0
Wednesday 6 Jun 2018 05:36

کائنات کا عادل ترین حکمران۔۔۔۔۔۔ علی ابن ابی طالب ؑ

(یومِ شہادت 21 رمضان المبارک 6 جون 2018ء کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
کائنات کا عادل ترین حکمران۔۔۔۔۔۔ علی ابن ابی طالب ؑ
تحریر: سید اظہار مہدی بخاری
izharbukhari5@hotmail.com


تاریخِ انسانیت نے اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے مزاج اور اپنی اپنی نوعیت کے حکمران دیکھے ہیں، جنہوں نے اپنے وقت کے حساب سے اپنی مرضی کے نظام ہائے حکمرانی متعارف یا مسلط کئے اور انسانوں کو اپنے اقتدار کی لاٹھی سے ہانکا۔ اپنے عوام کے ساتھ جانوروں والا اور ظالمانہ سلوک کرکے انہیں محکوم رکھا۔ اگرچہ جزوی طور پر بعض حکمران ایسے بھی آئے جنہوں نے مثبت اندازِ حکمرانی کے ذریعے لوگوں کی کسی حد تک خدمت بھی کی، لیکن تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات مسلمہ ہے کہ اکثر حکمران اپنے معاشروں اور اپنے عوام کے لئے درست ثابت نہیں ہوئے۔ تاریخ انسانیت کے ساتھ اگر تاریخ اسلام کا مشاہدہ کیا جائے تو ہمیں مختلف اقسام کے نظام ہائے حکومت نظر آتے ہیں، جنہیں اسلام کے ساتھ جوڑا گیا، لیکن ہم انہیں خالصتاً اسلامی نظام نہیں کہہ سکتے، اسی طرح متعدد حکمرانوں نے بھی اسلام کو اپنی حکمرانی کے لئے استعمال کیا اور خود کو اسلامی حاکم قرار دیا، لیکن درحقیقت وہ بھی اسلام سے کوسوں دور تھے اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

چشمِ تاریخ نے ایک ایسا حکمران بھی دیکھا ہے، جو اپنے ظلم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے عدل کی وجہ سے مشہور ہے۔ جو اپنے اقتدار کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے انصاف کے سبب معروف ہے۔ جو اپنی جاہ و حشمت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی بوریا نشینی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ جس نے اقرباء پروری کی روایات نہیں ڈالیں بلکہ اقرباء کو ان کی اصلی حق تک محدود رکھنے کی مثالیں قائم کی ہیں۔ جس کا ہاتھ بھی عدل کا عادی تھا۔ جس کا مال بھی عدل سے تقسیم ہوا۔ جس کی زبان بھی عدل کے علاوہ کسی بات سے آشنا نہیں تھی۔ جس کی رحمدلی بھی عدل سے مزین تھی، جس کی تلوار بھی عدل کے بغیر حرکت نہیں کرتی تھی۔ جو زندہ رہا تو عدل بانٹتا رہا اور شہادت کے منصب پر فائز ہوا تو اپنے عدل کی شدت کے سبب۔ اس عادل و منصف حکمران کو انسانیت علی ؑ ابن ابی طالب ؑ کے نام سے جانتی ہے۔

اس صاحبِ عدل حکمران کا معروف فرمان آج بھی انسانوں بالخصوص سیاستدانوں اور حکمرانوں کی رہنمائی کا باعث ہے، جس میں وہ فرماتا ہے ’’حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے لیکن ظلم (یعنی ناانصافی و بے عدلی) کے ساتھ نہیں۔" یہ فرمان محض فرمان نہیں بلکہ حکمرانی کا ایک ناقابل تردید اصول ہے۔ اس اصول کے بغیر انسان کُش حکومتیں تو قائم ہوسکتی ہیں، لیکن انسانوں کو تحفظ فراہم کرنے والی حکومتیں قائم نہیں ہوسکتیں۔ حکمرانی کا مقصد ہی عدل کا قیام ہے، یعنی حدودِ حکمرانی میں رہنے والے ہر انسان حتی کہ جانور کو بھی اس کے حقوق فراہم کئے جائیں۔ علی ؑ کا قول فقط زبان کی حد تک نہیں تھا بلکہ علی ؑ کے عمل، علی ؑ کے کردار اور علی ؑ کی سیرت نے اس قول کو ثابت کیا کہ علی ؑ نے اپنے چار سالہ ظاہری اقتدار میں عدل کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزارا۔ علی ؑ کی حکمرانی کی بنیاد ہی عدل پر قائم تھی اور قائم رہی۔ جب علی ؑ کو اقتدار پر لایا گیا اور آپ حق بہ حق دار رسید کا مصداق بن کر منبرِ رسول ؐ پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ نے اپنے خطبہ میں دیگر اہم ترین امور کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی اقسام بھی بیان فرمائیں کہ کس کس طرح کے حکمران لوگوں پر مسلط ہوتے ہیں اور ان سے کس طرح کی خطائیں سرزد ہوتی ہیں، جس کے بعد ان کے عوام اور مملکت پر کیا کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذیل میں ہم علی ؑ کے ارشادات میں سے چند فرامین کا ذکر کرکے بات کو مختصراً نتیجہ تک لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

منبرِ رسول ؐ پر نشست کے بعد امیرالمومنین علی ابن ابی طالب ؑ نے فرمایا: ’’اے لوگو، تمہیں یہ معلوم ہے کہ ناموس، خون، مالِ غنیمت (نفاذ) احکام اور مسلمانوں کی پیشوائی کے لئے کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حاکم ہو، کیونکہ اس کا دانت مسلمانوں کے مال پر لگا رہے گا۔ اور نہ کوئی جاہل کہ وہ انہیں اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہ کرے گا اور نہ کوئی کج خلق کہ وہ اپنی تند مزاجی سے چرکے لگاتا رہے گا اور نہ کوئی مال و دولت میں بے راہ روی کرنے والا کہ وہ کچھ لوگوں کو دے گا اور کچھ کو محروم کر دے گا اور نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا کہ وہ دوسروں کے حقوق کو رائیگاں کر دے گا اور انہیں انجام تک نہ پہنچائے گا۔ اور نہ کوئی سنت کو بیکار کر دینے والا کہ وہ امت کو تباہ و برباد کردے گا۔" سب سے پہلے علی ؑ نے حکومت کو محض طاقت کے حصول یا عیاشی و اقتدار قرار نہیں دیا بلکہ اسے ایک دینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔ یعنی حکمران محض اپنی شہرت اور لوگوں پر حکومت کرنے کے لئے نہیں آئے گا بلکہ لوگوں کی ناموس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی حاکم کے ذمہ ہوگی۔

لوگوں کے درمیان گرنے والے بے گناہ خون کا قصاص لے کر دینا بھی حاکم کا فریضہ ہوگا۔ لوگوں کے مال یعنی قومی خزانے اور جنگوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے غنیمتی مال کی مساویانہ تقسیم بھی حاکم کا فرض ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی و انسانی احکام کے بیان اور نفاذ کی ذمہ داری بھی حاکم پر عائد ہوگی کہ وہ لوگوں کو احکام کا پابند بنانے اور احکام پر عمل کرانے کے لئے کردار ادا کرے گا اور سب سے بڑی ذمہ داری حاکم پر یہ عائد ہوگی کہ وہ لوگوں یعنی اسلامی ریاست میں مسلمانوں کی پیشوائی کرے گا۔ لازم سی بات ہے کہ مسلمانوں کی پیشوائی کسی جاہل، کسی غاصب، کسی ظالم، کسی فرعون، کسی طاغوت، کسی مفسد، کسی بے دین، کسی ناانصاف اور کسی بے حیاء کے ذریعے تو ہرگز ممکن نہیں۔ لامحالہ پیشوائی کے تقاضے صرف اور صرف وہ حاکم ادا کرسکتا ہے، جو قرآنی احکامات سے مکمل آگاہ ہو اور دینی شریعت کے تمام تر تقاضوں کا علم رکھتا ہو۔ جو عوام کو ہر میدان میں رہنمائی اور پیشوائی فراہم کرسکتا ہو۔

علی ؑ فرماتے ہیں کہ حاکمیت کے درج بالا تقاضے کبھی ایک بخیل انسان پورے نہیں کرسکتا، کیونکہ وہ قومی خزانے کو اپنے ذاتی استعمال میں لاتا رہے گا۔ قومی خزانے سے اپنے دوستوں اور اقرباء کے شکم بھرتا رہے گا اور اسے درست مقامات پر خرچ نہیں کرے گا، جس کا تقاضا ریاست اور عوام کرتے ہوں گے۔ لہذا بخیل کسی بھی لحاظ سے حاکمیت کا حق نہیں رکھتا۔ اسی طرح جاہل کو اگر حکمرانی دی گئی تو سب سے پہلے اپنے عوام کو علم سے، شعور سے، عقل سے، فکر و تدبر سے، احکام اور فرائض سے دور کر دے گا، چونکہ وہ خود ان خصوصیات سے عاری ہوگا، اس لئے وہ چاہے گا کہ اس کے عوام بھی جہالت میں زندگی گذاریں اور جہالت کا حتمی نتیجہ گمراہی ہے اور اگر جاہل حکمران کے ذریعہ عوام گمراہ ہوگئے تو ان کی دنیا بھی تباہ ہو جائے گی اور آخرت بھی برباد ہوگی، اس لئے جاہل انسان کبھی حاکم نہیں بنایا جاسکتا۔ علی ؑ نے ایک اور قسم کا ذکر کرتے ہوئے مالی بے ضابطگی کرنے والے کا ذکر کیا ہے کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم یا دوسرے الفاظ میں کرپشن کا عادی انسان کبھی حاکم نہیں بن سکتا، کیونکہ وہ مالِ عوام اور قومی خزانے کا رُخ حقداروں سے موڑ کر غیر مستحق لوگوں کی طرف کر دے گا۔ اس طرح بہت سارے مستحق لوگ اپنے حق سے محروم رہ جائیں گے، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے عدلی اور تشدد پھیلے گا اور لوگ اپنا حق زبردستی لینے کے لیے ظلم اور قتل و غارت گری کریں گے۔ لہذا مال و دولت میں بے راہ روی کرنے والا انسان بھی حاکم بننے کا اہل نہیں ہے۔

علی ؑ نے جانبدار قاضی یعنی جو رشوت لے کر یا دباؤ قبول کرکے فیصلے تبدیل کر دے اور حق کو باطل میں اور باطل کو حق میں تبدیل کر دے۔ فیصلوں میں رشوت کا عادی ہوکر لوگوں کے حقوق غصب کرے۔ ایسا انسان کبھی بھی حاکم بن کر لوگوں کو انصاف نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد آخر میں علی ؑ نے ایک ایسے انسان کا ذکر کیا ہے، جو سنتوں کو بیکار سمجھتا ہے، یا اپنے احکامات اور پالیسیوں کے ذریعے سنتوں کو بے سود و بے کار کر دیتا ہے، کیونکہ قرآن ایک تھیوری ہے، احکامات اور آئین و دستورِ مملکت بھی تھیوری کا حصہ ہیں، لیکن اس کی عملی شکل سنت میں موجود ہے، اگر حکمران نے سنت سے منہ موڑا اور تھیوری کی اپنی تشریح و مطالب نکالے تو اس کے بعد نہ صرف مملکت یا حکومت کا بیڑا غرق ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں امت برباد ہو جائے گا، یعنی پوری ملت اسلامیہ اس کے اقدامات سے بربادی کی طرف چلی جائے گی۔ موخرالذکر قسم سب سے زیادہ خطرناک ہے اور ناقابل معافی ہے۔ آیئے دور حاضر میں اپنے ارد گرد موجود معاشروں اور حکومتوں کا جائزہ لیں کہ ہم نے کسی بخیل کو حاکم تو نہیں بنایا ہوا؟ کسی جاہل کو حکومت کا حق تو نہیں دیا ہوا؟ کسی کرپٹ کو اپنا حاکم تو نہیں چنا ہوا؟ کسی مالی بے راہ رو شخص کو عنانِ حکومت تو نہیں دیا ہوا؟ کسی جانبدار فیصلہ ساز اور قاضی کو تو اپنا حاکم نہیں بنایا ہوا؟ اور سب سے بڑھ کر سنت کو بیکار کر دینے اور بیکار سمجھنے والے کسی انسان کو حاکمیت کا حق تو نہیں دیا ہوا؟؟ اگر ایسا ہے تو اس کا ازالہ کریں اور ایسے انسان کو حاکم بنائیں، جو اگر علی ؑ جیسا ثابت نہ ہوسکے، لیکن کم از کم علی ؑ جیسا بننے کی کوشش تو کرے۔
خبر کا کوڈ : 729601
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب