0
Friday 31 Aug 2018 14:19

امریکہ اور ترکی کے بدلتے تعلقات

امریکہ اور ترکی کے بدلتے تعلقات
تحریر: ڈاکٹر سید رضا میر طاہر

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی تناو دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ اس تناو کی وجہ امریکہ کی جانب سے ترکی میں مقیم امریکی پادری اینڈرو برینسن کی رہائی کا مطالبہ ظاہر کی جا رہی ہے لیکن واشنگٹن اور انقرہ کے درمیان اور بھی اختلافات پائے جاتے تھے جو اب منظرعام پر آ رہے ہیں۔ یاد رہے امریکی پادری اینڈرو برینسن پر 2016ء میں ترکی میں انجام پانے والی بغاوت کی ناکام کوشش میں شرکت اور ترک حکومت کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے کرد گروہ پی کے کے کی حمایت جیسے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ امریکہ اور ترکی میں ظاہر ہونے والے حالیہ اختلافات کی اصل وجوہات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کئے جانے کا فیصلہ، ترکی کی شدید مخالفت کے باوجود شام کے کرد باشندوں کی حمایت پر مبنی امریکی پالیسی اور امریکہ کی جانب سے ترکی کا روس سے ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کی شدید مخالفت پر مشتمل ہیں۔
 
ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور ان پر عمل پیرا نہ ہونے پر زور دیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ترکی کے قومی مفادات ہیں۔ اس وقت ایران اور ترکی کے درمیان انجام پانے والی تجارت 10 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ ترکی اور امریکہ کے درمیان پہلے سے اختلافات پائے جاتے تھے۔ ترک حکومت جولائی 2016ء میں انجام پانے والی ناکام فوجی بغاوت میں امریکہ میں مقیم جلاوطن ترک سیاسی رہنما فتح اللہ گولن کو ملوث قرار دے کر امریکی حکومت سے انہیں اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی لیکن ترک صدر رجب طیب اردگان کے شدید اصرار کے باوجود امریکہ نے ترکی کے اس مطالبے پر کوئی توجہ نہیں دی۔ امریکہ فتح اللہ گولن کو ترکی کے خلاف ایک ہتھکنڈے کے طور پر اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بار بھی پہلے کی طرح انقرہ کو امریکی مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کیلئے دباو اور دھمکیوں کا سہارا لیا ہے اور پہلے مرحلے پر ترکی کے دو وزراء کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ترکی سے امریکہ برآمد ہونے والے ایلومینیم اور اسٹیل پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی اور اس طرح ترکی کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز کر دیا۔
 
امریکہ نے ترکی کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے امریکی پادری کو آزاد نہ کیا تو وہ ترکی کے خلاف شدید اور بڑے پیمانے پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دے گا۔ اسی طرح امریکہ نے ترکی کو ایف 35 جنگی طیارے دینے کا فیصلہ بھی معطل کر دیا ہے جس کی خرید و فروش کا معاہدہ پہلے سے طے پا چکا تھا۔ یہ اقدام ترک حکام کی شدید ناراضگی اور غصے کا باعث بنا ہے۔ یہ مسائل مجموعی طور پر ترکی کی کرنسی مارکیٹ اور اقتصاد میں ہلچل مچ جانے اور اس کی کرنسی "لیر" کی ڈالر کے مقابلے میں شدید گراوٹ کا باعث بنے ہیں۔ ان تمام سختیوں اور دباو کے باوجود ابھی تک ترکی کے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں نے واشنگٹن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کیا ہے۔ امریکی سیاسی ماہر رچرڈ ہاوس کہتے ہیں: "امریکی پابندیاں ہر چیز سے پہلے یہ ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ ایسے معاشروں پر دباو بڑھانا چاہتا ہے جن کی حکومتیں امریکہ کی نظر میں دشمن کی حیثیت رکھتی ہیں۔"
 
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ہفتہ 25 اگست کے دن ملک کو درپیش کرنسی بحران کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی معیشت کے خلاف امریکہ کی اقتصادی پالیسیوں کا مقابلہ عوام کے اتحاد اور عزم کا محتاج ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی قوت ترکی کو 2023ء، 2053ء اور 2071ء تک طے شدہ اقتصادی اہداف کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ اعلی سطحی ترک حکام نے برآمدات کی سطح 300 ارب ڈالر تک بڑھانے اور خارجہ تجارت میں کمی پوری کرنے کو 2023ء تک جدید پانچ سالہ منصوبے میں ملکی معیشت کی نجات کیلئے اہم ترین حکمت عملی قرار دیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہمسایہ ممالک یعنی ایران اور ترکی کے خلاف ایک جیسی پالیسی اختیار کر رکھی ہے حالانکہ ترکی امریکہ کا اتحادی ملک جبکہ ایران امریکہ کا دشمن ملک تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کا عقل اور منطق کے مطابق ہونا شدید مشکوک ہو چکا ہے۔
 
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ اب تک امریکہ کے حریف اور دشمن ممالک جیسے روس، ایران اور شمالی کوریا کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباو اور دھمکیوں کی پالیسی اختیار کر چکے ہیں لیکن اپنے ہی اتحادی، اور وہ بھی نیٹو کے رکن ملک کے خلاف مطلوبہ اہداف کے حصول کیلئے طاقت کا استعمال اور اس کے ساتھ دشمنوں والا سلوک اختیار کرنا اور اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگا کر تجارتی جنگ کا آغاز کرنا ایک بالکل نئی بات ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ امر امریکہ اور ترکی کے درمیان دوستانہ تعلقات کی دشمنانہ تعلقات میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اقدامات امریکہ کے اپنے اتحادی ممالک میں سے ایک اتحادی ملک کو ہاتھ سے گنوا دینے کا باعث بنیں گے۔ اس کے آثار یورپ میں بھی دکھائی دے رہے ہیں اور جرمنی اور فرانس جیسے بڑے یورپی ممالک سمیت یورپی یونین بھی موسمیاتی معاہدوں سے لے کر ٹیکسز کی جنگ، ایران سے جوہری معاہدے اور نیٹو سے متعلق امور پر ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید ناراض دکھائی دیتے ہیں۔
 
ترک حکام بھی ٹرمپ کی پالیسی میں اس تبدیلی سے آگاہ ہیں۔ امریکہ اور ترکی کے درمیان تعلقات میں تناو کا منطقی نتیجہ ترکی کے مشرق کی جانب رجحانات میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روس، چین اور ایران جیسے ممالک کیلئے ایک اچھی خبر ہو گی جو پہلے سے امریکی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اپنے روایتی اتحادی ممالک کو مخالف اور دشمن ملک میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ پالیسی خطے اور دنیا میں امریکہ کی گوشہ گیری اور تنہائی میں اضافے کا سبب بنے گی۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے ترکی پر شدید اقتصادی پابندیاں عائد کئے جانے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ٹکراو کا نیا مرحلہ شروع ہو جائے گا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور اس کا حتمی نتیجہ ترکی کا امریکہ اور مغرب سے دوری کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اسی طرح ترکی کی سیاست خارجہ اور مغرب کے ساتھ اقتصادی، تجارتی، فوجی اور سکیورٹی تعلقات میں بھی بنیادی تبدیلیاں ظاہر ہوں گی۔
 
خبر کا کوڈ : 747194
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب