0
Saturday 23 Jun 2018 23:49

امریکہ کا وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا؟؟؟

امریکہ کا وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا؟؟؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

روس کی گرم پانیوں تک رسائی کی خواہش اور امریکی ریاست کی اسے روکنے کی کوششوں نے ہمارے خطے پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی ہمیں روس کی اس خواہش سے ڈرا کر  عملی طور پر مجبور کر دیا گیا کہ ہم امریکی کیمپ کو اختیار کریں۔ ہماری سفارت کاری کی ناکامی تھی کہ ہم توازن قائم رکھنے میں ناکام رہے اور امریکی گود میں بیٹھ گئے۔ سیٹو اور سینٹو کے معاہدے روس کو گرم پانیوں تک روکنے کے لئے ہی کئے گئے تھے بلکہ کہا جاتا ہے کہ ان کا مقصد چین کو بھی گرم پانی تک آنے سے روکنا تھا۔ حالات کا جبر دیکھیے کہ آج ہم بڑی محنت سے خود چین کو سمندر سے جوڑ رہیں ہیں، جو ہمارے مفاد میں ہے، کاش یہی پالیسی پچاس کی دہائی میں بنا لی جاتی تو خطے میں امریکہ کا اثر و رسوخ اس حد تک آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔ شروع دن سے ہمارے سکیورٹی خدشات نے جو کہ ایک حقیقت بھی ہیں، ہمیں خارجہ پالیسی کو صرف سکیورٹی کی آنکھ سے متعین کرنے پر مجبور کئے رکھا۔ بغداد پیکٹ سمیت تمام معاہدات کا حصہ رہے، اس کی  وجہ فقط یہ تھی کہ ہمیں ایک بڑے دشمن کا سامنا تھا، جو ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کر رہا تھا۔ بزرگوں کو یاد ہے کہ جب مشرقی پاکستان میں شدید جنگ ہو رہی تھی  تو بطور قوم ہم نے ساری امیدیں امریکی بحری بیڑے سے وابستہ کر لی تھی کہ وہ آئے گا اور جنگ کا پانسہ پلٹ دے گا۔ یہ خواہش بے جا بھی نہیں تھی کیونکہ ہم امریکی مفادات کے لئے خطے میں بہت سے ملکوں سے دشمنی کرچکے تھے اور امریکہ کے اہم اتحادی تھے، جس کی یہ ذمہ داری تھی کہ بیرونی حملہ کی صورت میں وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا، سیٹو اور سینٹو کا مقصد بھی یہی تھا۔

مگر وہ امریکہ بحری بیڑا جس کے آمد کے ہم منتظر تھے اور امریکی کہہ رہے تو کہ بس ابھی پہنچا کہ پہنچا، وہ آج تک نہ پہنچ سکا۔ وطن عزیز کے دو ٹکڑے ہوگئے، اس میں جہاں ہماری اپنی کوتاہیاں شامل ہیں، وہی امریکی وعدے پر اعتماد کرنے کی ہمالیہ سے بڑی غلطی بھی شامل ہے۔ یہ فقط ہمارے ساتھ ہی نہیں ہوا، جس نے بھی امریکی وعدوں پر اعتماد کیا، اسے اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ 1993ء میں امریکی صدر بل کلنٹن، اسرائیل وزیراعظم پتزاک رابن اور یاسر عرفات وائٹ ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہوئے،  یاسر عرفات نے اسرائیلی ریاست کو قبول کر لیا، جواب میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا امریکی وعدہ کیا گیا۔ اس اعلان کا دنیا بھر میں بہت خیر مقدم کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں امریکی صدر کو امن کا عالمی ایوارڈ بھی دیا گیا، اس امریکی معاہدے کا فقط یہی نتیجہ نکلا۔ وہ فلسطینی ریاست کہاں ہے، جس کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔؟ اس معاہدے نے فلسطین کاز کو بہت نقصان پہنچایا۔ عملی طور پر فلسطینیوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں  سیاسی اختلاف نے فاصلے پیدا کر دیئے ہیں۔

اب ان تازہ مثالوں کو بھی دیکھ لیں، ایران اور دنیا کی اہم طاقتوں کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات ہوئے، یہ مذاکرات کئی سال سے ہو رہے تھے، آخری چند ماہ تو متواتر کئی کئی روز تک مذاکرات ہوئے، دنیا کی سفارتی تاریخ میں شائد یہ دنیا کے طاقتور ترین چند ممالک اور ایران کی طرف سے بہترین سفارتکاری کا مظاہرہ تھا۔ ایران نے اس معاہدے میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی سعی کی اور مغربی دنیا نے اپنے خدشات دور کرنے کی کوشش کی۔ طویل مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدہ ہوا، امریکی سفارتکاروں کا خیال تھا کہ اسے ایران کی مذہبی قیادت ٹھکرا دے گی، جس کے نتیجے میں ایران داخلی مسائل کا شکار ہو جائے گا، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ان کا بیانیہ تھا کہ امریکہ قابل اعتبار نہیں ہے، یہ معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا، کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہے۔ انہی حالات میں امریکی میں الیکشن ہوئے اور محترم ٹرمپ صاحب امریکہ کے نئے صدر بن گئے۔ انہوں نے آتے ہی بڑی تیزی سے اس معاہدے کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے اور آخرکار اس سے نکل گئے۔ اس سے ان لوگوں کی بات درست ثابت ہوگئی، جو کہتے تھے کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں جس میں خود امریکی ریاست شامل تھی، کی طرف سے ایک معاہدہ کیا جاتا ہے اور  نئے امریکی صدر نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ امریکی صدر کے اس اقدام سے  بین الاقوامی معاہدات کی وثاقت پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کوئی بھی ملک معاہدہ کرے اور پھر نئے آنے والے صدر اس سے نکل جائیں، اس سے  کوئی معاہدہ پائیدار نہیں ہوگا۔ ٹرمپ کے اس اقدام نے ریاست اور حکومت  کے درمیان موجود فرق کو بھی مدھم کر دیا ہے، کیونکہ معاہدہ اوبامہ کی حکومت اور ایران کے حکومت کے درمیان نہیں تھا بلکہ امریکہ اور دیگر ریاستوں کا ایرانی ریاست سے معاہدہ تھا، حکومتوں کے جانے سے معاہدات پر کوئی اثر نہیں پڑتا، جب تک ریاست باقی ہے، معاہدہ باقی رہتا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ شائد امریکہ کا یہ رویہ فقط تیسری دنیا کے  غریب اور زیادہ تر مسلمان ممالک کے لئے ہے، مگر میری یہ غلط فہمی اس وقت دور ہوگئی، جب امریکہ صدر موسمیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی معاہدے سے بھی الگ ہوگئے، جس تک پہنچنے کے لئے دنیا کو ایک بڑی اجتماعی کوشش کرنا پڑی تھی اور اسی معاہدے کے نتیجے میں دنیا کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کی بات کی گئی تھی۔ یہ معاہدے ٹرمپ کے پیش رو امریکی صدور  نے کئے تھے، جن سے ٹرمپ کو اختلاف ہوسکتا تھا، اس لئے اس نے انہیں بیک جنبش قلم مسترد کر دیا۔

یہی سوچ رہا تھا کہ امریکی صدر کے حالیہ مذاکرات یاد آگئے، امریکی صدر نے بذات خود یورپی طاقتوں سے مذاکرات کئے اور نتیجے تک پہنچے، یہ  تمام مذاکرات کینڈا میں ہوئے۔ امریکی صدر کینڈا میں معاہدہ کرکے  تھائی لینڈ میں اترے، جہاں وہ شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات کرنے والے تھے تو ساتھ ہی ایک عدد ٹویٹ کرکے کینڈا میں ہونے والے تمام مذاکرات کا بیڑا غرق کر دیا، جس سے کینڈا کے وزیراعظم سمیت کئی لوگ تلملا اٹھے تو امریکہ صدر کا بیان آیا کہ میں شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات سے پہلے ایک مضبوط پیغام دینا چاہتا تھا۔ میرا یہ خیال ہے امریکی صدر کے ان اقدامات کی وجہ سے دنیا میں پہلے سے مجروح امریکی اعتماد کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اب دنیا کے تمام ممالک امریکہ سے سوچ سمجھ کر معاہدات کریں گے کہ کیا پتہ جب معاہدہ کرکے امریکہ سے اپنے گھر کے راستے میں ہوں کہ ایک ٹویٹ اس معاہدے کی دھجیاں اڑا دے۔
خبر کا کوڈ : 733150
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے