0
Saturday 21 Jul 2018 20:03

محمد بن سلمان کا سیکولرآئزیشن منصوبہ، اثرات اور ممکنہ ردعمل

محمد بن سلمان کا سیکولرآئزیشن منصوبہ، اثرات اور ممکنہ ردعمل
تحریر: زہرا حسینی

سعودی عرب کا نیا ولیعہد بنائے جانے کے بعد شہزادہ محمد بن سلمان نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نیا چہرہ متعارف کروانے کے عزم کا اظہار کیا اور اپنے طویل المیعاد ترقیاتی منصوبے کی بنیاد اسی ہدف پر رکھی۔ محمد بن سلمان نے 2030ء ترقیاتی پلان پیش کیا ہے جس کے تحت ملک کے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس ترقیاتی منصوبے کے اہم مقاصد میں ملکی معیشت کا خام تیل کی درآمد سے حاصل آمدن پر انحصار ختم کرنا، تعلیم یافتہ جوان نسل کیلئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور خواتین کی صورتحال بہتر بنانا شامل ہیں۔ جوان ولیعہد کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسند مذہبی افکار کی جگہ معتدل اسلامی افکار رائج کرنا چاہتا ہے لیکن سعودی معاشرے کی ثقافتی اور مذہبی بنیادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی پالیسی اور اقدامات کا نتیجہ آل سعود خاندان کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سعودی عرب پر آل سعود خاندان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں اس خاندان کا وہابی علماء سے اتحاد میں مضمر ہے۔
 
1932ء میں ملک عبدالعزیز کی جانب سے سعودی عرب پر باقاعدہ طور پر حکومت کے آغاز سے لے کر آج تک وہابیت اور سعودی حکمرانوں کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات استوار رہے ہیں۔ وہابی علماء سعودی حکومت سے خام تیل کی پیداوار سے حاصل آمدن کا بڑا حصہ وصول کر کے وہابی تعلیمات اور وہابی طرز کی تفسیر پوری دنیا میں پھیلانے پر صرف کرتے آئے ہیں۔ دوسری طرف وہابی علماء نے ہمیشہ سعودی حکمرانوں کو حکومت کا شرعی اور قانونی جواز فراہم کیا ہے۔ یہ ایسا دوطرفہ معاہدہ تھا جو ابتدا سے آل سعود خاندان اور وہابی علماء کے درمیان طے پایا تھا اور آج تک اسی کے مطابق عمل ہوتا آیا ہے۔ لیکن شہزادہ محمد بن سلمان کے نائب ولیعہد بننے کے بعد سعودی عرب میں مذہبی علماء کی طاقت میں کمی کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور جب شہزادہ محمد بن سلمان کو ترقی دے کر ولیعہد بنا دیا گیا تو انہوں نے سعودی عرب کے سیاسی نظام کو مذہبی سے سیکولر بنانے کی کوششیں مزید تیز کر دیں۔
 
اب تک سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے کئی ایسے اقدامات انجام دیئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سعودی معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں اور تجدد کے نام پر مذہبی اقدار کا خاتمہ کرنے کے درپے ہیں۔ ان کی جانب سے انجام پانے والے چند اہم اقدامات میں امر بالمعروف پولیس کے دائرہ کار کو محدود کرنا، حکومت میں مذہبی علماء کے کردار کو کم کرنا، مرد و خواتین کے اکٹھے میوزک کنسرٹس کا انعقاد اور خواتین کو سماجی و ثقافتی لحاظ سے زیادہ آزادی عمل فراہم کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، ان پر اسٹیڈیم میں آنے کی پابندی ختم کی، اپنی مرضی کا لباس پہننے کی اجازت دی اور چند دیگر ملتے جلتے اقدامات انجام دیئے۔ لیکن دوسری طرف سے مذہبی علماء اور روایتی طبقے کی جانب سے ان تجدد آمیز اقدامات پر شدید اعتراض اور مخالفت ہو رہی ہے جس کے باعث یہ کہنا درست ہو گا کہ محمد بن سلمان کے مطلوبہ انقلاب کا کوئی روشن مستقبل نظر نہیں آتا۔
 
اگرچہ محدود جوان طبقہ محمد بن سلمان کے ان اقدامات کو سراہتا ہے لیکن یہ طبقہ اقتدار سے دور ہے اور معاشرے میں کوئی موثر کردار ادا نہیں کر سکتا۔ اس وقت سعودی عرب میں طاقت ان شہزادوں اور مذہبی علماء کے ہاتھ میں ہے جو محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو اپنے مفادات کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانے کیلئے کچھ عرصہ پہلے بڑے بڑے تاجروں کو گرفتار کر لیا۔ کرپشن سے مقابلے کے بہانے بعض مشہور تاجروں اور حکومتی عہدیداروں کو قید کر دینے کا اصلی مقصد اپنی نئی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا تھا۔ لیکن سعودی معاشرے میں مذہب کی اہمیت اور وہابی علماء کیلئے ان ایشوز کی اہمیت کے باعث دو معروف وہابی علماء عواد القرنی اور شیخ سلمان العودہ نے کھل کر محمد بن سلمان کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے مرد و خواتین کے اکٹھے میوزک کنسرٹس کے انعقاد اور اسٹیڈیم میں خواتین کے داخلے پر پابندی ختم کرنے جیسے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کی نظر میں یہ اقدامات مذہبی اقدار کی کھلم کھلا مخالفت ہے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے ان علماء کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے ان دو مذہبی علماء نے 1990ء کے عشرے میں اسلامی شریعت کے نفاذ کیلئے بہت بڑی تحریک چلائی تھی۔
 
محمد بن سلمان کے اس اقدام کا پہلا نتیجہ داعش اور القاعدہ کے پیغامات اور اقدامات کی صورت میں ظاہر ہوا۔ القاعدہ تنظیم اس سے پہلے ان مذہبی علماء کو گمراہ قرار دیتی تھی لیکن اب ان علماء کی حمایت میں مصروف ہے تاکہ اس طرح خود کو سعودی حکومت کی اپوزیشن کی ترجمان ظاہر کر سکے۔ القاعدہ نے سعودی عرب میں حکومت کی تبدیلی پر مبنی موقف اختیار نہیں کیا اور کہا ہے کہ اس کا مقصد صرف محمد بن سلمان کی پالیسیوں میں اصلاحات ایجاد کرنا ہے۔ دوسری طرف داعش نے قید ہونے والی مذہبی علماء کی حمایت کا اظہار تو نہیں کیا لیکن خود کو سعودی عرب میں حکومت کی تبدیلی کا حامی ظاہر کیا ہے۔ داعش نے اب تک آل سعود کو اقتدار سے ہٹانے کا نعرہ لگاتے ہوئے ملک میں کئی دہشت گردانہ اقدامات بھی انجام دیئے ہیں۔
 
چونکہ سعودی حکومت کی جانب سے شدید ردعمل کا خوف پایا جاتا ہے لہذا عوام کھل کر سڑکوں پر احتجاج کرنے نہیں آتے۔ اسی وجہ سے اس بات کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ حکومت کے خلاف ایک خفیہ مذہبی اپوزیشن تشکیل پا جائے گی۔ وہابی علماء کی نظر میں شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے انجام پانے والے تجدد پسندانہ اقدامات خاص طور پر خواتین کے امور اور درسی نصاب میں لائی جانے والی تبدیلیاں مذہب مخالف ہیں اور سعودی عرب میں لبرل مغربی افکار کا اثرورسوخ بڑھانے کی غرض سے انجام پا رہے ہیں۔ مذہبی علماء کی نظر میں حال ہی میں آرمی اور وزارت تعلیم کے تعاون سے پرائمری اسکول کے نصاب میں تبدیل کا اثر مستقبل کی نسلوں پر پڑے گا اور اس کے نتیجے میں اگلی نسل وہابی طرز فکر اور تعلیمات سے دور ہو جائے گی۔
 
سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے جاری اصلاحات کے مقابلے میں تیسرا ممکنہ ردعمل 1979ء واقعے کے تکرار کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ یاد رہے 1979ء میں سعودی خاندان کے مخالف ایک مذہبی گروہ نے مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس واقعے میں بڑی تعداد میں حاجیوں کو بھی اس گروہ کی جانب سے یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ جب سعودی سکیورٹی فورسز نے مسجد الحرام پر دھاوا بولا تو یرغمال بنائے گئے حاجی بھی قتل ہو گئے۔ یہ واقعہ درحقیقت اس وقت کے سعودی فرمانروا ملک فیصل کی جانب سے انجام پانے والی اصلاحات کا ردعمل تھا۔ ملک فیصل نے کئی تجدد پسندانہ اقدامات انجام دیئے تھے جن میں سے ایک لڑکیوں کے اسکول شروع کرنا تھا۔ اس خطرناک واقعے کے بعد جو آل سعود کی سلطنت ختم کر سکتا تھا، ملک فیصل نے اصلاحات روک لیں اور خواتین کے امور میں مداخلت کرنا چھوڑ دی جبکہ مذہبی پولیس کو بھی مزید اختیارات عطا کر دیئے۔ سعودی عرب کے سیاسی لحاظ سے گھٹے ہوئے معاشرے میں کسی قسم کے تجدد پسندانہ اقدامات حکومتی ڈھانچے کی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے روایتی معاشرے میں سیکولرآئزیشن کی کوشش حکومت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 739287
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے