1
Tuesday 5 Jun 2018 12:19

تم نے علیؑ کو نہیں، عدالت کو قتل کیا ہے

تم نے علیؑ کو نہیں، عدالت کو قتل کیا ہے
تحریر: ثاقب اکبر

کہتے ہیں کہ علیؑ امام عادل تھے اور عدالت بھی ایسی کہ جس کے نفاذ کے لئے علیؑ نے کسی اور چیز کا لحاظ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہل نظر کا کہنا ہے کہ علیؑ کو شدت عدالت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اس لئے دل سے بے ساختہ نکلتا ہے کہ اے ابن ملجم! تم نے علیؑ کو نہیں، عدالت کو قتل کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ پیغمبر اکرم اس بات کو یاد کرکے کہ علیؑ کو قتل کیا جائے گا، بے ساختہ رو پڑے۔ پیغمبر اکرم سے ایک خطبہ، خطبہ شعبانیہ کے نام سے منقول ہے، اس خطبے میں آپ نے ایک ماہ شعبان کے آخر میں آنے والے مہینے یعنی ماہ رمضان کی عظمت کو بیان فرمایا۔ آپ کا کہنا تھا کہ آنے والا مہینہ شہراللہ ہے، جو برکت، رحمت اور مغفرت لے کر آ رہا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ مہینہ سارے مہینوں سے افضل ہے، اس کے دن دیگر دنوں سے افضل ہیں، اس کی راتیں دیگر راتوں سے افضل ہیں، اس کی گھڑیاں دیگر گھڑیوں سے افضل ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے، جس میں آپ کو اللہ کا مہمان بننے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اسی طرح آپ نے اس مہینے کے بہت سے فضائل بیان فرمائے۔ جب آپ فضائل بیان فرما چکے تو حضرت علیؑ جو کہ آپ کے سامنے کھڑے تھے کہنے لگے: یارسول اللہ! اس مہینے میں سب سے افضل عمل کیا ہے۔؟

حضرت علیؑ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اے ابو الحسن! اس مہینے کا بہترین عمل اللہ عزوجل کے محارم اور نافرمانیوں سے بچنا ہے۔ یہ کہہ کر آپ رونے لگ پڑے۔ میں نے پوچھا: یارسول اللہ! آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اے علیؑ! میں اس بات پر رویا ہوں کہ اسی مہینے میں تمھاری حرمت ضائع کی جائے گی۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے پروردگار کے لیے حالت نماز میں ہو کہ اولین و آخرین میں سب سے زیادہ شقی اور بدبخت ترین شخص جو قوم ثمود کی اونٹنی کو قتل کرنے والے بدبخت سے زیادہ شقی ہے، اس نے تمھارے سر پر ایک ضرب لگائی ہے اور تمھارے سر کے خون سے تمھاری داڑھی کو خضاب ہوگیا ہے۔ امیرالمومینؑ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ !اس موقع پر میرا دین تو سلامت ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں تمھارا دین سلامت ہوگا۔

پھر آپ نے فرمایا: اے علی جس نے تمھیں قتل کیا، یقیناً اس نے مجھے قتل کیا، جس نے تمھیں ناراض کیا، یقیناً اس نے مجھے ناراض کیا، جس نے تمھیں گالی دی، یقیناً اس نے مجھے گالی دی، کیونکہ تم میرے نزدیک میری جان کی طرح سے ہو، تمھاری روح میری روح ہے اور تمھاری طینت میری طینت ہے، اللہ نے مجھے اور تمھیں پیدا کیا اور پھر تمھیں اور مجھے چن لیا، مجھے نبوت کے لئے چنا اور تمھیں امامت کے لئے چنا، جس نے تمھاری امامت کا انکار کیا، یقیناً اس نے میری نبوت کا انکار کیا، اے علی! تم میرے وصی ہے اور میری اولاد کے باپ ہو، میری بیٹی کے شوہر ہو اور اس امت پر میری زندگی میں اور میرے بعد خلیفہ ہو۔ تمھارا امر میرا امر ہے اور تمھاری نہی میری نہی ہے، میں اس کی قسم کھا کے کہتا ہوں، جس نے مجھے نبوت پر سرفراز کیا اور مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بہتر قرار دیا، تم اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہو اور اس کے رازوں کے امین ہو اور اس کے بندوں پر اس کے خلیفہ ہو۔ آپ کا یہ خطبہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اپنے آباﺅ اجداد کے توسط سے امیرالمومنین حضرت علی سے روایت کیا ہے۔ اس خطبے کے اور بھی راوی ہیں۔

آج جب ہم حضرت علیؑ کی شہادت کے ایام میں سے گزر رہے ہیں تو نبی کریم کا یہ خطبہ بہت یاد آرہا ہے۔ ان دنوں وہ سانحہ ہوا، جس کے ہونے سے پہلے نبی پاک اسے یاد کرکے رو پڑے۔ جس سانحے کے وقوع سے پہلے نبی پاک نے اس پر گریہ کیا ہو، اس سانحے کے بعد اس کی یاد ہمیں کیوں نہ تڑپا دے۔ خاص طور پر جب علی علیہ السلام کی زندگی سے ایسے ایسے واقعات یاد آتے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ آپ نے کس طرح سے معاشرے کو عدل سے ہمکنار کرنے کے لئے ہر خطرے کو مول لیا، اپنی حکومت اور زندگی کو خطرے سے دوچار کر دیا، لیکن جب تک زندہ رہے عدالت کے نفاذ کے لئے کوشاں رہے۔ ایک روز آپ علیہ السلام نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو نابینا تھا اور بھیک مانگ رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے اس کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ ایک عیسائی شخص ہے، جو اپنی جوانی میں مختلف حکومتوں کے دوران میں خدمت انجام دیتا رہا ہے۔ امام پر یہ بات بہت ناگوار گزری اور فرمایا کہ اس کی جوانی میں تم اس سے کام لیتے رہے ہو اور آج جب وہ ضعیف اور لاچار ہوگیا ہے تو اسے اس کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے بیت المال کے خازن کو حکم دیا کہ اس کی زندگی کی ضروریات بیت المال سے پوری کی جائیں۔

حکومت شام کے سپاہیوں کے بارے میں آپؑ کو معلوم ہوا کہ وہ ایک ذمی یہودی خاتون کے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور اس کے زیورات لوٹ کر لے گئے ہیں۔ یہ سنا تو فرمانے لگے کہ اس خبر پر اگر ایک مرد مسلمان غم کی وجہ سے مر جائے تو قابل ملامت نہیں بلکہ ایسی موت قابل تعریف ہوگی۔ مسجد کوفہ میں خوارج آپ کے سامنے کھڑے ہو کر اور بعض اوقات نماز کے دوران میں شور شرابا کرتے، آپ کی توہین کرتے، لیکن آپ نے بیت المال سے ان کے حصے کو منقطع نہیں کیا۔ معروف مسیحی دانشور جارج جرداق جس نے آپ کے بارے میں ایک زبردست کتاب تحریر کی ہے اور جسے آج عالمی شہرت حاصل ہے، لکھتا ہے کہ حضرت علیؑ کی تمام وصیتوں اور والیوں کے نام آپ کے تمام خطوط کا بنیادی نقطہ عدالت ہی ہے۔ آپ اپنے والیوں اور حکام کو عدل و انصاف اور غریب پروری کی مسلسل نصیحت کرتے رہتے۔ ایک مرتبہ آپ کو معلوم ہوا کہ بصرہ کے گورنر نے کسی امیر آدمی کی دعوت قبول کی ہے تو آپ نے اسے لکھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ایک ایسی دعوت میں شریک ہوئے ہو، جس سے غرباء اور فقیروں کو محروم رکھا گیا ہے، مجھے تم سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی۔

اس مکتوب میں آگے جا کر فرماتے ہیں کہ اپنے امام کی طرف دیکھو، میں بھی چاہوں تو بہترین لباس پہن سکتا ہوں، بہترین غذا کھا سکتا ہوں، لیکن کیا میں اس بات پر خوش ہو رہوں کہ لوگ مجھے امیرالمومنین کہتے ہیں اور میں ان کے دکھ سکھ میں شریک نہ ہوں۔ آپ نصیحت کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ پرہیز گاری، عفت اور میانہ روی میں کچھ تو میری مدد کرو۔ ایسے امام کو ابن ملجم نے انیس رمضان کی صبح سجدے کی حالت میں مسجد کوفہ میں ضرب لگائی، اکیس رمضان شریف کو آپ چل بسے۔ آپ کی شہادت کے بعد پھر کیا حالت ہوئی، ایک شخص بیان کرتا ہے فکناکاغنام۔۔۔ گویا ہم مال غنیمت کی بھیڑ بکریاں تھے، علی کے بعد حکمران جدھر چاہتے تھے، ہنکا کر لے جاتے تھے۔ علی کے بعد سے آج تک انسانیت کو علی جیسے امام عادل کی ضرورت ہے۔
تو نے سمجھا کہ ہوئی ایک امامت مقتول
ابن ملجم ترے ہاتھوں سے شرافت مقتول
تری شمشیر سرِ راس علیؑ جب اُتری
ہوگئی مسجد کوفہ میں عدالت مقتول
خبر کا کوڈ : 729712
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب