0
Saturday 1 Sep 2018 20:20

پاراچنار، مرکز میں اسلحہ حوالگی کے حوالے سے قومی نمائندہ اجلاس(2)

پاراچنار، مرکز میں اسلحہ حوالگی کے حوالے سے قومی نمائندہ اجلاس(2)
رپورٹ: روح اللہ طوری

گذشتہ سے پیوستہ
تحریک حسینی کے سابق صدر مولانا منیر حسین جعفری کا کہنا تھا کہ یہاں جتنی لڑائیاں ہوچکی ہیں، وہ مذہب پر نہیں بلکہ سب کی سب اراضی، پہاڑوں، نہروں یا شاملات پر ہوئی ہیں۔ سوائے اپریل 2007ء کی لڑائی کے، جو امام حسین علیہ السلام کی شان میں گستاخی پر چھڑی تھی۔ چنانچہ جب تک وہ بنیادی مسائل حل نہیں کئے جاتے، جنکی وجہ سے ہمارے مابین ہر وقت ٹکراؤ کا اندیشہ رہتا ہے، یہاں امن قائم نہیں ہوسکتا اور جب بھی لڑائی شروع ہوتی ہے تو ہر فریق اپنا اسلحہ اٹھا لیتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بریگیڈیئر اور جنرل حسن نے شیعہ اور سنیوں کے مابین اراضی کا مسئلہ ہمیشہ کیلئے حل کرنے کی غرض سے ایک کمیشن کی تشکیل کا وعدہ بھی کیا، مگر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ چنانچہ اگر ہم اسلحہ دیں، اہل سنت کی ضمانت کون دے سکتا ہے، جبکہ گذشتہ روز ہی آپ سب نے دیکھ لیا کہ انڈین جاسوس پر چھاپہ مارنے کے دوران فوج نے آپریشن کیا تو بوشہرہ نے انہیں محاصرے میں لیکر اپنا سامان اور خطرناک اسلحہ زبردستی چھڑا لیا، جسکی ویڈیو بھی موجود ہے۔

اسکے علاوہ چند ماہ پیشتر شورکی کی سرحد پر اہلیان صدہ نے بر سرعام گرینڈ اسلحہ کی نمائش کرکے ثابت کیا کہ ان پر حکومت کا کوئی اثر و رسوخ یا دباؤ نہیں ہے۔ اسکے علاوہ اندرونی سطح پر امن برقرار ہو بھی جائے، جب تک ہمسایہ ملک افغانستان میں دہشتگرد طالبان اور داعش سرگرم ہیں، ہم خود کو خطرے سے باہر نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جنرل حسن نے اپنی تقریر میں اسکا اعتراف بھی کیا تھا کہ کرم کے تین اطراف (خوست، ننگرہار اور جاجی اریوب کی جانب) سے داعش کا شدید خطرہ موجود ہے، تو جب آپکے کہنے کے مطابق افغانستان کی جانب سے تین اطراف سے خطرہ موجود ہے، تو ہم کیسے مطمئن ہوسکتے ہیں، جبکہ چند ماہ قبل ہی آپ نے دیکھ لیا کہ افغانستان سے حملے کی صورت میں ہمارے دو اہلکاروں کی لاشوں کو گھسیٹ کر خوست پہنچا دیا، جبکہ انتہائی شدید محاصرے میں کمانڈنٹ کرم ملیشیا کو طوری اقوام نے افغان فوج کے نرغے سے نکال کر بچالیا۔ چنانچہ جب تک افغانستان کی جانب سے مکمل امن قائم نہیں ہوتا، اپنی جان و املاک اور وطن عزیز کے تحفظ کے لئے اسلحہ کی ضرورت ہے۔ صدہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسکے لئے قومی سطح پر ایک مضبوط فیصلہ کیا جائے، اور اس پر عملاً اقدام بھی کیا جائے۔

خوشی اور ہزارہ قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے حاجی شیر حسن کا کہنا تھا کہ اسلحہ فقط کرم میں نہیں، بلکہ کراچی سے لیکر لاہور اور کوئٹہ تک موجود ہے۔ ہم نے اپنی حفاظت کے علاوہ کبھی اسلحہ نہیں اٹھایا ہے۔ ہم نے کبھی حکومت کے خلاف اسلحہ نہیں اٹھایا ہے۔ ہاں دھماکہ خیز مواد رکھنے کے حوالے سے ہمارا بھی وہی موقف ہے، جو حکومت کا ہے۔ صدہ کے حوالے سے شیر حسن خوشی کا کہنا تھا کہ پاراچنار کے سنی متاثرین کو اہل تشیع کی املاک نیز سرکاری اور کمیٹی کی املاک میں زبردستی بسایا جا رہا ہے، تو صدہ کے شیعوں کو خود اپنی املاک میں کیوں آباد نہیں کیا جاسکتا۔ واضح ہے کہ حکومت ہی یکطرفہ اور جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بالش خیل کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ یہی بصیر خان وزیر پی اے تھے، اس نے اپنے گذشتہ دور میں بالش خیل میں پاڑہ چمکنی کی غیر قانونی آبادکاری کی مسماری کے احکامات جاری کئے تھے اور یہاں تک کہا تھا کہ اگر میں نے ان تمام مکانات کو مسمار نہ کیا تو میں پٹھانی کا فرزند نہیں ہوں۔ چنانچہ ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے کئے گئے وعدے پر عمل کرکے دکھائیں کہ وہ پٹھانی کے فرزند ہیں۔ قاضی سرتاج حسین کا کہنا تھا کہ صدہ والوں کے ساتھ بیٹھ کر انکے تحفظات کو دور کیا جائے، ان پر  زبردستی نہ کی جائے۔

حاجی اصغر حسین عرف اصغرو حاجی کا کہنا تھا کہ شیعہ علاقوں میں اہلسنت مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ابھی اسی عید قربان کے موقع پر یہ سب آئے، ہمارے سیاحتی علاقوں میں آزادانہ گھوم پھیر کر ناچ گانوں کا بھی مظاہرہ کیا، انکی بعض حرکات پر تحفظات رکھنے کے باوجود امن و امان کے مسئلے کے باعث مقامی لوگوں نے انہیں کچھ بھی نہیں کہا، جبکہ ہمارے لوگ اطراف میں تو کیا، صدہ بازار میں بھی محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان صدہ پر پریشر ڈالنے کی بجائے انکے تحفظات دور کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سنی پاراچنار میں بدمعاشی کرتے ہوئے پھیر رہے ہیں جبکہ صدہ کے شیعہ اپنی ہی اراضی میں اینٹ تک نہیں رکھ سکتے۔ حکومت کے تمام تر وعدوں کے باوجود انکے تحفظ کا کوئی بندوبست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ دینے کیلئے ضروری ہے کہ کچھ لیا جائے۔

حکومت جس چیز کی پابند ہے، وہ مری معاہدہ کی رو سے اور کاغذات مال کی روشنی میں اراضی و شاملات کو حقدار تک پہنچانا ہے، مگر حکومت اس سلسلے میں حقیقت سے آنکھ چرا کر پس و پیش کر رہی ہے۔ وہ بس یہی چاہتی ہے کہ فقط سنیوں کو پاراچنار میں آباد کرایا جائے، جبکہ ہمارے ذمہ داروں افراد اور اداروں کو چاہئے کہ حکومت پر واضح کریں کہ پاراچنار سے پہلے میرٹ کی بنیاد پر اہلیان صدہ، جیلمئے، چاردیوال، سیدانو کلے، خونسیدئے، دڑادڑ، گوبزانہ اور خیواص کو آباد کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان پاراچنار کی مثال اسرائیل کی سی ہے، جنہیں پاراچنار کے علاوہ کہیں بھی تحفظ حاصل نہیں، ہم کہیں بھی نہیں جاسکتے، پاراچنار کے علاوہ ہر جگہ ہمارے لئے جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنی ایک قدم بڑھیں، ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔

اسکے بعد اہلیان صدہ کی نمائندگی کرتے ہوئے منصب علی بنگش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی جائیداد کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، تاہم قوم سے ہماری گزارش ہے کہ ہمیں اپنے ہی شیعوں (اہلیان صدہ) سے شکایت ہے، وہ اونے پونے اپنی جائیداد فروخت کر رہے ہیں۔ کوئی ٹوکنے والا نہیں، جبکہ پاراچنار میں حکومت کے خوف سے کوئی سنی اپنی جایئداد فروخت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حاجی دادو کے بیٹے اسرار حسین نے تو امام بارگاہ کی زمین بھی بیچ ڈالی۔ اسکے علاوہ نور ملک کے بیٹے اور حشمت حسین کو بھی انہوں نے نشانہ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ اہلیان صدہ میں انتشار کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے قوم سے اس حوالے سے بھرپور کمک طلب کی۔

آخر میں سیکرٹری انجمن حسینیہ کو ایک بار پھر دعوت دی گئی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں حکومت ہم سے کلاشنکوف اور چھوٹا اسلحہ نہیں مانگ رہی، وہ خطرناک مواد بارود وغیرہ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اسکے علاوہ بالش خیل کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ بریگیڈیئر صاحب نے اس سلسلے میں وعدہ کیا ہے کہ جلد از جلد کمیشن تشکیل دیکر اس اور دیگر ایسے تمام مسائل کا حل حکومتی سطح پر نکالا جائے گا۔ صدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اور یوسف آغا دونوں کئی بار اہلیان صدہ کے کہنے پر وہاں گئے ہیں۔ انکی کمک کیلئے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ صدہ کے شیعوں کو وہاں کے مقامی لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں، جبکہ پاراچنار میں سنیوں کے ساتھ احسن سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدہ کے بعض لوگوں نے اپنی اراضی کے علاوہ امام بارگاہ کی زمین پر بھی کروڑوں روپے لئے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے حکومت سے کہا کہ یہ اراضی وقف شدہ ہے، اسے فروخت کرنے کا کسی کے پاس اختیار نہیں۔ یہ ہمارے علماء کا مسئلہ ہے۔ وہی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ انہوں نے 45 رکنی کمیٹی میں ہر قوم سے پانچ پانچ افراد کا مزید اضافہ کرنے کی تجویز پیش کی، تاہم اکثر نے انہی 45 افراد کو کافی سمجھا۔ اسی کے ساتھ ہی جلسے کا اختتام ہوا۔
۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 747072
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب