0
Monday 16 Jul 2018 17:24

بہن کی ولادت سے بھائی کی ولادت تک، عشرہ کرامت اور ہم

بہن کی ولادت سے بھائی کی ولادت تک، عشرہ کرامت اور ہم
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

کیا ہی خیر و برکت کے ایام ہیں ایک طرف ماہ ذی قعدہ جو ماہ ہائے حرام سے متعلق ہے تو دوسری طرف اس مہینہ کا آغاز فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت سے منسوب ہے جبکہ اسی مہینہ کی گیارہ تاریخ کو امام رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت ہے، ایک بہن کی ولادت سے بھائی کی ولادت تک کے ایام کو ایران میں عشرہ کرامت کے نام سے جانا جاتا ہے، یقینا بہت ہی مبارک و مسعود لمحات ہیں جو شب و روز کی گردشوں کے تسلسل کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہیں، یہ وہ ایام ہیں جنکا لمحہ لمحہ نورانی و با برکت ہے۔ انسان ان نورانی لمحوں میں دو کریم شخصیتوں کے چشمہ فیض پر آ کر اپنی روحانی پیاس کو بجھا سکتا ہے بشرطیکہ اپنے وجود کے اندر تشنگی کا احساس ہو ، احساس تشنگی کے ساتھ ضروری ہے کہ اس چشمہ فیض سے جرعہ نوشی کے سسلہ کو دوام بخشا جائے، چنانچہ ان نورانی و با برکت لمحات کی برکتوں کو پائدار و مستمر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ایک نظر اس عشرہ کرامت کے فلسفہ پر ڈالیں اور غور کریں کہ ایک بہن کی ولادت سے بھائی کے ولادت تک کے ان مبارک ایام کو جو عشرہ کرامت کا نام دیا گیا ہے تو اسکے پیچھے ہمارے بزرگوں کی کیا حکمت رہی ہے اور اس عشرہ کرامت کے کیا تقاضے ہیں۔

عشرہ کرامت کا بنیادی تقاضا:
اس عشرہ کرامت کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ صرف ہم اسے رسمی طور پر منانے والے نہ ہوں بلکہ حقیقت میں ہمارا وجود کرم محض بن جائے اور ان کریم ہستیوں کے چشمہ کرم سے ہمارے وجود میں جود و کرم و بخشش کی صفات متجلی ہو جائیں  ہم صرف برائے نام چھوٹے چھوٹے کاموں کی بنا پر کریم کہلائے جانے کا اشتیاق نہ رکھیں بلکہ ہمارا پورا وجود اور ہماری پوری زندگی ہماری کرامت کی گواہی دے۔

کرامت سے مراد کیا ہے؟
یہ اسی وقت ہی ممکن ہے کہ انسان حقیقت میں بندہ خدا بن جائے اور اسکا پورا وجود اپنے مالک  کی کبریائی کی گواہی دے، چنانچہ آیت اللہ جوادی آملی نقل کرتے ہیں کہ علامہ طباطبائی نے اپنے ایک درس میں کہا تھا کہ "کرامت کو کسی ایک لفظ میں سمیٹ کر بیان کرنا ممکن نہیں ہے، اگر انسان ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے جہاں اسے خدا کے علاوہ کچھ نظر نہ آتا ہو اور وہ ہر ایک منظر میں خدا کی تجلی کا مشاہدہ کرے اور خدا کے علاوہ کسی اور کے در پر جبہ سائی کو تیار نہ ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں اب ایسا انسان بندگیِ محض کی بنا پر مقام کرامت تک پہنچ گیا ہے اس لئے کہ انسان جتنا خدا سے نزدیک ہوتا ہے اتنا ہی پستیوں سے دور ہوتا جاتا ہے اور جب عبودیت کی حد نہائی تک پہنچتا ہے تو اب ہر طرح کی پستیوں سے خود کو دور کر چکا ہوتا ہے اور یہی مقام کرامت ہے کہ اپنے رب کے سامنے انسان خود کو حقیر سمجھے اور ہر طرح کی پستی سے اپنے آپ کو دور کرلے اور اگر اسکے وجود میں عبودیت رچی بسی نہیں ہے تو چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو کرامت سے بہت دور ہے۔1

قول و عمل کی مطابقت اور انسانی کرامت:
شاید یہی وجہ ہے کہ  پستیوں سے دوری کو کرامت کہا جاتا ہے۔(2) جب انسان مقام کرامت پر پہنچتا ہے تو خود بھی بلند ہو جاتا ہے اس کی نظر بھی بلند ہو جاتی ہے،
کرامت کی ایک منزل یہ ہے کہ انسان اپنے قول و عمل میں سچا ہو، چنانچہ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں: "کریم انسان وہ ہے کہ جو اگر کوئی بات کہتا ہے تو اپنے عمل سے اس کی تصدیق کرتا ہے"۔(3)

کرامت کے تین ارکان:
ایک اور مقام پر امام صادق علیہ السلام کرامت کی پہچان بتاتے ہوئے فرماتے ہیں تین چیزیں انسان کی کرامت اور اس کے شرف کو بیان کرتی ہیں
۱۔ حسن خلق 
۲۔ غصہ کو پی جانا
۳۔ حرام سے چشم پوشی (4)

کریم انسان اور تقوی:
کرامت سے ہی کریم نکلا ہے، کریم کے سلسلہ سے مولائے کائنات کا کوزہ میں سمندر سمو دینے کی مانند آفاقی جملہ یہ ہے "کریم وہ ہے جو کسی کو مانگنے سے پہلے عطا کر دے"( 5) کریم کی ایک صفت یہ ہے کہ اسکی طبیعت اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ تلخ و ناگوار حوادث اس کی روح پر اثر انداز نہیں ہوتے۔(6) ہر انسان کو یہ مقام حاصل نہیں ہوتا اس کی چاپی تقوٰی ہے۔(7) انسان کے وجود کے اندر جتنا زیادہ تقوٰی ہوگا اتنا ہی وہ کریم ہوگا، اور جتنا کریم ہوگا اتنا ہی اپنے سماج و معاشرہ کو لیکر فکر مند ہوگا اتنا ہی سماج اور معاشرہ میں دبے کچلے ہوئے لوگوں کے بارے میں اسکے وجود کے اندر ہمدردی کا جذبہ ہوگا۔

کرامت اور بلند نظری:
اور جس کے وجود میں یہ سب ہو گا وہ اتنا ہی بلند نظری کا حامل ہوگا، اب وہ اپنی کرامت محض اسی میں نہیں سمجھے گا کہ غریب و نادار لوگوں کو کچھ ہدایا و تحائف دیکر انکے ساتھ فوٹو کھینچوائے اور سب جگہ گاتا پھرے، بلکہ وہ جو کچھ بھی کرے گا بہت خاموشی کے ساتھ کرے گا اور اسکے بعد بھی خدا کے حضور شرمندگی کا اظہار کرتا رہے گا کہ مالک جو کرنا چاہیئے وہ نہ کر سکا، اسکی بلند نظری اتنی ہو جائے کہ اپنے قوم قبیلہ سے آگے بڑھ کر ہر مسلمان  کے لئے اسکا دل تڑپتا نظر آئے گا، وہ یمن کے حالات پر بھی آنسو بہاتا نظر آئے گا، فلسطین و غزہ کے دردناک مناظر بھی اسے رلائیں گے اور وہ محض اپنی زندگی میں مگن نہ ہوگا بلکہ عالمی سامراج و استکبار سے مقابلہ کے لئے خود کو بھی تیار کر رہا ہوگا اور دوسروں تک بھی پیغام حق پہنچا کر مظلومین عالم کی دعائیں لے گا۔

عشرہ کرامت اور ہم:
آئیں اس عشرہ کرامت میں اپنے حصار وجود سے نکل کر اپنے ملک و قوم کے ستائے نادار و بےبس انسانوں کے ساتھ ان فلسطین کے مظلوموں کے لئے بھی کچھ سوچیں جن پر کئی دن سے اسرائیل نے فضائی حملوں سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں۔ غزہ کے چھوٹے سے شہر پر مسلسل بم گرائے جا رہے ہیں لیکن بڑی طاقتیں خاموش نظارہ گر ہیں، ایسے میں ہماری کرامت نفس کا ایک ادنٰی تقاضا یہ ہے کہ اپنی بساط بھر غزہ کے بےبس لوگوں پر ہونے والے مظالم کی نہ صرف مخالفت کریں بلکہ ان حملوں کی روک تھام کے لئے کمپین و تحریک چلائیں اور اسرائیل کے مظالم سے لوگوں کو آگاہ کریں کہ وہاں کے عوام  حسرت و یاس کی تصویر بنے  اپنے دیگر کلمہ گویوں کی طرف دیکھ رہے ہیں  کہ ہم انکے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواشی:
1۔ ادب فنای مقربان ج۱، ص۲۰۳و ۲۰۴
2۔ جوادى آملى، عبدالله، کرامت در قرآن، ص 22.
3۔ مستدرک الوسائل،ج7،ص192.
4۔ تحف العقول،ص235
5۔ آمدى، عبدالواحد، غرر الحکم و درر الحکم، ج 1، ص 365، چاپ دانشگاه.
6 ۔ ایضا، ج 2، ص 1.
7۔ امام علی علیہ السلام  منتخب میزان الحکمة، ح 6664.
خبر کا کوڈ : 738212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب