0
Monday 6 Aug 2018 17:49

شہید عارف الحسینی کی شخصیت پر سید علی مرتضیٰ زیدی کی تقریر سے اقتباس

شہید عارف الحسینی کی شخصیت پر سید علی مرتضیٰ زیدی کی تقریر سے اقتباس
ترتیب و تنظیم: سعید علی پٹھان

اس مکتب کے 11 آئمہ علیھم السلام شہید ہوئے ہیں، شیعت کی بنیاد ہی ظلم کیخلاف مقابلے پر رکھی گئی ہے، عدل کے فروغ کیلئے ظلم کو للکارتے رہے، سرزمین پاکستان شہدا ءکی قربانیوں سے زرخیز ہے، شہید عارف الحسینی نے بہت درجات اور مقامات حاصل کئے، جن کو شاید ہم درک نہ کرسکیں۔ امام خمینی جیسی شخصیت نے شہید حسینی کو اپنا بیٹا کہا ہے، اب آپ تصور کریں کہ امام نے کمالات میں ان کو اپنا بیٹا کہا، امام نے چند افراد کو اپنا بیٹا تعبیر کیا ہے۔ انقلاب اسلامی کو 40 برس ہوچکے ہیں، 1984ء میں وہ قوم تھی جو عالم کو نہیں پہچانتی تھی، حوزہ ہای علمیہ دین کی تبلیغ کیلئے کام کر رہے ہیں، شہید حسینی کیخلاف پروپیگنڈا تھا، مخالفتیں تھیں۔ انہوں نے امام خمینی اور انقلاب کی حمایت میں کام کیا۔ اس دور میں نماز کو قبول کرنا شروع کیا۔

شہید حسینی نے اپنی قیادت کے دور میں وقت دوروں میں گذارا۔ وہ دور دراز علائقوں میں پہنچے، اس دور میں جب نہ پیسہ، نہ لوگ اور نہ انفراسٹرکچر تھا، ضیاء الحق نے جو ظلم کیا، وہ آمریت کا دور جس میں شہید نے کام شروع کیا، ان کے وقت سے کیا سیکھ سکتے ہیں۔ ہم شخصیتوں کی کامیابی یا ناکامی کو نتائج سے طے کرتے ہیں، اگر امام خمینی انقلاب نہ لاتے تو کیا آپ ان کو پہچان پاتے؟ اگر انقلاب کی کوشش رک جاتی تو کیا آپ ان کو کامیاب مانتے؟ خداوند کریم نے کوشش کی ذمہ داری رکھی ہے مگر ہم لوگ نتائج کو دیکھتے ہیں۔ شہید حسینی نے کوشش کی، سادگی اور خلوص سے کام کیا، ان کے نزدیک کام ہونا ضروری تھا، سختی برداشت کر لیتے تھے۔ قائد شہید کی زندگی سے اصولوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

1۔ انسانی اور اخلاقی صفات ان کے اندر تھیں، لازم ہے کہ ہم ان کی صفات کی پیروی کریں، سادگی ان کی صفت میں تھی، جھوٹ نہیں بولتے تھے، تقویٰ و پرہیزگاری، عبادات کی ادائیگی کرتے تھے، نماز شب پڑھتے تھے، لوگ صفات کیوجہ سے بڑے بنتے ہیں، وہ ہر وقت نصیحتیں کرتے تھے، احادیث سناتے تھے، ان کے ذہن میں دنیا نہیں تھی، ہم نے روایات میں پڑھا ہے کہ دنیا میں رہو، آخرت کیلئے رہو۔ دنیا اتفاق پر مل جاتی ہے، آخرت کمانی پڑتی ہے۔ انسانی کمالات کمانے پڑتے ہیں، مقامات مل جاتے ہیں مگر کمالات کمانے پڑتے ہیں۔ پارا چنار کے لوگ جرائتمند ہیں اور شہید جرائت والے تھے۔
2۔ قائدانہ صلاحیت میں اہم حلم (بردباری) ہے، مشکلات میں شکوہ نہ کرے، شہید سختیوں میں بردبار رہے، حلم نہیں ہے تو آپ قیادت نہیں کر پائیں گے، دور اندیشی کا مطلب آگے کو سمجھنا، وہ آگے تک جانے کو سوچتے تھے۔

قائد ملت پاکستان کو حزب اللہ کی جگہ پر دیکھتے تھے:
شہید حسینی کا ایک ہدف تھا، انہوں نے چند لوگوں کو معمور کیا تھا کہ قوم کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ لمبی مدت کا منصوبہ بنائیں، ڈاکٹر محمد علی نقوی نے یہ بات مجھے بتائی تھی۔ ردعمل، ٹیکٹس اور اسٹریٹجی۔ ہم ردعمل پر چل رہے ہیں۔ 20 فیصد ہوکر وہ کام کریں، جس سے دوسروں کو ہماری طاقت کا پتہ چلے۔ معاشرے میں ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جب بھی شہید حسینی نے کام کیا تھا تو اہلبیت کی سنت کی پیروی کی۔ ہمیں شہید کی حکمت کی پیروی کرنی ہے، ہمیں ان کے اصولوں کی پیروی کرنی ہے، شہید حسینی نے کہا کہ ہم نے انتخابی سیاست میں آنا ہے، آج کی حکمت عملی کیا ہوگی، معاشرے میں کام کرنے کی وقت کیساتھ ضرورتیں تبدیل ہوتی ہیں۔ اصول تبدیل نہیں ہوتے مگر حکمت عملی تبدیل ہوسکتی ہے۔

عالمی تعلقات میں سچ بولنے کا فائدہ ہے، پورا اسرائیلی میڈیا جھوٹا ہے، مگر سید حسن نصر اللہ جھوٹ نہیں بولتے۔ سیاست جھوٹا بنانے کیلئے ہے تو نہیں کرنی ہے۔ آپ سچ پر سمجھوتہ نہ کریں۔ شہید کی شخصیت کو سمجھنا۔ دین یہ نہیں کہتا کہ جلدی مرو مگر موت کی آرزو کرو، شہید نے شہادت طلبی سکھائی، قومیں بغیر شہید لیڈر کے نہیں چلتیں۔ کچھ ایسے ادارے بنائیں جو شہید کے اہداف کیلئے کام کریں۔ امام خمینی رہبر انقلاب ہونے کے باوجود دن میں 8 مرتبہ قرآن پڑھتے تھے، مفاتیح کی دعائیں پڑھتے تھے۔ آپ میرے لئے نعرے لگا رہے تھے مگر خدا کیلئے نماز قضا کر دی۔
خبر کا کوڈ : 742876
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے