0
Thursday 5 Apr 2018 21:10

خون مسلم کی ارزانی اور ہمارا حقیقی مسئلہ

خون مسلم کی ارزانی اور ہمارا حقیقی مسئلہ
تحریر:  سید اسد عباس

اللہ نے اپنے پاک کلام میں مسلمانوں کو امت وسط قرار دیا۔ یہودیت اور نصرانیت دونوں مذاہب کے پیروکار اپنے اپنے معاشرتی طرز عمل میں جن حدوں کو چھو رہے تھے، خدا کی مرضی تھی ایک امت ان دونوں حدوں کے مابین زندگی گزارے اور آنے والے انسانوں کے لئے معاشرہ سازی، طرز زندگی، بود و باش، عدل و انصاف کے قیام اور نظم مملکت کے عنوان سے معتدل رویئے کا معیار قائم کرے۔ امت وسط نے یہ کردار کتنا عرصہ خدا کی منشاء اور رضا کے مطابق نبھایا، یہ تفصیل طلب موضوع ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا، فتوحات کے عنوان سے تو یہ بات شاید درست نہ لگے، تاہم بحیثیت امت وسط ہم نے اپنے مقام کو درجہ بدرجہ ہاتھوں سے دینا شروع کر دیا۔ درست سمت میں گھومنے والا پہیہ الٹی طرف چلنا شروع ہوا تو نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک روز ایک ایسا شخص ولی المسلمین کے منصب پر آیا، جس نے وحی اور ملک کی آمد کو ہی (نعوذ بااللہ) افتراء قرار دے دیا۔ اسی شخص نے نبی رحمت کے نواسے کو ان کے خانوادے سمیت کرب و بلا کے ریگ زار میں تین دن کا پیاسا ذبح کر دیا۔ امت وسط نبی کے نواسے کے قتل اور اس قتل کا باعث بننے والے تمام عوامل کو یوں پی گئی، جیسے یہ وہ امت تھی ہی نہیں، جس کا تذکرہ قرآن کریم میں کیا گیا تھا۔

اقتدار کے حصول اور دوام کے لئے لوگوں کا قتل، جبر و تشدد، ملک بدری، جنگ و جدل امت مسلمہ کا خاصہ قرار پایا۔ ایسا بھی نہیں کہ ہم نے علوم و فنون میں ترقی نہ کی، ایک وقت تھا کہ علم و فن میں مسلمانوں کا کوئی ثانی نہ تھا، مگر یہ عروج غلط قیادت کے سبب زوال میں بدلنے لگا اور یورپ نے اسی علم و فن کو اپنا کر سائنسی ترقی سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ آج دنیا کی ہر نئی ایجاد یورپ و مغرب کی علم و فن کے میدان میں حکمرانی کا قصہ سناتی ہے۔ اس کے برعکس ہم مسلمان دنیا کو عجیب و غریب تحفے دے رہے ہیں۔ خودکش کا لفظ، شدت پسند کی اصطلاح، فرقہ واریت سب مسلمانوں سے ہی مخصوص ہیں۔ بہرحال امت وسط نے نبوت سے خلافت، ملوکیت، بادشاہت تک کا سفر مکمل کیا اور ممالک اسلامیہ کے حصے بخرے ہونے لگے۔ ہم نے آنے والی نسلوں کے لئے باعث افتخار اور ہر عنوان سے ایک معتدل، عادلانہ معاشرے کی مثال کیا بننا تھا، آج کا مسلمان عمومی طور پر مظلومیت، لاچاری، جہالت اور فاقہ کشی کا مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

اقوام عالم پر نظر دوڑائیں تو ہمیں کم ہی ایسے ممالک ملیں گے جو مسلمانوں کی مانند پسماندہ ہوں۔ دنیا کے بیشتر پسماندہ ممالک منجملہ ایتھوپیا، یمن، سنیگال، تاجکستان، بنگلہ دیش، موریطانیہ، سوڈان، پاکستان، نائجیریا، ازبکستان، بھوٹان، افغانستان سمیت دسیوں ممالک اسی امت وسط سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری جانب اس امت کے بعض ممالک دولت و ثروت، وسائل میں دنیا کے امیر ترین ممالک شمار ہوتے ہیں۔ غرباء کی غربت کا سبب بھی وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ ملک میں موجود وسائل کی درست شناخت کی کمی یا ان وسائل پر بعض گروہوں کا تسلط ہے۔ مجموعی طور پر توانائی، خوراک، زراعت، معدنیات، آبی وسائل، سمندری محصولات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو مسلمان ممالک نہ صرف ان میں خود کفیل ہیں بلکہ امتیازی خود کفالت کے حامل ہیں اور دنیا بھر کے انسانوں کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری صورتحال یہ ہے کہ بحیثیت ملت ہمارا کوئی پرسان حال نہیں۔ اس وقت دنیا میں موجود قدیم ترین مسائل جن کے سبب انسانوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہے اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے، مسلمانوں کو ہی درپیش ہیں۔ ان قدیم مسائل کے ساتھ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے مسائل میں کمی ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

آج سے چالیس برس قبل مسلمان فلسطین اور کشمیر کا رونا رو رہے تھے، تاہم آج ہمارے پاس نوحہ خوانی کے لئے اور بھی موارد موجود ہیں۔ افغانستان کے مسلمان گذشتہ تین دہائیوں سے دربدری، کشت و خون، اقتدار کی رسہ کشی کا شکار ہیں، جس کا سلسلہ تاحال نہیں تھما۔ عراق، شام ، لیبیا، یمن بھی اب وہ زخم بن چکے ہیں، جن سے ہر وقت خون رس رہا ہے۔ کبھی فلسطین میں صہیونی غاصب کے ہاتھوں ایک روز میں بیس جنازے اٹھ جاتے ہیں تو کبھی کشمیر میں ھل من ناصر کی صدا بلند ہوتی ہے، کبھی شام سے نوحہ اٹھتا ہے تو کبھی یمن کے بے جرم شہید ہم سے بای ذنب قتلت کا سوال کرتے ہیں۔ امت وسط کے قائدین یعنی مسلمان حکمرانوں کو اس چیخ و پکار سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اپنے آپ کو خادم الحرمین کہلوانے والے غاصبوں کے حق ریاست کو قبول کر رہے ہیں۔ ان سے بعید نہیں کہ کل کو وہ فلسطینیوں، کشمیریوں کی مقاومت کو دہشت گردی قرار دے دیں۔ جیسا کہ انہوں نے یمن میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والوں کے ساتھ کیا۔ حماس، حزب اللہ، اخوان المسلمین کو یہ تمغہ پہلے ہی مل چکا ہے۔ ایسے میں مسلمان بھلا کس سے خیر کی توقع رکھیں۔ کیا ان دشمنوں سے جن کا ہدف و مقصد ہی اس دین اور اس کے نام لیواﺅں کا خاتمہ اور ان کے وسائل کو لوٹنا ہے۔؟

میری نظر میں ہمیں دشمن سے گلہ کرنے کے بجائے یا اس کے سامنے آہ و زاری کرکے اسے خوش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح احوال کی تدبیر کرنی چاہیے۔ یہی کام امام خمینی نے ایران میں کیا، جسے دشمن اور اس کے حواریوں نے ایک فرقہ وارانہ انقلاب کا عنوان دیا اور ہم اتنے بھولے نکلے کہ غیر کی بات کو درست مان کر اپنی دوا سے دور ہوگئے۔ امام خمینی نے جان لیا تھا کہ ہمارا حقیقی دشمن کوئی غیر نہیں بلکہ شاہ اور شاہ کا متکبرانہ نظام ہے، جو ہمیں کسی بھی میدان میں ترقی و پیشرفت نہیں کرنے دے رہا۔ اس نظام نے ہمیں غیروں کا کاسہ لیس بنایا ہوا ہے، وہ ہمارے وسائل، ہماری دولت کو سہولیات، تعلیم و ترقی کے نام پر لوٹ رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سہولت فقط اشرافیہ کو دستیاب ہے، فقط وہی اس سہولت سے استفادہ کرسکتا ہے، جو قوت خرید رکھتا ہے۔ تعلیم و ترقی بھی اسی طبقے کو میسر ہے، جس سے معاشرے میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ مغرب میں تعلیم حاصل کرنے والا طبقہ کبھی لوٹ کر وطن نہیں آتا۔ امام خمینی نے دیکھ لیا تھا کہ ہمارا معاشرہ اس طبقاتی سہولت کے سبب مزید مسائل سے دوچار ہوتا جا رہا ہے اور ظاہراً ترقی کا جادہ نظر آنے والی شاہراہ تنزلی، معاشرتی بے اعتدالی اور طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کر رہی ہے۔

اسی سب کے خلاف امام خمینی نے قیام کیا، ان کا اولین دشمن اور ہدف یہی نظام تھا، جس کا تعلق خود ان کے معاشرے سے تھا اور جو ایرانی معاشرے کو دیمک کی مانند چاٹ رہا تھا۔ آج اس نظام سے چھٹکارا پانے کے تقریباً چالیس برس بعد ایرانی معاشرہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہے۔ آٹھ برس کی جنگ، مسلسل اقتصادی پابندیاں، وسائل کی کمی ایرانی قوم کے پائے استقامت کو متزلزل نہیں کرسکی۔ آج علم و فن کے میدان میں وہ اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ خود انحصاری اور ترقی اس بات کا باعث بنی ہے کہ آج ایران دنیا کی پانچ سپر پاورز کے ساتھ بیٹھ کر برابری کی سطح پر بات کرتا ہے۔ اپنے سیاسی و نظریاتی موقف کو بغیر کسی خوف و خطر کے ببانگ دہل عالمی فورمز پر اٹھاتا ہے۔ امت کو درپیش چیلنجز کے بارے ایک مستحکم آواز کی حیثیت رکھتا ہے، تاہم یہ صدا کافی نہیں۔ امت مسلمہ کے دیگر ممالک کو بھی ایسی ہی خود انحصاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جو ایرانی تجربہ اور عالمی حالات کے تناظر یقیناً آسان کام نہیں ہے، تاہم عزت و افتخار کے ساتھ زندہ رہنے کا اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 715951
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب