0
Wednesday 11 Apr 2018 21:40

جنوبی پنجاب صوبہ بنا محاذ

جنوبی پنجاب صوبہ بنا محاذ
رپورٹ: ایم ایس نقوی

تحریک انصاف کے نااہل سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے پارٹی کے منشور میں شامل کرنے کے عندیہ پر مشتمل ٹویٹ کے ٹھیک دو دن بعد مسلم لیگ (ن) کے 8 ارکان اسمبلی نے نہ صرف اپنی رکنیت سے استعفٰی دے دیا، بلکہ جنوبی پنجاب صوبہ بناؤ کے نام سے الگ شناخت کا اعلان کرکے الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور اپنا قبلہ بھی تبدیل کرکے کافی عرصہ سے متحرک سیاست سے الگ تھلگ رہنے والے سابق نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کو قائد بھی تسلیم کر لیا، حالانکہ دیکھا جائے تو میر بلخ شیر مزاری جو میر شیر باز خان مزاری کے بھائی اور جنرل مشرف کی قاف لیگی حکومت کے دور میں قتل ہونے والے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے برادر نسبتی بھی ہیں، ان کے ایک پوتے پہلے ہی تحریک انصاف کا حصہ ہیں، اب اگر ٹائمنگ پر ہی غور کر لیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ ٹھیک اس دن یہ ارکان نون لیگ سے مستعفی ہوئے ہیں، جب بلاول بھٹو زرداری ملتان میں بیٹھ کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو بھول جائیں، اب شین لیگ، یعنی مسلم لیگ شہباز شریف گروپ کی بات کریں اور یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ انتخابات میں مقابلہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور شین لیگ میں ہوگا، اب ان کی اس بات کا وقت بھی بہت ہی پرفیکٹ ہے۔

ادھر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کرنے والے یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ جلد ہی ان کی تعداد میں اضافہ ہوگا، یعنی مزید ارکان اسمبلی ان کے ساتھ ملیں گے، ایسی صورت میں مسلم لیگ (ن) کو ان ارکان اسمبلی کو کوسنے کی بجائے باقی ارکان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ جو 8 گئے ہیں، ان میں سے چودھری سمیع اللہ کو چھوڑ کر باقی تمام اپنی وفاداریاں ایک سے زیادہ مرتبہ تبدیل کرچکے ہیں، جن میں خسرو بختیار، چودھری طاہر اقبال، رانا قاسم نون، طاہر بشیر چیمہ اور دوسرے شامل ہیں، جو پیپلزپارٹی سے لے کر مارشل لائی حکومتوں کا بھی اتنے ہی جوش و خروش سے حصہ رہے ہیں، جتنا جوش و خروش وہ اس وقت جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے لئے دکھا رہے ہیں۔ اس خطے کی پسماندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، حالانکہ انہیں متعدد مرتبہ مواقع مل چکے ہیں کہ وہ اس کے لئے فلور آف دی ہاؤس پر آواز بلند کرتے، لیکن انہوں نے اب بھی معلوم نہیں کس کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے کہ ان ہائوس بات کرنے کی بجائے پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے، یہ تقریباً تمام منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، رہنما شاید نہ ہوں۔

لیکن متعدد مرتبہ اسمبلی کے رکن رہنے کے باوجود شاید ان کو علم نہیں ہے کہ جنوبی پنجاب یا کوئی اور صوبہ اس طرح پارٹیوں سے الگ ہو کر اور پریس کانفرنس کرکے نہیں بنا کرتا اور نہ ہی بنے گا، اس کے لئے پہلے ہی پیپلزپارٹی نہ صرف دعویٰ کر رہی ہے، بلکہ اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک عدد وسیع و عریض بلاول ہائوس بھی ملتان میں تعمیر کرکے جنوبی پنجاب کے پسماندہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور صوبہ بنانے کے لئے بہت ہی سنجیدہ ہیں، لیکن اس کام نے پسماندہ عوام کو ایک مرتبہ اندھیرے میں رکھنے کا پلان کر لیا ہے، تاکہ صوبے اور پسماندگی کے نام پر ان سے ایک مرتبہ پھر ووٹ حاصل کئے جا سکیں، ورنہ صوبہ محاذ بنانے والے اسی علاقے میں رہتے ہیں، کیا انہیں یہ ادراک پہلے نہیں تھا کہ اس خطے میں پسماندگی کی شرح 51 فیصد سے بڑھ چکی ہے، اب انہیں کیوں یاد آ رہا ہے، محض اِس لئے کہ 2018ء کے عام انتخابات قریب آرہے ہیں اور کسی کے اشارے پر نون لیگ کو سیاسی طور پر تنہا کرنا چاہ رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو آئین پاکستان میں اس شق کو ختم کرنا پڑے گا، جس میں یہ واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی چار اکائیاں یعنی چار صوبے ہوں گے، جبکہ ایک اور اہم شق میں ان اکائیوں کی ایوان بالا یعنی سینٹ میں نمائندگی واضع کی گئی ہے اور کسی بھی قانون کے تحت اس میں اضافہ نہیں ہوسکتا، یعنی ہر صوبے کی 20 سینیٹرز پر مشتمل نمائندگی ہوگی جبکہ وفاقی علاقے اور فاٹا کے سینٹرز اس کے علاوہ ہوں گے، ایسی صورت میں کیا یہ قومی سیاسی جماعتیں جنوبی پنجاب کے عوام کو ایک مرتبہ پھر سیاسی دھوکہ نہیں دے رہیں کہ وہ ان کے لئے ایک الگ صوبہ بنا دیں گے، مگر کیسے؟ اس بات پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے، البتہ پیپلزپارٹی کی قیادت اس پر زور دینے کی کوشش کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں صوبے کے قیام کیلئے کام کیا، لیکن کیا انہوں نے صوبائی خود مختاری پر مشتمل اٹھارہویں ترمیم کی طرح صوبہ بنانے کی ترمیم پیش کی تھی یا اس کے لئے کوئی کام کیا تھا؟ کوئی کمیشن بنایا تھا کہ جس طرح ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں مستقبل کی سیاسی ضروریات کو دیکھتے ہوئے 1953ء میں ہی ریٹائرڈ چیف جسٹس آف انڈیا کی قیادت میں لیگ کمیشن بنا کر آئین میں ضرورت کے مطابق صوبے بنانے کے لئے ترمیم کر لی تھی اور آج وہاں کم از کم اس حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے، اب یہ جنوبی پنجاب کو آئندہ انتخابات میں ووٹ کے لئے استعمال کرتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تین دن ملتان میں ڈیرے ڈالے رکھے اور ممبر سازی کے لئے چند مخصوص علاقوں میں گئے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کا دورہ کوئی مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام رہا، کیونکہ انہیں مقامی قیادت نے تقریباً یرغمال بنائے رکھا، حالانکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ وہ آئندہ اپنا مسکن بھی ملتان کو بنائیں گے، لیکن پھر بھی ان کی اپنی پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں بلاول ہاؤس تک ہی محدود کر دیا، اب ایسی صورت میں ان کے یہ دعوے کہ ملتان ان کا سیاسی مرکز ہے، جنوبی پنجاب کو ایک الگ صوبہ بنائیں گے، کیسے پورے ہوں گے، جبکہ وہ جنوبی پنجاب سے پسماندگی کے خاتمے کے لئے کوئی پلان یا منشور دینے میں ناکام رہے اور دے بھی کیسے سکتے ہیں، کیونکہ اندرون سندھ اس علاقے سے بھی زیادہ غربت ہے، جہاں ان کی حکومت گذشتہ دس برسوں سے چل رہی ہے، جس کے جواب میں تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ پارٹیاں کارکنوں سے بنتی ہیں، کارکنوں سے ہی نظریہ آتا ہے اور جماعت نظریہ کی بنیاد پر زندہ رہتی ہے، اگر یہ نظریہ مر جائے تو سیاسی جماعت بھی فوت ہو جاتی ہے، پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا نظریہ تھا، جو مر چکا ہے، اب یہ وہ پارٹی نہیں ہے، جنوں نے بھٹو کو تو زندہ رکھا ہوا ہے۔
خبر کا کوڈ : 717305
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے