0
Thursday 7 Jun 2018 01:41

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے جوہری احکامات میں مضمر اہم پیغامات

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے جوہری احکامات میں مضمر اہم پیغامات
تحریر: احمد صدیقی

4 جون کے دن تہران میں انقلاب اسلامی کے بانی حضرت امام خمینی رح کی 39 ویں برسی منائی گئی۔ اس مناسبت سے امام خمینی رح کے مزار میں عظیم اجتماع ہوا جس سے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی خطاب کیا۔ امام خامنہ ای نے اپنے خطاب میں امام خمینی رح کی شخصیت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ کا بھی مختصر جائزہ لیا اور ایران کے موقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان انجام پانے والے جوہری معاہدے کی جانب بھی اشارہ کیا اور امریکہ اور مغربی ممالک کی عہد شکنی پر افسوس کا اظہار کیا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ کے جوہری معاہدے سے نکل جانے کے بعد یورپی ممالک چاہتے ہیں ایران اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اپنی جوہری سرگرمیوں میں تعطل کو بھی جاری رکھے لیکن ہم ان کی یہ ناجائز خواہش پوری نہیں ہونے دیں گے۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس موقع پر ایران کے اٹامک انرجی کمیشن کو چند خصوصی احکامات بھی جاری کئے۔ یہ احکامات یورینیم افزودگی کو 1 لاکھ 90 ہزار سو تک بڑھانے کیلئے ضروری مقدمات فراہم کرنے پر مشتمل تھے۔ یاد رہے گذشتہ چند سالوں کے دوران ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں رضاکارانہ طور پر انتہائی محدود کر رکھی تھیں تاکہ مغربی طاقتوں سے انجام پانے والے جوہری معاہدے کے تحت اپنی حسن نیت ثابت کر سکے۔ لیکن اب تک عالمی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کی جانب سے بارہا اس بات کی تصدیق کئے جانے کے باوجود کہ ایران نے جوہری معاہدے کی مکمل پابندی کی ہے، امریکہ اور مغربی ممالک نے بدعہدی کا ثبوت دیتے ہوئے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کیں۔ امام خامنہ ای کی جانب سے حالیہ جوہری احکامات کئی اہم پیغامات کے حامل ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
 
1)۔ قومی خود اعتمادی کا لوٹ آنا
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ کے ان جوہری احکامات کا اہم ترین پیغام ایرانی قوم میں خود اعتمادی کا احساس واپس لوٹانا تھا۔ مغربی طاقتوں سے جوہری مذاکرات کے آغاز میں ہی اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے 9 شرائط پیش کیں اور مذاکراتی ٹیم پر زور دیا کہ وہ ان سے ہر گز پیچھے نہ ہٹیں لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان شرائط پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں ایران کے اندر مغربی طاقتوں سے انجام پانے والے جوہری معاہدے کے بارے میں دو نقطہ نظر پائے جاتے تھے۔ پہلا نقطہ نظر اس معاہدے کو ایک "تاریخی کامیابی" قرار دیتا تھا جو ملک میں موجود اقتصادی مسائل اور عالمی سطح پر موجود بین الاقوامی ایشوز حل کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق یہ معاہدہ بذات خود ایران کیلئے بہت زیادہ سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل معاہدہ ہے۔
 
مغربی طاقتوں سے انجام پانے والے جوہری معاہدے کے بارے میں ایران میں دوسرا نقطہ نظر بھی پایا جاتا تھا۔ اس نقطہ نظر کی رو سے چونکہ اس معاہدے کو انجام دینے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی پیش کردہ شرائط پر عملدرآمد نہیں کیا گیا لہذا امریکہ اور مغربی ممالک اسے ایران کے خلاف غلط طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور معاہدے میں موجود ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نظارت، تفتیش اور دیگر مراعات سے غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس امر نے ایرانی قوم کی خود اعتمادی کو بہت ٹھیس پہنچائی۔ اس نقطہ نظر کے حامل حلقے یہ اعتراض کرتے دکھائی دیتے تھے کہ "ایران کی جوہری صلاحیتیں" کیوں دبا دی گئی ہیں جبکہ مدمقابل اپنے کئے گئے وعدوں پر پابندی کا عملی مظاہرہ نہیں کر رہے؟ مغربی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری معاہدہ انجام پائے تقریباً تین سال کا عرصہ بیت چکا ہے اور اس عرصے میں ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں انتہائی محدود کر رکھی ہیں جبکہ مدمقابل نے اب تک اس کے بدلے میں کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے۔
 
اس تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے جوہری احکامات کئی مثبت اثرات کے حامل ہیں۔ پہلا نقطہ نظر رکھنے والے حلقے تصور کر رہے تھے کہ ملک کو درپیش اقتصادی مشکلات اس معاہدے کے ذریعے قابل حل ہیں۔ لیکن عمل کے میدان میں یہ بات نہ صرف غلط ثابت ہوئی بلکہ اب خود اسی حلقے کے افراد سمجھتے ہیں کہ امریکہ کا اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر باہر نکل جانے کے بعد اس جوہری معاہدے کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ البتہ پہلے نقطہ نظر کے حامل حلقوں کا خیال ہے کہ اگرچہ ایران کو جوہری معاہدے کا کوئی اقتصادی فائدہ نہیں ہوا لیکن ایک سیاسی فائدہ ضرور ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایران کے اندر مغربی دنیا سے متعلق موجود اختلاف رائے ختم ہو گیا ہے اور امریکہ اور مغربی طاقتوں کے قابل اعتماد نہ ہونے کے بارے میں اتفاق رائے پیدا ہو چکا ہے۔
 
لہذا آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے جوہری سرگرمیوں میں محدودیت ختم کرنے کے احکامات نے دونوں نقطہ نظر کے حامل حلقوں پر انتہائی مثبت اثرات ڈالے ہیں اور ان میں خود اعتمادی کا احساس پیدا کیا ہے۔ پہلے نقطہ نظر کے حامل حلقوں کیلئے یہ جوہری احکامات درحقیقت مقامی جوہری ٹیکنالوجی کی جانب واپس لوٹتے ہوئے مغربی ممالک کے اقدامات کا جواب دینے کی ترغیب دلانے پر مشتمل تھے جبکہ دوسرے نقطہ نظر کے حامل حلقوں کیلئے جوہری ٹیکنالوجی سے متعلق قومی فخر اور قومی خود اعتمادی کی واپسی پر مشتمل تھے۔ ان احکامات نے پوری ایرانی قوم میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور گذشتہ تین سالوں سے موجود دباو کی فضا کو توڑ ڈالا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک ایران سے جوہری معاہدے کے بعد اسے ہوا میں لٹکا باقی رکھنا چاہتے تھے۔ ایک طرف سے ایران کو وعدوں پر وعدے دیئے جا رہے تھے کہ اقتصادی پابندیاں ختم کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف سے امریکہ کی سربراہی میں دنیا بھر میں ایران کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے درپے ہے۔ مغربی طاقتوں کے اس دوغلے رویئے نے ایران کے اندر شک و تردید کی فضا قائم کر رکھی تھی جو امام خامنہ ای کے حالیہ جوہری احکامات سے ختم ہو گئی ہے۔
 
2)۔ ایران کی قومی عزت میں اضافہ
بعض امور قومی سطح پر انتہائی وسیع اثرات کے حامل اور قومی اتحاد کو فروغ دینے میں بنیادی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک قومی عزت ہے۔ قومی عزت ایسے ممالک میں اور بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو عالمی سطح پر اپنا تشخص منوانے اور بین الاقوامی تعلقات عامہ پر موثر واقع ہونے کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہیں۔ ایران کی گذشتہ تاریخ خاص طور پر حالیہ 150 سالہ تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی قوم مختلف قسم کے اقتصادی اور سیاسی مسائل میں مغربی اور مشرقی طاقتوں کے مقابلے میں قومی عزت اور وقار کی طالب رہی ہے۔ مغربی طاقتوں سے جوہری معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی جانب سے گستاخانہ اقدامات اور اس کے مقابلے میں مناسب ردعمل ظاہر نہ ہونے نے ایرانی عوام کے ذہن میں بہت سے سوالات جنم دیئے تھے اور ان کی قومی عزت کو مخدوش کر دیا تھا لیکن امام خامنہ ای کے حالیہ اقدام نے ایرانیوں کو قومی عزت واپس لوٹا دی ہے۔
 
لہذا آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے جوہری محدودیت ختم کرنے کے احکامات جاری کرنا درحقیقت مغرب کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ ایران کے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے نہیں۔ اگر ایران نے اپنی صنعتی خودمختاری پر مذاکرات انجام دیئے ہیں تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ اس بارے میں مغرب کا پیروکار بن گیا ہے بلکہ یہ مذاکرات ایک خاص حکمت عملی کے تحت انجام پائے تھے اور طویل المیعاد اسٹریٹجی کا حصہ تھے۔ یہ حکمت عملی ایرانی قوم کو ایک "یادگار تجربہ" فراہم کرنا تھا جو امریکہ سے براہ راست گفتگو اور مذاکرات پر مبنی تھا۔ یہ تجربہ انجام پانے اور اس میں امریکہ کی جانب سے پوری طرح وہی رویہ اختیار کرنے کے بعد جس کی پیشن گوئی ولی امر مسلمین امام خامنہ ای پہلے ہی کر چکے تھے، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا یہ پیغام درحقیقت قومی سطح پر قومی عزت لوٹ آنے کا باعث بنا ہے۔
 
3)۔ مغرب سے جاری مذاکرات کی سیاسی فضا میں تبدیلی
امریکہ کی جانب سے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان انجام پانے والے جوہری معاہدے سے باہر نکل جانے کے بعد مغربی ممالک خاص طور پر فرانس، جرمنی اور برطانیہ ایک طرف ایران پر زور دے رہے تھے کہ وہ اس معاہدے کو جاری رکھے جبکہ دوسری طرف اس معاہدے کی رو سے ایران کو دی جانے والی مراعات کو یقینی بنانے کیلئے کسی قسم کی گارنٹی بھی دینے کو تیار نہیں تھے۔ لہذا آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے حالیہ جوہری احکامات مغربی ممالک اور ایران کے درمیان جاری جوہری مذاکرات پر حکمفرما سیاسی فضا کی تبدیلی کا باعث بنے ہیں۔ ان جوہری احکامات نے مغربی طاقتوں کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ اگر وہ حقیقتاً ایران سے جوہری معاہدہ باقی رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اس بارے میں سنجیدہ اور جرات مندانہ اقدامات انجام دینے ہوں گے۔
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی جانب سے جوہری توانائی کے ادارے کو جوہری سرگرمیاں بڑھانے کے احکامات کا مطلب یہ ہے کہ وہ مغربی ممالک جو ایران سے جوہری معاہدے کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں، انہیں اپنی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مغربی ممالک ایک طرف تو امریکہ کا ساتھ دیں اور اس کی جانب سے جوہری معاہدہ ترک کرنے پر مبنی واضح عہد شکنی پر خاموشی اختیار کئے رکھیں اور دوسری طرف ایران پر جوہری معاہدے کی پابندی پر زور دیتے رہیں۔ مغربی ممالک کو جان لینا چاہئے کہ ایران بہت تیزی سے اپنی جوہری سرگرمیاں معاہدے سے پہلے والے ایام کی حد تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
 
اس وقت مغربی ممالک کی جانب سے فیصلہ کن اقدامات انجام دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ایرانی حکومت اور ادارے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے احکامات کی روشنی میں یورینیم افزودگی ایک لاکھ نوے ہزار سو تک لے جانے کے پابند ہو چکے ہیں۔ اگر مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں اسی حد تک باقی رہیں اور اس حد تک نہ جائیں جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تو انہیں جوہری معاہدے کی رو سے ایران کو ملنے والی مراعات کو یقینی بنانے کیلئے حقیقی ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ اس بارے میں ایران کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں ہے بلکہ یہ مغربی ممالک ہیں جو بہت کچھ ہاتھ سے گنوا بیٹھیں گے۔  
 
خبر کا کوڈ : 730007
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب