0
Sunday 9 Sep 2018 23:56

بصرہ کے ہنگامے اور پس پردہ حقائق

بصرہ کے ہنگامے اور پس پردہ حقائق
تحریر: حسین ریوران

عراق میں تشدد آمیز مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جو خاص طور پر صوبہ بصرہ میں زیادہ وسیع پیمانے پر قابل مشاہدہ ہے۔ انہیں مظاہروں کی آڑ میں جمعہ کے روز بعض عناصر نے سیاسی جماعتوں کے دفاتر، حشد الشعبی کے مراکز اور ایران اور امریکہ کے قونصل خانوں کو بھی نشانہ بنایا اور آگ لگانے کے علاوہ توڑ پھوڑ بھی کی۔ ان ہنگاموں کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
 
1)۔ عراقی عوام کی جانب سے پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی قلت کے خلاف احتجاج اور مظاہرے معقول اور قابل فہم ہیں۔ گذشتہ پندرہ سال کے دوران عراقی حکومت  ملک میں بدامنی اور تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف جنگ کے باعث دیگر عوامی ضروریات پر زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ بدقسمتی سے عراقی عوام بنیادی سہولیات کی قلت کا شکار ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عراقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جلد از جلد عوام کو درپیش ان بنیادی ضروریات پر توجہ دیتے ہوئے انہیں برطرف کرنے کی کوشش کرے۔
 
2)۔ جمعہ کے روز بصرہ میں ایک ہی وقت امریکہ اور ایران کے قونصل خانوں پر حملہ کیا گیا لیکن مغربی ذرائع ابلاغ نے صرف ایران پر حملے کی خبریں اور تصاویر شائع کیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی طاقتیں ایرانی اور عراقی عوام کے درمیان ایک طرح کا ٹکراو اور تضاد ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی نیوز ایجنسیز کی خبر کے مطابق جن افراد نے بصرہ میں ایرانی قونصل خانہ اور حشد الشعبی کے مراکز پر حملہ کیا ان کی تعداد بہت کم تھی جبکہ امریکی قونصل خانے پر تین میزائل داغے گئے جو اس قونصل خانے کی عمارت پر لگے۔ دوسری طرف ایرانی قونصل خانے پر ہاتھ سے بنے آگ لگانے والے بموں سے حملہ کیا گیا۔ یہ تفصیلات مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے بیان نہیں کی گئی ہیں۔
 
3)۔ بصرہ میں ایرانی قونصل خانے پر حملے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ پانی اور بجلی سمیت عراقی عوام کے دیگر مطالبات پورا ہونے یا نہ ہونے میں ایران کا کوئی کردار نہیں اور اگر یہ احتجاج حقیقت میں انہی مطالبات کی روشنی میں انجام پایا ہے تو ایرانی قونصل خانے کو نشانہ بنائے جانے کی وجہ کیا ہے؟ اکثر سیاسی تجزیہ کار کافی عرصہ پہلے خبردار کر چکے تھے کہ مغربی طاقتیں عراق میں شیعہ قوتوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا چاہتی ہیں اور اس مقصد کیلئے سابقہ بعث پارٹی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد کو منظم کیا گیا ہے۔ اس سازش کے مالی اخراجات سعودی عرب نے اپنے ذمے لئے تاکہ اسے جامہ عمل پہنایا جا سکے۔ موصولہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بصرہ کے حالیہ ہنگاموں میں سابقہ بعث حکومت کے اہم افراد جیسے صدام حسین کے ذاتی گارڈز کا کمانڈر شامل تھے۔ یہ شخص چند دن پہلے زبیدہ علاقے سے بصرہ میں داخل ہوا اور ہنگاموں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔
 
عراق کی سیاسی جماعتوں اور سماجی گروہوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بصرہ میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کی مذمت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی عوام اس شیطنت آمیز اور دشمنانہ اقدام کے حق میں نہیں ہیں بلکہ جائز مطالبات کی خاطر جاری عوامی احتجاج اور مظاہروں میں دشمن قوتوں کے چند زرخرید شرپسند عناصر نے گھس کر انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سازش اس وقت مزید ابھر کر سامنے آتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان شرپسند عناصر نے صرف حشد الشعبی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے اور مقتدی صدر کی سربراہی میں "سائرون" اور حیدر العبادی کی سربراہی میں "النصر" کے مراکز کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ ان کے اس اقدام کا مقصد خود کو ان افراد کا حامی ظاہر کرنا تھا اور اس طرح شیعہ قوتوں میں تفرقہ ڈالنا تھا۔
 
4)۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی پر ہر عراقی شہری فخر محسوس کرتا ہے کیونکہ اس فورس نے ملک کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے سے آزاد کرانے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ بصرہ میں حشد الشعبی کے مراکز پر حملہ کرنے والے عناصر درحقیقت عراقی عوام کے دشمن ہیں اور وہ بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرم عمل ہیں۔ یہ ایجنڈہ درحقیقت وہی عراقی شیعہ قوتوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر انہیں ایکدوسرے سے دور کرنے پر مبنی ہے۔ حقائق اس وقت زیادہ واضح ہو جاتے ہیں جب ہم اس نکتے کو سامنے رکھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کی پٹھو عرب حکومتوں نے نہ صرف شروع سے ہی حشد الشعبی کی تشکیل کی مخالفت کی تھی بلکہ آج تک اس فورس کو ختم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے ہیں۔
 
5)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صوبہ بصرہ عراق کا اہم ترین صوبہ ہے کیونکہ عراق کی قومی پیداوار کا 90 فیصد حصہ یہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح عراق کی واحد بندرگاہ اس صوبے میں واقع ہے جہاں سے اس کا خام تیل پوری دنیا میں برآمد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ام القصر بندرگاہ بھی اسی صوبے میں جہاں سے ملکی درآمدات کا بڑا حصہ اندر آتا ہے۔ بصرہ میں موجود ان عظیم وسائل کے باوجود گذشتہ پندرہ برس میں عراقی حکومت نے اس علاقے پر کوئی توجہ نہیں دی اور کردستان جیسے علاقوں پر بھی زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ یہ امتیازی سلوک موجودہ عوامی احتجاج اور مظاہروں کی بنیادی وجہ ہے۔ البتہ ملک دشمن قوتوں کا بھی اس بدامنی میں کردار ہے۔
 
6)۔ عراق میں انتخابات منعقد ہوئے تین ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے اور اب تک نئی حکومت اور کابینہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ عراقی سیاسی جماعتوں کی جانب سے حکومت میں زیادہ حصہ پانے کی خواہش ہے۔ ان سیاسی جماعتوں نے عوام کی بنیادی ضروریات سے چشم پوشی کر کے اور اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دے کر ایک اسٹریٹجک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ بے شک وہ سیاسی جماعت یا شخصیت عراقی عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے جو ان کی بنیادی ضروریات پورا کرنے اور انہیں بنیادی سہولیات مہیا کرنے میں کامیابی سے عمل کرے گی۔ عراق کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا تحفظ بھی ایک اور اہم رکن ہے۔
خبر کا کوڈ : 749105
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش