0
Monday 25 Jun 2018 17:57

فلسطینیوں کے بغیر فلسطین پر "صدی کی ڈیل"

فلسطینیوں کے بغیر فلسطین پر "صدی کی ڈیل"
تحریر: سید رحیم نعمتی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے منگل کے دن سے اپنا ایک اعلی سطحی وفد مغربی ایشیا (مشرق وسطی) بھیج رکھا ہے جس کا مقصد مسئلہ فلسطین کے بارے میں ان کے پیش کردہ راہ حل "صدی کی ڈیل" کے بارے میں خطے کے بعض سربراہان مملکت سے بات چیت کرنا ہے۔ اس اعلی سطحی وفد کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی مشیر جیرڈ کشنر کر رہے ہیں اور اس نے خطے میں اپنے دورے کا آغاز اردن سے کیا ہے جہاں اردن کے بادشاہ ملک عبداللہ دوم سے ان کی ملاقات اور بات چیت ہوئی ہے۔ اس کے بعد یہ وفد سعودی عرب گیا اور سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات ان کے پروگرام میں شامل تھی۔ اس اعلی سطحی امریکی وفد نے آخر میں مقبوضہ فلسطین کا دورہ کرنا تھا جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات ان کے شیڈول میں شامل تھی۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلی سطحی وفد کے شیڈول میں فلسطین اتھارٹی کے سربراہان سے ملاقات کا کوئی پروگرام نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ "صدی کی ڈیل" کے بارے میں مقدماتی گفتگو میں مسئلہ فلسطین کے بنیادی فریق یعنی خود فلسطینیوں کو یکسر طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ امریکی اعلی سطحی وفد کے اس طرز عمل کی وجہ فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی جانب سے اس وفد کے دورے کی مخالفت ہو سکتی ہے۔ محمود عباس نے عرب سربراہان مملکت سے ٹیلی فونک رابطے میں اپنی اس مخالفت کا اظہار کیا تھا اور انہیں "صدی کی ڈیل" پر امریکہ سے تعاون کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج کے بارے میں خبردار بھی کیا تھا۔ لیکن محمود عباس کی اس مخالفت اور وارننگ کے باوجود جیرڈ کشنر اور اس کے ہمراہ وفد اپنا کام کر کے چلا گیا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکی حکومت نے شروع سے ہی فلسطینیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔
 
امریکہ کے سابقہ صدور مملکت مسئلہ فلسطین میں ظاہری حد تک ہی سہی اسرائیل سے امن مذاکرات کے حامی فلسطینیوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ روایت تبدیل کر دی اور جیرڈ کشنر کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے ماضی کے دوروں میں بھی فلسطینی فریق کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ فلسطین سے متعلق اپنی نئی حکمت عملی کے تحت فلسطین اتھارٹی کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے جبکہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سمیت بعض عرب حکمران اس نئی حکمت عملی میں امریکی صدر سے مکمل تعاون کرنے میں مصروف ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے اسی وجہ سے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا کیونکہ اب سعودی ولیعہد محمد بن سلمان امریکی پٹھو کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں "صدی کی ڈیل" کامیاب بنانے کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں تک امریکی پیغامات پہنچانے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لہذا اب امریکی صدر حتی اسرائیل سے سازباز کے حامی فلسطینی طبقے کو راضی کرنے کی مشقت برداشت نہیں کرنا چاہتے اور اپنا پیش کردہ منصوبہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور چند دیگر عرب حکمرانوں کے ذریعے آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
 
فلسطین کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ عرب حکمرانوں کی جانب سے انہیں ان کے ہی قسمت کے فیصلے سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ عرب حکمرانوں نے اسرائیل کی تشکیل کے وقت بھی ایسا ہی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے فلسطینیوں سے ان کی زمینیں اور گھر خرید خرید کر یہودیوں کو بیچ ڈالے تھے جس کا نتیجہ غدار عرب حکمرانوں کو بہت زیادہ سود ملنے اور سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی رژیم کے قابض ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ آج ایک بار پھر عرب حکمرانوں کی سیاسی حمایت سے بیت المقدس کو یہودی بنایا جا رہا ہے۔ آج امریکی حکمران اہل غزہ کو تعمیر نو کا جھانسہ دے کر انہیں اپنی آبائی زمینوں اور گھروں میں واپس جانے سے روکنے کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ البتہ اس تعمیر نو کے اخراجات عرب تاجروں سے حاصل کئے جائیں گے۔ دوسری طرف فلسطینی عوام گذشتہ چند ماہ سے "حق واپسی مارچ" کے دوران صدی کی ڈیل کی کھل کر مخالفت کا اظہار کرتے آ رہے ہیں۔ غزہ میں کئی ہفتوں سے انجام پانے والے احتجاجی مظاہرے اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں شہید اور زخمی ہونے والے فسلطینیوں کا ایک ہی موقف ہے، وہ یہ کہ ہم اپنے حق واپسی کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔
 
خبر کا کوڈ : 733540
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب