0
Tuesday 14 Aug 2018 20:50

نظریہ پاکستان سے آزادی

نظریہ پاکستان سے آزادی
تحریر: سید اسد عباس

آج پاکستانی قوم اپنا 71واں جشن آزادی منا رہی ہے ۔آزادی کی نعمت کو وہی سمجھ سکتا ہے جسے یہ میسر نہیں ہے یا جس نے قربانی دے کر اسے حاصل کیا ہو۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان، فلسطین کے شہری آج اس نعمت کو ترستے ہیں۔ زندگیاں تو ان کی بھی گزر رہی ہیں تاہم اپنی زندگیوں پر ایک خاص حد سے زیادہ ان کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ جب سے دنیا میں معاشی استحصال کا آغاز ہوا ہے، بہت سے ممالک جو ظاہرا آزاد بھی ہیں کی بہت سی آزادیاں سلب ہو چکی ہیں۔ معاشی طور پر طاقتور قوتیں دوسروں پر معاشی پابندیاں لگا کر ان کی آزادیوں کو سلب کرتی رہی ہیں۔ بعض کو معاشی مراعات دے کر اپنا کاسہ لیس بنایا جاتا ہے۔ یہ بھی آزادی اقوام کو سلب کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ ہمارا وطن پاکستان بہت عرصے سے انہی مراعات کے سبب اپنی بہت سی آزادیاں کھو چکا ہے ۔ ہم اپنے وسائل کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے سے قاصر ہیں، بعض موارد میں ہم عالمی فیصلوں میں ان قوتوں کے خلاف نہیں جا سکتے جو ہمیں مدد کرتی ہیں۔ اگر جائیں بھی تو ہمیں پابندیوں کا خدشہ رہتا ہے، یعنی خارجہ معاملات میں ہم مجبور ہیں ۔ہماری خارجہ پالیسی غلامی کا شکار ہے۔ ہماری اقتصادیا ت پر آئی ایم ایف کا قبضہ ہے۔ اشیائے ضرورت پر ٹیکسوں سے لے کر دیگر بڑے اخراجات کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے حکم نامے پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

یہ وہ پاکستان ہرگز نہیں ہے جو قائداعظم محمد علی جناح بنانا چاہتے تھے۔ ہم نے 1947 سے 1952 تک کبھی کسی ملک سے قرض نہ لیا۔ پاکستان اس دور میں نہایت مشکل حالات سے گزرا۔ حکومت کے پاس سرمایہ اور وسائل نام کو نہیں تھے، پناہ گزینوں اور مہاجرین کے قافلے اس پر مستزاد تھے، ان تمام چیلنجز سے نمٹنے اور امور سلطنت کو چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے آتا تھا یہ سوال اہم ہے جس کا جواب آج تک ہم نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کس نے پاکستان کے پہلے بجٹ کے لیے خطیر رقم مہیا کی، کس نے پناہ گزینوں کے لیے مالی امداد کی اور اس کا باقاعدہ منظم سلسلہ بنایا، کس نے اداروں کو تشکیل دیا۔ بینکاری کا پاکستان میں کیسے آغاز ہوا ،کتنے سرمائے سے پہلا بینک بنا۔ پاکستان کی فضائی کمپنی کیسے وجود میں آئی اسے بنانے والا اور اس کے لیے سرمایہ مہیا کرنے والا کون تھا۔ افواج پاکستان کیسے منظم ہوئی اس کے لیے ہتھیار کہاں سے آئے۔ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جس میں ہمارے بہت سے مسائل کا حل موجود ہے، لیکن ہم نے ان سوالات کو جان بوجھ کر طاق نسیاں پر رکھا تاکہ ہمیںیا ہماری آنے والی نسلوں کو نہ معلوم ہوسکے کہ یہ لٹا پھٹا کارواں کس طرح سے ایک مرتبہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہوا۔ 

میں فقط اس قدر کہوں گا کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ اپنے وسائل سے کیا تھا۔ سیٹھ محمد حبیب، مرزا احمد اصفہانی، مرزا ابو الحسن اصفہانی، سر آدم جی، راجہ صاحب آف محمود آباد وہ شخصیات ہیں جنھوں نے اپنا مال اس وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کیا۔ ان میں سے بعض نے تو اپنا سب کچھ لگا کر اس ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کیا اور خود انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے دار فانی سے کوچ کر گئے۔ بہرحال پاکستان وہ سرزمین ہے جو ہمارے پرکھوں نے اسلام کے نام پر حاصل کی تھی۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ۔تاہم قرض کی لعنت نے ہمیں اس نعرے کے سامنے بھی شرمندہ کر دیا۔ ہمارے بزرگ اس ریاست کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان ایک عظیم نظریاتی ریاست کے طور پر اقوام عالم میں اپنا مقام حاصل کرے اور مظلوموں کی حامی و ناصر ہو ۔ قیام پاکستان سے قبل ہی قائد اعظم محمد علی جناح نے مسئلہ فلسطین پر اپنا واضح موقف دیا تھا ۔انھوں نے امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم اور دنیا بھر کے قائدین کو یہ باور کروایا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان دنیا میں ہونے والے کسی بھی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھیں گے کجا یہ کہ ان کے ہی کسی برادر اسلامی ملک کے خلاف ظلم اور ناانصافی ہو۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین کے ٹیلی گرام کے جواب میں لکھا: دنیا کا ہر مسلمان مرد و زن بیت المقدس پر یہودی تسلط کو قبول کرنے کے بجائے جان دے دیگا، مجھے توقع ہے کہ صیہونی اپنے شرمناک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ میں خواہش کرتا ہوں کہ امریکہ اور برطانہ ان کی پشت سے ہاتھ اٹھائیں پھر دیکھتا ہوں صہیونی کیسے بیت المقدس پر قبضہ کرتے ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے موقف جس کا اظہار انھوں نے متعدد تقاریر ، قراردادوں میں کیا۔ نہ صرف قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور اسی درجے کے کئی ایک قائدین عالم اسلام کے مسائل کے حوالے سے نہ فقط آگاہ تھے بلکہ اس میں انتہائی بھرپور اور موثر کردار ادا کرتے تھے۔ تحریک خلافت برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کا حمایت مسلمین کے حوالے سے ایک اہم باب ہے۔ اسی طرح قائدین تحریک آزادی نے حجازپر آل سعود کے قبضے کے حوالے سے بھی اپنا واضح موقف نہ فقط پیش کیا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے۔ آج ہماری ریاست اس نظریاتی ڈگر سے ہٹ چکی ہے جس کا خاکہ ہمارے بزرگوں نے پیش کیا تھا۔ نہایت افسوس اور بھاری دل کے ساتھ یہ الفاظ تحریر کر رہا ہوں کہ ہماری پاک افواج کا ایک سالار اس لشکر کی سربراہی کر رہا ہے جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں۔ جس کے ہاتھوں پر معصوم بچوں کے خون کے دھبے ہیں۔ جس کی وردی ان بے جرم بچوں کے چیتھڑوں سے اٹی ہوئی ہے۔یہ قائداعظم کا پاکستان نہیں ہے نہ ہی یہ قائداعظم کا نظریہ تھا۔ نہایت بوجھل دل کے ساتھ تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک۔
خبر کا کوڈ : 744632
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب