0
Tuesday 7 Aug 2018 20:30

امریکی معاشی بدمعاشی

امریکی معاشی بدمعاشی
تحریر: سید اسد عباس

شاہوں کے شاہ، عزت پناہ امریکہ بہادر کے مزاج عالیہ پر ناگوار گزرا کہ پانچ جمع ایک ممالک ایک ایسی ریاست کے ساتھ امن کا معاہدہ کریں، جو عالم پناہ کے تمام احکامات کو من و عن تسلیم نہیں کرتی۔ امریکہ کے نئے فرمانروا جو اپنی شدید ہیجانی کیفیات کی وجہ سے دنیا بھر میں معروف ہیں، انہوں نے عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین ہونے والے عظیم الشان نیوکلیائی معاہدے کو یہ کہ کر کالعدم قرار دے دیا کہ ہم نیا معاہدہ کریں گے، جبکہ تقریباً دو برس کے عرصے میں طے پانے والے اس معاہدے کے بارے میں دنیا کی قیادت کا خیال تھا کہ یہ معاہدہ سفارتکاری کی تاریخ کا عظیم کارنامہ ہے۔ دنیا بھر کے قائدین اس معاہدے کی تعریف کر رہے تھے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین نے اس معاہدے کی توثیق کی۔ ایران اس معاہدے پر مکمل طور پر کاربند تھا، عالمی اداروں نے توثیق کی کہ ایران نیوکلیائی معاہدے کی شقوں پر من و عن عمل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور دیگر ممالک نے ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو بحال کرنا شروع کیا۔ امریکہ نے بھی ایران کے دہائیوں سے منجمد اثاثوں کے بدلے جہاز دینے کا معاہدہ کیا۔

اس معاہدے سے اگر کوئی سیخ پا ہوا تو وہ اسرائیل اور سعودیہ تھے، اسرائیل اس معاہدے کو تاریخ کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتا ہے۔ اوباما اور ان کی حکومت کے ساتھ اسرائیل کی لے دے بھی ہوئی۔ اسرائیل نے بہت کوشش کی کہ امریکہ اور یورپی ممالک کو اس معاہدے سے دور رکھا جائے، تاہم اسے خاطر خواہ کامیابی نہ ملی، جس کا حل ٹرمپ جیسے ہیجانی شخص کی صورت میں نکالا گیا۔ ٹرمپ ابتداء سے ہی اس معاہدے کا مخالف تھا۔ روز اول سے وہ اسرائیل کی زبان بول رہا تھا اور اس نے کہا کہ ہم اس معاہدے کو ختم کر دیں گے، کیونکہ اس کی نظر میں یہ معاہدہ درست نہ تھا۔ ٹرمپ نے نہ صرف عالمی طاقتوں کے دستخط سے جاری کردہ اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر کالعدم کر دیا بلکہ اب وہ ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرچکا ہے۔ اقوام عالم کے سر پر مسلط یہ ریاست معاشی قوت ہونے کے سبب ایسے اقدامات کرسکتی ہے، جس سے کسی بھی ملک کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جاسکے۔ امریکہ نے 1979ء سے لے کر آج تک ایران پر متعدد پابندیاں لگائیں۔ اس کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ایران کی معیشت تنزلی کا شکار ہو جائے۔ اس معاشی تنزلی کا اثر یقیناً عوام پر پڑتا ہے، جس سے حکومت پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ معاشی استحصال آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کو زیر کرنے کا بہترین حربہ ہے۔

ایران کے علاوہ دیگر بہت سے ممالک سرمایہ دارانہ نظام کی ان پابندیوں کا شکار ہیں، کیوبا، وینیزویلا، شمالی کوریا، سوڈاان، لیبیا، عراق، یمن، شام سمیت بہت سے ممالک پر امریکہ کی اقتصادی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف یہ کہ امریکہ سے کسی قسم کا کوئی کاروبار نہیں کرسکتے بلکہ عالمی سطح پر کام کرنے والی کسی بھی کمپنی سے اشتراک کرنے سے قاصر ہیں۔ بینکاری نظام ان کو قبول نہیں کرتا، ملک کی صنعت عالمی منڈی سے بھاری مشینری اور مصنوعات خریدنے سے قاصر ہے۔ ان ممالک کی برآمدات کوئی بھی ملک نہیں خریدنا چاہتا۔ جو بھی ان سے کاروبار کرتا ہے، وہ بھی ان معاشی پابندیوں کی زد پر آتا ہے۔ لہذا دنیا کی کوئی بھی کاروباری صنعت ان ممالک میں ان کے مال کی منڈی ہونے کے باوجود ان کے ساتھ کاروبار نہیں کرتی۔ یہ معاشی استحصال بنیادی طور پر تو حکومتوں کو زیر کرنے کے لئے عمل میں لایا جاتا ہے، تاہم اس سے سب سے زیادہ متاثر کسی بھی ملک کے عوام ہوتے ہیں، جو اس استحصال کا ایک مقصد بھی ہے۔ عوام کو بے چین کرنے کا مقصد ملک میں خلفشار اور بدامنی کو ہوا دینا اور حکومت کے لئے امکانات کو کم ترین کرنا ہے۔

امریکہ نے ایران پر حالیہ دنوں میں دو طرح کی پابندیوں کا اعلان کیا ہے، اس میں کچھ پابندیاں نوے روز کے لئے لگائی گئی ہیں، جس کا مقصد ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو اپنا سرمایہ ملک سے نکالنے اور دیگر کاروباری امور کو ختم کرنے کی مہلت دینا ہے۔ ان پابندیوں کا دوسرا مرحلہ نومبر میں شروع ہوگا، جس کے بعد پابندیاں سخت تر کر دی جائیں گی۔ ان پابندیوں کے سبب ایران کے زرمبادلہ اور برآمدات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کی قالین بافی کی صنعت جس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں، کے لئے یہ پابندیاں ایک دھچکا ہیں۔ اسی طرح ایران کے معدنی ذخائر، سونا، زرعی پیداوار بالخصوص پستہ، تیل، گیس جو کہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں، کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ ایران میں کاروبار کرنے والی فرانسیسی، اٹلی کی کمپنیاں جو کارسازی کے عمل سے جڑی ہوئی تھیں، بھی اپنا کاروبار سمیٹ کر ایران سے چلی جائیں گی۔ ہوا پیمائی کے شعبے میں ایران کو ملنے والے جہاز جو فرانس اور امریکہ سے ایران کو موصول ہونے تھے، ان پابندیوں کے بعد ایران کو نہیں مل سکیں گے۔ اسی طرح امریکی جہاز ساز کمپنی کے طیارے بھی ایران نہیں آسکیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک خصوصی طور پر پانچ جمع ایک معاہدے میں شریک ممالک کو دھمکی دی ہے کہ وہ ممالک جو ایران کے ساتھ کاروبار کریں گے، وہ امریکہ کے ساتھ کاروبار نہیں کرسکیں گے۔

یہ یقیناً ایک مشکل صورتحال ہے، امریکہ عالمی تجارت کی ایک اہم منڈی ہے، بہت سے ممالک اور ان ممالک کی کمپنیاں امریکہ میں کاروبار کرتی ہیں اور امریکی مارکیٹ سے کثیر منافع کماتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے کہ وہ ایران اور امریکہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ ایرانی کرنسی گذشتہ چند ماہ میں اپنی قدر سے آدھی قیمت پر آچکی ہے۔ اب ریال سے ڈالر یا ڈالر سے ریال نہیں خریدا جاسکتا ہے۔ ہندوستان جو ایرانی خام تیل کا ایک بڑا خریدار ہے، اسے بھی ان پابندیوں کے سبب خام تیل کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اگرچہ ایران اور ہندوستان کے مابیین روپیہ اور بارٹر سسٹم کا معاہدہ ہے، تاہم اس کے باوجود خام تیل کے حصول میں انڈیا کو مشکلات ہوسکتی ہیں۔

ایران ان پابندیوں سے کیسے نمٹتا ہے، اس کے لئے ایران کی گذشہ چار دہائیوں کی تاریخ کو دیکھنا ہوگا۔ ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود ایرانی قوم نے اپنے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آٹھ برس کی جنگ، سیاسی قیادت کا مکمل خاتمہ بھی ایرانی قوم کا کچھ نہ بگاڑ سکا بلکہ الٹا یہ قوم اپنے قدموں پر کھڑی ہوئی۔ وہ اشیاء جو ملک میں درآمد کی جاتی تھیں، ایران نے انہیں خود پیدا کرنا شروع کیا۔ ایران ان تازہ پابندیوں سے کیسے نمٹتا ہے، یہ تو بہرحال وقت ہی بتائے گا، تاہم یہ پابندیاں تیسری دنیا کے سب ممالک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ کوئی بھی آزادی پسند ملک ان پابندیوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ آج اقوام عالم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے، اگر وہ متحد نہ ہوئے تو کوئی بھی طاقتور معاشی استحصال کے ذریعے ان سے حق حکمرانی، حق آزادی اور اقتدار اعلیٰ چھین سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 743117
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب