0
Saturday 18 Aug 2018 17:43

جہالت کے پروردوں کے خلاف قیام کی ضرورت

جہالت کے پروردوں کے خلاف قیام کی ضرورت
تحریر: ارشاد حسین ناصر

پاکستان کے انتہائی حساس ایریا یعنی گلگت بلتستان میں جہالت کے پروردوں نے ایک کاروائی میں ضلع دیامر میں لڑکیوں کے بارہ اسکولز کو گرا دیا، ان کو جلایا، ان کی تخریب کی اور بڑے آرام سے فرار ہوگئے، گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت ہے، جس کا جھکاؤ شدت پسند عناصر کی طرف رہا ہے، لڑکیوں کے ان اسکولز کی تخریب ایسے وقت میں ہوئی جب یہاں کوئی اسکول کھلا نہیں تھا وگرنہ جانی نقصان کا بھی اندیشہ تھا، ماضی میں سوات ویلی میں دہشت گردوں نے سینکڑوں سکولوں کو بم دھماکوں اور بارود سے اڑا دیا تھا اور پشاور کے آرمی پبلک سکول، کئی یونیورسٹیز میں کی جانے والی سفاکانہ کاروائیاں تو بھلائی ہی نہیں جا سکتیں، جن میں کئی معصوم اور بے گناہ طالبعلم جان گنوا بیٹھے۔ دہشت گردوں کے بارے یہی کہا جاتا ہے کہ انکا کوئی مذہب اور دین نہیں ہوتا یہ جن کے پے رول پہ ہوتے ہیں، ان کا ایجنڈا ہوتا ہے، جسے یہ پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں، پاکستان میں ان گرلز سکولوں کی تباہی کا نوحہ ابھی پڑھا جا رہا تھا کہ یمن میں ایک سکول بس کو سعودی اتحاد کی بمباری نے نشانہ بنایا اور اس میں بیسیوں بچے جو پکنک منا کے آ رہے تھے، چیتھڑوں میں بدل گئے، یہ انتہائی سفاکیت اور بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے سعودی حکمرانوں کے جرائم میں ایک اور اضافہ کہا جا سکتا ہے۔

یمن کے معصوم بچوں کی چیخ و پکار ابھی کانوں میں سنائی دے رہی تھی کہ پاکستان کے ہمسائے افغانستان میں ایک شیعہ اسکول مکتب موعود میں میں دہشت گردوں کے خود کش حملہ سے بیسیوں معصوم جو زیور تعلیم سے آراستہ ہونے گئے تھے، خون میں لت پت کر دیئے گئے، تعلیم و علم دشمنوں کی یہ کاروائی داعش نامی معروف سفاک گروہ نے انجام دی، طالبان افغانستان نے اس کاروائی سے لاتعلقی کا علان کیا، جہالت کے پروردہ اور عالمی استعمار کے آلہ کار نام نہاد اسلام کے یہ علمبردار آل سعود کی سربراہی اور سرپرستی میں پہلے شام و عراق میں تباہی کا ساماں لیکر آئے اور ان دو مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجائی، یہاں کے لاکھوں لوگوں کو زندگی اور ان کے گھروں سے محروم کرنے کا باعث بنے اور سفاکیت کی ایسی ایسی مثالیں سامنے لائے، جو اس سے پہلے کسی نے نا دیکھیں تھیں، اگر ہم ایک نظر مشرق وسطی پر دوڑائیں تو مسلمانوں کے قلب یعنی فلسطین بیت المقدس میں جو سفاکیت اور تباہی و بربادی اسرائیل لا رہا ہے وہ امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایک طرف تو اسرائیل اہل فلسطین پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دوسری جانب کشمیر میں ہندو بنیا بے گناہ و معصوم کشمیری بھائیوں، بہنوں کو اپنے جبر کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔

کوئی دن خالی نہیں جاتا جب ان علاقوں میں مسلمان بہنوں کی عزتیں پائمال نا ہوتی ہوں، کوئی دن خالی نہیں جاتا، جب مسلمان گھروں اور بستیوں کو آگ سے جلایا نا جاتا ہو، ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آل سعود اپنے اکتالیس ملکی اتحاد کیساتھ بے گناہ و معصوم، نہتے یمنی مسلمانوں کو آئے روز جنگی طیاروں کے ذریعے کارپٹ بمباری سے تباہ و برباد کر رہا ہے، مارچ 2015ء سے لیکر اب تک ہزاروں معصوم یمنی اس جارحیت و بدترین سفاکیت کا نشانہ بن چکے ہیں، انسانی حقوق کی پائمالی روز کا معمول ہے، مسلط کردہ جنگ میں روزانہ کسی سکول، کسی مدرسہ، کسی شادی، کسی جنازہ کسی اجتماع کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں نہتے، معصوم عوام مرد و زن، بچے خون میں لت پت کر دیئے جاتے ہیں، رہائشی ایریاز میں کی جانے والی بمباری کے نتیجہ میں شہر کے شہر اجڑ گئے ہیں، بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں اور ظلم کا یہ عالم کہ ان معصوم و نہتے مسلمانوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں، نا اقوام متحدہ میں اس ظلم و جارحیت کے خلاف اقدامات اٹھانے کی جرات ہے، نہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اور ادارے دنیا میں اتنے سفاک اور دردناک مناظر پر نیند سے بیدار ہوئے ہیں، عالم اسلام کی تو بات ہی الگ ہے، عالم اسلام تو عالمی استعمار اور امریکہ کی غلامی اختیار کر چکا ہے، جس کے حکمران اپنی کرسی بچانے کیلئے امریکی حکم کی بجاآواری اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔

اگر عالم اسلام کے حکمرانوں میں غیرت ہوتی تو فلسطین کے مظلوم مسلمان ستر برس سے زائد عرصہ سے یوں دربدر نا ہوتے اور انہیں ان کے آبائی وطن سے بے دخل کرنے کی جرات اسرائیل میں نہ ہوتی،افسوس تو یہی ہے کہ عالم اسلام کے حکمران استعمار کے پٹھو بن کر اپنے بھائیوں پر ہونے والے مظالم پہ خاموشی اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ یمن گذشتہ چالیس ماہ سے آل سعود کی لگائی ہوئی آگ میں مسلسل جل رہا ہے، اس کے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہو کر مر رہے ہیں، اس کے سکول آئے روز سعودی، اماراتی اور اتحادی طیاروں کی بمباری کا شکار ہوتے ہیں، جن میں معصوم بچوں کو چیتھڑوں میں بدل دیا جاتا ہے، اس کے شہر سعودی محاصرے میں ہیں جن تک بنیادی انسانی ضروریات اور خوراک پہنچانا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا کوئی قصور نہیں، ان کا قصور اگر ہے تو غیرت ہے، ان کا قصور اگر ہے تو حریت ہے، انکا قصور اگر ہے تو حمیت ہے، ان کا قصور اگر ہے تو آل سعود کا پٹھو نا بننا ہے، اس لیے کہ جب تک یمن کے حکمران آل سعود کے پٹھو بنے رہے ان پر کوئی جنگ مسلط نہیں تھی، جب سے یمنی مسلمانوں نے آل سعود سے آزادی کا شعار بلند کیا اس وقت سے ان پر یلغار ہے، ان کا شعار اللہ اکبر ہے، الموت الاسرائیل ہے، الموت الامریکہ ہے، ان کا شعار شہادت ہے، ان کا شعار استقامت ہے، ان کا شعار مقاومت ہے، ان کا شعار ولایت ہے، ان کا شعار عزت ہے، یمنی غیرت مند قوم ہیں اور غیرت سے جینا چاہتے ہیں، یہ غریب ضرور ہیں، بے دست و پا ہیں، وسائل نا ہونے کے برابر ہیں مگر ان کی مشقت، محنت، سختیاں برداشت کرنے کی استقامت، مصائب جھیلنے کا حوصلہ بے مثال ہے، اب تک ان کے ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، مگر انہیں جھکایا نہیں جا سکا نا ہی ایسا ممکن ہے۔

ہاں! اس مسلط کردہ جنگ و جارحیت سے آل سعود، امارات، ان کے اتحادیوں کے چہروں سے نقاب الٹ چکی ہے، یہ خونخوار اور عالمی بدمعاش ناکامیوں سے دوچار ہیں، انہیں بے گناہ و معصوم بچوں کو چیتھڑوں میں تبدیل کرنے کی سزا ضرور ملے گی، یمنی قوم کبھی جھکنے والی نہیں۔۔ہاں۔۔ مگر۔۔ آل سعود، اسرائیل اور امریکہ جیسے خونخواروں کو بے نقاب کر کے دنیا پر واضح کر چکی ہے کہ اسلحہ نا بھی ہو تو غیرت و حمیت سے جنگیں جیتی جا سکتی ہیں، لاشیں اٹھا کے بھی فتح کا جشن منایا جا سکتا ہے، گھروں کو تاراج کروا کے بھی دشمن کو رسوا کیا جا سکتا ہے۔ اے دنیا کے منصفو، اے دنیا کے انسانی حقوق کے علمبردارو۔۔۔۔یمن کے مظلوموں کی چیخیں تمہیں کیوں سنائی نہیں دیتیں، معصوم یمنی بچوں کے سکول بیگز اور کتابوں پر ان کے نازک بندوں کے چیتھڑوں اور خون کے دھبے تمہیں کیوں دکھائی نہیں دیتے، اے امت مسلمہ، اے اسلام کے نام پر بنائے گئے گروہوں اور جماعتوں تم ان معصوم بچوں کی حمایت میں کیوں باہر نہیں نکلتے، کیا تمہیں خدا کے سامنے جواب نہیں دینا،کیا تمہارا ضمیر بھی مردہ ہو چکا ہے، کیا سعودی تیل کی دولت اور ریالوں نے تمھارے اندر سے غیرت و حمیت اورحق و باطل کی پہچان ختم کر دی ہے؟

قرآن پکار رہا ہے کہ۔۔۔۔۔بای ذنب قتلت
انہیں کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے؟ القرآن

اے غیرت مند مسلمانو!اے حمیت کے وارثو، اے ظالم کے دشمنو۔۔۔اٹھو، ظلم کا ہاتھ توڑ دو، ظالم کو نابود کر دو، سفاکیت اور جہالت کے پروردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دو، جگر خواروں کی اولادوں کو ان کی اصلیت یاد کرا دو، مظلوموں کی صدائے استغاثہ پر لبیک کہو اور مظلوم فلسطینیوں، کشمیریوں اور بالخصوص یمنی بے آسرا مسلمانوں کی آواز کو دنیا تک پہنچا دو، ایسا نا ہو کہ تمہارا نام بھی ظالموں کی فہرست میں شامل ہو جائے، ایسا نا ہو کہ تم بھی جہالت کے پروردوں کے ساتھ شمار کیئے جاؤ۔
 
خبر کا کوڈ : 745230
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب