0
Wednesday 18 Apr 2018 13:09

خیبر پختونخوا کی سیاست پر ایک نظر

خیبر پختونخوا کی سیاست پر ایک نظر
رپورٹ: ایس علی حیدر

خیبر پختونخوا میں آئندہ انتخابات کیلئے سیاسی جماعتیں اور متوقع امیدوار متحرک ہوچکے ہیں۔ اس حوالے سے جہاں ایک طرف جلسے، جلوسوں، شمولیتی جلسوں اور ریلیوں کا سلسلہ روز بروز تیز ہو رہا ہے، وہاں دوسری طرف نگران حکومت کیلئے بازگشت سنی جا رہی ہے، الزامات کی سیاست تو پاکستانی کلچر بن چکی ہے اور قارئین کو آئندہ بھی ایسی سیاست ہی دیکھنے کو ملے گی۔ بہرحال پاکستان کی سیاست میں آئندہ کونسی جماعت یا سیاسی جماعتی اتحاد حکمرانی کرے گا، اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ بعض مبصرین کے مطابق اسٹبلشمنٹ کا آئندہ حکومت کے قیام کیلئے بڑا اہم کردار ہوگا۔ ووٹ کی حرمت پامال ہوگی یا پھر ووٹ ہی پاکستان کا مقدر بنے گا، اس حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل کے درمیان تو مقابلے کی کافی توقعات ہیں، دیگر جماعتیں بھی اپنا اثر و رسوخ پاکستانی سیاست پر ڈال سکتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سیاسی منظر نامے پر ہلچل دن بدن بڑھ رہی ہے۔ بڑی چھوٹی سایسی جماعتیں اپنے اپنے شوز پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف مہم سازی کے ساتھ ساتھ جلسوں کے انعقاد پر زور دے رہی ہے، ادھر پاکستان پیپلز پارٹی بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور یہی کچھ مسلم لیگ (ن) بھی کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نہ صرف پورے پاکستان میں سیاسی قوت کا بھرپور اظہار کر رہی ہے بلکہ سوات جیسے علاقے جہاں تحریک انصاف کا راج ہے، اس میں تاریخی جلسہ منعقد کرنے سے پورے ملک میں اپنی اہمیت بڑھا دی۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انتخابات میں کامیابیوں کیلئے بڑے بڑے جلسے پیرامیٹرز نہیں ہوتے۔ بہرحال مسلم لیگ (ن) کے خیبر پختونخوا میں بڑے بڑے جلسوں سے ناقدین حیران ضرور ہیں اور یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ مسلم لیگ (ن) پختونخوا میں دوسری بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے۔ بالخصوص سوات کے جلسے نے پاکستان تحریک انصاف کیلئے خیبر پختونخوا میں خطرے کی گھنٹی ضرور بجا دی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کی صفوں میں ہلچل دکھائی دے رہی ہے۔ پیپلز پارٹی گو کہ بڑی جماعت ہے لیکن خیبر پختونخوا میں اس کی سیاست کو وہ اثر و رسوخ حاصل نہیں، جیسا کہ اسے سندھ میں حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام نے شبانہ روز کاوشوں سے مسلم لیگ (ن) کو پشتون بیلٹ میں مقبول جماعت بنا دیا ہے۔

جلسوں میں میاں نواز شریف اور مریم نواز کا ہدف تنقید زیادہ تر عمران خان رہتے ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی سیاست کی بات کریں تو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنے دونوں سیاسی حریفوں اور ریاستی اداروں سے چومکھی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آصف علی زرداری اور عمران خان دونوں کا ٹارگٹ میاں نواز شریف ہیں، اگرچہ عمران خان اپنے جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں آصف علی زرداری پر شدید تنقید کرکے لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان کے سخت مخالف ہیں، لیکن سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے اسی امیدوار کو ووٹ دیئے جن کو آصف علی زرداری کی حمایت حاصل تھی۔ ان میں سے ڈپٹی چیئرمین کیلئے تو امیدوار ہی پیپلز پارٹی کا تھا۔ اس لئے میاں نواز شریف یہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے ارکان نے تیر کو ووٹ دیئے۔ اگرچہ عملی سیاست میں عمران خان اور آصف علی زرداری کی الگ الگ پارٹیاں ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے پر گولہ باری کرتے رہتے ہیں، لیکن نواز شریف دشمنی میں دونوں ایک صفحہ پر ہیں۔ میاں نواز شریف اس خفیہ اتحاد کو عوام کے سامنے ایکسپوز کرنے کیلئے اپنے جلسوں میں زرداری نیازی، بھائی بھائی کے نعرے لگوا رہے ہیں۔

میاں نواز شریف کے جلسوں کا سب سے مقبول نعرہ زرداری نیازی بھائی بھائی بن گیا ہے۔ عمران خان، نواز شریف اور آصف علی زرداری کی مخالفت کرکے میدان سیاست میں اپنے لئے گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف دونوں کو ایکسپوز کرکے ان کیلئے گنجائش کم کرنا چاہتے ہیں۔ ادھر عوامی نیشنل پارٹی بھی کافی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور جا بجا تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی نے 15 اپریل کو بونیر میں عظیم الشان جلسہ منعقد کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اے این پی کے اس جلسے میں مرکزی صدر اسفندیار ولی، سابق صوبائی وزیراعلٰی و صوبائی صدر امیر حیدر ہوتی، صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک و دیگر صوبائی و مرکزی عہدیداران بونیر کے جلسے میں شریک تھے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق یہ جلسہ انتخابی مہم کے حصے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے جلسوں کا بھی توڑ ہے۔ ادھر متحدہ مجلس عمل بھی خیبر پختونخوا میں متحرک ہوچکی ہے اور مختلف مقامات پر شمولیتی جلسوں کا انعقاد کر رہی ہے، تاہم تاحال کوئی بڑا شو آف پاور نہیں دکھا سکی ہے۔

مستقبل میں متحدہ مجلس عمل خیبر پختونخوا کی سیاست میں مزید گرمی پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کیلئے اس کو مسلم لیگ (ن) جیسے شوز دکھانے پڑیں گے۔ وزیراعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں، اسلام کے نام پر ووٹ لینے والی ایم ایم اے نے اپنے دور حکومت میں اسلام کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ پاکستان تحریک انصاف دینی ایجنڈے کے تحت اقتدار میں نہیں آئی، مگر پھر بھی دینی اقدامات کو اپنا فریضہ سمجھا اور عملی اقدامات اٹھائے۔ بات اگر خیبر پختونخوا میں قومی وطن پارٹی کی کی جائے تو حقائق یہی ہیں کہ قومی وطن پارٹی میں اب وہ جان نہیں رہی، جو کبھی ہوا کرتی تھی۔ قومی وطن پارٹی روایتی نشستیں ہی حاصل کرسکے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام کس جماعت کے جماعتی اتحاد کو پذیرائی بخشتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 718501
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب