2
Thursday 5 Apr 2018 03:01

نہ امامت نہ خلافت، بن سلمان کی سعودی سلطنت

نہ امامت نہ خلافت، بن سلمان کی سعودی سلطنت
تحریر: عرفان علی

سعودی سلطنت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو کہ وزیر دفاع بھی ہیں، مارچ کے آخری عشرے کے آغاز سے تا دم تحریر امریکہ کے دورے پر ہیں، جو سات اپریل تک جاری رہے گا۔ امریکی صدر، دیگر حکومتی شخصیات، قانون ساز ادارے کے اراکین، سرمایہ کاروں اور تاجروں سمیت کاروباری شخصیات سے انکی ملاقاتوں پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی اتنی زیادہ توجہ نہیں رہی، جتنی ان کے انٹرویوز اور آف دی ریکارڈ گفتگو کے بعض نکات کے منظر عام پر آنے سے عالم اسلام میں وہ اور انکی رائے موضوع سخن قرار پائی۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اور سینیئر نامہ نگار برائے قومی سلامتی کیرن ڈی ینگ کے 22 مارچ کے مقالے کے مطابق محمد بن سلمان نے واشنگٹن میں اپنے چار روزہ قیام کے آخری دن واشنگٹن پوسٹ کے دفتر میں سوا گھنٹے کی ملاقات میں آف دی ریکارڈ بہت سے موضوعات پر بات کی۔ طے یہ پایا کہ اس کے بعض نکات مقالے کی صورت میں پیش کئے جاسکیں گے۔ مذکورہ مقالے کے آخری دو پیراگراف نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی:Asked about the Saudi-funded spread of Wahhabism, the austere faith that is dominant in the kingdom and that some have accused of being a source of global terrorism, Mohammed said that investments in mosques and madrassas overseas were rooted in the Cold War, when allies asked Saudi Arabia to use its resources to prevent inroads in Muslim countries by the Soviet Union.
Successive Saudi governments lost track of the effort, he said, and now we have to get it all back. Funding now comes largely from Saudi-based foundations,148 he said, rather than from the government
.

یعنی سعودی ولی عہد نے یہ اعتراف کیا کہ وہابیت کے پھیلاؤ کے لئے سعودی فنڈنگ یعنی دیگر ممالک میں مساجد و مدارس (کے قیام و دوام) کے لئے سرمایہ جو سعودیہ نے لگایا، ایسا سرد جنگ کے دوران اتحادیوں کے کہنے پر کیا، تاکہ مسلم ممالک میں سوویت یونین حاوی نہ ہو جائے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ دنیا جس سے بے خبر تھی۔ حتیٰ کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنی ایک کتاب میں سعودی عرب کے اس اتحادی کا نام امریکا لکھا تھا، جس نے پاکستان میں مدارس کا جال بچھایا، تاکہ سوویت کے خلاف لڑائی کے لئے ان مدارس میں تربیت دی جائے۔(ماضی میں متعدد مرتبہ انکی کتاب کا حوالہ یہ حقیر پیش کرچکا ہے)۔ اسی طرح سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک کا یہ جملہ بھی ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے کہ القاعدہ (اسامہ بن لادن کا تکفیری دہشت گرد گروہ) مغربی انٹیلی جنس اداروں کی مس کیلکیولیشن کی پیداوار تھا۔ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے پیشرو صدر اوبامہ کو ماضی میں داعش کا بانی اور ہیلری کلنٹن کو شریک بانی کہہ چکے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ یہ اعتراف آل سعود کے چشم و چراغ ولی عہد سلطنت اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے کیا ہے، اس لئے اسے اہمیت دی جا رہی ہے۔

چونکہ اس طرح کے اعتراف کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ منصوبے کے تحت وجود میں آنے والے مدارس و مساجد کو چلانے والے نامور مولوی حضرات اور انکا مکتب و مسلک ہی زیر سوال آچکا ہے، اس لئے سعودی ولی عہد کے ایک اور انٹرویو کے ذریعے ڈیمیج کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اسرائیلی فوج میں کارپورل کے عہدے پر جیل محافظ کی حیثیت سے کام کرنے والا جیفری گولڈ برگ امریکہ میں ایک نامور صحافی و بلاگر ہی نہیں بلکہ اب وہ امریکہ اور جعلی ریاست اسرائیل کے تعلقات کے امور کا ایک ماہر اور امریکی و اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ سے بہت زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ یہ آج کل امریکہ کے ماہنامہ جریدے دی اٹلانٹک کا چیف ایڈیٹر ہے اور سعودی ولی عہد سلطنت سے اس نے جو انٹرویو کیا، اس کی تفصیلات اس جریدے کی ویب سائٹ پر 2 اپریل 2018ء کو اپلوڈ کی گئیں۔ اس انٹرویو میں محمد بن سلمان آل سعود نے وہابی نظریئے یا وہابیت کے وجود سے ہی انکار کر دیا، چہ جائیکہ سعودی عرب کا اس سے تعلق! انہوں نے کہا کہ کہیں کوئی وہابیت ہے ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں صرف سنی اور شیعہ ہیں اور دونوں مزے میں ہیں۔ انہوں نے سنی اسلام کی صرف چار شاخوں کا اعتراف کیا، جو چار فقہی آئمہ سے منسوب ہیں یعنی حنبلی، شافعی، مالکی و حنفی جنکی تشریحات مختلف بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی سعودی سلطنت تو درعیہ میں چھ سو سال قبل ان کے اجداد نے قائم کی تھی اور دو دیگر قبائل سے انکی لڑائی رہتی تھی، جو ان پر حملے کرتے رہتے تھے، ان سے مذاکرات کئے، ان سے کہا کہ لڑتے کیوں ہو، کیوں نہ ہم (یعنی آل سعود) تمہیں (یعنی دیگر دو قبائل کے افراد کو) اس خطے میں اپنے محافظین (گارڈ) کی حیثیت سے بھرتی کرلیں۔ تین سو سال بعد بھی یہی طریقہ رہا کہ خطہ عرب کے عظیم دماغوں کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی اور ان میں فوجی جرنیل، قبائلی رہنماء اور علماء کی خدمات حاصل کی جاتی رہیں اور انہی میں سے ایک محمد بن عبدالوہاب تھے۔ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ محمد بن عبدالوہاب کے آل شیخ خاندان کے علاوہ بھی دیگر اہم خاندان موجود ہیں۔ سعودی شہزادے کے الفاظ میں لڑنے والے دو قبائل سے اس کے اجداد نے کہا تھا ’’Why don't we hire you as guards for this area?‘‘ اس کا مطلب با الفاظ دیگر آل سعود کے حکمران افراد کی ہائرنگ کیا کرتے تھے! اور اسی انٹرویو میں سوویت یونین کے خلاف اخوان المسلمون کی خدمات حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے، لیکن اسی انٹرویو میں اسے دشمن اور خطرہ بھی قرار دیا ہے۔

سعودی شہزادے نے دو اہم دعوے یہ کئے کہ سعودی حکومت میں ایک وزیر شیعہ ہے اور ایک اہم جامعہ(یونیورسٹی) ہے، جس کے سربراہ بھی شیعہ ہیں اور انکا کہنا تھا کہ انکا ملک مسلمان مکاتب اور فرقوں کا مجموعہ ہے۔(جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سعودی شہزادے کو آج تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ سعودی عرب کے یہ شیعہ مسلمان بھی ایران و پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے شیعہ مسلمانوں کی طرح بارہویں معصوم امام حجت واقعی خدا یعنی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہی کی طرح جن چار سنی آئمہ فقہ کا انہوں نے دعویٰ کیا، یہ آئمہ اور ان کے پیروکار بھی امام مہدی علیہ السلام کو دنیا کا نجات دہندہ مانتے ہیں اور انکے ظہور اور انکی حکومت کے قیام کے قائل ہیں۔ لیکن سعودی ولی عہد سلطنت نے ایران پر جو الزام ایک اور مرتبہ دہرایا ہے، وہ یہی ہے کہ ایرانی ریاست کا عقیدہ ہے کہ غائب امام دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور وہ پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔ چونکہ پچھلی مرتبہ بھی بعض افراد کی جانب سے سعودی شہزادے کی امام مہدی علیہ السلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے باوجود اس شہزادے کا دفاع کرتے ہوئے مجھ پر تنقید کی گئی تھی، اس لئے جیفری گولڈ برگ کے سوال کے جواب میں جو محمد بن سلمان نے کہا وہ سب کچھ بھی پیش خدمت ہے۔):First in the triangle we have the Iranian regime that wants to spread their extremist ideology, their extremist Shiite ideology. They believe that if they spread it, the hidden Imam will come back again and he will rule the whole world from Iran and spread Islam even to America. They've said this every day since the Iranian revolution in 1979. It's in their law and they're proving it by their own actions.

محمد بن سلمان کا یہ انٹرویو بہت ہی اہم ہے اور اس میں جو نکات انہوں نے بیان کئے ہیں، انہی کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد سعودی عرب کا دفاع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمان فقہ جعفریہ کے پیروکار ہیں، جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے توسط سے پہنچی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ شیعہ وزیر کتنے سال قبل مقرر کیا ہے؟ انہوں نے سعودی سلطنت کی جو دفاعی ڈاکٹرائن پیش کی ہے اور اس میں’’برائی کی تکون‘‘ پر مبنی فرضی دشمن دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں۔ ان میں ایک تو ایران کا نام لیا، جس کی مثال اوپر بیان کی جاچکی۔ ان فرضی دشمنوں میں اخوان المسلمون اور سنی دہشت گرد گروہوں کو سعودی عرب کا دشمن قرار دیا ہے۔ اخوان المسلمون کو ایک ایسا انتہا پسند گروہ قرار دیا ہے، جو دنیا میں مرحلہ وار خلافت کے عنوان سے مسلمان سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے۔ تکون میں تیسرا نام القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کا بھی شامل کیا گیا ہے، جو ہر کام طاقت کے بل بوتے پر کرنا چاہتے ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ یہ تکون ایسا کام کر رہے ہیں، جو اللہ نے یا اسلام نے نہیں کہا۔ انکا کہنا ہے کہ اللہ نے صرف تبلیغ اسلام کا فرض سونپا تھا، جو اب مکمل ہوچکا، اب کوئی پریشانی نہیں ہے، اب تبلیغ اسلام مکمل ہوچکی ہے۔

سعودی عرب کا بیان کردہ یہ دشمن گروہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے قوانین کو بالکل نہیں مانتا۔ شہزادے کا دعویٰ یہ ہے کہ اس تکون کے خلاف سعودی عرب سمیت آٹھ ممالک کی اعتدال پسند حکومتوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں نہ صرف متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، اردن بلکہ عمان، کویت اور حتٰی کہ یمن بھی شامل ہے، حالانکہ یمن میں ایسی کوئی حکومت اپنا وجود نہیں رکھتی، جسے سعودی عرب اور اسکے اتحادی تسلیم کرتے ہیں اور یمن کے دارالحکومت سمیت اہم علاقوں پر جس عبوری حکومت کا کنٹرول ہے، اسے سعودی عرب تسلیم نہیں کرتا جبکہ عمان یمن کی جنگ میں شامل نہیں اور ایران سے اس نے تعلقات خراب بھی نہیں کئے، بلکہ ایران اور امریکہ کے مابین سفارتکاری کا ایک ذریعہ بھی عمان کی سلطنت ہے اور کویت بھی ایران کے بارے میں سعودی عرب، بحرین یا متحدہ عرب امارات کی طرح کا مخاصمانہ رویہ نہیں رکھتا بلکہ خیر سگالی کے بیانات و پیغامات جاری کرتا رہتا ہے۔ سعودی شہزادے کے یہ دعوے دنیا کی نظر میں اس لئے اہمیت کے حامل نہیں ہیں کہ اہل نظر پس پردہ حقائق سے آگاہ ہیں۔ سعودی شہزادے کا یہ موقف کسی طور اسلام یا قرآن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نہ تو اسے شیعی امامت کا عقیدہ قبول ہے اور نہ ہی سنی خلافت کا نظریہ، جیسا کہ اس نے اپنے انٹرویو میں کہا۔

وہ سنیوں کے چار فقہی آئمہ کی تشریحات کے بالکل برعکس حنبلی تشریح کی محمد بن عبدالوہاب والی تشریح و ترامیم کی دنیا بھر میں تبلیغ کرواتا رہا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کی جان و مال و عزت امریکی مفاد پر قربان کی جاتی رہی ہے، جیسے کہ افغانستان، شام، یمن سمیت بہت سے ممالک میں اس نظریئے پر عمل کیا، حتٰی کہ داعش بھی محمد بن عبدالوہاب کا لٹریچر ہی تبلیغ میں استعمال کرتی رہی ہے اور اسکا انکشاف ایک سعودی صحافی و دانشور نے کیا بھی تھا۔ القاعدہ و اسامہ بن لادن یہ سبھی سعودی امریکی و برطانوی گیم پلان کا حصہ ہی تھے، جیسے رابن کک نے اشارہ کیا تھا، انگریزی ذرائع ابلاغ داعش کو اسلامک اسٹیٹ کہتے ہیں۔ امریکہ ہی کے ایک تھنک ٹینک کارنیگی(CEIP) نے ایک سکالر کا داعش کی فرقہ واریت: نظریاتی جڑیں اور سیاسی سیاق و سباق کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا تھا۔ جس کے مطابق:The Islamic State presents itself as the representative of authentic Islam as practiced by the early generations of Muslims, commonly known as Salafism. Many postcolonial and modern Islamic movements describe themselves as Salafist, including the official brand of Islam adopted by Saudi Arabia known as Wahhabism, named after founder Muhammad Ibn Abd al-Wahhab, the eighteenth-century cleric who helped establish the first Saudi state with the assistance of Muhammad Ibn Saud.
Wahhabism is the intellectual legacy of the thirteenth-century Islamic scholar Taqi al-Din Ibn Taymiyyah and the Hanbali school of jurisprudence, as interpreted and enforced by Ibn Abd al-Wahhab and his successors. Marked by extreme traditionalism and literalism, Wahhabism rejects scholastic concepts like maqasid (the spirit of sharia law), a principle that many other Islamic schools uphold; kalam (Islamic philosophy); Sufism (Islamic spirituality); ilal (the study of religious intentions in the Quran and hadith, sayings attributed to the Prophet); and al-majaz (metaphors)
.

حنفی ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر جس طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تنقید کر رہے ہیں، اس پر پاکستان میں بھی ایک نیم سیاسی و نیم مذہبی جماعت کے رہنما نے تنقید کی تھی۔ باوجود اس کے کہ محمد بن سلمان نے بہت سے جھوٹ کہے ہیں، لیکن ہم اس سعودی شہزادے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے سعودی عرب کا وہ اصلی چہرہ بےنقاب کر دیا ہے، جس کے بارے میں عالم اسلام کا ایک وسیع حلقہ موجودہ جدید سعودی سلطنت کے قیام سے لے کر اب تک دنیا کو آگاہ کرتا آیا تھا۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اور دی اٹلانٹک کے ان افراد سے جو گفتگو کی، وہ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ اس خطے میں سعودی عرب امریکہ و اسرائیل کے بلاک کا تاحال اٹوٹ انگ ہے اور یہ امریکی و اسرائیلی بیانیہ ہے، جو سعودی شہزادے کے توسط سے پھیلایا جا رہا ہے۔ امریکہ کے اہل نظر ان معاملات سے ہم سے زیادہ آگاہ ہیں، تبھی تو اس دورے پر ایک شہہ سرخی یہ تھی: ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ، جنگ (کے سامان کی) خریداری پر مبنی ایک سفر ہے۔ ویسے بھی اس مرتبہ وہ ہالی ووڈ بھی گئے ہیں، جہاں انکا ریڈ کارپٹ استقبال ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہالی ووڈ سے کوئی اچھا اسکرپٹ اور اداکاری کے نئے انداز و مکالمے سیکھ کر فرضی طاقت کا سرور حاصل کرسکیں۔ انکے دورہ امریکہ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اور جو انٹرویوز انہوں نے دیئے ہیں، ان میں ابھی بھی بہت سی کام کی باتیں ہیں، جو مستقبل میں شیئر کی جاسکتی ہیں۔ انتہائی اختصار سے جو ایک جملہ کہا جاسکتا ہے کہ سعودی سلطنت نہ سنی مسلمانوں سے متفق ہے، نہ ہی شیعہ مسلمانوں سے، یہ اسی نظریئے پر قائم ہے جسے اصطلاحاً وہابیت کہا جاتا ہے اور یہی نظریہ داعش اور القاعدہ اور ان کے دیگر ممالک میں موجود اتحادیوں کا بھی ہے، جس سے اسلام و انسانیت کو خطرات لاحق ہیں۔
خبر کا کوڈ : 715719
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب