1
Thursday 30 Aug 2018 09:54

کپتان کے دعٰوے، وعدے اور عوامی توقعات

کپتان کے دعٰوے، وعدے اور عوامی توقعات
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پاکستان میں تیسری سیاسی طاقت کو حکومت بنانے کا موقع ملا ہے، جس سے عوامی توقعات وابستہ ہیں، اب وفاق کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف نے حکومت سازی کا عمل مکمل کر لیا اور وزراء کے محکموں کا اعلان بھی کر دیا گیا، تاہم کچھ وزراء کے محکموں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سندھ حکومت بھی عمل میں آ چکی ہے، جب کہ بلوچستان میں کابینہ کا اعلان ہو گیا ہے۔ اب ملکی نظام کو بہتر بنانے اور عوام کی امیدوں کو پورا کرنے کے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے انتخابی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے اور ملکی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں۔ یہ حقیقت بڑی خوش آئند ہے کہ ملک میں ایک نئے جمہوری سیٹ اپ نے باقاعدہ کام شروع کر دیا ہے۔ آغاز میں تقرر و تبادلے ہو رہے ہیں تاکہ نظام کو اس طرح سیٹ کیا جائے کہ حکومتی منشور پر عمل درآمد یقینی بنانا ممکن ہو سکے۔ بلا شبہ اقتدار میں آنے والی ہر نئی جماعت کے ابتدائی چند ہفتے اور مہینے نئی نئی شادی کے دنوں جیسے ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر ابتدا اچھی ہو تو یہ لمبی ازدواجی زندگی کا باعث ثابت ہوتی ہے اور آگے جا کے معاملات ٹھیک طریقے سے چلتے رہتے ہیں۔

دونوں کی ایک دوسرے سے وابستہ توقعات پوری ہوتی رہتی ہیں۔ پرانی سیاسی جماعتوں کا معاملہ اور ہے کہ لوگ ان کو متعدد بار آزما چکے ہیں اور انہیں ان جماعتوں سے بہتر کارکردگی کی بہت زیادہ امید نہیں تھی، لیکن تحریکِ انصاف کو مذکورہ بالا حقیقت ضرور پیشِ نظر رکھنی چاہیے، کیونکہ اس جماعت کی قیادت نے عوام کی امیدوں اور توقعات کا گراف بہت بلند کر دیا ہے۔ الیکشن کے دوران تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کرپشن کے خاتمے اور سادگی اپنانے کا ایجنڈا پیش کیا اور عوام کو یہ یقین دلایا کہ وہ برسراقتدار آ کر اپنے اس ایجنڈے پر عملدرآمد کو ہر ممکن یقینی بنائیں گی۔ اسی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اتوار کو ہونے والے اجلاس میں سادگی کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو روڈ میپ جاری کیا گیا۔ تمام وفاقی اور صوبائی وزراء کو عوام کے ٹیکس کا پیسہ بچانے کی ہدایت کی گئی، اس سلسلے میں وزیراعظم کے سیاسی امورکے مشیر نعیم الحق کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی عمران خان کے ویژن کے مطابق روڈ میپ پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، کفایت شعاری پر عملدرآمد کے لیے تمام وفاقی اورصوبائی وزراء ایک سے زائدگاڑی نہیں رکھ سکیں گے، ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے کے لیے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تمام وزراء اپنے اثاثہ جات کی تفصیل الیکشن کمیشن کے علاوہ وزیراعظم کوبھی پیش کریں گے، اجلاس میں وزارتوں اور ڈویژنز میں سالانہ کارکردگی رپورٹ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رپورٹس قومی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پیش کی جائیںگی، کرپشن ثابت ہونے پر وزراء کو وزارت اور پارٹی رکنیت سے فارغ ہونا پڑے گا۔ ادھر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایئرپورٹ پر وی آئی پی شخصیات کو پروٹوکول دینے پر پابندی عائد کر دی ہے، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کے حکم نامے کے مطابق اگر ایف آئی اے کے کسی افسر یا اہلکار نے پروٹوکول دیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔  وزیراعظم عمران خان نے قومی خزانے کے بے جا استعمال کے خاتمے اور سادگی کو یقینی بنانے کے لیے جن اقدامات کا آغاز کیا ہے اسے عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔

اب کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ سستے اور فوری انصاف کی بلاامتیاز فراہمی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کا آغاز بھی جلد از جلد کیا جانا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عدالتوں میں داد رسی کا نظام سست روی کا شکار ہونے کے باعث عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معمولی مقدمات میں بھی فیصلہ ہوتے ہوتے ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے، اگر کسی قانونی خلاف ورزی پر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے سامنے قانون پر عملدرآمد کرانے والے اہلکاروں کو بے بس کر دیا گیا تو یہ نہ صرف انصاف کی توہین ہو گی بلکہ تبدیلی کے لیے عوام کی وہ امیدیں بھی دم توڑ جائیں گی۔ جس کے لیے انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ ڈالا ہے۔ سرکاری اور پولیس اہلکاروں کو یہ تحفظ ہونا چاہیے کہ قانون کی خلاف ورزی پر وہ بلاخوف و خطر کسی وزیر یا طاقت ور شخصیت کے خلاف فوری کارروائی کر سکیں۔ نئی وفاقی اور صوبائی حکومتیں مسلسل یہ یقین دہانی کرا رہی ہیں کہ وہ گڈگورننس سے کرپشن کا مستقل خاتمہ کر دیں گی۔

اس کا اندازہ تو آنے والے چند ماہ ہی میں ہو جائے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ مستقبل میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ سندھ حکومت کے ساتھ ضرور کیا جائے گا اور یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ کون ملکی نظام بہتر بنانے میں کس حد تک کامیاب ہو سکا ہے۔ اگر ماضی کی طرح صرف وعدوں، نعروں اور تقریروں ہی کے ذریعے عوام کا دل بہلانے کی کوشش کی گئی تو پھر کرپشن زدہ نظام سے اکتائے ہوئے عوام کسی نئی تبدیلی کے لیے کمربستہ ہو جائیں گے۔ عوام کی ان بلند توقعات پر پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ افسروں کے چنائو میں احتیاط برتی جائے اور اچھی طرح تحقیق کر لی جائے تاکہ بعد میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کسی محکمے، کسی پوسٹ پر اپنی مرضی کا آدمی لگانا تاکہ بہتر کارکردگی دکھائی جا سکے، حکومت کا آئینی حق ہے، لیکن ایسا کرتے ہوئے یہ بات ملحوظ رکھی جانی چاہیے کہ کسی کو گروہ بندی کا احساس نہ ہو۔

افسران کا چناؤ کرتے ہوئے یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ کسی صوبے کو تمام اہم عہدوں کی اجارہ داری حاصل ہونے کا احساس پیدا نہ ہو۔ اب جبکہ نئی حکومت نئے سیٹ اپ کو اپنی مرضی و منشا کے مطابق بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس حوالے سے از سر نو تقرریاں و تبادلے ہو رہے ہیں تو مشاہدے میں آ رہا ہے کہ مسلم لیگ نون کے چند نہایت پسندیدہ افسران نئی حکومت کے بھی پسندیدہ افسروں کی فہرست میں شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ نون لیگ کی چند ماہ پہلے اپنی آئینی میعاد پوری کرنے والی حکومت میں سب برا نہیں تھا اور تحریکِ انصاف بھی یہ مانتی ہے کہ اس حکومت کے دور میں بہت کچھ اچھا بھی تھا؟ تبھی اس دور کے چند اہم افسران اب بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ وفاقی اور صوبائی وزرائے اطلاعات نے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور سانحۂ پاکپتن سے متعلق میڈیا سے اور ٹیلی ویژن پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ اس سے بہت سے معاملات کی وضاحت تو ہوئی، لیکن متعدد ایشوز وضاحت طلب بھی رہ گئے۔ اس حقیقت کا ادراک سبھی کو ہے کہ میڈیا کے احباب ہمیشہ وزارتِ اطلاعات کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں اور وزارت میں کام کرنے والے میڈیا کے لوگوں کو۔ اسی لیے بعض اوقات دونوں ایک دوسرے کو صاف صاف بات بھی کہہ دیتے ہیں۔

اسی حوالے سے یہ عرض ہے کہ دونوں وزرائے کرام سے میڈیا کو جو مدد ملی اس سے بہت سے لوگوں کی تشفی و تسلی نہیں ہو سکی۔ مطلب یہ کہ اس معاملے پر از سر نو غور کرکے، اسے مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام جان سکیں کہ درحقیقت ہوا کیا اور ذمہ دار کون ہے۔ ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کے پول میں کھڑی 80 سے زائد لگژری گاڑیوں کی نیلامی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے گاڑیوں کی نیلامی کیلئے اخبارات میں اشتہارات دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل 15 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے۔ بڑی کاروں کی ممانعت ایک مرتبہ جونیجو صاحب کی وزارت عظمیٰ کے دوران بھی ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ چھوٹی گاڑیاں استعمال کی جائیں۔ اس پر کسی حد تک عمل درآمد بھی ہوا تھا، لیکن جونہی جونیجو صاحب کی حکومت کا خاتمہ ہوا، یہ معاملہ ہوا ہو گیا؛ چنانچہ نئی حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، لیکن کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے کہ سادگی کا عمل مستقل شکل اختیار کر جائے۔

اسی طرح حکومت کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ماضی میں اسی طرح کے اقدام سے ملک کو کتنا نقصان ہوا اور کیوں ہوا؟ اور اس جائزے کی بنیاد پر کوشش کی جانی چاہیے کہ آئندہ ایسے نقصان سے بچا جا سکے۔ عوام یہ دیرینہ خواہش رکھتے ہیں کہ حکومت اصلاح کا جو کام بھی کرے اس کے جاری رہنے کا انتظام بھی ضرور ہو، کیونکہ مشاہدے میں آتا ہے کہ اکثر اقدامات کی بقا حکومت کے ساتھ مشروط ہوتی ہے۔ جونہی کوئی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہے یا کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جاتی ہے تو اس کی جانب سے کی گئی منصوبہ بندی اور کیے گئے اقدامات کو یکسر ختم کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ متعدد منصوبے ادھورے ہی چھوڑ دیے جاتے ہیں اور نیا سیٹ اپ نئی منصوبہ بندی میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس سے ملک و قوم کا خاصا نقصان ہوتا ہے۔ ایسی منصوبہ بندی، بلکہ قانون سازی کی ضرورت ہے کہ کسی حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا عوامی فلاح اور قومی مفاد کا کوئی بھی منصوبہ اگلی حکومت ختم نہ کر سکے۔ اور آخری بات یہ کہ پہلے سو دن تیزی سے گزر رہے ہیں۔ اس لیے حکومت کو اپنے اقدامات میں تیزی لانی چاہیے تاکہ عوام نے اس سے جو امیدیں لگا رکھی ہیں، وہ پوری ہو سکیں۔
خبر کا کوڈ : 747013
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب