0
Tuesday 22 May 2018 18:06

خیبر پختونخوا حکومت کے آخری دن اور صوبائی سیاست پر ایک نظر

خیبر پختونخوا حکومت کے آخری دن اور صوبائی سیاست پر ایک نظر
رپورٹ: ایس علی حیدر

خیبر پختونخوا کی تاریخ میں دوسری صوبائی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے، اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو پھر 28 مئی کو تحلیل ہونے والی اسمبلی عوامی نیشنل پارٹی دور کے بعد دوسری اسمبلی ہوگی، جو اپنی مدت پوری کر جائے گی، جبکہ ساتھ ہی پرویز خٹک بھی مدت پوری کرنے والے صوبہ کے دوسرے وزیراعلٰی بن جائیں گے، اس سے پہلے یہ اعزاز اے این پی کے امیر حیدر ہوتی کو حاصل تھا۔ صوبے کی تاریخ میں یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ کوئی اتحادی جماعت برضا و رغبت حکومت سے الگ ہوئی ہو، صوبائی حکومت کو اس لحاظ سے خوش قسمت قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کا ایک ایسی اپوزیشن سے واسطہ پڑا، جو حکومت کے ساتھ کم اور آپس میں زیادہ دست و گریبان رہی ہے۔ چناچہ جب قومی وطن پارٹی دو دفعہ حکومت سے الگ ہوئی تو بھی اپوزیشن جماعتیں نمبر گیمز شروع کرنے میں ناکام رہیں اور گذشتہ دنوں جب سینیٹ الیکشن میں ووٹ فروخت کرنے کے الزام میں پی ٹی آئی نے اپنے 20 ممبران کے خلاف تاریخ ساز کارروائی کی تو اس وقت بھی اپوزیشن جماعتیں کسی قسم کا سیاسی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہم نے سسٹم کو بچانے کیلئے کوئی راست اقدام نہیں کیا، مگر حقیقت تو یہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اپنی نااہلی کی وجہ سے حکومت کو کسی بھی مرحلہ پر ٹف ٹائم دینے میں ناکام رہی ہیں۔

جب موقع آیا کہ گورنر سے درخواست کی جائے کہ وہ وزیراعلٰی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کریں تو اس مرحلہ پر بھی ناقص حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے انفرادی طور پر گورنر خیبر پختونخوا سے رابطے کئے گئے، مگر کسی نے بھی آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے اپنے حامی ممبران کی مکمل تصدیق شدہ فہرست گورنر کو ارسال کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی، تاکہ گورنر کو اطمینان ہوسکے کہ صوبائی حکومت واقعی اکثریت سے محروم ہوچکی ہے۔ یہی وجہ ہے پھر گورنر نے بھی ان کی درخواستوں کو قابل اعتناء نہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کر دیا، حالانکہ صوبائی حکومت کے پاس ممبران کی کمی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ تمام تر خواہش کے باوجود حکومت چھٹا بجٹ پیش کرنے میں ناکام رہی، حالانکہ مرکز سمیت باقی تینوں صوبائی حکومتوں میں بجٹ پیش اور وہ منظور بھی ہوگیا ہے۔ مگر ہمارے ہاں حکومت اب اس معاملہ پر پسپائی اختیار کرچکی ہے۔ حکومت نے بڑی کوشش کی کہ اپوزیشن کا تعاون حاصل کیا جا سکے، مگر اس مرحلہ پر اپوزیشن حکومت کی حمایت کرکے اپنی مستقبل کی انتخابی مہم کمزور نہیں کرسکتی تھی۔ حکومت نے یہاں تک کیا کہ اپنے باغی ممبران کے خلاف عملی کارروائی تک تاخیر کا شکار کر دی، تاکہ ان کو امید رہے کہ واپسی کے دروازے بند نہیں ہیں اور ان کو بھی بجٹ کی منظوری کیلئے استعمال کیا جائے، مگر حکومت پھر بھی ناکام رہی۔ بجٹ پیش کرنے کے معاملہ میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں بھی ناکام رہی۔

اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ کی بجائے محض اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بات چیت کرنے میں ہی عافیت جانی، جس پر دیگر اپوزیشن جماعتوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فی الفور انکار کر دیا۔ اے این پی، کیو ڈبلیو پی، اور پی پی پی نے پہلے ہی انکار کر دیا تھا، جس کے بعد (ن) لیگ اور آخر میں جے یو آئی (ف) نے بھی حکومت کو جھنڈی دکھاتے ہوئے بجٹ سازی اور منظوری میں کسی قسم کا تعاون کرنے سے واضح انکار کر دیا، جبکہ حکومت کے اپنے 20 اراکین پہلے ہی مخالف کیمپ میں جا چکے تھے، جس کے باعث حکومت بجٹ اسمبلی سے منظور کرانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اگرچہ حکومت نے اپوزیشن کو اس امر پر بھی قائل کرنے کی کوشش کی کہ صرف 4 ماہ کیلئے انتظامی بنیادوں پر بجٹ پیش کیا جائے، مگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے انکار برقرار رہا، جس کے بعد اب حکومت نے بجٹ پیش کرنے اور یہ معاملہ نگران حکومت پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت ایک قرارداد کے ذریعے انتظامی بجٹ پیش کرنے کی کوشش کرسکتی ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت اگر محض چند دن کی آخری کارروائی بھی چلانے میں کامیاب رہے تو بڑی بات ہوگی، بجٹ پیش کرانا تو بہت دور کی بات ہے۔ دوسری طرف سینیٹ الیکشن میں مبینہ طور پر پھسل جانے والے اراکین کے خلاف کارروائی پی ٹی آئی کیلئے بھاری پتھر بن گئی ہے۔

اب اسپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر نے بھی انضباطی طور کمیٹی کی سربراہی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ سے جن ممبران نے شوکاز نوٹسز کے جوابات جمع کرائے ہیں ان بیچاروں کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔ البتٰہ جنہوں نے جوابات جمع نہیں کرائے ان کو فارغ کر دیا گیا ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آسکا۔ کہا جا رہا ہے کہ اگلے ہفتہ ہی اب کسی قسم کی پیشرفت ہوسکے گی۔ تاہم واقفان حال کے مطابق جنہوں نے جواب جمع کرائے ہیں، پارٹی میں ان کا مستقبل بھی تاریک ہوچکا ہے۔ اس لئے ان ممبران کو بھی اب وقت ضائع کرنے کی بجائے مستقبل کیلئے کوئی ٹھکانہ تلاش کر لینا ہی بہتر ہوگا۔ ویسے بھی پی ٹی آئی کے پاس امیدواروں کی اتنی بہتات ہے کہ چند لوگوں کے جانے سے پارٹی پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ پی ٹی آئی میں کسی کا بھی ذاتی ووٹ بنک نہیں ہے۔ عمران خان کی وجہ سے نوجوان کارکن پارٹی کے امیدوار کو ہی ووٹ دے گا۔ اس لئے جس پر عمران خان کا ہاتھ ہوگا وہی فائدے میں رہے گا۔ اس کے علاوہ پارٹی کا کوئی ایک رہنما ایسا نہیں جو اپنی ذاتی حیثیت میں الیکشن جیت سکے اور پی ٹی آئی کی قیادت کو اس امر کا بخوبی احساس ہے۔ اسی لئے تو بیک وقت 20 اراکین کے خلاف کارروائی کرکے ایک منفرد مثال قائم کر دکھائی ہے۔

ادھر طویل مشاورت اور کوششوں کے بعد آخرکار ایم ایم اے کی صوبائی صدارت جے یو آئی (ف) کو مل گئی ہے، جس کے تحت جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان ایم ایم اے کے صوبائی صدر بن گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں صوبائی صدارت کے معاملہ پر ڈیڈ لاک ختم کرانے میں جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما اکرم خان درانی اور ایم ایم اے کی 3 چھوٹی جماعتوں نے اہم کردار ادا کیا، کیونکہ مرکز اسلامی میں ہونے والے اجلاس میں جب دوبارہ ڈیڈلاک آیا تو مرکزی کمیٹی اور 3 چھوٹی جماعتوں نے فیصلہ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مرکزی کمیٹی میں اہل حدیث اور جے یو پی کے نمائندے غیر حاضر تھے، تاہم انہوں نے ہر قسم کے فیصلہ کا اختیار اکرم خان درانی کو دے رکھا تھا، جس کے بعد مرکزی کمیٹی کے اراکین، لیاقت بلوچ، عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، عارف واحدی جبکہ جے یو پی کے فیاض خان، اہل حدیث کے فضل الرحمٰن مدنی اور اسلامی تحریک کے حمید حسین امامی کے مابین مشاورتی نشست کا اہتمام ہوا۔ نشست میں تینوں چھوٹی جماعتوں نے جے یو آئی (ف) کی حمایت کا اعلان کیا، جس کے بعد قرعہ فال مولانا گل نصیب خان کے نام نکلا اور وہ صوبائی صدر منتخب ہوگئے، جبکہ جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی کے عبدالواسع، نائب صدور جمیت علماء پاکستان کے فیاض خان، جماعت اسلامی کے ڈاکٹر محمد اقبال خلیل، مرکزی جمیعت اہلِ حدیث کے مولانا فضل الرحمٰن مدنی، اسلامی تحریک کے علامہ حمید حسین امامی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری جے یو آئی (ف) کے مولانا شجاع ملک، جے یو پی کے مولانا معراج الدین، مرکزی اہلِ حدیث کے ڈاکٹر ذاکر شاہ اور اسلامی تحریک کے اخونزادہ مظفر علی، جبکہ سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی نور الحق اور سیکرٹری مالیات جے یو آئی (ف) کے مفتی کفایت اللہ منتخب کر لئے گئے۔

مولانا گل نصیب خان چونکہ فعال سیاسی رہنماء ہیں اس لئے انہوں نے وقت ضائع کئے بغیر اُسی روز نئی کابینہ کا ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے اہم فیصلے بھی کئے، جن کے مطابق رمضان کے پہلے عشرے کے دوران تمام ضلعی نتظیم سازی مکمل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کیلئے مختلف کمیٹیاں قائم کر دی گئیں، جبکہ صوبائی پارلیمانی بورڈ کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ ایم ایم اے کو خیبر پختونخوا مین مکمل اور بھرپور طریقے سے فعال کرنے کیلئے وسطی و جنوبی اضلاع مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژنوں کیلئے 5، 5 اراکین پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جو رمضان کے پہلے عشرے میں تمام اضلاع کا دورہ کرکے تنظیم سازی مکمل کریں گے، جبکہ ٹکٹوں کی تقسیم کیلئے پارلیمانی بورڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے، جس میں تمام 5 جماعتوں کے 2، 2 اراکین شامل ہوں گے۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا شجاع ملک اور مفتی کفایت اللہ، جماعت اسلامی کی طرف سے عبدالواسع اور جبران خلیل ممبران ہوں گے، باقی تینوں جماعتوں کے صوبائی صدور بھی ممبران ہوں گے۔ ایم ایم اے خیبر پختونخوا کی تنظیم سازی میں کافی تاخیر ہوچکی ہے اور جب تنظیم سازی ہوئی تو ساتھ ہی رمضان بھی شروع ہوگیا، جس کے بعد اب ایم ایم اے کے پاس خیبر پختونخوا میں ضائع کرنے کیلئے وقت بالکل نہیں ہے۔ ویسے بھی ایم ایم اے کی انتخابی کامیابی کا دارومدار خیبر پختونخوا پر ہے، اس لئے اب تیزی سے یہاں پر کام کرنا ہوگا۔

نئے انتخابی قوانین کے تحت کل انتخابی ٹکٹوں میں خواتین کو 5 فیصد دینے کی پابندی نے تمام سیاسی جماعتوں کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ الیکشن قوانین کے مطابق اس بار جو بھی سیاسی جماعت جتنے پارٹی ٹکٹ جاری کرے گی، اس میں سے 5 فیصد خواتین امیدوار ہر صورت شامل ہوں گی۔ خیبر پختونخوا کے مخصوص حالات و روایات کے تناظر میں صوبے کی تمام اہم جماعتوں کے سامنے مشکل مرحلہ آگیا ہے، کیونکہ 5 فیصد خواتین کو جنرل نشستوں پر لڑانا آسان نہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام جماعتوں نے اس سلسلے میں مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے اور الیکشن شیڈول کے اجلاس سے قبل اس سلسلہ میں حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ قانون کی پابندی کرتے ہوئے اس مشکل صورتحال سے نکلا جا سکے۔ اس سلسلہ میں تاحال کسی جماعت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور فی الوقت مسئلے کے حل پر غور کے ساتھ ساتھ قانونی ماہرین اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، کیونکہ بظاہر صوبہ میں کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہرگز آسان نہیں۔ یہ اب ان جماعتوں کی سیاسی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال سے خود کو کیسے نکال پاتی ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر خواتین کو لازمی جنرل نشستوں پر الیکشن لڑوانا ہے تو پھر بھاری تعداد میں مخصوص نشستوں کی کیا ضرورت ہے، پھر ان کو اسی تناسب سے کم کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 726659
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب