0
Thursday 10 May 2018 20:14

ایران کیساتھ ایٹمی معاہدے کا خاتمہ، عرب بہار نہیں امریکہ میں خزاں ثابت ہوگا

ایران کیساتھ ایٹمی معاہدے کا خاتمہ،  عرب بہار نہیں امریکہ میں خزاں ثابت ہوگا
تحریر: تصور حسین شہزاد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالکل ویسے ہی کیا جس کی ان کی توقع تھی۔ یعنی امریکہ نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔ ایران کیساتھ ایٹمی معاہدے سے انخلاء کے بعد دنیا بھر میں ردعمل آ رہا ہے۔ خود امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما اس معاہدے کی موت پر نوحہ کناں ہیں۔ سابق امریکی صدر نے ڈونالڈ ٹرمپ کے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے فیصلے کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کافی طویل مذاکرات اور سفارتکاری کے بعد جامع ایٹمی معاہدہ طے پایا تھا اور اب معاہدے سے نکلنے کا مطلب اپنے قریبی ترین اتحادیوں سے منہ موڑنا ہے۔ اوباما کے مطابق ایک ایسے معاہدے کو جس پر امریکہ نے بھی دستخط کئے تھے، پاؤں تلے روندنا واشنگٹن کی ساکھ کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔ سابق امریکی صدر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے مابین طے نہیں پایا تھا، اس لئے اس قسم کے معاہدوں سے چشم پوشی دنیا کی دوسری بڑی طاقتوں کے سامنے امریکہ کی ساکھ اور وقار کو متاثر کرنے کا سبب بنے گی۔ صرف سابق امریکی صدر ہی نہیں بلکہ دیگر عالمی سیاست کے ماہرین نے بھی اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلہ کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ چنانچہ ڈیموکریٹس سینیٹر پیٹریک لیہی نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے یہ اعلان کرکے ایک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایسی باتیں بھی سنائی دے رہی ہیں کہ اس معاہدے کے خاتمے سے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگ جائیں گی۔ جس سے ایران کی معیشت کمزور ہوگی۔ ٹرمپ کے حامی باراک اوباما پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ معاہدہ کرکے ایران کو ’’آکسیجن‘‘ فراہم کی تھی، جسے اب ’’منقطع‘‘ کر دیا گیا ہے۔

ٹرمپی لابی یہ سمجھتی ہے کہ یہ اقدام ایران پر کاری وار ہے۔ اس سے امریکیوں کے خیال میں ایران میں ایک ’’عرب بہار‘‘ طرز پر تبدیلی آئے گی۔ ٹرمپی لابی کا خیال ہے کہ ایران میں اقتصادی پابندیوں کے بعد بے روز گاری میں اضافہ ہوگا۔ تومان کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مزید گر جائے گی، جس سے مہنگائی کا طوفان آئے گا اور ایرانی قوم بے روز گاری اور مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی ہی حکومت کا تختہ الٹ دے گی۔ ٹرمپ کے مشیروں کا یہ مشورہ عرب دنیا کیلئے تو موثر ثابت ہوسکتا تھا، لیکن ایران میں یہ حربہ کامیاب نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کرکے جہاں دنیا بھر سے لعنت سمیٹی ہے، وہاں وہ ایران میں حکومت مخالف جذبات تو نہیں بھڑکا پائے گا، البتہ ایرانی قوم میں امریکہ کیخلاف نفرت میں مزید اضافہ ضرور ہو جائے گا اور ایران میں ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے میں مزید شدت آجائے گی۔ ایران میں انقلاب اسلامی کے بانی آیت اللہ خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ ’’امت مسلمہ کی تمام تر مشکلات کا ذمہ دار امریکہ ہے۔‘‘ اس بیان کے بعد ایرانی قوم گلی میں جاتے ہوئے کسی آوارہ پتھر سے ٹھوکر کھا لیں تو امریکہ پر لعنت بھیجتے ہیں کہ یہ پتھر امریکہ نے ہی رکھا ہوگا۔ شائد انہی امریکی پابندیوں کے تناظر میں امام خمینی نے کہہ دیا تھا کہ ’’اگر ما را محاصرہ اقتصادی کنند، ما فرزند رمضان ایم، اگر مارا محاصرہ نظامی کنند،،، ما فرزند عاشورا ایم‘‘ (اگر تم ہمیں اقتصادی طور پر پابند کرو گے تو ہم ماہ رمضان کے بیٹے ہیں، اگر ہمارا فوجی محاصرہ کروگے، تو ہم کربلا والے ہیں) یعنی اگر اقتصادی پابندیاں لگا کر استعمار یہ سمجھتا ہے کہ ایرانی قوم بھوک سے مر جائے گی تو اس کا جواب امام خمینی نے ایڈوانس دے دیا تھا کہ ہم ماہ رمضان کے فرزند ہیں، یعنی ہمارے ہاں بھوکا رہنا بھی عبادت ہے، ہم اپنی بھوک کو روزے میں ڈھال لیں گے اور روزہ ہمارے ہاں ایک عظیم عبادت شمار ہوتا ہے اور اگر استعمار ہمارا فوجی محاصرہ کرے گا تو پھر ہماری درس گاہ کربلا ہے۔

کربلا یعنی حق اور باطل کی جنگ، کربلا یعنی یزیدیت کی موت، کربلا یعنی حق پرستوں کی فتح، فکر حسینی کو کبھی شکست نہیں ہوسکتی، لہذا ہم ہر طرح کے خوف سے آزاد ہیں۔ تو امام خمینی کے یہ فرمودات ایرانی قوم کیلئے بہت بڑی ڈھارس ہیں۔ وہ کبھی بھی بھوک سے نہیں ڈرے گی۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے۔ ایرانی خوددار قوم ہیں۔ ایران عراق جنگ کے وقت پاکستان میں ضیاء الحق کی آمریت مسلط تھی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو ضیاء الحق نے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا اور شرکاء سے مشورہ کیا کہ ایران کی حمایت کریں یا عراق کی؟ تو اس کونسل میں شریک تمام افراد نے کہا عراق کی حمایت کریں، کیونکہ ایک تو عراق کی حمایت امریکہ کر رہا ہے، وافر اسلحہ دے رہا ہے، دوسرا صدام حسین ایک سنی حکمران ہے۔ تو ہمیں ایک شیعہ ملک کے مقابلے میں سنی حاکم کا ساتھ دینا چاہیئے۔ لیکن سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں جنرل حمید گل واحد شخص تھے، جنہوں نے پوری سلامتی کونسل سے اختلاف کیا۔ حمید گل نے ضیاء الحق سے کہا کہ نہیں، ہمیں صدام کی بجائے ایران کی حمایت کرنی چاہئے۔ ایرانی قوم بہادر ہے، وہ آخری بندہ اور آخری گولی تک لڑے گی جبکہ عراقی ایرانیوں کے مقابلے میں بزدل ہیں۔ اس جنگ میں فتح ایران کی ہونی ہے اور اگر ہم نے ایک فاتح کو کھو دیا تو مستقبل میں پاکستان کیلئے خطے میں آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ بات ضیاء الحق کے دل کو لگی اور انہوں نے پوری سلامتی کونسل کے موقف کو مسترد کے جنرل حمید گل کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے ایران کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

اس جنگ کے دوران ایرانی طیارے پاکستانی ایئربیس استعمال کرتے رہے اور ضیاء الحق کی امام خمینی سے ملاقاتیں بھی جاری رہیں۔ اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایرانی ان پابندیوں سے مردانہ وار لڑنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ کیا عجب ہے کہ پوری دنیا اس معاہدے کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کر رہی ہے جبکہ ایرانی قوم اس پر جشن منا رہی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا امریکہ قابل اعتماد نہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ جس وقت ایٹمی معاملہ اٹھایا گیا تھا تو اسی وقت میں نے صراحت کیساتھ کہا تھا کہ ایران کیساتھ امریکہ کی عداوت اور دشمنی ایٹمی انرجی سے مربوط نہیں، ایٹمی معاملہ محض بہانہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران سے امریکہ کی دشمنی اور مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ ایران پر امریکہ کا مکمل تسلط تھا، لیکن اسلامی انقلاب نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای نے براہ راست ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہا ’’ٹرمپ نے اسلامی نظام کو بھی دھمکی دی اور ایرانی عوام کو بھی ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی، لیکن میں ایران کے عوام کی طرف سے یہ کہتا ہوں کہ مسٹر ٹرمپ تم کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی صدر کا بے ادبانہ اور گھٹیا رویّہ ہمارے لئے غیر متوقع نہیں تھا۔‘‘ ایرانی قوم ذہنی طور پر اس کا سامنا کرنے کیلئے تیار تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری امریکہ کو اس کی حماقت پر کیا ردعمل دکھاتی ہے، ایرانی قوم نے تو واضح کر دیا ہے کہ ایران میں کوئی عرب بہار نہیں آنیوالی، بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکی چمن میں خزاں لانے باعث بنے گا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ ٹرمپ کی بنیادی غلطی ہے، لیکن اس سے ایران کی اخلاقی برتری ثابت ہوگی، اچھی بات یہ ہے کہ ایران نے اور ایرانی قیادت نے کسی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کیا، ہر ملک کو اپنی آزادی اور عزت عزیز ہوتی ہے، یہ ہمارے لئے بھی ایک مثال ہے۔ امریکہ کا طرزعمل تو سب پر واضح ہے، لیکن ایران نے ہمیشہ اچھی مثال قائم کی ہے، اس سے ان ممالک کو بھی سوچنا چاہیے، جو اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، سارا فساد اسرائیل اور امریکہ کی وجہ سے ہے، ہمیں بھی روس، چین اور ایران کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 723737
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب