0
Thursday 31 May 2018 15:00

جنوبی سندھ یا مہاجر صوبہ کے قیام کا مطالبہ و مخالفت، الیکشن میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا بنیادی نعرہ ہوگا

جنوبی سندھ یا مہاجر صوبہ کے قیام کا مطالبہ و مخالفت، الیکشن میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا بنیادی نعرہ ہوگا
ترتیب و تدوین: ایس حیدر

پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان جنوبی سندھ صوبے یا مہاجر صوبے کے معاملے پر تندوتیز جملوں کے تبادلے جاری ہیں، اس معاملے پر سندھ کے قوم پرست انتہائی جذباتی ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے۔ یہی صورتحال پی پی پی کی ہے، بعض حلقوں کے مطابق دونوں جماعتیں اس معاملے پر سیاست کر رہی ہیں، عام انتخابات قریب آتے ہی نئے صوبے کا مطالبہ اور اس شدومد کے ساتھ اس کی مخالفت یہی ظاہر کرتی ہے کہ دونوں جماعتوں کے پاس عوام کے پاس جانے کیلئے کچھ نہیں، پی پی پی کی دس سالہ کارکردگی بعض حلقوں کے نزدیک انتہائی مایوس کن رہی ہے اور انہیں متحدہ کی جانب سے جنوبی سندھ کے مطالبے پر یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ جنوبی سندھ کی مخالفت کرکے اپنی کارکردگی کو عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھے، اس ضمن میں سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کئے اور سندھ اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت ہے، سندھ ایک ہی رہے گا، پانچ سال قبل کراچی میں دہشت کا ماحول تھا، ہم نے شہریوں کو خوف کے ماحول سے باہر نکالا، شہر کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ متحدہ لیڈر سیاست کر رہے ہیں، کبھی الگ صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو کبھی معافی مانگتے ہیں، سندھ توڑنے کی باتیں کرنے والے آج خود ٹوٹ گئے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان اور مہاجر قومی موومنٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعنت بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مرادعلی شاہ کے رویئے نے جنوبی سندھ یا مہاجر صوبے کے مطالبے کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے، پی پی پی کراچی شہر کو میٹروپولٹین کا درجہ نہیں دینا چاہتی، بلدیاتی اختیارات نہیں دیئے جاتے، ایسے میں صوبے کی آوازیں اٹھیں گی۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اب کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بات ہوگی، ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہمیں جنوبی سندھ میں اپنے فیصلہ کن حقوق کی جدوجہد کا آغاز کرنا ہے، کراچی اور سندھ کے شہروں کا بھی مستقل حل نکلنا چاہیئے، جب میں نے یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھایا تو خورشید شاہ بھی سیخ پا ہوگئے، ہم سے پنگا مت لو، ہم نے پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا، پاکستان بنا لیا، آئین پاکستان کے مطابق نئے صوبے کا مطالبہ کرنا کوئی جرم نہیں اور ہم سندھ کے اختیارات اور وسائل کو آزاد کرائیں گے، مردم شماری میں جو دھاندلی کراچی والوں سے کی گئی، وہ کھلی بدمعاشی ہے، پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر فائز لوگوں سے کہتا ہوں کہ نفرتوں کے بیج بونے والوں کو پہچانیں، نفرت کا بیج بونے والے پاکستان کے اصل دشمن ہیں، ہم ہمیشہ محبت کے درخت لگاتے رہیں گے، نئے صوبے نہ بنائے گئے تو ملک انارکی کی جانب چلا جائے گا، نئے صوبے بننے سے پاکستان مضبوط و مستحکم ہوگا، مہاجروں کے ساتھ زیادیتوں کا سلسلہ بند کیا جائے، کراچی کی آبادی اتنی ہے کہ کئی ملک اس میں ضم ہوجائیں، جنوبی سندھ صوبہ پاکستان کا سب سے مضبوط صوبہ ہوگا، پاکستان کے دفاع میں جنوبی سندھ سب سے آگے ہوگا، جنوبی سندھ صوبے کی جب بھی بات کی جاتی ہے، کچھ مخصوص قوم پرست سیاستدان اور پیپلزپارٹی کے رہنما اندرون سندھ قتل عام کی دھمکی دیتے ہیں، ہم نے جنوبی سندھ کے حقوق کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے، کسی صورت وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی نہیں کریں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان اور پیپلز پارٹی کے درمیان اس معاملے پر تلخی اس درجہ بڑھی کہ متحدہ نے وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے دیئے گئے افطار ڈنر کا بائیکاٹ تک کر دیا۔ اس معاملے پر پاک سرزمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضاہارون کا مؤقف ہے کہ خورشیدشاہ اور فاروق ستار کے بیانات لسانی فسادات اور سندھ میں عصبیت اور نفرتیں پیدا کرنے کی گھناؤنی سازش نامی فلم کا پارٹ ٹو ہے، سازش کی پہلی قسط سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سندھ اسمبلی میں تقریر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں جنوبی سندھ کی حمایت میں وال چاکنگ بھی کی گئی، جبکہ بعض علاقوں میں مہاجر صوبے کے حوالے سے بینر بھی آویزاں کئے گئے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام دھڑوں سمیت مہاجر تنظیموں کا آئندہ عام انتخابات میں بنیادی نعرہ علیحدہ صوبہ ہوگا، جبکہ پی پی پی اپنی مہم میں نئے صوبے کے قیام کے خلاف انتہائی جذباتی دفاع کرے گی، اس ضمن میں جی ڈی اے، متحدہ مجلس عملاور تحریک انصاف کی حکمت عملی کیا ہوگی، یہ آئندہ چند روز میں واضح ہو جائے گا، تاہم مہاجر تنظیموں اور متحدہ کے دھڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کراچی اور حیدرآباد میں بھرپور طریقے سے جنوبی سندھ یا مہاجر صوبے کی مہم چلائیں گے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک بار پھر کراچی کا دورہ کیا، انہیں ملیر میں آر سی ڈی گراؤنڈ میں جلسہ کرنا تھا، تاہم وہ جلسہ ملتوی کرکے اسلام آباد روانہ ہوگئے، جس سے لانڈھی، ملیر، شاہ فیصل کالونی کے ووٹرز پر تحریک انصاف کا اچھا تاثر قائم نہیں ہوا، تاہم عمران خان نے تاجروں سمیت، قبائلی عمائدین سے خطاب کیا اور شوکت خانم کینسر اسپتال کی فنڈریزنگ تقریب میں بھی شرکت کی۔

سیاسی جماعتیں عام انتخابات کی تیاریوں میں جت گئی ہے، بیشتر سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیں گی، سندھ میں پیپلز پارٹی کو جیکب آباد، گھوٹکی، سکھر، شکارپور کے اضلاع میں مشکلات کا سامنا ہے، ان اضلاع کے بڑے خاندان پی پی پی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں کئی بڑے نام پارٹی چھوڑ سکتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی دیہی سندھ میں ایک بار پھر بھرپور کامیابی کے خواب دیکھ رہی ہے، اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اور دوسرے سینئر پارٹی رہنماﺅں کی زیر مشاورت منصوبہ بندی کرلی گئی ہے، لیکن دیہی و شہری سندھ میں پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف، پیر پگارا کی قیادت میں گرینڈ اپوزیشن الائنس (جی ڈی اے)، متحدہ مجلس عمل، پاکستان سرزمین پارٹی، مجلس وحدت مسلمین، سنی تحریک، جے یو پی، تحریک لبیک یارسول اللہ اور ان چھوٹی بڑی سیاسی مذہبی جماعتوں کے درمیان بننے والے سیاسی اتحادوں سے بھی خطرہ ہوگا، اس کے ساتھ مزکورہ بالا سیاسی مذہبی جماعتوں اور بننے والے اتحادوں کو بھی آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی طرح جنوبی سندھ یا مہاجر صوبہ کے حوالے سے جلد از جلد اپنا مؤقف یا حکمت عملی بنا کر عوام میں پیش کرنا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 728599
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب