0
Sunday 8 Apr 2018 18:21

محمد بن سلمان کی فلسطین سے غداری، پس پردہ حقائق اور ممکنہ نتائج

محمد بن سلمان کی فلسطین سے غداری، پس پردہ حقائق اور ممکنہ نتائج
تحریر: محمد رضا کلہر

گذشتہ تین برس کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل ہر وقت سے زیادہ ایکدوسرے کے قریب آئے ہیں۔ اس کے دو اہم سبب سعودی عرب میں ملک سلمان بن عبدالعزیز اور امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا برسراقتدار آنا ہیں۔ ان دو رژیموں میں قربتوں کا سفر دونوں ممالک کے حکمرانوں کے مفادات مشترک ہونے کی علامت ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے مقابلے میں بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔ لہذا گذشتہ ایک سال میں بنجمن نیتن یاہو، محمد بن سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ پر مشتمل سہ فریقی اتحاد ابھر کر سامنے آیا ہے جن کے درمیان سب سے زیادہ تعاون مسئلہ فلسطین کے بارے میں دیکھنے میں آیا ہے۔

حال ہی میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکی میگزین اٹلانٹیک کو انٹرویو دیا ہے جسے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کی جانب آخری قدم شمار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس انٹرویو میں اعلانیہ طور پر اسرائیل کی موجودیت کا دفاع کیا ہے۔ محمد بن سلمان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امن منصوبہ کامیاب ہو جانے کی صورت میں اسرائیل اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سمیت مصر اور اردن کے درمیان نئے مشترکہ مفادات جنم لیں گے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا ملت فلسطین مقبوضہ سرزمین حاصل کرنے کا حق رکھتی ہے یا نہیں؟ کہا: "میری نظر میں یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر زندگی بسر کریں۔"

سعودی ولیعہد نے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ وہ صرف ملت فلسطین اور مسجد اقصی کے حقوق کے بارے میں پریشان ہیں کہا: "ہمیں کسی دوسری قوم کی موجودیت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔" محمد بن سلمان نے مزید کہا: "فلسطینی اور اسرائیلی اپنا ملک رکھنے کا حق رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تمام فریقوں کے استحکام اور ان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو یقینی بنانے والے امن معاہدہ کی ضرورت ہے۔" سوال یہ ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اس مرحلے تک کیوں اور کس طرح پہنچے؟

سعودی عرب، اسرائیل کا ہمیشہ کا اتحادی
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم تشکیل پانے سے لے کر آج تک نہ صرف سعودی رژیم نے اس کا مقابلہ یا اس کے خلاف کسی جنگ میں شرکت نہیں کی بلکہ بعض امور میں اس کے ساتھ تعاون بھی کیا ہے۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران اس تعاون اور بعض اوقات حمایت کا سلسلہ آگے ہی بڑھا ہے اور دونوں ممالک کے اعلی سطحی انٹیلی جنس عہدیداروں کے درمیان بہت زیادہ ملاقاتیں انجام پائی ہیں۔ غاصب صہیونی رژیم کی ستر سالہ زندگی کے دوران سعودی حکومت نے ہمیشہ چوری چھپے اور اعلانیہ طور پر اس کا دفاع کیا ہے۔

1960ء کے عشرے میں جب مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو ریاض نے مصر کے سربراہ جمال عبدالناصر کے خلاف موقف اختیار کیا۔ اسی طرح 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی 33 روزہ جارحیت کے دوران بھی سعودی حکام نے واضح طور پر حزب اللہ لبنان کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ دوسری طرف سعودی رژیم نے اسلامی مزاحمت کی فلسطینی تنظیم حماس کو غزہ میں محصور کرنے کی کوشش کی اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کا ظالمانہ محاصرہ توڑنے کیلئے کوئی اقدام انجام نہیں دیا۔

2006ء تک سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات مخفیانہ تھے اور دونوں ممالک کے حکام واضح طور پر اس کا اظہار کرنے سے کتراتے تھے۔ اس دوران بھی میڈیا کی نظروں سے دور خفیہ طور پر دونوں ممالک میں تجارتی معاہدے اور مشترکہ سرمایہ کاری انجام پا رہے تھے۔ لیکن 20016ء کے بعد سب کچھ اعلانیہ ہونے لگا۔ گذشتہ تین برس میں ریاض اور تل ابیب کے درمیان انٹیلی جنس اور سیاسی تعاون اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

سعودی عرب کا نام آج تک فلسطین میں غاصب صہیونی رژیم کے خلاف جاری اسلامی مزاحمت کے حامی ممالک میں شامل نہیں ہو سکا۔ 2002ء میں سعودی عرب کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پیش کیا گیا امن منصوبہ اس بارے میں سعودی رژیم کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جو سعودی عرب کی ڈھکی چھپی حمایت سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی حکومت 100 ملین ڈالرز کی مالی امداد کے ذریعے فلسطین اتھارٹی کو اس بات مجبور کرنے کی کوشش کر رہی
ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے کو قبول کر لے۔ اسی طرح فتح تنظیم کے اعلی سطحی عہدیداروں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ امریکی صدر کے خصوصی مشیر نے مسئلہ فلسطین سے متعلق ان کا امن منصوبہ سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز کو پیش کیا ہے اور سعودی حکومت کو یہ مشن سونپا گیا ہے کہ وہ "صدی کی ڈیل" انجام پانے کیلئے یہ امن منصوبہ فلسطین اتھارٹی کے رہنماوں کو پیش کرے۔ اس امن منصوبے کا ایک حصہ یہ ہے کہ فلسطین اتھارٹی دو ریاستوں کے قیام پر مبنی منصوبہ قبول کر لینے، بیت المقدس کے مسئلے کو موخر کرنے اور عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے بدلے بڑے پیمانے پر مالی امداد وصول کرے گی۔

برطانوی اخبار ٹائمز لکھتا ہے کہ جب فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سعودی حکومت کی دعوت پر ریاض گئے تو وہاں ان پر واضح کر دیا گیا کہ ان کے پاس صرف دو راستے ہیں، یا تو وہ مسئلہ فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ منصوبہ قبول کر لیں اور یا پھر استعفی دے دیں۔ موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمود عباس نے اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر قدس شریف کے نواح میں "ابودیس" نامی یہودی بستی تشکیل پانے کی مخالفت کی ہے۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے سے پہلے سعودی عرب کو اعتماد میں لے چکے تھے۔ لیکن اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان قربتیں اس وقت اپنے عروج تک پہنچی جب سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے امریکہ کا دورہ کیا۔

محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کی اہمیت
سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے 18 مارچ کو امریکہ کا دورہ شروع کیا جو چند ہفتوں پر مشتمل تھا۔ الجزیرہ نیوز چینل نے اس بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران محمد بن سلمان نے امریکہ میں دائیں بازو کی یہودی تنظیموں کے کئی رہنماوں سے ملاقات اور بات چیت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولیعہد سے ملنے والے یہودی رہنماوں کا تعلق یہودی تنظیم آئی پیک، اے ڈی ایل اور شمالی امریکہ کے یہودیوں کی فیڈریشن سے تھا۔ یہ تمام تنظیمیں مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی حامی جانی جاتی ہیں جبکہ اسرائیل بائیکاٹ تحریک کے خلاف بھی سرگرم عمل ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار ہارٹز میں محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولیعہد نے امریکن جیویش کمیٹی (AJC) اور دیگر شدت پسند یہودی لابی تنظیموں کے رہنماوں سے بھی ملاقات کی ہے۔ الجزیرہ اس بارے میں مزید لکھتا ہے: "اگرچہ سعودی عرب نے ابھی تک سرکاری طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا لیکن سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے ایسے اقدامات ریاض اور تل ابیب میں دوستانہ تعلقات بڑھنے کی علامت ہیں۔"

اس سے پہلے بھی اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فاش کیا تھا کہ ایک اعلی سطحی اسرائیلی وفد نے اس وقت قاہرہ میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی جب وہ مصر کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ اس ملاقات کے بعد ایک بھارتی ایئرلائن نے اعلان کیا تھا کہ اس کی تل ابیب جانے والی پرواز ریاض کی اجازت سے سعودی عرب کی فضا استعمال کرتے ہوئے براہ راست اسرائیل پہنچی ہے۔ اس کے بعد بھی کئی بھارتی پروازیں سعودی عرب کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے اسرائیل پہنچیں۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہے جب سعودی عرب نے اسرائیل جانے والی کسی پرواز کو اپنی فضا استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس سے پہلے مقبوضہ فلسطین جانے والی پروازوں کو سعودی عرب کی فضا استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

محمد بن سلمان کے اقدامات کے پس پردہ عوامل
سعودی ولیعہد کا حالیہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب سے بھتہ خوری کا تسلسل قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محمد بن سلمان صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے ذریعے ہی ولیعہد کے عہدے پر فائز ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں لہذا ڈونلڈ ٹرمپ اب اس حمایت کے بدلے اپنے مطالبات منوا رہا ہے۔ ٹرمپ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بھرپور سفارتی تعلقات کے قیام کیلئے میسر ہونے والے موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سعودی خاندان کا حکومت مخالف شہزادہ خالد بن فرحال آل سعود ٹی وی
چینل "الحوار" کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بارے میں کہتا ہے:

"امریکہ اور اسرائیل نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پر اپنے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے کچھ شرطیں لگا رکھی تھیں۔ ان شرطوں میں آبنائے تیران کی جانب سے اسرائیلی کشتیوں کی سکیورٹی یقینی بنانا اور اسرائیل سے اعلانیہ طور پر دوستانہ سفارتی تعلقات قائم کرنا بھی شامل تھا۔ اسی طرح محمد بن سلمان کے سامنے یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ وہ مسئلہ فلسطین سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا امن منصوبہ جسے "صدی کی ڈیل" نام دیا گیا ہے کی حمایت کریں گے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو قدس شریف پر اسرائیل کا حق تسلیم کرنا پڑے گا۔"

شہزادہ خالد بن فرحان آل سعود مزید کہتے ہیں کہ ایک اور شرط اسرائیل کو اس میگا پراجیکٹ میں شریک کرنا ہے جو سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے سیاحت کے شعبے میں شروع کر رکھا ہے اور اس کا نام "نیوم" ہے۔ اس پراجیکٹ میں مصر اور اردن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:
"سعودی فرمانروا ملک سلمان بن عبدالعزیز اس وقت ملکی معاملات سے غائب ہیں کیونکہ وہ 2012ء سے شدید الزائمر کا شکار ہیں۔"

محمد بن سلمان کے اقدامات کے ممکنہ نتائج
سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی جانب سے قدس شریف اور مسئلہ فلسطین سے غداری کے خود آل سعود رژیم اور غاصب صہیونی رژیم کیلئے برے نتائج نکل سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ سعودی ولیعہد کے حالیہ اقدام کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "صدی کی ڈیل" نامی مسئلہ فلسطین کے حل پر مبنی منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ منصوبہ پیش کیا ہے دنیا کے مختلف ممالک نے اس کی شدید مخالفت کا اظہار کیا ہے اور سعودی عرب سمیت امریکہ کے چند پٹھو ممالک کے علاوہ کسی ملک نے اس کی حمایت نہیں کی۔

لہذا عالمی سطح پر شدید مخالفت کے باعث اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کئے جانے کی راہ میں بہت زیادہ رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایسے حالات میں سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کی حمایت اور اس غاصب صہیونی رژیم کی موجودیت کی تصدیق کرنے کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر موجود شدید دباو کم کرنا ہو سکتا ہے۔ سعودی حکمران خود کو خادمین حرمین شریفین ظاہر کر کے اسلامی دنیا میں خاص مقام رکھنے کے دعوے دار ہیں۔ گذشتہ آٹھ عشروں سے آل سعود خاندان اسی لیبل کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتا آیا ہے۔ لہذا سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے نتیجے میں امریکی صدر کا منصوبہ کچھ حد تک آگے بڑھ سکتا ہے۔

دوسری طرف 1948ء میں عرب اسرائیل ٹکراو اور جنگوں کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک عرب ملک کے سربراہ نے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہودی اپنے آباء و اجداد کی سرزمین کا مالک بننے کا حق رکھتے ہیں۔ حتی ڈینس راس جو کئی امریکی حکومتوں میں عرب اسرائیل امن پراجیکٹ کے مسئول رہے ہیں نے کہا کہ پہلی بار یہودیوں کے تاریخی حقوق کو تسلیم کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے عرب کے معتدل رہنما ہر گز فلسطین اور اسرائیل کے بارے میں موجود ریڈ لائنز عبور نہیں کرتے تھے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اٹلانٹیک کو ایک طویل انٹرویو (تقریباً بیس صفحات پر مشتمل) دیتے ہوئے حتی ایک بار بھی "ملک فلسطین" کا لفظ استعمال نہیں کیا اور قدس شریف کو اس کا دارالحکومت ہونے کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف اس حد تک کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے سرزمین کا مالک ہونے کے حق پر ایمان رکھتے ہیں۔

سعودی عرب نے اس اقدام کے ذریعے عملی اور سرکاری طور پر امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد میں اپنی شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اپنے اہداف کی تکمیل کیلئے اسلامی دنیا کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی توانائی کھو چکا ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب کا یہ اقدام اسرائیل کے مقابلے میں مختلف فلسطینی گروہوں کے درمیان تعلقات میں مضبوطی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشروں میں اتحاد کا باعث بھی بن جائے گا۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی بادشاہت حاصل کرنے کی خاطر فلسطین امریکہ کو بیچ ڈالا ہے اور یہ ایسا اقدام ہے جو عالم اسلام میں سعودی عرب کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو جانے کا باعث بنے گا۔
خبر کا کوڈ : 716544
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے