0
Tuesday 5 Jun 2018 03:41

امیرالمومنین کی وصیت اور وقت کے تقاضے

امیرالمومنین کی وصیت اور وقت کے تقاضے
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ماہ مبارک رمضان کا بیشتر حصہ ہم گذار چکے ہیں، ہم سب بہتر جانتے ہیں کہ ہم نے یہ ایام کیسے گذارے ہیں، آیا ہمارا عمل و کردار ایک واقعی مومن اور ولایت علی ابن ابی طالب کے پیرو کا تھا یا یہ وقت ہم نے ضائع کر دیا اور ان کے فرامین و اقوال اور نصیحتوں پر عمل کرنے کے بجائے ذاتی و نفسانی خواہشات اور تمنائوں کو پورا کرنے میں صرف کر دیا۔ ماہ صیام کے فیوض و برکات کو ہم کس قدر سمیٹ پائے، یہ محاسبہ ضروری ہے۔ ہر ایک اپنا محاسبہ کرسکتا ہے، ہر ایک اپنے گریبان میں جھانک سکتا ہے، ہر ایک اپنی اصلاح کرسکتا ہے۔ توبہ، استغفار اور مغفرت کا در کھلا ہوا ہے، اس ماہ میں جہاں اور بہت سی مناسبتیں ہمیں دعوت فکر و عمل دیتی ہیں، وہاں مولائے متقیان امیر المومنان علی ابن ابی طالب کی شب ہائے ضربت و شہادت بھی یہ موقعہ مہیا کرتے ہیں کہ ہم خود کو ان کی نصیحتوں اور فرامین کے قالب میں ڈھالیں۔ اس بار ہم نے دیکھا کہ بانی انقلاب اسلامی، امام راحل حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ کا انتیسواں یوم وفات بھی ایام رمضان میں ہی آیا ہے۔ امام خمینی کی شخصیت تھی جنہوں نے دنیا کی سیاست کو تبدیل کر دیا اور آج بھی ان کی سیاست کا گہرا رنگ ہمیں عالمی حالات و واقعات کے رد و بدل میں بہت نمایاں طور پہ دکھائی دیتا ہے، وہ حقیقی معنوں میں امیر المومنین کے پیرو اور مانی تھے، ہم صرف دم بھرتے ہیں، انہوں نے اپنی محبت اور اخلاص و ایثار کو عملی طور پہ ثابت کیا اور دنیا کو ایسا نظام دیا جس کی بنیادوں میں ولایت علی ابن ابی طالب کی مودت اور فکر کا شجر سایہ فگن ہے۔

دنیا ایک عارضی اور غیر مستقل ٹھکانہ ہے، جس کیلئے انسان ظلم و ستم ڈھاتا ہے، اپنے لئے جھنم کا ساماں کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتا ہے، اے کاش ہم سب جو مولا علی کی ولایت میں ہونے کے دعویدار ہیں، ایک بار امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا وہ وصیت نامہ پڑھ لیں اور ذہن نشین کر لیں، جسے آپ نے امام حسن کے نام لکھا تھا، بعض شارحین کے نزدیک یہ وصیت نامہ محمد حنفیہ کے نام لکھا گیا تھا، مگر اصل بات یہی ہے کہ یہ وصیت نامہ آئندہ آنے والے ہر ایک کیلئے ہے، ہم سب کیلئے بطور باپ، بطور بیٹا اس میں ایسے سبق اور ہدایات موجود ہیں، ایسی خبریں ہیں، جو آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں۔ اس کا بہت تھوڑا سا حصہ یہاں نقل کرنے کی جسارت کرتا ہوں، احباب کی توجہ کیلئے، اگر کچھ حاصل کرنا ہے تو اس کا مکمل متن جو نھج البلاغہ میں موجود ہے، اسے بار بار پڑھیں، تنہائی میں پڑھیں، واقعی آپ کو بہت کچھ محسوس ہوگا۔

فرزند! یاد رکھو کہ جو شب و روز کی سواری پر سوار ہے، وہ گویا سرگرم سفر ہے، چاہے ٹھہرا ہی کیوں نہ رہے اور مسافت قطع کر رہا ہے، چاہے اطمینان سے مقیم ہی کیوں نہ رہے۔ یہ بات یقین کے ساتھ سمجھ لو کہ تم نہ ہر امید کو پا سکتے ہو اور نہ اجل سے آگے جاسکتے ہو، تم اگلے لوگوں کے راستہ ہی پر چل رہے ہو، لہذا طلب میں نرم رفتاری سے کام لو اور کسب معاش میں میانہ روی اختیار کرو۔ ورنہ بہت سی طلب انسان کو مال کی محرومی تک پہنچا دیتی ہے اور ہر طلب کرنے والا کامیاب بھی نہیں ہوتا ہے اور نہ ہر اعتدال سے کام لینے والا محروم ہی ہوتا ہے۔ اپنے نفس کو ہر طرح کی پستی سے بلند تر رکھو، چاہے وہ پستی پسندیدہ اشیاء تک پہنچا ہی کیوں نہ دے۔ اس لئے کہ جو عزت نفس دے دو گے اس کا کوئی بدل نہیں مل سکتا اور خبردار کسی کے غلام نہیں بن جانا، جبکہ پروردگار نے تمہیں آزاد قرار دیا ہے۔ دیکھو اس خیر میں کوئی خیر نہیں ہے، جو شر کے ذریعے حاصل ہو اور وہ آسانی آسانی نہیں ہے، جو دشواری کے راستہ سے ملے۔

طمع کی سواریاں تیز رفتاری دکھلا کر تمہیں ہلاکت کے چشموں پر نہ وارد کر دیں اور اگر ممکن ہو کہ تمہارے اور خدا کے درمیان کوئی صاحب نعمت نہ آنے پائے تو ایسا ہی کرو کہ تمہیں تمہارا حصہ بہرحال ملنے والا ہے اور اپنا نصیب بہرحال لینے والے ہو اور اللہ کی طرف سے تھوڑا بھی مخلوقات کے بہت سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اگرچہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے خاموشی سے پیدا ہونے والی کوتاہی کی تلافی کر لینا گفتگو سے ہونے والے نقصان کے تدارک سے آسان تر ہے، برتن کے اندر کا سامان منہ بند کرکے محفوظ کیا جاتا ہے اور اپنے ہاتھ کی دولت کا محفوظ کر لینا دوسرے کے ہاتھ کی نعمت کے طلب کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ مایوسی کی تلخی کو برداشت کرنا لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے اور پاکدامانی کے ساتھ محنت مشقت کرنا فسق و فجور کے ساتھ مالداری سے بہتر ہے۔

ہر انسان اپنے راز کو دوسروں سے زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے (یہ کیسا خوبصورت اور اہم نکتہ ہے، بالخصوص اجتماعی جدوجہد کرنے والوں کیلئے بہت ہی قابل غور ہے) اور بہت سے لوگ ہیں، جو اس امر کے لئے دوڑ رہے ہیں، جو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ زیادہ بات کرنے والا بکواس کرنے لگتا ہے اور غور و فکر کرنے والا بصیر ہو جاتا ہے۔ اہل خیر کے ساتھ رہو، تاکہ انہیں میں شمار ہو اور اہل شر سے الگ رہو، تاکہ ان سے الگ حساب کئے جائو۔ بدترین طعام مال حرام ہے اور بدترین ظلم کمزور آدمی پر ظلم ہے۔ نرمی نامناسب ہو تو سختی ہی مناسب ہے۔ کبھی کبھی دوا مرض بن جاتی ہے اور مرض دوا اور کبھی کبھی غیر مخلص بھی نصیحت کی بات کر دیتا ہے اور کبھی کبھی مخلص بھی خیانت سے کام لے لیتا ہے۔ دیکھو خبردار خواہشات پر اعتماد نہ کرنا کہ یہ احمقوں کا سرمایہ ہیں۔ عقلمندی تجربات کے محفوظ رکھنے میں ہے اور بہترین تجربہ وہی ہے، جس سے نصیحت حاصل ہو۔ فرصت سے فائدہ اٹھائو، قبل اس کے کہ رنج و اندوہ کا سامنا کرنا پڑے۔ ہر طلب گار مطلوب کو حاصل بھی نہیں کرتا ہے اور ہر غائب پلٹ کر بھی نہیں آتا ہے۔

فساد کی ایک قسم زاد راہ کا ضائع کر دینا اور عاقبت کو برباد کر دینا بھی ہے۔ ہر امر کی ایک عاقبت ہے اور عنقریب وہ تمہیں مل جائے گا، جو تمہارے لئے مقدر ہوا ہے۔ تجارت کرنے والا وہی ہوتا ہے، جو مال کو خطرہ میں ڈال سکے۔ بسا اوقات تھوڑا مال زیادہ سے زیادہ بابرکت ہوتا ہے۔ اس مددگار میں کوئی خیر نہیں ہے، جو ذلیل ہو اور وہ دوست بیکار ہے، جو بدنام ہو۔ زمانہ کے ساتھ سہولت کا برتائو کرو، جب تک اس کا اونٹ قابو میں رہے اور کسی چیز کو اس سے زیادہ کی امید میں خطرہ میں مت ڈالو۔ خبردار کہیں دشمنی اور عناد کی سواری تم سے منہ زوری نہ کرنے لگے۔ اے فرزند، نیکیوں کا حکم دیتے رہنا، تاکہ اس کے اہل میں شمار ہو اور برائیوں سے اپنے ہاتھ اور زبان کی طاقت سے منع کرتے رہنا اور برائی کرنے والوں سے اپنے امکان بھر دور رہنا۔ راہ خدا میں جہاد کا حق ادا کر دینا اور خبردار اس راہ میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا (جو لوگ کچھ بھی نہیں کر رہے ہوتے، وہ بس ملامت، تنقید اور الزام تراشیاں کر رہے ہوتے ہیں، انہیں یہ بھی گوارا نہیں ہوتا کہ کوئی نیکی کیوں انجام دے رہا ہے، کیوں معاشرہ سازی کر ہا ہے)۔

حق کی خاطر جہاں بھی ہو سختیوں میں کود پڑنا اور دین کا علم حاصل کرنا، اپنے نفس کو ناخوشگوار حالات میں صبر کا عادی بنا دینا اور یاد رکھنا کہ بہترین اخلاق حق کی راہ میں صبر کرنا ہے۔ اپنے تمام امور میں پروردگار کی طرف رجوع کرنا کہ اس طرح ایک محفوظ ترین پناہ گاہ کا سہارا لو گے اور بہترین محافظ کی پناہ میں رہوگے۔ پروردگار سے سوال کرنے میں مخلص رہنا کہ عطا کرنا اور محروم کر دینا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ مالک سے مسلسل طلب خیر کرتے رہنا اور میری وصیت پر غور کرتے رہنا۔ اس سے پہلو بچا کر گذر نہ جانا کہ بہترین کلام وہی ہے، جو فائدہ مند ہو اور یاد رکھو کہ جس علم میں فائدہ نہ ہو، اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور جو علم سیکھنے کے لائق نہ ہو اس میں کوئی فائدہ نہیں۔

ایام روز شہادت اور ایام رحلت امام خمینی میں نوجوانوں کیلئے یہ وصیت نامے بہت اثر انگیز ہیں۔ امام خمینی نے بھی اپنا تفصیلی وصیت نامہ لکھا جسے بارہا پرنٹ کیا جا چکا ہے اور انٹر نیٹ پر بھی دستیاب ہے، اسے بھی پڑھ کر آج کے دور کی سیاست اور اس کی چالوں کو سمجھا جاسکتا ہے، نیز امام خمینی کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے امام خمینی کا دور پایا اور ان کی سیاست، کردار اور دنیا پر اس کے اثرات کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ ہمارے بعض رویے اور انداز ایسے ہیں کہ ہم نے اپنے دور کے اس عظیم ترین انسان کی معرفت اور پہچان میں کوتاہی برتی، جو امیر المومنین کی ہستی کا ایک معمولی سا نمونہ اور پیرو حقیقی تھا، اگر دور امیرالمومنین میں ہوتے اور ہمارے سامنے امیر شام کا دسترخوان اور اس کے مشیروں کی چالیں ہوتیں تو ہم بھی خدا نخواستہ نیزوں پہ قرآن اٹھانے والوں یا پھر ان کی چال میں آکر مولا علی کو تنہا چھوڑ جانے والوں کی صف میں ہوتے۔ آج عالمی سطح پر جس طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں اور لشکر امام زمان (عج) کے مقابل جیسی صف بندی ہو رہی ہے، اعلانیہ طور پہ امام مہدی کے مقابلے کیلئے اعلان ہو رہے ہیں اور جھوٹے مہدی بھی سامنے آرہے ہیں۔ ہمیں اپنے امام کی صدا کو سننا ہوگا، ہمیں اس وصیت کو یاد کرنا ہوگا، جو آپ نے ہم سب کیلئے امام حسن کے نام فرمائی ہے۔ ماہ صیام کے گذرتے ایام اس کا بہترین موقعہ ہیں، ویسے بھی ماہ مبارک رمضان میں بھی ظہور حضرت حجت کی بات کتب میں ملتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 729630
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب