0
Friday 9 Nov 2018 12:15

ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
تحریر: سید ماجد رضوی، ماگام
زیر تعلیم کشمیر یونیورسٹی

علامہ اقبالؒ کی شخصیت بیسویں صدی کی ایک ایسی عبقری اور کثیرالجہات شخصیت واقع ہوئی ہے جس کو اپنے امتیازات کی بناء پر شاعر مشرق تسلیم کر لیا گیا ہے۔ جس نے فکر اور نظریاتی کشمکش کے اس عہد میں نہ صرف ایک حیات بخش اور فکر انگیز فضا میں سانس لینے کے لئے حالات پیدا کئے اور پرانے اذکار اور لغو مضامین و موضوعات کے گرد گردش کرنے سے اسے نجات دلائی بلکہ پورے مشرق میں خودی و خود اعتمادی، عزت نفس، جہاں بینی اور جہاں بانی کا ولولہ پیدا کیا۔ اقبالؒ نے نہ صرف مشرق کو اپنا کھویا ہوا وقار اور لٹی ہوئی آبرو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جھنجھوڑا بلکہ مغرب کے گمراہ کن فہم اور فتنہ جو تجربہ و مشاہدہ کے سائنٹفک منہاج کو وحی الٰہی اور پیغمبرانہ اسوہ پہ لاکر انسانیت کیلئے فیض بخش اور حقیقی ارتقاء کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ اقبالؒ نے نہ صرف شاعری کی دنیا میں ایک جدید شعور کا اظہار کیا بلکہ ایک ایسا شعور جو مغربی تہذیب اور صنعتی تمدن کی بنیادی خامیوں سے باخبر تھا بلکہ ایک ایسے مشاہدہ سے روشناش کرایا جو ماضی، حال اور مستقبل تینوں پر محیط تھا۔ اقبالؒ ماضی کی تابناک شعاعوں سے حال کی تاریکیوں کو دور کرنا چاہتے تھے اور ایک ایسے طلوع ہونے والے آفتاب کی بشارت دے رہے تھے، جو ایک نئی روحانی و اخلاقی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہوگا۔ اقبالؒ کے سینے میں جو اضطراب و تپش جو بےقراری اور آرِزو مندی تھی اس نے نہ صرف بیسویں صدی کے فکر و فہم کے جنجال سے جنگ آزما ہونے کی صلاحیت عطا کی بلکہ انہوں نے پوری نسل کو مغرب کے مادی و ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنے پر کمر بستہ بنا کر کھڑا کر دیا اور ایک ایسا ولولہ عطا کیا جو برصغیر ہی نہیں، ایشیاء کے مختلف حصوں میں اسلامی ترقی نو کے ایک تابناک دور کا نقطہ آغاز بنا۔

اقبالؒ کی شخصیت کو فطرت نے اس ترقی نو کیلئے اور اس عہد کے سوئے ہوئے انسانوں کو جگانے کیلئے دل و دماغ کی بہترین صلاحیتوں سے مزّین کیا تھا اور ان کی یہ خوش قسمتی تھی کہ قدیم و جدید دونوں کا وہ سنگم تھے اور مشرق و مغرب دونوں کے علمی و فکری سرچشموں سے پوری طرح سیراب ہوئے تھے۔ خوش قسمتی سے ابتداء ہی میں انہیں مشرقی علوم اور اخلاقیات کے ماہرین کا قرب حاصل ہوا اور ایک ایسا خانوادہ ملا، جس میں روح کو جسم پر اور اخلاق کو مادی اسباب پر فوقیت دی جاتی تھی۔ علامہ اقبالؒ نے مغرب کے ایک ایک قاہرانہ نظریہ اور پھانسی دینے والے فلسفہ کی دھجیاں بکھیر دیں اور جس طرح کل کے سورج کے ہونے پر انہیں یقین تھا اسی طرح انہیں یقین تھا کہ مغرب اپنے بچھائے ہوئے فریبانہ جھال میں خود الجھ جائے گا اور جس تمدن کو اس نے ترقی اور روشن خیالی کی علامت بنا کر ساری دنیا پر مسلط کیا ہے وہ فنا کے گھاٹ اتر جائے گا؂
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنائے گا ناپائیدار ہو گا

(اقبالؒ)
علامہ اقبال ؒباطل طاقتوں کے خلاف کی جانے والی اپنی جدوجہد میں بھی لوگوں کو وحدت و اتحاد کی دعوت دیا کرتے تھے، اپنے اہم اشعار میں انہوں نے اُمت اسلامیہ کی وحدت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔

علامہ اقبالؒ نے یہ بتایا کہ الٰہی انقلاب کی کامیابی کیلئے اُمت اسلامیہ کے درمیان وحدت و اتحاد کا عملی وجود لازمی ہے آپ تاکید کرتے تھے کہ اسلام ہی مسلمانوں کی تنہا پناہ گاہ ہے اور اُس کے پُرافتخار پرچم کے سایہ میں ہر گروہ کے لوگوں کو ان کا جائز حق حاصل ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر اُمت واحدہ کا تذکرہ کیا گیا ہے اور اس موضوع پر خاصا زور دیا ہے کہ ایک نیک اور پسندیدہ معاشرہ کی حقیقی ترقی میں اُمت واحدہ کا بنیادی کردار ہُوا کرتا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ لفظ اُمت کا اطلاق اس گروہ یا جماعت پر ہوتا ہے جو احکام خداوندی کے آگے سر تسلیم و اطاعت خم کئے ہوئے ایک مقصد اور واحد ارمان کی طرف گامزن ہو۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک محور کے ارد گرد جمع ہونے والی اُمت واحدہ ہوگی متفرقہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبران خداؑ اور رسولان الٰہی نے ہمیشہ ایسے ہی معاشرہ کی تشکیل کی کوشش کی ہے اور ایک اُمت واحدہ کی ایجاد میں اپنے الٰہی ارمانات کی جستجو کرتے رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی وجود کی گہرائیوں میں اس مقصد عظیم کی جڑیں ہیں اور آفرینش کا نظام وحدت و یگانی پہ مبنی ہے ؂
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی اﷲ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان ایک

(اقبالؒ)

علامہ اقبالؒ نے اپنی ملت کا یہی درد تشخیص کیا، اُمت مسلمہ کی دینی تشخیص یہی ہے۔ اقبال ؒ کی خودی خانقاہی نہیں ہے، خودی اقبال یعنی اُمت کی اسلامی تشخیص یہ اقبالؒ کی آرزو تھی، یہ اقبالؒ کادرد تھا، اقبالؒ کے اندر یہ احساس فقط برصغیر کے مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ پوری اُمت کے لئے موجود تھا۔ اقبالؒ اور امام خمینی رضوان ﷲ علیہ درس سے نہیں بنے بلکہ درد سے بنے ہیں، دونوں کے اندر درد تھا اور وہ درد جو انھیں آرام کرنے نہیں دیتا تھا، جس درد نے یہ سارے نالے اقبالؒ سے اگلوائے جس درد نے خمینی ؒ سے یہ فریادیں اگلوائیں یہ درد دونوں کا درد تھا دونوں کی یہ آرزو تھی کہ اُمت کو دوبارہ دینی تشخیص مل جائے۔ علامہ اقبالؒ نے وحدت اُمت پر بہت تاکید کی ہے ان کے اشعار میں جو وحدت کی خوشبو آتی ہے شاید وہ کسی اور کے اشعار میں نہیں ملتی ؂
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں کچھ کام یہاں عقل خداداد

(اقبالؒ)
علامہ اقبالؒ اسلامی معاشرہ میں وحدت و اتحاد کے قائل تھے جو مستحکم اور مقدس بنیادوں پر قائم ہو۔ امام خمینی ؒ فرماتے ہیں قرآن مجید کی تعلیمات پر مبنی اسلامی وحدت کے سایہ میں ہم لوگوں کو متحد رہنا چاہیئے۔ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے کہ آپ لوگ کسی ایک مسئلہ و معاملہ میں متحد رہے اور تفرقہ و اختلافات پیدا نہ کیجئے، بلکہ حکم خداوندی یہ ہے کہ سب لوگ ’’واعتصموا بحبل اﷲ‘‘ کی پیروی کریں۔

انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ نہیں رہا کہ وہ لوگوں کو کسی ایک کام کیلئے متحد کر دیں بلکہ ان کی آمد کا مقصد تمام لوگوں کو راہ حق پر جمع کرنا اور ثابت قدم بنایا ہے۔ علامہ اقبال ؒنے اسلامی معاشرہ میں وحدت پہ کافی زور دیا ہے کیونکہ جب تک کوئی قوم یا ملت متحد ہوکر رہتی ہے تب تک وہ عزت مند، جرائت مند، محفوظ اور مستحکم ہے؂
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

(اقبالؒ )
یہی وہ اتحاد ہے جو مسلمانوں کو حقیقی حیات دے کے نیستی کے ظلمت کدوں سے نور اور روشنی کی رہنمائی کرتا ہے قرآن اور سنت کی روشنی میں اسلامی اتحاد جیسے وسیع تاریخی، اجتماعی اور سیاسی موضوع پہ قلم فرسائی کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی انداز فکر سے قوم و ملت کو بیدار کیا اور اپنی شاعری میں وحدت و اتحاد کا درس دیا۔ اسلامی اتحاد کی ضرورت اسلئے ہے کہ اتحاد خدا کی ایسی مضبوط رسی ہے جس سے گمراہی اور تفرقہ کی ذلت سے نجات ملتی ہے۔ اسلامی اتحاد کی ضرورت اسلئے ہے کہ اس میں اسلام اور مسلمانوں کی شان و شوکت اور کامیابی کا راز پوشیدہ ہے تفرقہ انکی شان و عظمت کو ختم کر دیتا ہے۔ اسلامی اتحاد کی ضرورت اسلئے ہے کہ تفرقہ ڈالنے والوں اور اُمت مسلمہ کو ٹولیوں سے بانٹنے والوں سے پیغمبر اسلام ؐ اور اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وحدت اُمت کی ضرورت اسلئے ہے کہ قرآن کی نظر میں اختلاف اور تفرقہ ایجاد کرنا مشرکوں اور غیر مسلمانوں کا منصوبہ ہے، وحدت اُمت کی ضرورت اسلئے ہے کیونکہ تفرقہ و اختلاف خدا کے عذاب کا سبب بنتا ہے۔ وحدت اُمت کی ضرورت ہے کیونکہ اختلافات سے باطل اور استعماری طاقتیں مسلمانوں کی تقدیر اور سرنوشت پر حاکم ہو چکی ہیں اور ان کے چنگل سے رہائی اور نجات کا راستہ صرف اسلامی اتحاد میں ہی مضمر ہیں، وحدت اُمّت کی ضرورت ہے کیونکہ اختلافات کے سبب کتنی قومیں برباد ہوگئیں اور آج بھی بہت سے اسلامی ممالک اور ملت اسلامیہ کے ہزاروں افراد استعماری اور استکباری طاقتوں کے ہاتھوں مظلوم اور بےقصور ہلاک ہو رہے ہیں۔ وحدت اُمت کی ضرورت اتحاد ہے کیونکہ مسلمانوں کی عزت، سربلندی، حاکمیت، کرامت، صرف کلمہ اتحاد میں ہی پوشیدہ ہے؂
ایک ہو جاتے تو بن جاتے خورشید مبین
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا فائدہ


دنیا کی حقیقت وحدت و وحدانیت کی ترجمان ہے اور دنیا کے ذرہ ذرہ سے یہ آواز اُبھر رہی ہے کہ میں اس سے اور اسی طرف پلٹ کر جانے والا ہوں اور دنیا کے یہ راز و نیاز کسی عقلمند آدمی سے قطعی پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ وہ انسان نادان ہے جو مقصد زندگی کی حقیقت سے ناواقف ہو، جس نے زندگی کی حقیقتوں اور مقاصد کو نہیں پہچانا وہ حق اور باطل کے درمیان قطعی تمیز نہیں کر سکتا اور ایسے ہی لوگوں کو سامراجی اور طاغوتی طاقتیں تفرقہ و اختلاف کا شکار بنا لیا کرتی ہیں وہ اس انحراف کا شکار ہو کر باطل کی طرف پیش قدم ہوجایا کرتا ہے ۔ پس اس سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ دنیاوی نظام کی اصل اور حقیقی بنیاد وحدت و اتحاد ہے اور تفرقہ و اختلافات ایک غیر حقیقی اور عارضی امر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان موجود وحدت و اتحاد نے مشرق و مغرب کے مفاد پرست اور سامراجی پیکر پر ہمیشہ گہری چوٹ لگائی ہے، اسلام دشمن سامراجی طاقتیں ہمیشہ مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہا کرتے ہیں تاکہ یہ اُمت واحدہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ کر کمزور اور مغلوب الحال ہو جائے۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی مظلومی ہی تو ہے کہ آج بین الاقوامی سامراج نے امریکہ کی قیادت کے سایہ میں ہمیں خوفناک مظالم کا نشانہ بنا رکھا ہے اور امریکہ کے پٹھو اسرائیل نے مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کی انتہا کر دی۔ بیت المقدّس قبلہ اول، فلسطین میں نہتے ہوئے مظلوم مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ سے واضح ہے مسلمان ممالک پاکستان، عراق، شام، بحرین، یمن، افغانستان وغیرہ ویران نہ کئے جاتے۔

اگر آج مسلمان عالم متحد ہوتے نہ محکوم ہوتے نہ مجبور ہوتے۔ ہر جگہ مسلمانوں کا خون بہایا نہیں جاتا، ہماری وادی کشمیر جنت بےنظیر میں بھارتی جابر فوج کے ہاتھوں مظلوم عوام کے خون سے ندیاں بہائی نہیں جاتی۔ ٹیئرگیس شیلنگ، پیلٹ گن، فائرنگ سے وادی عزیز کو خون مظلومین سے نہلایا نہیں جاتا۔ بےگناہ لڑکیوں کی عصمت ریزی نہ کی جاتی۔ جولائی ۲۰۱۶ء سے لے کر اب تک ۶۰ عام شہریوں کو شہید نہ کیا جاتا، پیلٹ گن کے قہر سے ۶۵۰ سے زائد زخمیوں کی بینائی متاثر نہ ہوتی ۱۰۰ سے زائد نوجوان عمر کے بینائی سے محروم نہ ہوتے۔ پانچ ہزار سے زائد زخمی نہ ہوتے۔ بڑے افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے، مسلمان عالم خاموش تماشائی بن کے خون ناحق کا نظارہ کر رہے ہیں۔ مظلومین جائیں تو جائیں کہاں ۔۔۔؟ مسلمانوں کی یہ حالت ناگفتہ بہ دیکھ کر پیغمبر اکرم (ص) قبر مبارک میں بھی فریاد رس ہونگے۔ اُمتی اُمتی کی فریادیں دے رہیں ہونگے، قبر اطہر میں بھی بےچین ہونگے، کیا یہ میری وہی امت ہے جس کیلئے میں نے صحابہ کرام ؑ و اپنے خاندان کو قربان کیا۔ اتنی زحمتیں اٹھائیں جو تمام پیغمبروں نے اٹھائی تھی وہ تمام مجھ میں جمع ہوئیں۔اے قائدان حق و حریت اگر آپ اس نازک موڑ پر بھی متحد نہ ہوجاتے پھر کب ۔۔۔۔؟ اگر مقصد ایک ہے تو راستے الگ الگ کیوں ۔۔۔؟ خدارا تحریک حق کے اس نازک موڑ پر’’ حبل اللہ‘‘ کو مضبوطی سے تھام کر و عملی جامہ پہنا کر مظلوم و غیور عوام کی رہنمائی کریں اور اپنا ہدف واضح کریں (پاکستان یا خود مختاری )۔خداوند عالم کے سامنے روز محشر جواب دینا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے وادی کشمیر میں کشمیر کا پرچم لہرانے کی بجائے دوسرے ملک اور داعش کے پرچم لہرائے جاتے ہیں، جو عالمی سطح پر تحریک حق کی غلط ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ بات حق واضح ہے ہر مسلمان ملک سے ہمارا خونی و ایمانی رشتہ ہے، چاہے وہ پاکستان ہو یا افغانستان، عراق ہو یا ایران۔ عوام الناس سے بندہ حقیر کا مخلصانہ التماس ہے اسلام کے اعلٰی اصولوں کو مدنظر رکھ کر عوام کو تکلیفیں نہ دیں۔ پر امن طور پر احتجاج کریں اس احتجاج میں قوت ہوتی ہے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں، کیونکہ مظلوم کی آہ سے آسمان لرزتا ہے ظلم جس جگہ پہ بھی ہو رہا ہے اس کے خلاف آواز بلند کریں کیونکہ مظلوم کی حمایت ظالم سے بیزاری انبیاء کرامؑ، پیغمبران الٰہیؑ کا اسوہ کاملہ رہا ہے، چاہے کسی انسان پر ہی کیوں نہ ہو رہا ہو کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو ۔ دنیا کے کسی بھی گوشے میں کیوں نہ ہو رہا ہو۔ نام نہاد جمہوری ہندوستان میں’’ قبیلہ دلتوں ‘‘ کے خلاف کیوں نہ ہو رہا ہو، اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ دشمن کی ان حالات میں آخری سازش یہ ہے کہ اس تحریک حق کی جہت موڑ کر اسے فسادات کی طرف دھکیل دیا جائے۔ آپس میں فسادات بھڑکائے جائیں، دشمن آپس میں اختلاف ڈالنا چاہتا ہے۔ ان کی پالسیوں کو ناکام کرنے کیلئے اتحاد و اتفاق کا خاص خیال رکھیے ۔اور اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی بھی حکومت یہاں تک کہ نام نہادخانہ شیطانی بزرگ (U.N.O) بھی کچھ نہیں کر سکتا ہے، آج تک U.N.O میں بہت سی قراردادیں resolution بخاطر کشمیر پاس ہوئی ہے لیکن اُن پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔ ہمیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرنی ہے، خداوند عالم پہ بھروسہ رکھنا ہے، اپنا وقار اپنی حیثیت خود منوانی ہے ہندوستان کے کٹھ پتلی حکمرانوں سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیئے۔
ایک ہی سب کا نبی ؐدین بھی ایمان بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان ایک


جنت بے نظیر میں خون کی ندیاں
آؤ کشمیر آباد کرتے ہیں، جہاں پہ پھول کھلتے ہیں
جہاں پر برف پڑتی ہے، جہاں چشمے نکلتے ہیں
جہاں پریوں کی بستی میں اب پیلٹ گن چلتے ہیں
جہاں سرسبز کھیتوں میں لہو کی ندیاں بہتی ہیں
جہاں دہشت کا سایہ ہے جہاں ہر جا جنازہ ہے
جہاں قتل و غارت ہے جہاں پہ موت کا سایہ ہے
جہاں مظلوم رہتے ہیں جہاں محکوم رہتے ہیں
کبھی جنت جو دکھتا تھا اب وہ شمشان لگتا ہے
حریت کے شہیدوں کو حق کے پاسداروں کو آؤ سلام کرتے ہیں
جہاں پہ مظلوم رہتے ہیں جہاں پہ گھر اُجڑتے ہیں
جہاں صنف نازک کی عزتیں لٹتی ہے جہاں پہ خون بہتا ہے
راہ حق کے شہیدوں کو اُجڑے ہوئے گھرانوں کو آؤ سلام کرتے ہیں
خبر کا کوڈ : 742922
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب