0
Tuesday 11 Sep 2018 23:17

"مرثیہ" ایسے کیوں پیش کیا جاتا ہے؟

"مرثیہ" ایسے کیوں پیش کیا جاتا ہے؟
تحریر: توقیر کھرل
 
ماہنامہ "روحانی دنیا لکھنو "میں منقول ہے کہ ایک بار میر انیس مجلس میں مرثیہ پڑھ رہے تھے کہ پاس سے راہ گیر گزرا اور دریافت کیا، کیا ہوا ہے؟ کسی نے بتایا کہ انیس مرثیہ پڑھ رہے ہیں اور محبان اہلبیت ماتم کر رہے ہیں وہ شخص چلایا۔۔۔۔سبحان اللہ 
میر صاحب واہ کیا پڑھ رہے ہو اور ماتم کرنے لگا۔ مرثیہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی کہانی، مرثیہ واقعہ کربلا سے قبل بھی لکھا جاتا تھا لیکن بعد میں فقط امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی سے منسوب ہوگیا، کیونکہ انسانیت کی تاریخ میں کوئی ایسی قربانی ارفع اور مکمل نہیں جتنی حسین ابن علی کی شہادت۔ کربلا میں پیغمبر اسلام کے نواسے کے گلے پہ چھری پھیری گئی اور کربلا کی سرزمین لہولہان ہوئی وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایسے نور میں تبدیل ہو گیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے اور نہ کوئی نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے۔ فارسی مرثیہ، عربی اور اردو مرثیہ، فارسی کے زیر اثر پرورش پاتا رہا، یوں عربی اور اردو مرثیہ نگاری کا دور سے تعلق فقط عنوان یعنی واقعہ کربلا ہی ہے۔ اردو میں مرثیہ نگاری عربی اور فارسی سے زیادہ جاذب اس وقت ہوگئی جب اردو کے شاعروں نے اس کے ارتقائی سفر کا آغاز کر دیا اور اس لئے کہا گیا کہ ہندوستانی زبانوں میں مرثیہ اپنی ہیئت کی مثال نہیں رکھتا۔ مرثیہ میں ایسے کردار اور واقعات کو شامل کیا گیا کو جو محسوسات انسانی کو زیادہ متاثر کرتا تھا۔ جیسا کہ بہن کا بھائی کی محبت میں قربان کرنا، کمسن جوانوں کا حق کے لئے جہاد کرنا،اکبر جیسے جوان کا باپ کے سامنے برچھی کا پھل کھانا، دودھ پیتے بچوں کے گلے پہ تیر کا لگنا۔ ایسے واقعات کو شامل کیا گیا جس سے نفسیاتی اور انسانی پہلو زیادہ نمایاں ہوا، اس لئے مرثیہ خوانی میں ہر مذہب و ملت کے افراد کو روحانی اور اخلاقی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔

اس ارتقائی سفر میں میر انیس نے کلیدی کردار ادا کیا اور مرثیہ کی ایسی صنف بنا دی جو ایک طرف رزمیہ اور ساتھ اخلاقی تعلیم کا ذریعہ بن گیا۔ ریحان اعظمی کے لکھے ہوئے مرثیے جو نوحہ خواں ندیم سرور پڑھتے ہیں، وہ بھی رزمیہ مرثیے ہیں جس میں تلوار، گھوڑے کی تعریف اور داو پیج مرثیہ کے سب حصے شامل ہوتے ہیں۔ بقول نسیم امروہوی یہ رزمیہ شاعری اسلئے ضروری ہے کیونکہ اس سے دل میں ولولہ اور خون میں روانی اور ظلم کا مقابلہ کرنے کی ہمت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔
میر انیس کا شعر ملاحظہ فرمائیں:
نعرے تھے حیدر کے دلیروں سے وغا ہے 
گھوڑے بھی بھڑکتے تھے کہ شیروں سے وغا ہے

ایک اور جگہ کہتے ہیں:
گھوڑے کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھات پہ باندھے ہوئے قطار
پیتے تھے آبِ نہر پرند آ کے بے شمار
سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار
پانی کا دام و در کو پلانا ثواب تھا
اک ابن فاطمہ کے لئے قحط ِ آب تھا


میر انیس نے مرثیہ میں رزمیہ اشعار کے ساتھ ساتھ لہجے اور اشاروں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بہتر کیا، دور حاضر میں بھی ندیم سرور اپنی آواز میں سوز میں بہتری کے خواہش مند رہتے ہیں۔ انیس بھی ندیم سرور کی طرح اپنے سننے والوں کے سامنے اپنی آواز کی مدد سے ان دیکھے مناظر اور پیش اور ان کے دلوں میں جذبات کو پیدا کرسکتے تھے۔ جیسا کہ مجالس میں ذاکرین عظام مجلس عزاء میں قصیدہ خوانی اور مرثیہ گوئی میں کرتے ہیں۔ مرزا انیس بھی لہجے، آواز، چشم و ابرو کے اشارے سے مرثیہ پڑھتے تھے جس کا سامعین پر بھی اثر پڑتا تھا۔ واقعات انیس میں مرزا علی نے لکھا ہے کہ میر کی مجلس میں میانے کی چوبوں سے سر ٹکرانا اور سر و سینے کو ایسے پیٹنا جیسے ماتمی دستے والے ماتم کرتے ہیں، کھڑے ہوکر داد دینا اور وجد میں آجانا معمول تھا۔ مرثیہ ابتداء سے انیس تک موضوع اور ییئت میں ارتقاء کا سفر کرتا رہا مرثیہ میں کربلاء کے ہرکردار کو الگ اہمیت اور حیثیت دینے کے بعد انیس تک آتے آتے درجہ کمال پاگیا۔

میر ببر علی انیس کو دشت کربلا کا عظیم ترین سیّاح قرار دیا گیا ہے۔ اُن کے مرثیوں کی تعداد بارہ سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے بقول انیس:
عمر گزری ہے، اسی دشت کی سیاحی میں 
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں

"مجلّہ نقوش انیس نمبر" میں بہ تحقیقِ عمیق میر انیس کے ۲۶ نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی طبع کئے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ان کے کئی مرثیے ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں مختلف بیاضوں کے اندر موجود ہیں۔ میر انیس نے روایتی مرثیہ کے علاوہ سلام، قصائد، نوحہ اور رباعیات کا بھی کثیر ذخیرہ چھوڑا ہے۔ میرانیس کے ہاں مرثیوں میں قصیدے کی شان و شوکت، غزل کا تغزل، مثنوی کا تسلسل، واقعہ اور منظر نگاری اور رباعی کی بلاغت سب کچھ موجود ہے۔ انیس کے مرثیے رزمیہ شاعری کے شہکار ہیں۔ مناظر قدرت کے بیان، انسانی جذبات کی مصوری اور رزم آرائی میں انہوں نے حیرت انگیز واقفیت کا ثبوت دیا ہے۔ فنی مہارت بلند تخیل اور مضمون آفرینی کی اس سے بہتر مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ انیس کے مرثیوں میں مبالغہ بھی ہے اور تکلف و تصنع بھی۔ لیکن ایک تو ان چیزوں میں اعتدال ہے دوسرے ان کی شعری خوبیوں نے ان سب پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ یہ چیزیں عیب کی جگہ حسن بن گئیں ہیں۔

جدید تنقیدی بصیرت کی رُو سے مرثیہ گوئی کو فن شاعری کا سب سے حساس اور کٹھن عمل قرار دیا گیا ہے۔ باریک بین افراد جانتے ہیں کہ کئی اصنافِ سخن پر فنی گرفت رکھے بغیر ایک فکر انگیز اور جاندار مرثیہ نہیں کہا جا سکتا۔ شعر پر فنی گرفت کے ہمراہ جتنی فصاحتِ کلام، بلاغت، حسّاسیت اور علمی و فکری مواد پر دسترس کی ایک کامیاب مرثیہ نگار کو ضرورت ہوتی ہے اتنی سعی ٔ نقد کسی اور صنفِ سخن میں مطلوب نہیں ہوتی۔ میر انیس نے تشبیہات اور استعارات کے نہایت دلکش نقش و نگار بنائے ہیں اور عجب خوشنما رنگ بھرے ہیں۔ تشبیہ کی خوبیاں جس قدر میرانیس کے کلام میں پائی جاتی ہیں اُردو زبان میں اور کہیں نہیں مل سکتی ۔ مثلاً جب حضرت عباس پر چاروں طرف سے پرچھیاں چلنے لگیں تو یہ حالت اس طرح ظاہر کی۔
یوں برچھیاں تھیں چاروں طرف اس جناب کے
جیسے کرن نکلتی ہے گرد آفتاب کے
خبر کا کوڈ : 749505
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش