0
Thursday 3 May 2018 12:45

اسرائیل شام میں کیا چاہتا ہے؟

اسرائیل شام میں کیا چاہتا ہے؟
تحریر: محمد عبدالہی

یہاں لبنان ہے، جس کا جنوبی حصہ 1967ء سے 2000ء تک اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے قبضے میں رہا اور اس کا دارالحکومت بیروت کئی ماہ تک اسرائیلی محاصرے میں رہا۔ لبنان بھر میں غاصب صہیونی رژیم کے سینکڑوں فوجی اڈے قائم تھے، جو لبنانی حکومت کی دعوت پر تعمیر نہیں کئے گئے تھے بلکہ جارحیت اور قبضے کے نتیجے میں بنائے گئے تھے۔ سالہای سال اسرائیلی فوجیوں نے لبنان میں قتل و غارت کا بازار گرم رکھا اور عزتیں لوٹتے رہے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ لبنان نے غاصب صہیونی رژیم کے ناجائز قبضے کے خلاف 18 سال مسلح جدوجہد انجام دی، جس کے نتیجے میں جنوبی لبنان اسرائیل کے نجس قبضے سے آزاد ہوگیا، اگرچہ اب بھی شبعا کھیتوں پر مشتمل لبنانی علاقہ تمام تر بین الاقوامی قوانین کے خلاف اسرائیل کے قبضے میں باقی ہے۔

یہاں شام ہے، 1967ء سے اب تک شام کا علاقہ گولان ہائٹس اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ یہ امر تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور حتٰی اقوام متحدہ بھی اسے مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہے۔ گذشتہ سات برس میں شام میں شروع ہونے والے سکیورٹی بحران کے دوران اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اب تک سو بار تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شام اور لبنان کی سرزمین پر حملے انجام دے چکی ہے۔ شہید سمیر قنطار، جہاد مغنیہ، مصطفٰی بدرالدین (عماد مغنیہ کے جانشین)، حزب اللہ لبنان کے 9 اعلٰی سطحی کمانڈرز اور ایران کے جنرل اللہ دادی، شام کے ہوائی اڈے ٹی فور پر حملے میں سات ایرانی شہید وغیرہ ایران اور حزب اللہ لبنان کے وہ مشہور شہداء ہیں، جو اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔

اب یہ غاصب رژیم جس کے ہاتھ بیگناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اس کی تاریخ دیگر ممالک کے خلاف جارحیت، ان پر فوجی قبضہ اور وہاں سینکڑوں فوجی اڈے قائم کرنے جیسے اقدامات سے بھری پڑی ہے، یہ اعلان کرتی نظر آتی ہے کہ وہ شام میں ایران کی موجودگی برداشت نہیں کرے گی۔ اس قسم کے اعلان کیلئے بہت زیادہ گستاخی اور بے حیائی کی ضرورت ہے۔ کسی ملک کی شام میں وہاں کی قانونی حکومت کی درخواست پر موجودگی کا اسرائیل سے کیا تعلق ہے؟ کوئی تعلق نہیں۔ کیا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے؟ بالکل خلاف نہیں۔ پس اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے شام میں ایران کے فوجی مشیروں کی موجودگی پر اتنا واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب پانے کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:

1)۔ اسرائیل کو دیگر ممالک کے خلاف فوجی جارحیت اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام جاری رکھنے کیلئے ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اردن، مصر، لبنان اور شام کے بعض علاقوں پر فوجی قبضے کا بہانہ وہاں پر فلسطینی شہریوں کی موجودگی تھا۔ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے پر فوجی بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا بہانہ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کی موجودگی تھا۔ شام پر غیر قانونی ہوائی حملوں کا بہانہ بھی وہاں ایران کی موجودگی ہے۔ اسرائیل کی غاصب اور دہشت گرد صہیونی رژیم تمام عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ہر بہانے سے جارحیت اور بیگناہ انسانوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے خلاف پروپیگنڈے کا مقصد بھی اسے بہانہ بنا کر شام پر غیر قانونی اور مجرمانہ حملوں کو جاری رکھنا ہے۔

2)۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم وحشی اور درندہ رژیم ہے۔ اس کی مثال ایسے کتے کی مانند ہے کہ اگر اس سے خوف کھا کر بھاگا جائے تو وہ آپ پر حملہ ور ہوگا، لیکن اگر اس کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں تو وہ پیچھے ہٹ جائے گا۔ گولان ہائٹس، قنیطرہ اور صحرائے سینا پر غاصبانہ قبضے نے اسرائیل کے دل میں اپنی سرزمین بڑھانے کیلئے شام پر فوجی قبضے کا لالچ پیدا کر دیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب خانہ جنگی اور سکیورٹی بحران کے نتیجے میں مرکزی حکومت کئی محاذوں پر ایک ہی وقت میں لڑنے سے قاصر ہے، لہذا غاصب صہیونی رژیم نے اسے اچھا موقع سمجھ کر شام کے خلاف سرحدی خلاف ورزیوں اور ریاستی دہشت گردی کا آغاز کر رکھا ہے۔ دوسری طرف شام میں ایران کی سربراہی میں اسلامی مزاحمتی قوتوں کی موجودگی غاصب صہیونی رژیم کے عزائم میں ناکامی کا سبب بنی ہے۔ اسرائیل اس شکست کو اپنے لئے حقارت آمیز تصور کرتا ہے اور اس کا سبب بھی ایران کو قرار دیتا ہے۔ غاصب صہیونی رژیم تصور کرتی ہے کہ اگر شام میں ایران اور اس کی حمایت یافتہ اسلامی مزاحمتی قوتیں نہ ہوں تو یہ ملک اس کیلئے ترنوالہ ثابت ہوسکتا ہے۔

3)۔ ایران کے خلاف ہرزہ سرائی سے اسرائیل کا ایک اور مقصد خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کا مرکز ہونے کے ناطے ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کرنا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ کا مقصد "حملہ آور" اور "مدافع" کی جگہ آپس میں تبدیل کرنا ہے۔ اسی طرح عالمی رائے عامہ میں "امن پسند ملک" اور "جنگ طلب ملک" کا مصداق بھی تبدیل کرنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہرگز کسی ملک کو فوجی جارحیت کا نشانہ نہیں بنایا اور اس کے برعکس اسرائیل کی پوری تاریخ دیگر ممالک جیسے شام، لبنان، مصر، اردن اور خود فلسطین پر فوجی جارحیت اور ریاستی دہشت گردی اور فلسطینی اور مسلمان رہنماوں کی ٹارگٹ کلنگ سے بھری پڑی ہے۔ تاریخ کی روشنی میں کون جنگ طلب اور جارح ہے؟ وہ ملک جس نے اب تک کسی دوسرے ملک کو فوجی جارحیت کا نشانہ نہیں بنایا بلکہ خود 8 برس تک مسلط کی گئی جنگ کا شکار رہا ہے یا وہ رژیم جس نے اپنی 70 سالہ تاریخ کے دوران ایک دن بھی دہشت گردی اور خونریزی کے بغیر نہیں گزارا؟

اسرائیل یہ توقع رکھتا ہے کہ مسلسل ایران کے خلاف پروپیگنڈہ اور ہرزہ سرائی کے ذریعے عالمی سطح پر ظالم اور مظلوم، جارح اور مدافع اور امن پسند اور جنگ طلب کی جگہ آپس میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل کو شام کے اندرونی مسائل میں مداخلت کا حق کس نے دیا ہے؟ اسرائیل کس قانون کے تحت شام میں موجود ایران اور حزب اللہ لبنان کے اڈوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے؟ کیا انہوں نے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام انجام دیا ہے؟ اسرائیل کس بین الاقوامی قانون کے تحت شام حکومت کے ٹھکانوں کو بمباری اور میزائل حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے؟
اب جبکہ شام میں دہشت گرد گروہوں کا مکمل خاتمہ ہونے والا ہے اور اس ملک میں جاری سکیورٹی بحران اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، شام حکومت کو چاہئے کہ وہ قانونی، سیاسی اور میڈیا میدان میں اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف بھرپور مہم شروع کرے۔ اسرائیل کا سب سے بڑا جرم شام میں دہشت گرد عناصر کی فوجی اور اخلاقی حمایت اور جارحانہ اقدامات انجام دینا ہیں۔ اب اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا وقت قریب آرہا ہے اور اسے گیدڑ بھبکیوں کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 722110
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے