0
Monday 30 Jul 2018 21:08

عربی نیٹو کی تشکیل اور پس پردہ اہداف

عربی نیٹو کی تشکیل اور پس پردہ اہداف
تحریر: احمد کاظم زادہ

امریکہ نے ایک بار پھر میسا (MESA) نامی عرب ممالک پر مشتمل نیٹو طرز کے فوجی اتحاد کی تنظیم تشکیل دینے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس فوجی تنظیم میں خلیج تعاون کونسل کے 6 رکن عرب ممالک کے علاوہ اردن اور مصر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ امریکہ نے اس تنظیم کی تشکیل کی غرض سے ان آٹھ عرب ممالک کے سربراہان مملکت کو ستمبر میں واشنگٹن دورے کی دعوت دے رکھی ہے۔ نیٹو طرز کی اس عرب فوجی تنظیم کی تشکیل کا مقصد ایران سے درپیش مبینہ خطرات کا مقابلہ کرنا اعلان کیا گیا ہے لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس کے کچھ ایسے اہداف بھی ہیں جنہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔
 
امریکی حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر عربی نیٹو تنظیم تشکیل دینے کے اعلان سے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے چند دیگر شدت پسند عناصر جیسے وزیر خارجہ مائیک پیمپئو اور قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ہمراہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی بات کی اور ایرانی عوام کو حکومت کے اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کے ردعمل میں ایران کے فوجی اور دفاعی حکام نے شدید موقف اختیار کیا جس کے نتیجے میں امریکی کابینہ جمعہ کے دن ایران سے متعلق امور کا جائزہ لینے کیلئے ہنگامی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اس اجلاس کے نتائج شدت پسند عناصر کی بجائے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کی جانب سے منظر عام پر آئے۔ انہیں ٹرمپ کابینہ میں متعدل مزاج چہرے کے طور پر جانا جاتا ہے اور ٹرمپ کابینہ کا تھنک ٹینک قرار دیا جاتا ہے۔
 
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے کسی منصوبے یا اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ ایران سے ہر قسم کے فوجی ٹکراو سے پرہیز کرے۔ یاد رہے امریکہ میں دائیں بازو کی قوتیں اور اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور سعودی اور متحدہ عرب امارات کے حکام امریکہ اور ایران میں فوجی ٹکراو کی شدید کوششوں میں مصروف ہیں۔ جیمز میٹس نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے اتحادی ممالک کی مدد سے ایران کو کنٹرول کرنے کیلئے نیٹو طرز پر عربی فوجی تنظیم تشکیل دینے کی سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عربی نیٹو تشکیل دینے کے منصوبے کو واشنگٹن کی حمایت حاصل ہے جبکہ یہ منصوبہ سابق امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ منعقد ہونے والے مشترکہ اجلاس سے بھی تناسب رکھتا ہے۔
 
دوسری طرف عربی نیٹو کی تشکیل پر مبنی منصوبہ یورپی یونین کی حمایت بھی حاصل کر سکتا ہے کیونکہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد نیٹو تنظیم کی کوشش رہی ہے کہ مختلف ناموں کے ذریعے اپنا وجود پوری دنیا میں پھیلا دے۔ آج خطے کے حالات نے ایسا رخ اختیار کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف مشرق وسطی خطے میں روس کا مقام اور کردار بڑھ گیا ہے جو خاص طور پر شام کی جنگ میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد زیادہ نمایاں ہو چکا ہے اور دوسری طرف عظیم سلک روڈ منصوبے کے نتیجے میں چین بھی مشرق وسطی اور خلیج فارس کی حدود میں داخل ہوا چاہتا ہے۔ چین نے حال ہی میں خلیجی عرب ریاستوں میں تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کیلئے 20 ارب ڈالر کی عظیم رقم مختص کی ہے۔ اسی طرح چین نے کویت سے 99 سال کیلئے بوئیان اور فیلکہ جزیرے کرائے پر لئے ہیں جن کے بدلے میں چین نے کویت کو 50 ارب ڈالر ادا کرنے کے علاوہ اس ملک میں 400 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کا بھی عہد کیا ہے۔
 
اس بات کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ عربی نیٹو کی تشکیل کے پس پردہ امریکہ اور یورپی یونین کے مشترکہ اہداف میں روس اور چین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اقتصادی پھیلاو کا مقابلہ کرنا بھی شامل ہو جبکہ ان اہداف کو خفیہ رکھا گیا ہے اور منظر عام پر نہیں لایا جا رہا۔ یوں صدی کی ڈیل اور عربی نیٹو کی تشکیل کے دونوں منصوبے درحقیقت اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے اثرورسوخ میں اضافے اور پھیلاو کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال ہوں گے جبکہ ان منصوبوں کے تمام تر اخراجات عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب سے وصول کئے جائیں گے۔

لہذا مجموعی طور پر یہ کہنا درست ہو گا کہ ایران ہر گز اپنے ہمسایہ عرب ممالک کیلئے خطرہ ثابت نہیں ہوا اور نہ ہی مستقبل میں خطرہ ثابت ہو گا لیکن وہ قوتیں جو صدی کی ڈیل اور عربی نیٹو جیسے منصوبوں کی تشکیل اور تکمیل میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایران عرب ممالک کیلئے خطرہ ہے۔ یہ ممالک اور قوتیں عرب حکام خاص طور پر سعودی عرب کے نئے حکمرانوں کے دل میں ایران کا خوف پیدا کر کے اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
خبر کا کوڈ : 741319
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب