0
Tuesday 15 May 2018 13:36

قومی سلامتی یا ذاتی سلامتی

قومی سلامتی یا ذاتی سلامتی
تحریر: طاہر یاسین طاہر

باتیں بالکل آشکار ہیں، ان میں اگر مگر کی گنجائش ہی نہیں۔ ایک رویہ ہمارے سیاست دانوں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ دانستہ طور پہ پہلے ایک بیان جاری کرتے ہیں، جب اس بیان پر تنقید ہونے لگتی ہے، یا اس کے مضمرات سامنے آنا شروع ہوتے ہیں تو ملبہ میڈیا پرڈال دیا جاتا ہے۔ بڑے اعتماد سے کہتے ہیں کہ میڈیا نے ہمارے بیان کی غلط تشریح کی۔ سوال یہ ہے کہ آپ کون سا چینی یا اطالوی زبان میں بیان جاری کرتے ہیں، جسے سمجھنے میں میڈیا کو دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔ رہنما کی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ  اعلٰی اخلاقی خوبیوں کا مالک ہوتا ہے۔ بشری کوتاہیاں البتہ اپنی جگہ موجود ہیں اور ان سے کسی کو  مفر نہیں۔ اعلٰی خوبیوں میں سے ایک بہترین اور رہنما خوبی سچ بولنا ہے۔ کئی بار لکھا، مکرر لکھنے میں کوئی خوف نہیں۔ ہمارے ہاں جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں۔ جو جس پارٹی میں موجود ہے، اس پارٹی کے سربراہ کا کہا حرف آخر تصور کیا جاتا ہے۔ ذہنی غلامی اور کس چیز کا نام ہے۔؟

شہباز شریف اور وزیراعظم عباسی چاہتے ہوئے بھی کھل کر نواز شریف کے بیان کو غلط نہیں کہہ پا رہے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جو پریس کانفرنس کی، وہ ان کی بے بسی کی آئینہ دار تھی۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ ممبئی حملوں والے بیان کے بعد کی صورتحال پر نواز شریف کے ساتھ ہیں، بالکل غیر مناسب بات ہے۔ ہاں ان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جو پریس نوٹ جاری ہوا، اصل وہی ہے، جس میں نواز شریف کے بیان کو قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔ نون لیگ کے کئی خود ساختہ سوشل میڈیا کے جز وقتی دانشور سارا ملبہ بھارتی میڈیا پر ڈال رہے ہیں تو کبھی نواز شریف کو یہ کریڈٹ دیتے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔ بالکل یہی بات وزیراعظم نے بھی قومی اسمبلی کے اجلاس میں کی کہ جس نے ملک کو ناقابل تسخیر بنایا، اس کے خلاف غداری کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ میاں صاحب کے ملک کو ناقابل تسخیر بنانے میں کل کردار کو بھی واضح کر دیا جائے۔ وزیراعظم عباسی نے مزید کہا کہ ڈان اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں نواز شریف نے جو باتیں کیں، ان کی بھارتی میڈیا نے غلط تشریح کی اور اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا جبکہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

 وزیراعظم اور دیگر نون لیگی تو نواز شریف کے دفاع کو بڑھتے نظر آتے ہیں، لیکن نواز شریف اپنے بیان پر قائم ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا ہے کہ اعلامیہ افسوسناک اور تکلیف دہ ہے اور حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس معاملے پر قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ کمیشن بننا چاہیے، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ نون لیگ کے تاحیات قائد نے مزید کہا کہ پتہ لگنا چاہیے کہ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد کس نے رکھی تھی۔ یہاں نواز شریف کا اشارہ بالکل واضح ہے کہ وہ کس ادارے کو دہشت گردی کی بنیاد کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں یہی باتیں کی تھیں کہ گھر کو ٹھیک کریں اور اسے سدھاریں لیکن ان باتوں کو ڈان لیکس بنا دیا گیا۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا میں تنہا ہو نہیں رہا بلکہ ہوچکا ہے۔

دنیا میں پاکستان کی تنہائی کا رونا وہ شخص رو رہا ہے، جس نے وزیراعظم ہوتے ہوئے چار سال تک وزرات خارجہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا اور ملک کو مستقل وزیر خارجہ دینے کے بجائے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کو تنہا کئے رکھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چار عشروں سے جو خاندان کسی نہ کسی شکل میں اقتدار میں موجود ہے اور جو شخص تین بار ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے، اس نے یا اس کی پارٹی اور حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہوئے ہیں؟ میاں نواز شریف جن جماعتوں کو کالعدم یا نان اسٹیٹ ایکٹرز کہہ کر بھارت و عالمی برادری کو پاکستان پر چڑھائی کی دعوت دے رہے ہیں، کیا میاں صاحب کی جماعت چار عشروں سے انہی کالعدم جماعتوں کی اتحادی نہیں رہی؟ کیا نون لیگ کالعدم لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ،اور اس فکر کی دیگر شدت پسند تنظیموں کے ووٹ بینک سے اقتدار میں نہیں آتی ہے؟ کیا اب بھی پنجاب میں نون لیگ شدت پسندوں سے سیاسی اتحاد نہیں رکھتی؟ کیا میاں صاحب بھول گئے جب ان کا پہلا اور دوسرا دور حکومت تھا تو پنجاب میں کالعدم لشکر جھنگوی کا طوطی بولتا تھا۔ میاں صاحب نے ان کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے تھے۔؟ حتیٰ کہ جب طالبان پورے ملک میں دھماکے کر رہے تھے تو پنجاب کے وزیراعلٰی اور نواز شریف کے چھوٹے بھائی نے طالبان سے التجا کی تھی کہ طالبان پنجاب میں حملے نہ کریں۔

نون لیگ تو 2013ء کے انتخابات میں جن دو نعروں کی بدولت اقتدار میں آئی، ان میں سے ایک یہ تھا کہ طالبان سے مذاکرات اور پھر نون لیگ کی وفاقی حکومت نے یہ مذاکرات شروع بھی کر دیئے تھے کہ اس دوران اے پی ایس کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا تو مجبوراً نون لیگ سمیت طالبان سے مذاکرات کے دیگر حمایتیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ حتیٰ کہ عمران خان تو طالبان کو پشاور میں دفتر کھول کر دینے کی بات کر رہے تھے۔ یہ ساری باتیں ریکارڈ پہ ہیں۔ یہ بات بھی تو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ عالمی دہشت گرد اسامہ بن لادن سے ایک منتخب حکومت گرانے کے لئے میاں صاحب نے رقم وصول کی تھی۔ حیرت ہوتی ہے جب میاں صاحب بیک وقت نظریاتی، لبرل، بنیاد پرست اور پتہ نہیں کیا کیا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ میاں صاحب نے بلاشبہ اس وقت پاک فوج کو نشانے پہ لیا ہوا ہے۔ ہفتہ عشرے بعد عالمی برادری پاکستان کو "گرے لسٹ" میں شامل کرنے جا رہی ہے۔ کیا میاں صاحب یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو "بلیک لسٹ "میں شامل کر دیا جائے؟ ان کا بیان براہ راست امریکہ اور بھارتی موقف کی تائید ہے۔ میاں صاحب کے نزدیک اگر وہ خود وزیراعظم ہیں تو سب ٹھیک نہیں تو پھر وہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پاکستان کو بھی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ جو شخص تین بار ملک کا وزیراعظم رہا ہو، کیا اسے زیبا ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات جاری کرے؟ میں نہیں کہتا کہ میاں صاحب غدار ہوگئے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ نواز شریف خود کو بچانے کے لئے پاکستان پر حملہ آور ہوگئے ہیں۔ ممبئی حملوں پہ ان کا موقف بے شک قومی سلامتی کے منافی اور ٹرمپ کی خوشنودی کے لئے ہے۔
خبر کا کوڈ : 724893
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب