0
Wednesday 4 Jul 2018 23:52

شہباز شریف کی شرکت سے این اے 249 کراچی کا اہم ترین انتخابی حلقہ بن گیا، سخت مقابلے کا امکان

شہباز شریف کی شرکت سے این اے 249 کراچی کا اہم ترین انتخابی حلقہ بن گیا، سخت مقابلے کا امکان
رپورٹ: ایس حیدر

کراچی سے قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 249 بلدیہ ٹاؤن اہم ترین انتخابی حلقہ بن چکا ہے، پہلے یہاں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے درمیان سخت مقابلہ متوقع تھا، مگر مسلم لیگ (ن) سندھ کی پُرزور فرمائش پر پارٹی صدر و سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس حلقے سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد حلقے کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے، حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 430 ہے۔ 2002ء سے قبل اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے میاں اعجاز شفیع نے دو مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم 2002ء میں ہونے والی حلقہ بندیوں کے بعد اس نشست پر ایم کیو ایم کے امیداروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ 2002ء کے انتخابی نتائج کی بات کی جائے، تو یہاں سے ایم کیو ایم کے سرکار الدین ایڈووکیٹ 30408 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے مدمقابل ایم ایم اے کے مولانا شیریں محمد نے 22764 ووٹ حاصل کئے تھے۔ 2008ء کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل منصور 67798 اور 2013ء میں 87803 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔

ماضی کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تو بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس حلقے میں ایم کیو ایم کا بڑا ووٹ بینک موجود ہے، تاہم ایم کیو ایم کے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں پر نظر ڈالی جائے، تو 2002ء سے 2013ء تک انتخابات میں اس کے ووٹوں میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا ہے۔ 2002ء میں 30408 ووٹ حاصل کرنے والی ایم کیو ایم کے ووٹ 2013ء کے انتخابات میں 87 ہزار سے بھی تجاوز کرگئے، اس میں ایم کیو ایم کے اصل ووٹ کتنے تھے، اس کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے، کیونکہ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں ٹھپہ مافیا نے کھل کر کراچی کے انتخابات کو ہائی جیک کیا تھا۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 249 قرار دیئے جانے والے اس حلقے میں سابقہ حلقوں این اے 240 اور 241 کے علاقے بلدیہ ٹاؤن، سعیدآباد، عابدآباد، اتحاد ٹاؤن، مہاجر کیمپ، مسلم مجاہد کالونی، نئی آبادی، رشید آباد اور گلشن غازی شامل ہیں۔ اس حلقے میں پشتو، پنجابی اور اردو بولنے والے سب شامل ہیں۔

یہ حلقہ ماضی میں ایم کیو ایم کا گڑھ رہا ہے، لیکن نئی حلقہ بندیوں کے بعد اب ایم کیو ایم سمٹ چکی ہے، ایم کیو ایم کیلئے حالات اتنے سازگار نہیں ہیں، جتنے ماضی میں تھے۔ تنظیمی سطح پر موجود اختلافات اور کارکنوں کی بڑی تعداد کی مختلف جماعتوں میں شمولیت نے بھی ایم کیو ایم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نئی حلقہ بندیوں کے بعد اس حلقے میں ہزارے وال، پنجابی، سرائیکی اور پشتون اکثریت میں آگئے ہیں۔ اس حلقے سے (ن) لیگ نے اتحاد ٹاؤن، گلشن غازی، عابد آباد اور نئی آبادی کی یونین کونسلز بھی جیتی ہوئی ہیں اور گذشتہ الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر (ن) لیگ کے امان آفریدی نے 13 ہزار سے زائد ووٹ لئے تھے، صرف شہباز شریف کو شخصی ووٹ 20 سے 25 ہزار تک پڑ سکتا ہے۔ پارٹی ووٹ بینک کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور ایم کیو ایم کی حمایت سے بھی 20 سے 25 ہزار سے اضافی ووٹ مل سکتا ہے۔ ایم کیو ایم اندرونی طور پر (ن) لیگ سے رابطے میں ہے اور ایم کیو ایم نے کراچی کی تمام نشستوں سے اپنے امیدواران کا اعلان کر دیا ہے، این اے 249 سے متحدہ نے اسلم شاہ کو امیدوار کھڑا کیا ہے۔

دونوں سیاسی جماعتوں کے ذرائع کے مطابق یہاں ایم کیو ایم (ن) لیگ کی حمایت کرے گی اور اپنا امیدوار دستبردار کر دیگی۔ شہباز شریف کے علاوہ اس حلقے سے تحریک انصاف کے معروف رہنماء فیصل واوڈا، پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل، ایم ایم اے کے عطاءاللہ شاہ، پاک سرزمین پارٹی کی ڈاکٹر فوزیہ، اے این پی کے حاجی اورنگزیب بونیری اور تحریک لبیک کے مفتی عابد مبارک میدان میں ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار فیصل واوڈا اس حلقے کیلئے اجنبی ہیں۔ تحریک انصاف کا ڈیفنس میں رہائش پذیر شخص کو بلدیہ ٹاؤن سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ سیاسی پنڈتوں کیلئے حیران کن ہے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے مقابلے کیلئے کسی ایسے امیدوار کا انتخاب ناگزیر تھا، جس کے پاس بے پناہ وسائل موجود ہوں، اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے اس نشست پر فیصل واوڈا کو ٹکٹ ان کی دولت کو دیکھ کر دیا ہے۔ فیصل واوڈا انتخابات تک کیلئے بلدیہ ٹاؤن منتقل ہوگئے ہیں اور بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، لیکن کیا وہ اس حلقے کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے، اس حوالے سے شکوک و شبہات موجود ہیں۔

ایم ایم اے کے امیدوار عطاءاللہ شاہ انتہائی سادہ طبیعت کے مالک شخص ہیں۔ 2002ء کے نتائج کو دیکھا جائے تو اس وقت ایم ایم اے کے امیدوار نے 22 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے اور ایم کیو ایم کے امیدوار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ دینی جماعتوں کا اتحاد ایک مرتبہ بحال ہوا ہے، جس کے مثبت نتائج مرتب ہونگے اور عطاء اللہ شاہ اس سیٹ سے اپ سیٹ بھی کرسکتے ہیں۔ گو کہ عطاءاللہ شاہ کا اپنا ووٹ بینک محدود ہے، مگر جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف) کا ووٹ بینک اچھا خاصا ہے، اس لئے ایم ایم اے کو اچھا ووٹ مل سکتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس حلقے میں اصل مقابلہ ایم ایم اے اور (ن) لیگ کے درمیان ہوگا، لیکن شہباز شریف کی کوشش ہوگی کہ ایم ایم اے ان کے مقابلے پر نہ آئے اور ان کے حق میں دستبردار ہو جائے۔ ایم ایم اے پنجاب کی طرح کراچی میں بھی شہباز شریف کے حق میں دستبردار ہوتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو جائیگا۔
خبر کا کوڈ : 735748
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش