0
Saturday 8 Sep 2018 21:17

وفاق کا سندھ کی بیوروکریسی میں عمل دخل، سندھ حکومت برہم

وفاق کا سندھ کی بیوروکریسی میں عمل دخل، سندھ حکومت برہم
رپورٹ: ایس ایم عابدی

وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا آغاز ہوگیا ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت سے مشاورت کے بغیر وفاقی کیڈر کے 6 افسروں کی خدمات دیگر صوبوں کے حوالے کر دی ہیں۔ یہ افسران 10 سالوں سے زائد عرصے سے سندھ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ کشیدگی کیا رخ اختیار کرتی ہے، یہ مستقبل قریب کی سیاست کا اہم سوال ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے 13 ویں صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ اس کے بھی کراچی سمیت سندھ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ گذشتہ ہفتے سندھ سے 6 افسروں کے ہونے والے تبادلے کا معاملہ اگرچہ بہت اہم تھا لیکن دیگر دو معاملات خبروں میں زیادہ زیر بحث رہے۔ ایک معاملہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا ایک نجی اسپتال اور قومی ادارہ برائے امراض قلب کے اچانک دورہ سے متعلق ہے۔ نجی اسپتال میں پیپلز پارٹی کے اسیر رہنما شرجیل انعام میمن زیر علاج تھے جبکہ قومی ادارہ برائے امراض قلب میں منی لانڈرنگ کیس کے دو اہم ملزمان حسین لوائی اور انور مجید زیر علاج ہیں۔

نجی اسپتال میں چیف جسٹس کے دورے کے دوران شرجیل انعام میمن کے کمرے سے دو بوتلیں برآمد ہوئیں، جن میں پیپلز پارٹی کے مطابق شراب نہیں تھی۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جبکہ شرجیل میمن کا الکوحل ٹیسٹ بھی کرایا گیا۔ اس ٹیسٹ کی رپورٹ کے مطابق شرجیل میمن کے خون میں الکوحل نہیں پایا گیا۔ شرجیل میمن کو نجی اسپتال سے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ دوسرا معاملہ بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے کے باعث دو بچوں کے بازو ضائع ہونے سے متعلق ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل حکومت سندھ کے کئی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اسپتال میں زیر علاج بچے عمر کی عیادت کی اور ایسے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کے الیکٹرک پر اس حوالے سے بہت تنقید ہو رہی ہے۔ سندھ کابینہ نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی ہے کہ وہ بجلی کے لٹکتے ہوئے تمام تار ہٹا دے۔ سیاسی رہنماؤں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ان بچوں کے مصنوعی بازو لگوانے کے اخراجات کے الیکٹرک برداشت کرے اور ساری زندگی بچوں کی کفالت کرے۔ کے الیکٹرک کی طرف سے بجلی کی لوڈشیڈنگ، زائد بلنگ اور دیگر معاملات پر بھی ہر طرف سے شدید ردعمل آرہا ہے۔

سندھ سے 6 افسروں کے تبادلوں کا معاملہ ایسا ہے، جو وفاقی اور سندھ حکومت کے تعلقات کار کے بارے میں اندازے قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جن 6 افسروں کی خدمات دیگر صوبوں کے حوالے کی گئی ہیں، ان میں اقبال حسین درانی (سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے داماد)، سید آصف حیدر شاہ (موجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے بہنوئی)، سید علی ممتاز زیدی اور دیگر شامل ہیں۔ سندھ حکومت کا موقف یہ ہے کہ ان افسروں کے تبادلوں سے قبل مشاورت ہونی چاہیئے تھی، کیونکہ 1993ء میں اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے مشترکہ اجلاس میں افسران کے تبادلوں، تقرریوں کے حوالے سے دیگر پالیسی نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت وفاقی کیڈر کے افسروں کے تبادلے و تقرریاں متعلقہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے ہوسکیں گی۔ سندھ حکومت کے بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ وفاقی حکومت سندھ کے انتظامی امور میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے حکومت سندھ کے بااعتماد افسروں کو ہٹانے اور اپنی مرضی کے افسر لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اس طرح نہ صرف سندھ کے انتظامی امور بلکہ سیاسی امور میں بھی زیادہ عمل دخل حاصل کرسکتی ہے۔ سندھ کے چیف سیکرٹری کے معاملے پر بھی وفاقی اور سندھ حکومت کے مابین تعلقات میں جلد کھچاؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ ویسے بھی سندھ کے نئے گورنر عمران اسماعیل بہت زیادہ سرگرم ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے نبھائیں گے۔ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے عرس کی اختتامی تقریب میں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دونوں موجود تھے۔ دونوں رہنماؤں سے وفاقی اور سندھ حکومت کے تعلقات کار کے بارے میں سوالات ہوئے۔ دونوں رہنماؤں کے جوابات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اختلافات بھی ہیں اور کھچاؤ بھی ہے لیکن دونوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کی ترقی کے لئے دونوں مل کر کام کریں گے، وقت کے ساتھ ساتھ تنازعات مزید نمایاں ہوں گے، صرف پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ایک دوسرے کی سیاسی حریف نہیں ہیں بلکہ وفاقی حکومت کی دو اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیان بھی سیاسی کھینچا تانی شروع ہوچکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 748631
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب