0
Thursday 2 Aug 2018 16:51

صوبہ ادلب، شام آرمی کا اگلا ٹارگٹ

صوبہ ادلب، شام آرمی کا اگلا ٹارگٹ
تحریر: محمد علی

شام کے جنوبی حصے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف شام آرمی کا جاری آپریشن تقریباً مکمل ہونے والا ہے اور اب شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز ملک کے شمالی صوبے ادلب کی جانب رواں دواں ہو چکی ہیں جو القاعدہ کی جنت کے طور پر معروف ہے۔ صوبہ ادلب سے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ شام میں جاری جنگ کا اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔ موصولہ اخبار اور رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز صوبہ ادلب میں بڑے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ یہ صوبہ شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کا آخری ٹھکانہ سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے شام آرمی می میزائل یونٹ نے جبل الاکراد میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ جبل الاکراد النصرہ فرنٹ اور دیگر دہشت گرد عناصر کے اہم ٹھکانوں میں شمار ہوتا ہے۔ شام آرمی کے یہ میزائل حملے بہت وسیع پیمانے پر انجام پائے ہیں اور دہشت گرد گروہوں کے حامی ذرائع ابلاغ نے اسے جہنم سے تشبیہہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یہ حملے شام آرمی کے بڑے فوجی آپریشن کا مقدمہ ہیں۔
 
صوبہ ادلب شام کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ شام کا پہلا صوبہ ہے جو تین سال پہلے مکمل طور پر دہشت گرد عناصر کے کنٹرول میں چلا گیا تھا۔ اگرچہ اکثر فوجی ماہرین کا خیال تھا کہ شام آرمی حلب کی آزادی کے بعد صوبہ ادلب کا رخ کرے گی لیکن ایسا نہ ہوا اور شام آرمی اور اس کی اتحادی فورسز نے مشرق کی طرف پیشقدمی شروع کر دی تھی اور اس کے بعد جنوبی حصے میں آپریشن انجام دیا۔ صوبہ ادلب میں اہم ترین دہشت گرد گروہوں میں النصرہ فرنٹ کا نام سرفہرست ہے جس کی سربراہی محمد جولانی کر رہا ہے۔ یہ گروہ شام میں القاعدہ کی ذیلی شاخ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ تکفیری دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ اب تک کئی بار اپنا نام تبدیل کر چکا ہے لیکن ایسے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد جولانی اب بھی القاعدہ نیٹ ورک سے تعلق استوار کئے ہوئے ہے۔ النصرہ فرنٹ کے علاوہ صوبہ ادلب میں غیر ملکی شدت پسندوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن کا تعلق ازبکستان، چچنیا، اویگور اور عرب ممالک سے بتایا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان غیر ملکی دہشت گرد عناصر کی تعداد 35 ہزار کے قریب ہے۔
 
شام آرمی اور اتحادی فورسز کی جانب سے صوبہ ادلب میں وسیع فوجی آپریشن کی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اور مذاکراتی عمل میں بھی تیزی آئی ہے۔ شام حکومت بعض معتدل گروہوں کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے ہتھیار پھینک کر خود کو حکومت کے حوالے کرنے پر تیار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اخبار اینڈی پینڈنٹ کے انتہائی سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رابرٹ فیسک اس بارے میں لکھتے ہیں: "ادلب ایک بڑا سودا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم روسی حکام کے تعاون سے شام حکومت اور اس صوبے میں سرگرم باغی گروہوں کے درمیان مزید "امن مذاکرات" کا مشاہدہ کریں گے۔ اسی سلسلے میں ایسے خفیہ اور اعلانیہ معاہدے بھی انجام پائیں گے جن کے نتیجے میں وہ عناصر جو حکومت کی طرف واپس آنے کی خواہش رکھتے ہوں گے یہ کام انجام دینے پر قادر ہوں گے۔"
 
اسی طرح صوبہ ادلب میں قبائلی فورس کے کمانڈر دہام شلاش الفارس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس صوبے کو دہشت گرد عناصر کی گرفت سے آزاد کروانے میں وہاں کی عوام بنیادی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام بھی آرمی کے دوش بدوش اپنی سرزمین آزاد کروانے کیلئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا: "قبائلی فورسز صوبہ ادلب کے جغرافیائی خدوخال سے آشنا ہونے کے ناطے النصرہ فرنٹ خاص اور غیر ملکی دہشت گردوں پر مشتمل گروہوں کے خلاف آپریشن میں شام آرمی کی مددگار ثابت ہوں گی۔" دوسری طرف ترکی چونکہ صوبہ ادلب میں موجود دہشت گرد گروہوں سے قریبی تعلقات کا حامل ہے اور اس صوبے کو اپنے اثرورسوخ والا علاقہ تصور کرتا ہے لہذا دہشت گردوں کے خلاف شام آرمی کے ممکنہ فوجی آپریشن سے شدید پریشانی کا شکار ہو چکا ہے۔ ترکی مذاکرات اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کے ذریعے اس صوبے میں شام آرمی کا فوجی آپریشن رکوانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسی طرح ترکی صوبہ ادلب میں سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں کو ایک کمانڈ سنٹر کے تحت متحد کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
 
حال ہی میں روس، ایران اور ترکی کے درمیان شام میں قیام امن سے متعلق جاری مذاکرات کے تحت ترکی کو صوبہ ادلب میں جنگ بندی کے قیام پر نظارت کرنے کیلئے چیک پوسٹس بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ ترکی کیلئے اس علاقے میں اپنے مفادات کے حصول اور دہشت گرد عناصر میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کیلئے اچھا موقع ثابت ہوا ہے۔ چند دن پہلے روس کے شہر سوچی میں ایران، روس اور ترکی کے سفارتکاروں کے درمیان گفتگو اور بات چیت انجام پائی ہے۔ مذاکرات میں شامل ایک سفارتکار نے روسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ جلد ہی قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں جامع مذاکرات انجام پائیں گے۔ وہاں موجودہ زمینی حقائق کی روشنی میں شام بحران کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے گا اور جلاوطن مہاجرین کی وطن واپسی پر بھی غور کیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 742023
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب