0
Thursday 31 May 2018 05:58

ایران کا جوہری معاہدہ، امریکہ کی من مانیاں اور اقوامِ عالم کا ردعمل(1)

ایران کا جوہری معاہدہ، امریکہ کی من مانیاں اور اقوامِ عالم کا ردعمل(1)
تحریر: فدا حسین بالہامی
fidahussain007@gmail.com

ٹرمپ اوٹ پٹانگ فیصلوں کی علامت:
موجودہ امریکی صدر نے اپنے غیر منطقی اور متنازعہ فی فیصلوں کی وجہ سے ایک خاص پہچان قائم کی ہے۔ جب سے اس نے امریکی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے، وہ اپنے اوٹ پٹانگ باتوں اور فیصلوں کی وجہ سے موضوعِ بحث بنے رہے۔ ان کے منہ سے خیر کی کوئی بات نکلتی ہی نہیں۔ وہ مسلسل بین الاقوامی اصول و قوانین کی دھجیاں اڑاتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی طفلانہ حرکتوں سے امنِ عالم کو ہر چڑھتے دن کے ساتھ کوئی نہ کوئی نیا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ انہوں نے کئی ایک بار اپنی دجالی خصلتوں کے ذریعے پوری دنیا میں جنگ کی آگ بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی۔ گذشتہ سال کے اواخر میں مسٹر ٹرمپ نے اپنی کوتاہ اندیشی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ سنا دیا، جس کی مخالفت میں پوری دنیا سراپا احتجاج ہوئی۔ چنانچہ ٹرمپ نے عالمی رائے عامہ اور اقوام متحدہ کی متعدد قرادوں کے برعکس مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کا اعلان کر دیا، جس کے خونچکان نتائج اس وقت وہاں برآمد ہو رہے ہیں۔ یہ اسی فیصلے کی دین ہے کہ اسرائیل حالیہ دنوں فلسطینیوں کے قتل عام میں شدت لایا اور چند دن قبل ہی ساٹھ سے زائد فلسطینوں کو بیک جنبش موت کے گھاٹ اتار دیا۔

ایک اور خطرناک فیصلہ:
دوسرا خطرناک اور یک طرفہ فیصلہ حال ہی میں مسٹر ٹرمپ نے کیا، اس کے منفی اثرات کا خمیازہ مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا۔ واضح رہے دو سال کے عرصے پر محیط طویل سفارتی اور دو بدو مذاکرات کے بعد 2015ء میں جوہری معاہدہ ایران اور چھے ممالک کے مابین طے پایا تھا۔ ان مذاکرات میں فریڈریکا موگرہنی نے یورپی یونین کی طرف سے نمائندگی کی۔ اس لحاظ سے یہ معاہدہ سہ فریقی معاہدہ تھا۔ ایک جانب ایران دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی نیز تیسری جانب یورپی یونین بھی نگران و ناظر اور ثالث کی حیثیت سے شریک تھا۔ کافی کھینچا تانی اور جدوجہد کے بعد یہ تینوں فریق ایک مشترکہ ہمہ جہت، قابلِ قبول اور قابلِ عمل نتیجے پر متفق ہوئے۔ معاہدے کو باضابطہ ایک مسودے کی صورت میں پیش کیا گیا۔ جسکا عنوان ایک مشترکہ جامع عملی منصوبہ (Joint Comprehensive Plan of Action) رکھا گیا۔ بعد ازاں اس مسودے کی تصدیق اقوام متحدہ نے بھی کی۔ معاہدے کی مذکورہ چیدہ چیدہ تفصیل بجائے خود اس کی حساس نوعیت کو ظاہر کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی باور کراتی ہے کہ اس معاہدے سے نکلنے والا فریق پرلے درجے فریب کار، عہد شکن، بے اعتباری اور بداعتمادی کی علامت قرار پائے گا۔ اس لئے امریکہ نے اس معاہدہ سے الگ ہو کر پھر ایک بار اقوام عالم کو یہ باور کرایا کہ اس کے یہاں پتھر کی لکیر بھی نقش بر آب ہے۔ اس کے وعدوں، معاہدوں اور قراردادوں پر اعتبار کرنا سحرائی سراب کے مترادف ہے۔ جس کو آبِ حیات سمجھ کر ایک انسان یا پوری کی پوری قوم موت کے منہ میں جا پہنچتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی:
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر امریکہ کا کوئی اعتبار نہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران سے زیادہ دنیا میں کوئی اس حقیقت سے آشنا نہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے معاہدے کے پیشتر ہی بارہا اس بات کا اظہار کیا کہ امریکہ ہرگز ہرگز قابلِ اعتماد نہیں ہے، تو پھر کیوں اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا؟ غالباً امریکہ کی بے اعتباری کے پیش نظر ہی ایران نے محض امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ دیگر فریقین کو بھی شامل کرکے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی حکمت عملی کو اپنایا، وہ حکمت عملی یہ تھی کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے یک طرفہ طور نکل جائے گا تو اول اس کی رہی سہی شبیہ بھی عالمی سطح پر مزید بگڑے گی۔ اسے دیگر فریقین کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکہ کے حریف ممالک کے ساتھ ساتھ اس کے اکثر حلیف ممالک بھی اس کی عہد شکنی پر نالاں ہوں گے۔ ممکن ہے دیگر پانچ بڑی عالمی طاقتیں امریکہ کی معاہدہ شکنی کے باوجود بھی اس معاہدے کی ساخت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس صورت میں امریکہ کے لئے یہ سب سے بڑی شکست ہوگی اور اگر ان بڑی طاقتوں کی یہ کوشش بار آور ثابت نہ ہو پائی تو بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو اقتصادی نقصان کے باوجود سیاسی اور سفارتی سطح پر ضرور فتح نصیب ہوگی۔

اقوامِ عالم کا ردِعمل:
خوش آئند امر یہ ہے کہ ٹرمپ کو اس بار بھی بین الاقوامی سطح پر منہ کی کھانی پڑی۔ ماسوائے اسرائیل اور سعودی عرب کے کسی بھی ملک نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس معاہدہ شکنی کی تائید نہیں کی، بلکہ اس بار بھی یروشلم میں امریکی سفارتخانے کو منتقل کرنے کے فیصلہ کی طرح امریکی صدر کو ایک زبردست ردعمل دیکھنا پڑا۔ نہ صرف I.A.E.A مسلسل یقین دہائی کراتی آرہی ہے کہ ایران معاہدہ پر کاربند ہے بلکہ امریکہ کے بغیر دوسرے تمام فریق ایران کی جانب سے معاہدہ پر عمل درآمد کے تئیں مطمئن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بیک زبان ہو کر امریکی صدر کے اعلان پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس مرتبہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو داخلی اور خارجی سطح پر مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے۔ سابق امریکی صدر نے معاہدہ شکنی کو ایک سنگین اور فاش غلطی قرار دے کر کہا: ’’J.C.P.O.A سے روگردانی اپنے نزدیک ترین حلیفوں کو اپنی پیٹھ دکھانے کے مترادف ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم نے اس معاہدہ سے بھی منہ پھیر لیا، جسے ہمارے ملک کے مقتدر سیاستدانوں، سائنس دانوں اور خفیہ اداروں کے ماہرین نے کیا ہے۔" تہران میں یورپی کمشنر برائے توانائی اور ماحولیات سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کی ایٹمی انرجی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ’’امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم کرنے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔" یورپی یونین کے انرجی کمشنر میگل ایرس کانٹے نے کہا کہ ’’ایٹمی معاہدہ خطے میں امن کے لئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ یورپی ممالک ایران سے تیل اور گیس حاصل کرتے رہیں گے۔ یورپی کمپنیوں کو امریکی پابندیوں سے بچانے کیلیے بھی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔"

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن (John Brennan) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضع پیغام دیا ہے کہ ’’ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ "تباہ کن" اور "حماقت کی انتہا" ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی کہ گذشتہ انتظامیہ کا منظور کردہ معاہدہ موجودہ انتظامیہ بیک جنشِ قلم مسترد کر دے۔" جرمنی کی چانسلر اور روس کے صدر نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ نیوکلیر ڈیل پر کاربند رہیں گے۔ یورپی یونین نے بھی تمام تر دباو اور ددھونس کے باوجود مذکورہ ڈیل کو برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ردعمل میں روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور زیادہ گہرا اور مضبوط کرے گا اور امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارتی اور سفارتی رشتے کو فروغ دے گا۔" الغرض قریب قریب تمام عالمی رہنماوں نے امریکی صدر کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ امریکہ کے دیرینہ اور قریبی حلیف ممالک کے رہنماوں نے بھی فی الوقت ایک مثبت موقف اختیار کر رکھا ہے، ان کے بیانات سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ اس معاہدے کی ساخت کو کسی بھی صورت خراب ہونے نہیں دیں گے۔ فرانس اور برطانیہ جو ہمیشہ امریکہ کے چشم و ابرو کے اشاروں پر ناچتے ہیں، جنہیں بجا طور پر اس وقت امریکہ کے دم چھلے کہا جا سکتا ہے، نے بھی امریکہ کو اس حوالے سے ایک سخت پیغام دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 728409
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب