0
Sunday 22 Jul 2018 11:47

شیطانی چال یا حسن تدبیر!

شیطانی چال یا حسن تدبیر!
تحریر: عظمت علی
Rascov205@gmail.com

آخرکار! اس نے آپ کو بلا بھیجا، آپ نے متعدد بار اس کے خطوط کا نفی میں جواب دیا، پھر بھی اس کا اصرار بڑھتا ہی گیا۔ مجبورا اس کے پیام کا مثبت جواب دینا پڑا۔ جس روز آپ مدینہ منورہ کو الوداع کہہ رہے تھے، اپنے اہل و عیال کو جمع کیا اور فرمایا، "میرے اوپر گریہ کرو کیونکہ میں دوبارہ اپنے خاندان میں واپس نہیں آنے والا"۔(بحارالانوار، علامہ مجلسی، تہران، المکتبہ الاسلامیہ، جلد 49، صفحہ ، 117طبع 1385ھ )۔ آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رخصت ہونے کے لئے مسجدالنبی میں داخل ہوئے۔ آپ نے کئی دفعہ آنحضرت کو الوداع کہا اور پھر قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور بآواز بلند گریہ فرمایا۔ مخول سیستانی کہتے ہیں، میں اسی عالم میں حضرت کی زیارت سے شرفیاب ہوا ،سلام عرض کیا اور "سفر بخیر" کہا۔ آپ نے فرمایا، مجھے غور سے دیکھو۔ میں اپنے جد سے دور ہو رہا ہوں، عالم غربت میں جان دوں گا اور ہارون کے قریب دفن کیا جاؤں گا۔ (مذکورہ حوالہ)۔ امام چند اولاد علی علیہ السلام کے ہمراہ سفر کے لئے آمادہ ہوئے۔ بالآخر! چار ماہ کی مشقت برداشت کرکے 201ھ میں مرو پہنچے۔ وہاں کے لوگوں نے آپ کا والہانہ استقبال کیا اور اس قدر جم غفیر ہوگیا تھا کہ آپ کی زیارت کے لئے تانتا بندھ گیا تھا۔
           
امام داخل دربار ہوئے، مامون نے سب سے پہلے حکومت کی پیشکش کی اور کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں خود کو منصب سے معزول کرکے آپ کے ہاتھوں بیعت کر لوں۔ امام نے فرمایا، اگر خلافت تمہارا حق ہے تو جائز نہیں کہ جو لباس خداوند عالم نے تمہیں پہنایا ہے اسے اتار کر کسی اور کے سپرد کر دو اور اگر تمہارا حق نہیں تو جو چیز تمہاری نہیں وہ تو مجھے کیوں کر دے دہے ہو!؟ ۔۔۔یہاں تک کہ اس نے مایوسانہ لہجے میں کہا، تب ولایت عہدی ہی قبول فرما لیں۔ آپ نے اس کے جواب میں انکار فرمایا، تب اس نے سخت لہجہ میں کہا، عمر ابن خطاب جس وقت دنیا سے جا رہے تھے، انہوں نے چھ افراد کے درمیان شورٰی قرار دی تھی۔ جس میں سے ایک امیرالمومنین علی بھی تھے۔ انہوں نے اس طرح کہا کہ جو کوئی بھی مخالفت کرے گا اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ لہٰذا، آپ بھی میری رائے قبول کریں۔ اس لئے کہ میرے پاس اس کے  علاوہ کوئی اور چارہ نہیں! (اعلام الوریٰ باعلام الھدیٰ ،طبسی، صفحہ 333، طبع، دار الکتب الاسلامیہ تہران)۔ آپ نے فرمایا؛ اللہ نے خود کو اپنے ہی ہاتھوں ہلاک ہونے سے منع فرمایا ہے، تو اب جو تیرے جی میں آئے اسے انجام دے، میں قبول کروں گا لیکن اس شرط کے ساتھ کہ نہ کسی کو عہدہ دوں گا اور نہ ہی  عہدہ سے معزول کروں گا بلکہ اس کام میں صرف مشیر رہوں گا۔ مامون نے ان شرائط کو قبول کیا اور امام کو اپنا ولی عہد بنا دیا۔ (بحار الانوار ،علامہ مجلسی، جلد ، 49صفحہ 128، ازحکایات آفتاب، صفحہ 127، طبع سوم 2015ء حرم امام رضا، مشہد)۔

آپ کا ولایت عہدی قبول کرنا تھاکہ سوالات کا انبارسا لگ گیا کیونکہ 183ھ یا 184ھ میں مامون کے باپ ہارون رشید کے ہاتھوں آپ کے والد گرامی امام موسٰی کاظم  علیہ السلام اور شیعوں کا قتل عام اور 201ھ میں آپ کا ولی عہد بن جانا۔۔۔!!! گویا ابھی شمشیر جفا سے بےگناہ شیعوں کا خون ٹپک رہا تھا کہ حضرت نے مامون کی تجویز کو قبول کرلیا۔ یہ تمام چیزیں باعث بنیں کہ لوگ حیرت زدہ ہو جائیں۔ سادہ لوح عوام کے اعتراضات نے پوری فضا کو مکدر کر رکھا تھا۔ ان سب کا ایک ہی سوال تھاکہ امام نے مامون کی دعوت کو قبول کیوں کیا۔۔۔؟! حضرت نے فرمایا، اسی دلیل کے باعث جو میرے جد حضرت علی علیہ السلام کے شورٰی میں داخل ہونے کا سبب بنی۔ (مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب، موسسہ انتشارات علامہ جلد 4 صفحہ 364قم۔ عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق، دارالکتب الاسلامیہ جلد2، صفحہ 141اور بحارالانوار، جلد 49، صفحہ 140از حکایات آفتاب، صفحہ 106۔۔۔) ایک دفعہ امام نے انہیں اعتراض کرنے والوں میں سے ایک معترض کے جواب میں فرمایا؛ پیغمبر افضل ہیں یا وصی؟ جواب آیا، پیغمبر۔ پھر پوچھا، مسلمان برتر ہے یا مشرک؟ کہا، مسلمان۔ حضرت نے فرمایا؛ عزیز مصر مشرک تھا اور یوسف پیغمبر۔ جبکہ مامون مسلمان اور میں وصی ہوں۔ یوسف نے خود عزیز مصر سے چاہا تھا کہ ان کو ولایت کا عہدہ دے لیکن میں تو اس کام پر مجبور کیا گیا ہوں۔ (حکایات آفتاب، صفحہ 106اور بحارالانوار، جلد 49، صفحہ 136)۔

اب سوال یہ ہےکہ مامون نے امام کو خراسان طلب کیوں کیا اور حکومت کی پیشکش کیوں کر ڈالی؟ آخر کون سی چال چلنا چاہتا تھا۔ تاریخ نے اس سوال کا جواب یوں دیا ہے کہ:
(1)۔ مامون عام لوگوں کی نگاہوں میں اور خصوصا بنی عباس کے نزدیک باغی شمار کیاجاتا تھا اس لئے کہ اس نے اپنے باپ کی وصیت کو ٹھکرا کر اپنے سوتیلے بھائی "محمد امین" کو قتل کر ڈالا تھا جو کہ قانونی حیثیت سے خلیفہ و قت تھا۔
(2)۔ عجم سے عرب کے تعصب ہونے کے سبب لوگ اس کے خاندان کو کسی قابل نہ سمجھتے چونکہ اس کی ماں غیر عرب تھی۔
(3)۔ مامون کی حکومت کے زیادہ تر طرفدار عجم تھے اور بنی عباس تو اس کو خاطر میں بھی نہیں لاتے تھے۔
(4)۔ ایرانی علوی جو کہ خصوصا صوبہ خراسان میں زیادہ اثر و رسوخ  رکھتے تھے وہ بنی عباس اور خاص طور پر ہارون رشید سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اس لئے کہ اس کے ہاتھ شیعان علی کے لہو سے لت پت تھے اور وہ مختلف علاقوں میں مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ صورتحال بد سے بدتر ہوئی جا رہی تھی۔ لہذا! اس نے ان حالات پر قابو پانے کی خاطر آپ کو منصب ولایت عہدی سونپ دیا۔ جس سے اس کو بہت سے ذاتی اور حکومتی مفادات حاصل ہوئے منجملہ:۔

(1)۔ علویوں کے انقلاب و قیام کو کچل دینا۔
(2)۔ حکومت کو قانونی رنگ دینا۔
(3)۔ ایرانیوں کی توجہ مبذول کرنا جو کہ علویوں کے حامی تھے۔
(4)۔ امام پر نظر رکھنا تاکہ حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہ کرسکیں۔
(5)۔ آپ کو مذکورہ عہدہ سپرد کرکے عرب و عجم کے اختلاف ختم کرنا اور عربوں کو اپنی حکومت کی طرف مائل کرنا۔
(6)۔ آپ کو حکومتی معاملات میں الجھا کر آپ کی عظیم شخصیت کو ختم کرنا اور دنیا طلب چہر ہ دکھا کر آپ کی معنوی حیثیت کو بےمعنی قرار دینا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

بہر کیف! وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی بھی صورت آپ کو دنیا کا طلب گار ثابت کیا جائے گا لیکن حکومتی امور میں شریک کار نہ ہو کر امام علی رضا علیہ السلام نے علوی حسن تدبیر سے عباسی شیطانی چال کو نقش بر آب کر دیا۔ اس کی احمقانہ خواہش تھی کہ امام کے علمی وقار کو لوگوں کے سامنے کم کر دیا جائے جس کے لئے مناظرہ وغیرہ کا سہارا بھی لیا لیکن "خود آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا" اور مختلف مذاہب کے علما ء کو خود ان کی کتابوں سے دندان شکن جواب دے کر امام نے لوگوں کاد ل جیت لیا اور ہر سمت آپ کے علم و فضل کا سکہ رائج ہو گیا اور مامون کی ساری سازشیں خود اس کے سر گئیں۔
خبر کا کوڈ : 739393
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب