0
Tuesday 11 Sep 2018 19:29

ادلب کے مسئلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی

ادلب کے مسئلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بے بسی
تحریر: ڈاکٹر حامد رحیم پور

صوبہ ادلب میں دہشت گرد عناصر کے خلاف روسی جنگی طیاروں کے ہوائی حملوں میں مزید شدت آ چکی ہے۔ دوسری طرف شام آرمی کے ہیلی کاپٹر بھی ادلب شہر کے اردگرد انہیں نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ صوبہ ادلب شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے زیر قبضہ آخری علاقہ ہے جو اس وقت شام بحران میں رونما ہونے والے چیلنجز کا مرکز بن چکا ہے۔ ایک طرف شام حکومت "درعا" اور "قنیطرہ" صوبوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے بعد اس صوبے پر دوبارہ اپنی رٹ قائم کر کے ملک میں جاری سکیورٹی بحران کے مکمل خاتمے کیلئے آخری سب سے بڑا قدم اٹھانے کے درپے ہے تو دوسری طرف ادلب پر شام آرمی اور اس کی اتحادی قوتوں کے وسیع آپریشن اور بحران کے خاتمے کا وقت قریب آنے پر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک شام حکومت کو اس عظیم کامیابی کے حصول سے روکنے کیلئے سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔
 
حتی کل ہی جرمن حکومت کے ترجمان نے بیلڈ اخبار کی اس رپورٹ کی تصدیق کی ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جرمنی شام کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کاروائی میں شرکت کیلئے اپنے فوجی بھی بھیجے گا۔ مجموعی طور پر ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کی سربراہی میں مغربی بلاک صوبہ ادلب پر شام حکومت کے دوبارہ کنٹرول قائم ہو جانے پر شدید پریشان نظر آتا ہے اور ہر قیمت پر جنوبی شام میں جو کچھ ہوا اسے دہرائے جانے سے روکنے کیلئے کوشاں ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اور بعض یورپی ممالک شام پر فوجی حملہ کر دیں گے یا نہیں؟ حالیہ دھمکیوں سے ان کے مقاصد کیا ہیں؟ تحریر حاضر میں انہی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
 
شام کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کاروائی کے اہداف
فرض کریں امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک شام کے خلاف فوجی کاروائی انجام دیتے ہیں تو اس کے مقاصد کیا ہوں گے؟ ایسی ممکنہ فوجی کاروائی کے دو قسم کے مقاصد ہو سکتے ہیں:
الف)۔ مختصر مدت کے مقاصد
i)۔ دہشت گرد عناصر کے حوصلے بلند کرنا: اس وقت جب شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے پاس صوبہ ادلب کے علاوہ کوئی پناہ گاہ اور ٹھکانہ باقی نہیں رہا، واشنگٹن فوجی نقطہ نظر سے انہیں شام حکومت کے خلاف مسلح اقدامات انجام دینے کیلئے تیار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صوبہ ادلب میں دہشت گرد عناصر کی کمزوری اور بے بسی کی اصل وجہ حوصلے پست ہونے سے زیادہ وہاں موجود مختلف دہشت گروہوں کے درمیان پائے جانے والے نظریاتی اختلافات ہیں۔ اسی وجہ سے اب تک اس صوبے میں مختلف گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپیں بھی رونما ہو چکی ہیں۔
ii)۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ صوبہ ادلب سے دہشت گرد عناصر کا صفایا ہو جانے کے بعد یقینی طور پر شام آرمی کی توجہ اردن اور عراق سے ملحقہ سرحدی علاقوں خاص طور پر تنف میں موجود امریکی فوجی اڈہ ہو گا۔
 
iii)۔ شام کے ساتھ ایران اور روس کے سیاسی، اقتصادی اور فوجی معاہدات کے نتیجے میں امریکہ خود کو شام کے میدان میں ہاری ہوئی قوت تصور کرتا ہے لہذا اس نے "مراعات کے حصول کیلئے دھمکی" کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے تاکہ شام پر فوجی حملے کی دھمکی دے کر شام حکومت اور اس کے حامی ممالک سے مراعات حاصل کر سکے۔ جس طرح 2013ء میں براک اوباما حکومت کے دوران امریکہ نے شام پر وسیع فوجی حملے کی دھمکیوں کے ذریعے روس کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ شام حکومت اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخائر ناکارہ بنا دے۔
iv)۔ اس وقت امریکہ کی داخلی سیاست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ شدید ترین دباو کا شکار ہیں اور ان پر مختلف پہلووں سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ وہ شام پر فوجی حملے کے ذریعے امریکی عوام میں اپنی محبوبیت بحال کرنے اور قریب الوقوع کانگریس کے انتخابات میں اچھے نتائج حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
 
ب)۔ طولانی مدت کے مقاصد
i)۔ امریکہ شام کے سیاسی اور فوجی میدان میں مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو چکا ہے لہذا اب ممکنہ فوجی کاروائی کے ذریعے یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہے کہ دریائے فرات کے مغرب میں واقع علاقوں کی طرح فرات کے مشرق والے حصے بھی واشنگٹن کیلئے اہم ہیں۔ مزید برآں، شام میں امریکی اسٹریٹجی میں زیادہ اہمیت دریائے فرات کے مشرقی حصے کو حاصل ہے جو زیادہ تر اس کے اتحادی کردوں کے کنٹرول میں ہیں۔ ابھی کچھ عرصے سے مختلف وجوہات کی بنا پر کردوں کا جھکاو شام حکومت کی طرف بڑھ گیا ہے۔ کردوں اور صدر بشار اسد کے درمیان کسی سمجھوتے کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کے آخری دنوں میں امریکہ اپنی سفارتی طاقت کھو دے گا۔
 
ii)۔ شام بحران کے خاتمے کیلئے جاری سیاسی عمل کی رفتار کم کرنے کی کوشش: اس وقت ایران، روس اور ترکی کے درمیان شام کے نئے آئین کی تدوین، آئندہ الیکشن اور شام کے سیاسی مستقبل سے متعلق امور کے بارے میں مذاکراتی عمل جاری ہے۔ امریکہ ایک شرپسند کھلاڑی کے طور پر شام میں نت نئے بحران ایجاد کرنے اور شام کے سیاسی میدان میں سرگرم کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات کی شدت میں اضافہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سنٹر فار نیو امریکن سکیورٹی (CNAS) کے تجزیہ کار نکولس ہیرس اس بارے میں لکھتے ہیں: "ٹرمپ حکومت کے پاس شام میں کامیابی کا آخری موقع ہے۔ ادلب امریکہ کے پاس شام میں اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کا آخری موقع ہے اور اگر یہ صوبہ جنیوا مذاکرات سے پہلے شام حکومت کے کنٹرول میں چلا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ امن مذاکرات شروع کروانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔"
 
شام پر امریکی حملے کے امکانات
کیا امریکہ واقعاً شام پر فوجی حملہ کرے گا؟ اس سوال کے جواب میں دو منظرنامے پائے جاتے ہیں:
پہلا امکان یہ ہے کہ امریکہ شام پر فوجی حملہ نہیں کرے گا۔ اس منظرنامے کے بارے میں کہیں گے کہ 2003ء میں عراق پر فوجی چڑھائی جیسی شام میں وسیع پیمانے پر امریکہ کی فوجی مداخلت درج ذیل دلائل کی روشنی میں ممکن نہیں:
الف)۔ جیسا کہ تہران کے حالیہ اجلاس میں واضح ہو گیا ایران اور روس کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی مکمل نابودی کے پختہ عزم کی روشنی میں شام کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کاروائی کے تباہ کن نتائج ظاہر ہوں گے اور امریکہ کو اس کا بھاری تاوان ادا کرنا پڑے گا۔
ب)۔ اس وقت امریکہ وسیع پیمانے پر فوجی کاروائی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس کی بھی دو بنیادی وجوہات ہیں: ایک یہ کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت امریکہ کے سامنے کوئی نیا محاذ قائم نہیں کرنا چاہتے اور دوسری یہ کہ اکثر یورپی ممالک اس کام میں امریکہ کا ساتھ نہیں دے رہے۔
 
اخبار "العرب" نے حال ہی میں اپنی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ شام میں صدر بشار اسد کی فوجی کامیابیوں کے نتیجے میں انہیں شام کے صدر کے طور پر قبول کر لے گا اگرچہ اس وقت دمشق اور ماسکو کو ادلب میں فوجی آپریشن نہ کرنے کی وارننگ دے رہا ہے۔ اخبار لکھتا ہے: "ہڈسن ریسرچ سنٹر کے ماہر جونس باریلی بلسنر امریکی دھمکیوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ 2018ء میں شام کی صورتحال کی پیش نظر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ دھمکیاں صرف زبان کی حد تک ہیں۔" حال ہی میں جونس باریلی بلسنر کی "خطے میں امریکی اسٹریٹجی" کے عنوان سے ایک ریسرچ شائع ہوئی ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: "حقیقت یہ ہے کہ صدر بشار اسد ایران کی مدد سے زمین پر اور روس کی مدد سے ہوا میں پیشقدمی جاری رکھیں گے جبکہ امریکی حکومت اسی طرح اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے جنیوا مذاکرات کو ہی اپنی پہلی ترجیح بنائے گی۔"
 
دوسرا امکان یہ ہے کہ امریکہ شام پر فوجی حملہ کر دے گا۔ اس منظرنامے کے تحت امریکہ کے وہی طولانی مدت اور مختصر مدت کے اہداف کارفرما ہوں گے جو ہم کالم کے آغاز میں بیان کر چکے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے اندر روس مخالف شدت پسند حلقوں کو راضی کرنا بھی ٹرمپ کے مقاصد میں شامل ہو گا۔ امریکی عوام کی توجہ اندرونی مسائل سے ہٹا کر باہر کی طرف موڑنا بھی ایک مقصد ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ حملے ماضی کے حملوں کے برعکس ان سے کچھ زیادہ وسیع بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی فوجی مداخلت کا بھی کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ نہ تو اسلامی مزاحمتی بلاک ادلب سے دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے سے چشم پوشی اختیار کر سکتا ہے اور نہ ہی دمشق حکومت اس پر کسی قسم کی سودے بازی کر سکتی ہے۔ اس ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کا صرف ایک نتیجہ نکل سکتا ہے اور وہ یہ کہ شام سے دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کچھ تاخیر سے انجام پائے۔
خبر کا کوڈ : 749462
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب