0
Sunday 5 Aug 2018 05:49

شہید عارف الحسینی و تنظیمی اقدار

شہید عارف الحسینی و تنظیمی اقدار
تحریر: ڈاکٹر آر اے سید

کسے خبر تھی کہ پاک افغان سرحد پر واقع پارہ چنار کے ایک دور دراز چھوٹے سے گائوں پیواڑ میں پیدا ہونے والا ایک سید زادہ اپنے علم، تقویٰ، بہادری، دلیری، قیادت، بصیرت، قربانی، للھیت، ویژن، اخلاق حسنہ اور دل میں اتر جانے والی گفتگو سے لاکھون دلوں کی دھڑکن بن جائے گا۔ پارہ چنار میں ابتدائی تعلیم سے نجف اشرف اور نجف اشرف سے قم المقدسہ تک، جو بھی اس مجسم اخلاق سید کے  قریب رہا، وہ اس کا عاشق و متوالا رہا۔ پہلی ملاقات میں سخت سے سخت مخالف کا دل موہ لینا اور اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کو مطمن کرنا شہید عارف حسین الحسینی کی شخصیت کا خاصہ تھا، شہید کی ابتدائی زندگی اور نجف و قم کے تو ہم عینی شاید نہیں رہے، لیکن شہید عارف الحسینی کی تقریباً چار سالہ قیادت میں کئی قومی امور اور ان کی مجموعی نشست و برخواست اور ذاتی رویوں کو کسی حد تک قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس پر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

عظیم شخصیات بالخصوص ایسی شخصیات جن سے آپ کا قلبی و ذاتی تعلق رہا ہو، ان کے بارے میں کچھ لکھنا دو اندیشوں سے خالی نہیں ہوسکتا۔ ایک قلبی تعلق کی وجہ سے مبالغے کا امکان رہتا ہے اور عظیم شخصیت ہونے کی وجہ سے "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا" کا اندیشہ بھی دامن گیر رہتا ہے۔ شہید عارف نے اپنے تقریباً چار سالہ مختصر دور قیادت میں جو سنگ میل طے کیے، بعد کے قائدین کئی برسوں بعد بھی اس منزل تک نہ پہنچ پائے، رفاقت اور شاگردی کا دعویٰ کرنے والے سب اس مسئلے میں تہی دست ہیں۔ شہید کو قیادت کے وقت جن نامساعد حالات کا سامنا تھا، بعد والوں کو اس طرح کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ضیاء آمریت اور اس دور کے ریاستی جبر کا آج کے دور سے موازنہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ شہید کی شخصیت کے سرسری مطالعے سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نصب العین اور نظریاتی افق کی بلندی کے ساتھ ساتھ خدا سے قریبی رابطہ ان کی کامیابی کا ضامن رہا۔

شہید عارف کی مختلف تقاریر اور تحریریں بھی اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ قیادت کو خدا اور قربت الہیٰ کا ایک وسیلہ سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نگاہ میں مقام و منزلت ثانوی حیثیت بھی نہیں رکھتے تھے اور اس کی کئی مثالیں بھی ان کے دور قیادت سے دی جا سکتی ہیں، لیکن صد افسوس کہ بعد والی قیادتوں پر اگر معمولی اعتراض یا تنقید بھی کی جائے تو انہیں اپنی قیادت و سربراہی خطرے سے دو چار نظر آتی ہے اور وہ شہید عارف کی الہیٰ راہ اختیار کرنے کی بجائے مخالف کو فاسق و فاجر، بد اخلاق، بغض و عناد، حسد، کینے اور نہ جانے کن کن القابات سے نواز کر تہذیب نفس اور سیر و سلوک کی تلقین فرمانے لگتے ہیں۔ ان کے اندھے مقلدین سوشل میڈیا پر ایسی تشہیراتی مہم شروع کر دیتے ہیں کہ تنقید کرنے والا بھی کچھ کہنے سے تائب ہو جاتا ہے۔

شہید عارف قومی فیصلوں میں اجتماعی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔ اس کی ایک مثال ان کا مشہور قول ہے، جو آج کل سوشل میڈیا پر زبان زد خاص و عام ہے۔ آپ آراء میں اختلاف کے تناظر میں فرماتے ہیں، کوئی بھی تنظیم ایسی نہیں جس مین تمام فیصلے مکمل اتفاق کے ساتھ ہوں۔ اختلافات یقیناً ہوتے ہیں، لیکن ہمیں اکثریتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، اگرچہ سید عارف حسین الحسینی کی رائے اس کے خلاف ہو۔ شہید مظلوم کا یہ فرمان تنظیمی قائدین اور افراد کے لئے ایک نصب العین کی مانند ہے، لیکن اس کو بھی ہر کوئی اپنا مخصوص لباس پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔ شہید کے اس فرمان کو اگر سامنے رکھا جائے تو تنظیمی اختلافات اور تنظیمی انشعاب یا گروہ بندی کو روکا جا سکتا ہے، لیکن صورت حال اگر ایسی بن جائے کہ کچن کیبنٹ میں بیٹھ کر کروڑوں شیعیان حیدر کرار کی تقدیر کے متعلق من مانے فیصلے کئے جائیں تو اعتراضات ایک فطری عمل ہے، اگر چند افراد یا ایک شخص اپنے آپ کو 99 فیصد اکثریت سمجھنے اور اپنی اکیلی ذات کو پوری جماعت تصور کرنے لگے تو اعتراضات تو آئیں گے۔

مجھے یاد ہے کہ اجلاسوں میں کئی بار شہید عارف پر تند و تیز اعتراضات کئے گئے، حتیٰ آپ کی شیعت اور عقائد پر اعلانیہ اور ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کی گئی، لیکن مجھے آج تک نہ تحریر میں نہ تقریر میں اس طرح کا کوئی جملہ یا موقف نظر آیا، جس میں آپ مخالف کو خود پسند، متکبر، مغرور، عجب کا شکار یا انا کے خول میں بند، خود پسندی کے پنجرے کا رہائشی یا تکبر کے زندان کو قیدی یا اسیر نفس اور کوتاہ بین قرار دیا ہو، جبکہ آپ تنظیموں کے اندر اس طرح کے منفی رویوں کو سختی سے مسترد کرتے تھے اور کہتے تھے اگر اپ چاہتے ہیں کہ اہلبیت اور امام زمانہ ہم سے خوش ہوں تو ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھالنا، ایک دوسرے کی خلاف باتیں کرنا اور محاذ آرائی چھوڑ دیں۔ شہید تنظیمی عہدیداروں سے کہتے تھے، برادران عزیز، ہمارے اور آپ کے نزدیک یہ عہدہ امتحان ہے، یہ عہدہ مقصد نہیں، عہدے سے ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، ہمیں عہدوں پر کسی سے تلخ کلامی نہین کرنی چاہیے، عہدوں کی وجہ سے کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہیے۔

شہید عارف نے اپنے مختصر دورہ قیادت میں قوم و ملت نیز تنظیمی اور قومی امور میں سرگرم افراد کے لئے تقاریر اور تحریروں کا ایک گراں قدر مجموعہ باقی چھوڑا ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ الہیٰ تنظیمی اقدار نئی نسل میں منتقل ہوں تو شہید کے رفقاء اور شاگردوں کو ان پر عملی درآمد کرکے حقیقی رفیق اور شاگرد ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔ میری ذاتی یاداشتوں مین ایک واقعہ موجود ہے، جب شہید عارف الحسینی کی قیادت کے دور میں قم المقدسہ مین بعض تند و حامی دینی طلباء اور انتہا پسند مخالفین نے علماء کے خلاف نازیبا کارٹون، زہریلی اور غیر اخلاقی اشتہار بازی کی مہم چلائی تھی تو آپ نے مخالفین سے زیادہ اپنی حمایت کرنے والوں کو نصیحت فرمائی تھی اور اس طرح کے منفی کاموں سے سختی سے منع کیا تھا۔ شہید حسینی تو اس قدر محتاط تھے کہ اپنے حق میں نعروں اور تصاویر کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور سب کو صرف اور صرف امام خمینی کے بارےمیں نعرے اور انکی تشہیر کا حکم فرماتے تھے۔

مجھے یاد ہے ایک مرتبہ آئی ایس او کی مرکزی کابینہ جس میں مولانا حسنین گردیزی، سید تصور نقوی اور دوسرے دوست شامل تھے، شہید کی خدمت میں پشاور پہنچے اور تنظیمی معاملات کے بارے میں ان سے رہنمائی کی درخواست کی اور ساتھ ہی اپنی نشرواشاعت کی ایک مختصر رپورٹ بھی دکھائی تو آپ نے ایک کیلنڈر جس پر امام خمینی اور علامہ عارف حسین الحسینی کی تصویر موجود تھی، کو دیکھ کر آئی ایس او کی مرکزی کابینہ سے ایک عجب لہجے مین کہا کہ میری تصویر شائع نہ کیا کریں۔ ان کے چہرے کے تاثرات آج بھی میرے ذہن میں ایک فلم کی طرح محفوظ ہیں۔ ہم جتنی دیر آپ کی خدمت میں موجود رہے، آپ نے اس کیلنڈر کے اوپر کوئی اور کاغذ رکھ دیا، تاکہ اپنی تصویر نظر نہ آئے۔ شہید حسینی کے ہاں دوسروں کے لئے احترام اس قدر زیادہ تھا کہ ہم جیسے معمولی کارکن ان کے سامنے جانے سے کتراتے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ انہون نے کبھی ہمارا اپنی جگہ سے اٹھ کر استقبال نہ کیا ہو۔

مرحوم آقا صابر شیعہ قومیات کی معروف شخصیت تھیں، عمر میں شہید سے شاید دو گنا بڑے ہوں گے، اکثر کہا کرتے تھے کہ قائد محترم علامہ حسینی کے نشست میں بیٹھنا کئی گھنٹے کی ورزش سے زیادہ سخت ہے۔ آغا صاحب مرحوم کے بقول آپ ہر آنے جانے والے افراد کو چاہے وہ نوجوان ہو یا بوڑھا اٹھ کر ملتے ہیں اور محفل میں آداب کے تقاضوں کی وجہ سے ہمیں بھی قائد کے ساتھ اٹھنا پڑتا ہے، لہذا علامہ عارف کے ساتھ کچھ وقت بیٹھنے سے اتنی بار اٹھنا پڑتا ہے کہ گھٹنے جواب دینے لگتے ہیں۔ شہید عارف نے تنظیمی حلقوں میں مدارس علمیہ میں دعائوں کے کلچر کو متعارف کروایا۔ آپ کےساتھ سفر کرنے والے سب اس بات کے عینی شاید ہیں کہ سخت سے سخت اور طویل سے طویل سفر کے دوران بھی آپ کی نماز شب قضا نہیں ہوتی تھی۔ شب جمعہ کہیں بھی ہوں، خود بھی دعائے کمیل تلاوت کرتے اور دوستون کو بھی تلقین کرتے تھے۔

آج ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارے تنظیمی عہدیداران "قارئین کے بارے میں تو کچھ نہیں کہنا یقیناً تنہائی میں پڑھتے ہوں گے" تمام تر دعوئوں کے باوجود اس دعا کی تلاوت سے محروم ہیں۔ میں بڑی سطح کے علماء کو جانتا ہوں، جو نہ صرف اجتماعی دعائے کمیل میں شرکت کو عار سجمھتے ہیں بلکہ دفاتر میں تنظیمی اجلاس کے دوران دروازوں کو مکمل طور پر بند کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ باہر سے دعائے کمیل کی آواز ان کو ڈسٹرب نہ کرے۔ شہید مظلوم کے سیاسی ویژن پر کچھ کہنے کو دل چاہ رہا تھا، لیکن اپ کے منصب پر فائز دونوں جانشییون کی عملی سیاست میں اتنا تضاد ہے کہ اس پر کچھ لکھا تو آبگینوں کو ٹھیس پہنچ جائے گی، اس کے لئے آپ خطبات اور تحریوں کے مجموعے "اسلوب سیاست" سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس دعا کے ساتھ کہ خدا ہمیں اس شہید کی سیرت و کردار کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے افکار و نظریات کی من مانی تشریحات سے محفوظ فرمائے۔
شہادت کا ارمان تھا تیرے دل میں
ہوا منکشف تجھ پہ راز شہادت
وضو کرکے اپنے مقدس لہو سے
پڑھی تو نے عارف نماز شہادت
خبر کا کوڈ : 742585
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب