0
Sunday 26 Aug 2018 20:54

شام عظیم ترین علاقائی اور عالمی فتح کے قریب

شام عظیم ترین علاقائی اور عالمی فتح کے قریب
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی

شام ایک "بنیادی تبدیلی" کے آغاز پر کھڑا ہے۔ یہ تبدیلی اندرونی پہلو کی حامل ہے اور اس کے بانیان میں سب سے پہلے خود شام کی ملت اور حکومت شامل ہیں اور اس کے بعد اسلامی مزاحمتی بلاک اور وہ علاقائی طاقتیں ہیں جنہوں نے گذشتہ چھ برس میں شام میں جاری سکیورٹی بحران کے دوران اس کی علاقائی سالمیت، شام کی خود ارادیت اور حاکمیت کے خلاف بیرونی مداخلت کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنے اور غیر ملکی دہشت گرد عناصر کی شکست اور نابودی کی خاطر عملی اقدامات انجام دیئے ہیں۔
 
لیکن ٹھیک ایسے وقت جب مدمقابل قوتوں کو شام میں ایک خودمختار حکومت کی جگہ منحصر حکومت لانے کیلئے گذشتہ تقریباً دس سال کے دوران ضائع ہونے والے تمام اخراجات اور محنتوں کا جواب دینا چاہئے، وہ بعض الفاظ کی مدد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بعض قراردادوں کو بنیاد بنا کر اور بعض بے اثر سیاسی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اس سیاسی تبدیلی کو ایک طرف شام حکومت اور اسلامی مزاحمتی بلاک کے نقصان میں اور دوسری طرف اپنے نقطہ نظر کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
 
شام ایک سیاسی تبدیلی کے دروازے پر بھی کھڑا ہے۔ وہاں سیاسی تبدیلی یہ ہے کہ شام آرمی اور اسلامی مزاحمتی بلاک "ادلب" کے گرینڈ آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ شام کا صوبہ ادلب وہ واحد صوبہ ہے جو اس وقت بیرونی قوتوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے قبضے میں باقی رہ گیا ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں شام نے صوبہ لاذقیہ کے شمال مشرقی حصوں میں فوجی دستے بھیج دیئے ہیں اور اس صوبے کے جنوب میں بھی بھرپور فوجی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس ممکنہ آپریشن نے شام میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی بیرونی حامی قوتوں اور خود دہشت گرد عناصر میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ صوبہ ادلب میں موجود اکثر دہشت گرد عناصر کا تعلق النصرہ فرنٹ اور داعش سے ہے۔
 
دہشت گرد گروہوں کے حامی ممالک کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آنا کہ صوبہ ادلب میں فوجی آپریشن حالات کی پیچیدگی میں اضافے کا باعث بنے گا اور یہ کہ سیاسی سمجھوتے کے حصول تک شام آرمی کو صبر کرنا چاہئے، ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپریشن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح النصرہ فرنٹ اور داعش کی آپریشنل ٹیموں کا تیزی سے صوبہ ادلب کے شمال اور پھر جنوب کی جانب منتقلی بھی ان کی شدید پریشانی کی علامت ہے۔ اس ممکنہ فوجی آپریشن اور اس سے متعلق امور کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ صوبہ ادلب شام کے شمال مغرب میں واقع ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس کی موجودہ آبادی 25 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس صوبے میں موجود دہشت گرد عناصر کی تعداد 1 لاکھ کے قریب ہے جن کا 50 فیصد حصہ النصرہ فرنٹ سے وابستہ ہے اور باقی عناصر بھی مختلف دہشت گرد گروہوں جیسے "فیلق الشام" اور "احرار الشام" میں شامل ہیں جو النصرہ فرنٹ یا القاعدہ کے ذیلی گروہ ہیں جیسا کہ خود النصرہ فرنٹ بھی درحقیقت شام میں القاعدہ کی شاخ اور ذیلی گروہ تصور کیا جاتا ہے۔ ادلب میں دہشت گرد گروہوں کی ترکیب دو نکات کی یاددہانی کرواتی ہے۔
 
پہلا نکتہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں منظور ہونے والی تمام قراردادوں، جنیوا مذاکرات، آستانہ مذاکرات، سوچی مذاکرات اور دیگر تمام سیاسی مذاکرات کی رو سے یہ گروہ (النصرہ فرنٹ، فیلق الشام، احرار الشام، داعش) دہشت گرد قرار دیئے گئے ہیں اور ان کی مکمل نابودی تک بھرپور فوجی کاروائی پر زور دیا گیا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر صوبہ ادلب کو عرب خطے میں اپنی بقا کا آخری مورچہ سمجھتے ہیں اور ادلب سے ان کا مکمل صفایا درحقیقت پورے عرب خطے سے ان کی مکمل نابودی کے مترادف ہے، اور اس کا مطلب اس منحوس سازش کی مکمل ناکامی اور شکست ہے جو تقریباً دس سال پہلے بعض علاقائی اور بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل خطے کے عرب ممالک کے خلاف شروع کی گئی تھی۔
 
2)۔ اگرچہ شام آرمی اور اس کے علاقائی اتحادی اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاص صلاحیتوں اور توانائیوں کے مالک بن چکے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ ادلب میں فوجی آپریشن کی راہ میں مشکلات بھی پائی جاتی ہیں۔ ایک مشکل علاقے کی پیچیدہ اور مشکل جغرافیائی صورتحال ہے۔ صوبہ ادلب پہاڑی اور جنگلی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں فوجی آپریشن قنیطرہ یا ریف دمشق جیسی سہولت سے انجام پانا ممکن نہیں۔ مزید برآں، اس وقت 25 لاکھ افراد اس صوبے میں مقیم ہیں جو البتہ شام کے دیگر شہریوں سے زیادہ دہشت گرد عناصر کی اذیت و آزار کا نشانہ بن رہے ہیں لیکن اتنی بڑی آبادی بذات خود شام آرمی کے ملٹری آپریشن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کی جاتی ہے کیونکہ شام کی قانونی اور عوامی حکومت ہر شامی شہری کی جان محفوظ بنانے میں ذمہ داری کا احساس کرتی ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران اس بارے میں شام حکومت نے انتہائی قیمتی تجربات حاصل کئے ہیں۔
 
3)۔ امریکہ اور ترکی صوبہ ادلب میں شام آرمی کے فوجی آپریشن کی واضح طور پر مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ یہ آپریشن ایک طرف شام میں موجود ان دونوں ممالک کے فوجیوں کے انخلاء کا مقدمہ فراہم کر دے گا جو گذشتہ دو سال سے شام کی قانونی حکومت کی اجازت کے بغیر اس ملک کے شمالی حصوں میں لشکرکشی کرنے میں مصروف ہیں اور دوسری طرف صوبہ ادلب سے دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کے بعد یہاں شام حکومت کی رٹ قائم ہو جائے گی جس کے باعث شام حکومت پر اپنی مرضی کے فیصلے ٹھونسنا ناممکن ہو جائے گا۔ درحقیقت ادلب آپریشن کی تکمیل ان مختلف قسم کی سازشوں کا خاتمہ ثابت ہو گی جو مغربی طاقتوں نے اپنے علاقائی پٹھو حکمرانوں کی مدد سے شام کے خلاف شروع کر رکھی ہیں۔
 
ترک حکومت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ادلب میں شام آرمی کا فوجی آپریشن آستانہ اور سوچی مذاکرات میں منظور شدہ ان پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے جن میں جلاوطن افراد کی وطن واپسی آسان بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ ترک حکمران کہتے ہیں کہ صوبہ ادلب میں فوجی آپریشن مہاجرین کی نئی لہر جنم لینے کا باعث بنے گا لہذا وہ اس علاقے میں کسی بھی فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی سرزمین کے کچھ حصے پر مسلح باغی عناصر کا قبضہ اور کنٹرول برداشت نہیں کر سکتا۔ اسی طرح آستانہ، سوچی اور دیگر سیاسی مذاکرات میں کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ شام حکومت اپنے ملک کے اندر مسلح دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوجی کاروائی کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
 
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تقریباً دو سال قبل شام سے متعلق منظور ہونے والی قرارداد نمبر 2254 میں النصرہ فرنٹ، داعش، القاعدہ اور کسی بھی نام سے فعالیت کرنے والے ان تین دہشت گردانہ نیٹ ورکس کے ذیلی گروہوں کا نام لے کر اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان کی مکمل نابودی اور خاتمے کیلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہ کریں۔ درحقیقت شام حکومت ذاتی طور پر اور حتی مذکورہ بالا مذاکرات میں بیان شدہ مطالب کی بنیاد پر یہ حق رکھتی ہے کہ دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں گرفتار اپنے 25 لاکھ شہریوں کی نجات کیلئے نیز اپنی سرزمین کا ایک حصہ خطرناک مسلح باغی گروہوں کے قبضے سے چھڑوانے کیلئے موثر فوجی اقدام انجام دے۔ شام حکومت اس وقت پوری سنجیدگی سے اس فوجی اقدام کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔
 
4)۔ بعض موصولہ خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترک حکومت نے النصرہ فرنٹ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو مشورہ دیا ہے کہ اپنے نام تبدیل کر لیں اور نئے ناموں سے فعالیت کا آغاز کر دیں۔ دوسری طرف ایک ایسی خبر بھی ملی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک حکومت صوبہ ادلب میں سرگرم دہشت گرد گروہوں سے مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ ان سب گروہوں کو ایک نام کے تحت متحد ہو کر بڑا اتحاد تشکیل دینے پر راضی کر سکے اور اس طرح ادلب میں ان کی پوزیشن مضبوط بنا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نام کی تبدیلی ان دہشت گرد گروہوں کے طرز عمل میں تبدیلی نہیں لا سکتی اور یہ گروہ بدستور شام کے مظلوم شہریوں اور حتی خطے کیلئے خطرے کا باعث بنتے رہیں گے۔
 
روسی خبررساں ادارے اسپوتنیک سمیت کئی ذرائع سے گذشتہ چند روز کے دوران شائع ہونے والی خبروں میں بیان ہوا ہے کہ ادلب میں ترک حکومت اور دہشت گرد گروہوں کے سربراہان کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ان دہشت گردوں کو خطرناک قسم کا اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ اس خبررساں ادارے نے گذشتہ سال جولائی میں ادلب میں رونما ہونے والے حادثے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اطمہ" کی ایک ورکشاپ میں زہریلی گیس کلورین پر مشتمل ایک پلاسٹک کی بیرل پھٹ گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ان دنوں ترکی جس پالیسی پر گامزن ہے وہ ایک طرف ادلب میں شام آرمی کی جانب سے ملٹری آپریشن نہ کئے جانے کے دلائل فراہم کرنے اور دوسری طرف شام میں دہشت گرد عناصر کی پوزیشن مضبوط بنانے پر استوار ہے۔
 
آستانہ مذاکرات میں تین "ضامن" ممالک کے طور پر اپنے ذمے لی گئی ذمہ داریوں کی روشنی میں ترک حکومت کو چاہئے کہ وہ ادلب میں دہشت گرد عناصر کے خاتمے میں شام حکومت کی مدد کرے۔ اس سے پہلے بھی ترکی نے شام کے شمالی شہر "عفرین" پر لشکرکشی کے ذریعے فوجی قبضہ کر کے آستانہ مذاکرات کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے کیونکہ ان مذاکرات کی رو سے ترکی کا یہ اقدام شام کی سکیورٹی صورتحال کی شدت میں اضافے کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔ ترک حکومت کے حالیہ اقدامات خاص طور پر جنیوا میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کی جانب سے ادلب میں شام حکومت کے ملٹری آپریشن کی مخالفت پر مبنی بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادلب سے دہشت گرد عناصر کی نابودی کے فوراً بعد اس کے فوجیوں کو یہ علاقہ چھوڑ کر واپس جانا پڑے گا۔
 
 5)۔ شام میں امریکہ کو بہت بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کئی پہلووں پر مشتمل ہے۔ امریکی حکام نے گذشتہ دو سالوں کے دوران شام کے کرد باشندوں کو استعمال کیا اور اس طرح اپنے لئے شام میں جگہ بنانے کی کوشش کی تاکہ شام کی سیاسی صورتحال پر اثرانداز ہو سکیں۔ وہ جلد ہی ایک طرف کرد باشندوں کی حمایت کرنے اور دوسری طرف نیٹو کا رکن ملک ہونے کے ناطے ترکی کی حمایت جاری رکھنے میں شدید تضاد اور مشکلات کا شکار ہو گئے اور آخرکار ترکی کے حق میں پیچھے ہٹنے اور کردوں کی حمایت ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ لیکن اس کا بھی امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اس کا نتیجہ شام میں ترکی کی پوزیشن مضبوط ہونے کی صورت میں نہیں نکلا اور امریکہ اور ترکی دونوں شام میں سیاسی اثرورسوخ قائم کرنے میں ناکام رہے۔
 
دوسری طرف امریکہ کی جانب سے کرد باشندوں سے غداری اور وعدہ خلافی کا نتیجہ کرد باشندوں کا شام کی مرکزی حکومت سے قریب ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وقت کرد باشندوں اور شام حکومت کا ملک سے امریکہ اور ترک فوجیوں کے انخلاء کے بارے میں واحد موقف ہے اور دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جلد از جلد امریکہ اور ترکی اپنے فوجیوں کو شام سے باہر نکال لے۔ اسی طرح کرد حکام اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ خود کو درپیش مسائل حل کرنے کا بہترین طریقہ براہ راست شام کی مرکزی حکومت سے بات چیت اور سمجھوتہ ہے۔ گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ نے شام سے فوجی انخلاء کی بات کی ہے اور حتی ڈونلڈ ٹرمپ جنہوں نے اپریل میں شام کو فوجی حملوں کا نشانہ بنایا ابھی دو دن پہلے اس حقیقت کا اعتراف کرتے نظر آئے کہ مغربی ایشیا میں امریکہ کی فوجی موجودگی ابتدا سے ہی غلط پالیسی تھی۔
 
6)۔ ان دنوں امریکی حکام، اقوام متحدہ کے اعلی سطحی عہدیداران اور روسی حکام شام میں نیا آئین تشکیل دینے کی کمیٹی بنانے اور اس کے بعد شام میں نئی حکومت کی تشکیل کی باتیں کر رہے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ یہ موضوع وضاحت کا محتاج ہے جس کیلئے ایک الگ کالم تحریر کرنے کی ضرورت ہے اور ہم انشاءاللہ مستقبل قریب میں اس بارے میں تحریر پیش کریں گے۔ مختصر طور پر یہ کہ سوچی اور آستانہ میں منعقد ہونے والے اجلاسوں میں اس حوالے سے واضح بحث انجام نہیں پائی اور اس کے مختلف پہلو ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ اس بارے میں شام حکومت سرکاری طور پر اعلان کر چکی ہے کہ اگر بالفرض شام کو نئے آئین کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس بارے میں کسی دوسرے ملک حتی ضامن ممالک (ایران، روس، ترکی) کو آستانہ مذاکرات میں اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ یہ شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہو گی۔ یہ وہ موقف ہے جس کی حمایت اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی کی ہے اور ہماری نظر میں اس بارے میں صرف شام حکومت کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
 
7)۔ شام میں ان دنوں واضح طور پر جس چیز کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے وہ اسلامی مزاحمتی بلاک کی رکن حکومت کے خاتمے کیلئے انجام پانے والی تمام بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کی شکست اور ناکامی ہے۔ یہ شکست امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، قطر، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور ترکی کیلئے شدید نتائج کی حامل ہو گی۔ ایک مضبوط اور مستحکم شام جو اتنی دفاعی طاقت رکھتا ہے کہ اپنے مدمقابل طاقتور محاذ کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہو سکتا ہے، اسلامی مزاحمت کے دشمنوں کیلئے انتہائی خوفناک ثابت ہو گا۔ اسلامی مزاحمتی بلاک کی فتح اور اس فتح میں مرکزی کردار ادا کرنے والی شام آرمی، خطے میں ایسی طاقتور فورس کی تشکیل کی نوید دلا رہی ہے جو مستقبل میں بھی اہم اور فیصلہ کن تبدیلیوں میں بنیادی کردار ادا کرتی رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 746361
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے