0
Wednesday 29 Aug 2018 12:07

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں نئی حکومت کی سنجیدگی خوش آئند

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں نئی حکومت کی سنجیدگی خوش آئند
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
جنوبی پنجاب یا سرائیکی علاقوں کو الگ صوبہ کی حیثیت دینے کے مطالبات، دعوے اور اعلانات تو کئی سالوں سے سننے کو مل رہے ہیں، تاہم ابھی تک اس اہم ایشو پر حکومتوں کی جانب سے کسی قسم کی سنجیدہ کوششیں نہیں دیکھی گئیں۔ 2008ء میں وجود میں آنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا باقاعدہ اعلان بھی کیا، تاہم بات آگے نہ بڑھ سکی۔ گذشتہ دور حکومت میں پنجاب اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد بھی پیش کی گئی، لیکن مسلم لیگ (ن) نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس مطالبہ سے پسپائی اختیار کر لی تھی اور لگتا ہے کہ موجودہ ارباب اختیار ہی اس جائز مطالبہ کے حق میں رکاوٹ بنے تھے۔ اس وقت کچھ لوگوں کو بہاولپور صوبہ کی بحالی کا نعرہ دیکر ساتھ کھڑا کر دیا گیا، انہیں مالی سپورٹ بھی دی گئی، تاکہ جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبہ کو کاؤنٹر کیا جاسکے۔

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن 2018ء سے قبل ہی جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا نہ صرف اعلان بلکہ عوام سے باقاعدہ وعدہ کیا، جنوبی اضلاع میں ہونے والے عوامی جلسوں میں بھی عمران خان نے الگ صوبہ کا وعدہ کیا، شائد یہی وجہ ہے کہ اس خطہ کے عوام نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں بڑی تعداد میں ووٹ دیا۔ علیحدہ صوبہ کی تحریک نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کرلی، جب جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نون لیگ کے اراکین اسمبلی نے پلیٹ فارم کا اعلان کیا۔ جب یہ محاذ پی ٹی آئی میں شامل ہوا تو شرط علیحدہ صوبہ ہی رکھی گئی۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے حوالے سے اپنے وعدے کو ایک بار پھر دہرایا اور حکومت کے پہلے 100 روز کے اندر اس حوالے سے کام کام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے کمیٹی بنادی گئی۔

اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، اس دو رکنی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی اور خسرو بختیار شامل ہیں، کمیٹی نون لیگ سمیت مختلف جماعتوں سے رابطہ اور سفارشات تیار کرے گی۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پنجاب کی آبادی 12 کروڑ ہے اور یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا صوبہ ہے، پنجاب کے 36 اضلاع ہیں۔ صوبہ پنجاب ملک کی نصف آبادی پر مشتمل ایک بڑا صوبہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وسائل کی تقسیم بھی غیر منصفانہ ہوتی ہے۔ 57 فیصد بجٹ صرف لاہور پر خرچ کیا جاتا ہے، جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع ایسے بھی ہیں، جہاں کے باسی اپنے مسائل حل کروانے کے لئے 10، 10 گھنٹے کا سفر طے کرکے لاہور پہنچتے ہیں۔ یاد رہے کہ 1947ء سے 1969ء تک پاکستان میں تین صوبے پنجاب، سندھ اور سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) تھے۔ 1969ء میں بلوچستان کو بھی صوبہ بنایا گیا، مگر اس کے بعد سے تاحال کوئی نیا صوبہ نہیں بنایا جاسکا۔
 
ویسے بھی پاکستان کے ہم پلہ ممالک اور پاکستان کی نصف آبادی سے بھی کم آبادی رکھنے والے ممالک مثلاً ترکی، افغانستان اور ایران پاکستان سے زیادہ انتظامی اکائیاں رکھتے ہیں۔ ترکی میں 81، افغانستان میں 34، بھارت میں 28 اور ایران میں 31 صوبے ہیں جبکہ پاکستان سے رقبے اور آبادی دونوں اعتبار سے انتہائی چھوٹے ممالک سری لنکا میں 9 اور نیپال میں 7 صوبے ہیں اور صوبے بننے کا عمل ہر دور میں جاری رہتا ہے۔ امریکہ کی 13 ریاستیں یا صوبے تھے، مگر آج ان کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 1973ء کے آئین کے تحت نیا صوبہ کیسے معرض وجود میں آسکتا ہے۔؟ اس کے لئے پہلے مرحلے میں جس صوبے میں نیا صوبہ بنانا ہے، وہاں کی صوبائی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کی رضا مندی بعد ازاں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ 12 کروڑ آبادی پر مشتمل صوبہ اقتصادی، ترقیاتی اور صنعتی توازن کیسے قائم رکھا جاسکتا ہے۔؟ روزگار، تعلیم، صحت اور دیگرسہولتیں کیسے دی جاسکتی ہیں۔؟ انتخابی عمل، انتقالِ اقتدار، پالیسی سازی اور قانون سازی میں تمام قومیتیں بھرپور شرکت سے محروم نظر آتی ہیں۔

ملک میں تعمیر و ترقی کا سفر بے ہنگم ہونے لگتا ہے۔ ٹیلنٹ چھوٹے اضلاع میں غرق ہو کر رہ جاتا ہے، تو بطور پاکستانی ہمارے ذہن میں بھی سوال اُٹھتے ہیں کہ اگر صوبہ پنجاب کو ایڈمنسٹریٹو طرز پر ایک دو حصوں میں تقسیم کر بھی دیا جائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ورلڈ بنک کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے 8 اضلاع کا شمار پاکستان کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد جب لاہور کا وزٹ کرتے ہیں، وہاں کی سڑکیں، فلائی اوورز، بڑے تفریحی پارک و دیگر ترقیاتی منصوبے دیکھتے ہیں تو اپنے شہروں کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے مایوسی کا شکار ہوتے ہوں گے۔ پورے جنوبی پنجاب میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے چند اشارے لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح شفاف پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے اضلاع میں ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں کے مریضوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے الگ صوبے کے قیام کی ضرورت بڑھ گئی ہے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں کہ اس خطے کے عوام کو الگ صوبہ دیا جائے۔

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے میں کہیں بعض حلقوں کی جانب سے لسانی بنیادوں پر تقسیم کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں تو کہیں پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا جاتا ہے۔ اگر لسانی بنیاد پر دیکھا جائے تو پاکستان کا اس وقت کونسا ایسا صوبہ ہے جو لسانی بنیاد پر نہیں۔؟ صوبہ خیبر پختونخوا میں 90 فیصد سے زائد پشتون آباد ہیں، اسی طرح سندھ اور بلوچستان کی بھی یہی صورتحال ہے، پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے بعد پنجاب اور سرائیکی بولنے والوں کو اپنی اپنی شناخت مل جائے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ الگ صوبہ سے فیڈریشن کمزور ہوتی ہے تو یہ بات یکسر بے بنیاد ہے، بالا سطور میں مختلف ممالک کی مثالوں سے واضح ہے کہ وہاں زیادہ صوبے بننے سے نہ صرف عوامی مسائل کم ہوئے بلکہ فیڈریشن مضبوط ہوئی، جائز عوامی مطالبات تسلیم نہ کئے جانے سے عوام میں مایوسی اور بغاوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا مطالبہ خدانخواستہ دشمن ملک میں شامل ہونے کا نہیں بلکہ اپنے خطے کے عوام کیلئے الگ گورنر، وزیراعلیٰ، ریونیو بورڈ اور دیگر جائز ضروریات اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں میں مایوسی اور غصہ بڑھ رہا ہے، لہٰذا اس کا فوری تدارک ہونا چاہیے۔ نئی حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ایشو کو محض کمیٹی تک محدود نہ رکھا جائے، پی ٹی آئی حکومت اس اہم معاملہ پر اپنا عزم ظاہر کرے، دیگر جماعتیں بھی خوشی سے نہ سہی لیکن ساتھ دیں گی، کیونکہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں الگ صوبہ کی نہ صرف حمایت بلکہ اقتدار میں آنے کی صورت میں باقاعدہ صوبہ بنانے کا اعلان کرچکی ہیں۔ عمران خان کو اس ایشو پر ذاتی دلچسپی لینا ہوگی، کیونکہ جہاں اس اقدام سے 5 کروڑ سے زائد عوام کے احساس محرومی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملکی ترقی میں بھی یہ اقدام معاون ثابت ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 746906
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب