0
Monday 30 Apr 2018 02:07

کوئٹہ، ٹارگٹ کلنگ کیخلاف منعقدہ احتجاجی جلسے سے شیعہ اکابرین کا خطاب

کوئٹہ، ٹارگٹ کلنگ کیخلاف منعقدہ احتجاجی جلسے سے شیعہ اکابرین کا خطاب
رپورٹ: نوید حیدر

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ قوم کو مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف بلوچستان شیعہ کانفرنس کے زیراہتمام احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاجی جلسے میں ایم ڈبلیو ایم، ہزارہ سیاسی کارکن، بلوچستان شیعہ کانفرنس، ہزارہ قومی جرگہ، کوئٹہ یکجہتی کونسل، انجمن تاجران اور کوئٹہ کے دیگر مقامی شیعہ تنظیموں کے اکابرین نے شرکت کیں۔ اس موقع پر احتجاجی جلسے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہزارہ سیاسی کارکن کے چیئرمین طاہر خان ہزارہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ بیس سالوں سے شیعہ ہزارہ قوم کی نام نہاد دہشتگردی کے نام پر نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ہم نے ذمہ دار شہری ہونے کی حیثیت سے سینکڑوں لاشوں کے ساتھ بھی پرامن دھرنا دیا اور میڈیا کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ صوبائی حکومت کیخلاف اپنی تحریک چلائی اور وفاقی حکومت کے سامنے بھی اپنے مطالبات رکھے، لیکن پھر بھی ہماری ٹارگٹ کلنگ اور نسل کشی ختم نہیں ہوئی۔ ہماری نسل کشی ریاست کی جنگی سیاست کا شاخسانہ ہے۔ کوئٹہ جیسے چھوٹے شہر میں پولیس، ایف سی اور چھبیس سکیورٹی ایجنسیاں‌ کام کر رہی ہیں، لیکن دہشتگرد شہر کے مرکزی علاقے میں آکر معصوم لوگوں‌ کو مسلسل ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ کوئٹہ میں نامعلوم افراد ہمیں ٹارگٹ کلنگ کرکے فرار ہوجاتے ہیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں پر نامعلوم کی حکومت ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کی ہے، جس میں چوری، ڈاکہ زنی یا دیگر معاشرتی برائیوں کی روک تھام شامل ہے۔ جبکہ وفاقی حکومت اور فوج کی ذمہ داری انٹرنل سکیورٹی کی ہے۔ اگر کوئٹہ شہر میں ہزار کلو بارودی مواد کا بم دھماکہ یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کئے جاتے ہیں تو اس کے روک تھام کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی نہیں، بلکہ وفاقی حکومت اور فوج کی ہوتی ہے۔ اس لئے ہم اپنی ٹارگٹ کلنگ کی روک تھام کا مطالبہ براہ راست پاک افواج کے سربراہ سے کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کی عوام ایف سی اور پولیس کو اپنے حفاظت کیلئے اربوں روپے کی ٹیکس دیتی ہے، لیکن یہاں پھر بھی آئے دن دہشتگردی کے واقعات رونماء ہوتے رہتے ہیں۔ کوئٹہ میں نہ شیعہ محفوظ ہے، نہ بلوچ، نہ پشتون اور نہ ہی پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز۔ ہمارے اکابرین نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹ کھٹایا، لیکن ہمیں وہاں سے بھی انصاف نہیں ملا۔ ریاست کو اپنی جنگ سیاست کی آڑ میں شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی بند کرنا ہوگی۔

بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید محمد داؤد آغا کا کہنا تھا کہ ہم نے شیعہ ہزارہ اکابرین کو یکجاء کرنے کی کوشش کی ہے، جوکہ ہمارا دینی واخلاقی فریضہ تھی۔ غیر ملکی ایجنٹس ہونے کے الزامات لگانے والوں پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہماری قوم پاکستان میں بسنے والے ہر مظلوم طبقے اور شیعہ ملت کیساتھ یکجاء ہوکر اس ظلم و بربریت کیخلاف اکھٹے جدوجہد کرے گی۔ چودہ سو سالوں سے امام علی (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو بغض اہلبیت (ع) رکھنے والے صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم پہلے بھی شیعہ تھے اور تا دم مرگ شیعہ رہینگے۔ ریاستی ادارے ہماری ماتمی جلوسوں کو علمدارروڈ تک محدود رکھنا چاہتے تھے، لیکن ہم نے انہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ کوئٹہ میں کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں، بلکہ یہاں ہم پر جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ شیعہ ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگردوں کی سرپرستی خود ریاست کر رہی ہے۔ کوئٹہ میں جنوری 2013ء کو جب خودکش دھماکے کئے گئے تب میں شہیدوں کے لواحقین کے گھر تعزیت کیلئے گیا۔ وہاں شہید کی ماؤں اور بہنوں نے اپنے زیورات اور چادر میری طرف پھینکتے ہوئے کہا کہ ہمارے تین بھائی شہید ہو چکے ہیں۔ اگر آپ میں غیرت نہیں تو ہمیں اسلحہ اور بارود دیا جائے، تاکہ ہم عورتیں جاکر اپنا انتقام لے سکیں۔ پاکستان کے ریاستی اداروں نے اگر ٹارگٹ کلنگ بند نہیں کروائی تو ہم انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ہسپتالوں کی بدحالی تو نظر آتی ہے، لیکن کوئٹہ میں‌ بے گناہ شیعہ ہزارہ مسلمانوں کا بہتا ہوا لہو نظر نہیں آتا۔ اگر ریاست ٹارگٹ کلنگ میں ملوث نامعلوم افراد کا پتہ نہیں لگا سکتی، تو شیعہ ہزارہ جوان ان نامعلوم کو معلوم کرکے دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء وصوبائی وزیر قانون سید محمد رضا آغا کا کہنا تھا کہ آئین، قانون اور اصول انسانوں کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ ان میں شہریت کا اصول یہ ہے کہ ایک شہری کے حقوق اور فرائض کے درمیان توازن ہو۔ یعنی جو فرائض ہم نبھاتے ہیں، اس کے بدلے ریاست سے ہمیں ہمارے حقوق ملنے چاہیئے۔ گلگت سے لیکر کراچی تک ملت تشیع نے ہمیشہ پاکستان کا جھنڈا سربلند رکھا ہے۔ ہم سے بڑھ کر پاکستانی کون ہوگا۔؟ لیکن پھر بھی ہمیں پورے پاکستان میں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ جب کوئٹہ میں نواز شریف بطور وزیراعظم تشریف لائیں، تو میں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آیا آپ نے طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کے اسی ہزار شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیا ہے۔؟ اس کے علاوہ میں نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ کب تک پاکستان پر سعودی شہزادوں اور امریکی حکمرانوں کے ایجنڈے مسلط کرتے رہیں گے۔؟ جب تک آپ اپنی خارجہ اور داخلی پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتے، تب تک عوام کو تحفظ فراہم کرنا محال ہے۔ راجہ ناصر عباس جعفری نے مجھے پیغام دیا ہے کہ کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ قوم کے جو بھی مطالبات ہونگے، ہم پورے پاکستان میں آباد شیعہ ملت کو آپ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا کرینگے۔ کوئٹہ میں جنرل حامد افتخار کی جانب سے ہم پر الزام لگایا گیا کہ آپ کے شیعہ افراد شام میں لڑنے جاتے ہیں۔ میں نے اس میٹنگ میں انہیں جواب دیا کہ اگر ہم کوئٹہ میں مارے جاتے ہیں تو اس کیخلاف ہمیں شام جانے کی کیا ضرورت۔؟ ہمارے دشمن کوئٹہ میں ہے اور ہم باہر جاکر لڑیں۔؟ گذشتہ بیس سالوں سے ہم دن رات اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے آئے ہیں۔ ہم ہر بار بار ایران کے پراکسی ہونے کا الزام لگایا جاتا ہیں۔ لیکن دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو کوئٹہ شہر میں آئے دن صرف یک طرفہ دہشتگردانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ اگر پراکسی جنگ ہوتی، تو دو طرفہ جنگ ہوتی، جبکہ یہاں پر دہشتگرد صرف شیعہ ہزارہ قوم کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے۔ ملک میں ہر کسی کا احتساب ہونا چاہیئے۔ چاہے اس کی شروعات مجھ سے کرنا ہو، تو ریاست کر سکتی ہیں۔ لیکن اس احتسابی عمل سے ہر سیاستدان، جج، جنرل اور اسٹیک ہولڈر ہو گزرنا ہوگا۔ یہ ملک ہم نے بنایا تھا اور اس ملک کو تکفیریوں سے ہم ہی بچائینگے۔ جلسے کے آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کیلئے تمام شیعہ تنظیمیں اور اکابرین مشترکہ جدوجہد کرینگی۔
خبر کا کوڈ : 721369
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے