0
Monday 30 Apr 2018 21:00

محمد بن سلمان، سرزمینِ مقدس پر ابلیسیت کا نقیب

محمد بن سلمان، سرزمینِ مقدس پر ابلیسیت کا نقیب
تحریر: شاہ اجمل فاروق ندوی(انڈیا)

حالات بتا رہے ہیں کہ حجاز مقدس کے لئے مستقبل بہت سخت اور وہاں کی پاکیزہ فضاؤں میں اسلام اور اسلام پسندوں پر کڑا وقت آنے والا ہے۔ سعودی عرب کے سابق فرماں روا عبداللہ بن عبدالعزیز کے بعد جب ان کے بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی، تو لوگوں نے سمجھا کہ شاہ عبداللہ کے دور میں اعتدال پسندی کے نام پر اسلام بے زاری کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اب وہ ختم ہو جائے گا۔ عبداللہ بن عبدالعزیز نے صہیونیت کے در پر پیشانی رکھ کر اسلام پسندوں کی بربادی کا جو عہد کیا تھا، اب وہ توڑ دیا جائے گا۔ نئے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو کچھ اس طرح پیش کیا گیا کہ اچھے اچھے دھوکہ کھا گئے۔ ان کی تلاوت قرآن کی آڈیو عام کی گئیں، چند نالائق لوگوں کو کرسی سے ہٹانے کا زبردست پروپیگنڈہ کیا گیا، ایک دن جب بادشاہ سلامت امریکی صدر اوباما کو اذان کی آواز سنتے ہی چھوڑ کر چلے گئے تو بس ایسا لگا کہ سلمان کے بجائے سلیمانِ اعظم کا دور آگیا ہے۔ بعض وہ سورما جو شاہ عبداللہ کی پالیسیوں کے خلاف چیخ چیخ کر گلے چھیل رہے تھے، وہ بھی اِن ایک دو واقعات کو سن کر غچہ کھا گئے اور مبارک باد کے پیار بھرے خطوط بھیجنے لگے۔ چند دن میں ہی سارے پروپیگنڈے کی قلعی کھل گئی۔ بادشاہ سلمان نے اسلام پسندوں کے خلاف سابق حکمران کی پالیسیوں کو مزید مستحکم کیا اور سابق بادشاہ نے جو اسلام مخالف رخ اختیار کیا تھا، اس رخ پر مزید عزم کے ساتھ چلتے رہے۔ دنیا بھر میں اہل اسلام کو ویسے بھی ان بادشاہوں سے کوئی خاص امیدیں نہیں رہیں، اس لئے شاہ سلمان کی اِن حرکتوں پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔

بدقسمتی سے شاہ سلمان ہی کے دور میں سعودی عرب کے ’’صہیونائزیشن‘‘ کا دور شروع ہوا۔ ہوا یہ کہ سب سے پہلے شاہ سلمان نے اپنے چھوٹے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کا حق مارا اور انہیں ولی عہدی سے معزول کر دیا۔ بھائی کی جگہ ایک بھتیجے محمد بن نایف کو ولی عہد بنانے کا ڈرامہ کیا، تاکہ دوسری نسل میں بادشاہت کی منتقلی کی راہ ہموار کی جاسکے۔ کچھ دن بعد محمد بن نایف کو بھی ولی عہدی سے ہٹا کر اپنے چھٹے نمبر کے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد بنا دیا۔ ابن سلمان کا ولی عہد بننا تھا کہ دنیا بھر میں سعودی حکمرانوں کے پرستار پھر ڈھول تاشے لے کر نکل پڑے۔ دنیا کو بتایا گیا کہ یہ شخص انتہائی متدین، حمیت اسلامی کا حامل اور شعائر اسلام کا پابند ہے۔ اس کے لئے ابن سلمان کے چہرے پر موجود خشخشی داڑھی کو ثبوت کے طور پر بھی پیش کیا گیا۔ لیکن ابن سلمان بھی بڑا بے مروّت اور بے وفا نکلا۔ ایک دن کے لئے بھی اپنے پرستاروں کی لاج نہ رکھی۔ پہلے ہی دن سے یہ عزم کرکے میدان میں اترا کہ مملکت التوحید کو مملکت الکفر اور مملکت الصہیون بنا کر ہی دم لوں گا۔

عام طور پر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ محمد بن سلمان یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک تو محمد بن سلمان کے کرسی پر آنے سے کئی لوگوں کے حق مارے گئے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل بھی جلد از جلد Greater Israel بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے اسے امریکہ کے نیم پاگل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ عرب ممالک کو قبضے میں کئے بغیر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ سعودی عرب کی حیثیت تمام عرب ملکوں کے درمیان مرکزی اور بنیادی ہے۔ لہٰذا اسرائیل کو بھی کوئی ایسا حکمراں چاہیے، جو اُس کے اشاروں پر بندر کی طرح ناچ سکے اور اس کے نقشے میں رنگ بھرسکے۔ انھوں نے آل سعود میں سے موجودہ بادشاہ کے بیٹے کو منتخب کیا، اسے کرسی کا لالچ دیا۔ یہ لالچ دے کر اس سے اپنے کئی سگے رشتے داروں کا خون بھی کرایا اور اسے کرسی تک بھی پہنچا دیا۔ اپنے خاندان والوں کے خلاف بدترین اقدامات کرکے وہ اپنی اندرونی طاقت سے محروم ہوچکا ہے۔ کسی بھی وقت بغاوت اور اس کے بعد خانہ جنگی کی نوبت آسکتی ہے۔ اس لئے ابن سلمان کو ایک مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔ ایسا سہارا جو اس کو اپنے باپ کے بعد ملک کا ناجائز ہی سہی، بادشاہ بنا دے اور اس کی جان و مال کی حفاظت کی ذمے داری بھی لے۔

محمد بن سلمان کی ابتدائی زندگی کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے بی اے تک جامعہ ملک سعود سے تعلیم حاصل کی ہے۔ بدقسمتی نے ساتھ دیا تو اسے بالکل غیر متوقع طور پر ایک عام شہزادے سے ولی عہد کی کرسی تک پہنچا دیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جن طاقتوں نے ابن سلمان کو برق رفتاری کے ساتھ دوسرے بڑے سرکاری عہدے تک پہنچایا ہے، اسے زندگی بھر ان کی چاکری کرنی ہی پڑے گی۔ اسی لئے محمد بن سلمان نے تمام اسلامی شخصیات اور اسلامی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ امریکہ کی سرپرستی میں اپنے ملک میں نصابی کتابوں پر نظرثانی کی مہم شروع کی۔ ہر اسلام پسند سعودی عالم کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ ان کے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس پر آخری درجے کی سکیورٹی لگا دی۔ کسی عالم کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی بات سرکاری خردماغوں کے بھیجے میں نہ گھسی، تو اسے ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ بتا کر پراسرار جیل خانوں میں ڈال دیا۔ ضروری اشیاء اور اہم سرکاری کارروائیوں پر آنے والا خرچ کئی گنا بڑھا دیا۔ ملک کے ہر سرکاری و غیر سرکاری ادارے سے اسلام کی روح کو کھرچ کھرچ کر پھینکنے کا کام تیزی سے شروع کر دیا۔ 2015ء میں کئی عرب ملکوں پر مشتمل ایک فورس بنائی گئی، تاکہ وہ یمن کے حوثی قبیلے کو ختم کرسکے۔ اس کے لئے حوثیوں کو ایسا عظیم خطرہ بناکر پیش کیا گیا، جیسے وہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہو۔ حوثیوں کا ہوا کھڑا کرنے کے لئے بیت اللہ پر راکٹ داغنے کا ناپاک ڈرامہ کیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ کئی عرب ملکوں کی یہ فوج ایک قبیلے کو ختم نہیں کر پا رہی ہے اور وہ قبیلہ کھلے عام سعودی سرحدوں میں دراندازی کر رہا ہے۔ یمن پر ہونے والے ان حملوں میں کئی ہزار شہری بھی مارے گئے۔ لیکن جو مسئلہ ابن سلمان کے حواری مواریوں نے پیش کیا تھا، وہ جوں کا توں ہے۔

ملک میں ننگے پن کو رواج دینے اور ملک کو پوری طرح صہیونی بنانے کے لئے محمد بن سلمان نے مفتی اعظم اور دوسرے بڑے علماء کے گلوں پر چھری رکھ کر عورتوں کی ڈرائیونگ کی اجازت کا فتویٰ حاصل کیا۔ پھر عورتوں کے لئے برقعے کا لزوم ختم کیا اور بغیر برقعے کے ہر جگہ آنے جانے کی عام اجازت دے دی۔ اگلا قدم اٹھاتے ہوئے ملک میں کھلے عام رقص و سرود کی بڑی بڑی محفلیں منعقد کرنی شروع کر دیں۔ دنیا بھر سے ناچنے والوں اور ناچنے والیوں، گانے والوں اور گانے والیوں کو بلا بلا کر ان کے پروگرام شروع کرائے۔ ملک میں سنیما ہالوں کی تعمیر کے لئے امریکی کمپنی کو ٹھیکہ دیا، جس نے 18 اپریل 2018ء سے سنیما گھروں کا آغاز کر دیا۔ اس خردماغ شہزادے نے سب سے کھلا جرم یہ کیا کہ اسرائیل کو ایک مستقل جائز ریاست کے طور پر قبول کرنے کا عندیہ ظاہر کر دیا۔ اب تک اسرائیل جانے والے کسی طیارے کے لئے سعودی فضا کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ لیکن کچھ عرصے قبل ہندستان سے اسرائیل جانے والا طیارہ سعودی عرب کی فضا سے ہوکر گزرا۔ اگرچہ اب تک سعودی حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے لئے فضائی حدود کھول دینے کا سرکاری اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ولی عہد کے کھلے خیالات مستقبل کا واضح اشارہ دے رہے ہیں۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نے بھی دونوں ملکوں کے بڑھتے روابط پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ابن سلمان نے اپنے ملک کو سلفیت اور شیخ محمد بن عبدالوہاب کی تحریک سے لاتعلق ہونے کا بھی کھلے عام اعلان کر دیا ہے۔

حالات بتا رہے ہیں کہ حجاز مقدس کے لئے مستقبل بہت سخت اور وہاں کی پاکیزہ فضاؤں میں اسلام اور اسلام پسندوں پر کڑا وقت آنے والا ہے۔ جو کچھ کبھی نہیں ہوا، وہ ہونے والا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے، اس کی راہ میں رکاوٹ صرف محمد بن سلمان کے باپ کی وہ سانسیں ہیں، جو کسی وقت بھی رک سکتی ہیں۔ اگرچہ اس وقت بھی شاہ سلمان اپنے بیٹے کے پاگل پن کا سامنا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس کے باوجود ولی عہد اور بادشاہ کا فرق تو بہرحال باقی ہے۔ بس یہی فرق محمد بن سلمان کو ابلیسیت کے اس ننگے ناچ سے روکے ہوئے ہے، جو وہ سرزمین مقدس پر کرانا چاہتا ہے۔ دل پر پتھر رکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ شاید حجازِ مبارک پر اب تک کا سب سے آزمائشی دور محمد بن سلمان نامی بدقماش و بدمعاش شہزادے کے ذریعے آئے گا۔ اس کے باوجود ہمیں یقین کامل ہے کہ ان شاء اللہ جب کفر و شرک کی ظلمتیں اور ابلیسیت و شیطنت کی تاریکیاں پورے خطے کو ڈھانپ لیں گی، تو پو پھٹے گی اور روشنی کی ایک کرن ظلمت و تاریکی کو مٹاتی چلی جائے گی۔ اللہ ہم سب کو وہ دن دیکھنا نصیب کرے
………………………………………………..
Source
http://mazameen.com/world/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86%D9%90-%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B3-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%A8%D9%84%DB%8C%D8%B3%DB%8C%D8%AA-%DA%A9.html
شاہ اجمل فاروق ندوی کے بارے میں:
شاہ اجمل فاروق ندوی ایک ہندوستانی عالم اور صحافت سے وابستہ ہیں۔ انچارج اردو سیکشن انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز، نئی دہلی، چیف ایڈیٹر ماہنامہ المؤمنات، لکھنؤ و ایڈیٹر ماہنامہ تسنیم، نئی دہلی
خبر کا کوڈ : 721595
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب