی دینی اور اخلاقی تربیت میں آگے آگے رہی ہیں اور اہم اسلامی احکام اور مسائل میں ان کی رہنمائی کرتی رہی ہیں۔ لہذا حضرت زینب سلام اللہ علیہا بھی اپنی زندگی کے پہلے حصے میں اس اہم دینی فریضے سے غافل نہیں ہوئیں اور بھرپور انداز میں مسلمان خواتین کو دینی مسائل اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے کیلئے سرگرم عمل رہیں۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مجاہدانہ زندگی کا دوسرا حصہ کربلا جیسے عظیم اور جاں گداز حادثے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا درحقیقت الہی اور شیطانی قوتوں میں ٹکراو کا نقطہ عروج تھا۔ واقعہ کربلا کے بارے میں تحقیق کرنے والے محققین کی نظر میں یہ واقعہ درحقیقت اسلامی تاریخ کا اہم موڑ تھا۔ اگر ہم الہی ادیان کی تاریخ کا جائزہ لیں تو دیکھیں گے کہ یہودیت، عیسائیت اور اسلام کی تاریخ ایکدوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔

خداوند متعال نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل سے شکوے کا اظہار کیا ہے اور
ان سے یہ گلہ کیا ہے کہ انہوں نے خدا سے کیا ہوا عہد پورا نہیں کیا اور اس کی خلاف ورزی کی۔ اگر بنی اسرائیل کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو دیکھیں گے کہ اس قوم میں ہمیشہ سے ایک ایسا شرپسند ٹولہ موجود رہا ہے جس نے خدا سے دشمنی کی ہے۔ قرآن کریم میں خداوند متعال اسی شرپسند ٹولے کے کرتوتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم انبیاء الہی کو قتل کرتے تھے، زمین میں فساد کرتے تھے اور لوگوں کو ناحق اپنے گھروں سے جلاوطن کر دیتے تھے۔

بدقسمتی سے بنی اسرائیل میں حضرت داود علیہ السلام اور حضرت سلمان علیہ السلام جیسے عظیم انبیاء کی سربراہی میں تشکیل پانے والی پر شکوہ الہی حکومت کے باوجود آخرکار بنی اسرائیل کا یہی شرپسند ٹولہ غالب آ جاتا ہے۔ اس شرپسند ٹولے نے شیطنت اور سیاسی سازباز کے ذریعے حضرت سلمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے حقیقی وارث اور جانشین حضرت آصف بن برخیا کو اقتدار سے محروم کر دیا اور اس کے بعد کھلم کھلا خدا کی معصیت اور خدا سے دشمنی شروع کر دی۔ اس فسادی اور شرپسند ٹولے نے جو پہلا کام انجام دیا وہ یہودیت کی حقیقی دینی تعلیمات میں من گھڑت تبدیلیاں اور تحریف ایجاد کرنا تھا۔ نام نہاد یہودی علماء نے دین کو اپنے پست سیاسی اور اقتصادی اہداف کی تکمیل کا ہتھکنڈہ قرار دے دیا اور مختلف قسم کی شیطانی توجیہات کے ذریعے عام افراد کو اصل یہودی تعلیمات سے محروم کر ڈالا۔ بنی اسرائیل کا یہ شرپسند ٹولہ صرف اسی حد تک قانع نہ ہوا بلکہ اپنے بعد آنے والے الہی دین عیسائیت کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا۔

عیسائیت کی تاریخ سے آگاہ ماہرین کی نظر میں جب حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی نبوت کا اعلان کیا اور عیسائی دین کی تعلیمات کا پرچار شروع کیا تو اس وقت یروشلم کے علاقے پر رومی سلطنت کا قبضہ تھا۔ یہودی علماء جن کا تذکرہ پہلے گزر چکا ہے مقامی رومی حکمرانوں سے ملے ہوئے تھے اور ان کے پٹھووں کا کردار ادا کر رہے تھے۔ دوسری طرف وہ حقیقی یہودی تعلیمات تک رسائی کے باعث اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ تھے کہ مستقبل میں کون کون سے اہم انبیاء مبعوث ہونے والے ہیں۔ وہ حتی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبعوث ہونے اور ان کا خاتم النبیین ہونے کے بارے میں بھی پوری طرح مطلع تھے۔

انہیں معلومات کی بنیاد پر انہوں نے پہلے سے ہی نئے آنے والے الہی ادیان پر اپنا مکمل کنٹرول اور اثرورسوخ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ لہذا جب حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی نبوت کا مشن شروع کیا تو ان یہودی علماء نے ان کی شدید مخالفت کی۔ عیسائی مذہب اختیار کرنے والے افراد کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں، انہیں ٹارچر کئے جانے لگا اور حتی ان کے قتل عام سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود حضرت عیسی علیہ السلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن خداوند متعال نے اپنی حکمت کے تحت انہیں ان کے شر سے محفوظ کر
لیا جبکہ وہ خود یہی سمجھتے رہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا کر شہید کر ڈالا ہے۔

جب بنی اسرائیل کے اس شرپسند ٹولے نے دیکھا کہ وہ عیسائی مذہب کو روکنے کیلئے جو ہتھکنڈہ بھی استعمال کرتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں نکلتا تو انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ یہ راستہ عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں اپنے جاسوس گھسا کر اپنی مرضی کی دینی تعلیمات عیسائی تعلیمات کے طور پر رائج کرنا تھا۔ الہی ادیان کی تاریخ کے ماہرین کی نظر میں سینٹ پال (St. Paul) عیسائیوں میں یہودیوں کا جاسوس تھا۔ سینٹ پال خود یہودی تھا اور اس نے عیسائیوں کے قتل عام میں بذات خود شرکت بھی کی لیکن ایک دن اچانک اس نے یہ ڈھونگ رچانا شروع کر دیا کہ اس نے خواب میں حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھا ہے لہذا وہ عیسائی ہو چکا ہے۔ اس نے نہ صرف عیسائی ہونے کا اعلان کر دیا بلکہ یہ دعوی بھی کیا کہ وہ عیسائی عالم دین اور مبلغ بن گیا ہے۔ سینٹ پال نے عیسائیت میں بہت سے انحرافی اعتقادات اور احکام متعارف کروائے۔ مثال کے طور پر چند نمونے درج ذیل ہیں:
1)۔ عیسائی مذہب میں غذا کے حلال یا حرام ہونے کی شرط کا خاتمہ،
2)۔ عیسائی مذہب میں ختنہ لازمی ہونے کی شرف کا خاتمہ،
3)۔ تثلیث۔

مختصر یہ کہ یہ شرپسند یہودی ٹولہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے بھی آگاہ تھا۔ لہذا ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے کافی عرصہ پہلے ہی یہودی مکہ اور مدینہ کے اردگرد آ کر آباد ہونے لگے۔ ظہور اسلام کے بعد اس شرپسند یہودی ٹولے نے اسلام میں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ مدینہ کے اردگرد آباد یہودی قبیلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں اور فتنے کرتے رہتے تھے جن کا نتیجہ کئی جنگوں کی صورت میں بھی ظاہر ہوا جس کی ایک مثال جنگ خیبر ہے۔

آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی یہودیوں کا یہ شرپسند ٹولہ سازشیں کرنے سے باز نہ آیا اور دین مبین اسلام میں طرح طرح کے انحرافات پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کی ایک واضح مثال اسلامی حدیثی متون میں موجود ایسی جعلی احادیث ہیں جو "اسرائیلیات" کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے ماہرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا یہ شرپسند ٹولہ اسلام کو بھی اپنے حقیقی راستے سے منحرف کرنے میں تقریباً کامیاب ہو چکا تھا لیکن کربلا کے عظیم واقعے اور امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی عظیم قربانی نے ان تمام سازشوں پر پانی پھیر دیا اور حقیقی اسلامی تعلیمات کو فراموش ہو جانے سے بچا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا اسلامی تاریخ بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کا ایک انتہائی اہم اور سنہری موڑ قرار دیا جاتا ہے۔

واقعہ کربلا کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی نوعیت میں اچانک بڑی
تبدیلی آتی ہے۔ آپ سلام اللہ علیہا سفیر کربلا کا کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ بھی ایسے شجاعانہ اور دلیرانہ انداز میں کہ دنیا حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ اس دور میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی شدید بحرانی صورتحال میں اپنا مشن انتہائی کامیابی سے انجام دیا۔ حکومت وقت کی کوشش تھی کہ وہ امام حسین علیہ السلام کو ایک جائز اور شرعی حکمران کے مقابلے میں سرکش باغی کے طور پر متعارف کروائے لہذا حاکم وقت یزید اور اس کے پٹھووں کی جانب سے یہ بات مشہور کر دی گئی کہ "حسین (ع) اپنے جد کی شمشیر سے ہی مارا گیا ہے۔" یعنی نعوذ باللہ امام حسین علیہ السلام نے شرعی حکمران کے خلاف بغاوت کی لہذا انہیں اسلامی قوانین کے تحت اس کی سزا دی گئی ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا عظیم کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اس وقت کے اسلامی معاشرے کی رائے عامہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے باوفا ساتھیوں کی حقانیت اور مظلومیت کے حق میں بدل کر رکھ دی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے امام زین العابدین علیہ السلام کے حکم پر اسیران کربلا کے قافلے کی قیادت سنبھالی اور واقعہ کربلا میں بچ جانے والے خواتین اور بچوں کی سرپرستی اپنے ہاتھ میں لے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک اسیری کے سفر میں جگہ جگہ بصیرت افروز خطبے بیان فرمائے اور عوام کو حق اور باطل سے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے انقلابی خطبوں کے نتیجے میں اسلامی معاشرے میں بیداری کی تحریک کا آغاز ہوا اور مسلمان غفلت کی نیند سے اٹھنے لگے۔ اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کئی مواقع پر امام زین العابدین علیہ السلام کی جان بھی بچائی۔ کوفہ کے دربار میں جب عبیداللہ ابن زیاد ملعون کو معلوم ہوا کہ امام حسین علیہ السلام کے بیٹے امام زین العابدین علیہ السلام زندہ ہیں تو انہیں بھی شہید کر دینے کا حکم دیا لیکن حضرت زینب سلام اللہ علیہا سامنے آئیں اور گرج کر کہا جب تک میں زندہ ہوں اجازت نہیں دوں گی انہیں کوئی نقصان پہنچے۔ ابن زیاد ملعون نے جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بے مثال بہادری کا شجاعت کا مشاہدہ کیا تو اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مجاہدانہ تحریک آج تک جاری ہے۔ اگر ہم آج شام میں ایسے شہادت کے شوقین اور جاں نثار جوانوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے مزار کی حفاظت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں اور "مدافعین حرم" کا لقب پا کر کربلا کی راہ پر گامزن ہیں تو یہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی برکت سے ہے۔ ان جوانوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے ہی شجاعت اور ایثار کا درس حاصل کیا ہے۔ خدا کا سلام ہو سفیر کربلا حضرت زینب سلام اللہ علیہا پر اور ان کے راستے پر گامزن ہونے والے "مدافعین حرم" پر۔

خبر کا کوڈ : 715218
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب