0
Wednesday 12 Sep 2018 18:08

محرم الحرام کا آغاز، کراچی میں دہشتگردی کا خدشہ، حکومتی و سکیورٹی اداروں کے انتظامات مکمل

محرم الحرام کا آغاز، کراچی میں دہشتگردی کا خدشہ، حکومتی و سکیورٹی اداروں کے انتظامات مکمل
رپورٹ: ایس حیدر

ماہ محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر کی طرح شہر قائد میں بھی مجالس و جلوس ہائے عزا کے انعقاد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اسی تناظر میں محرم الحرام کے دوران دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ نے دفعہ 144 کے تحت 1 سے 10 محرم الحرام امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے اسلحہ کی نمائش، لاﺅڈ اسپیکر کے بے جا استعمال، قابل اعتراض و اشتعال انگیز وال چاکنگ کرنے، پوسٹرز اور بینرز، اشتعال انگیز و نفرت انگیز تقریر پر مبنی آڈیو/وڈیو کیسٹ، عوامی مقامات پر کیبل ٹرانسمیشن، سی ڈی/ڈی وی ڈی/وی سی آر چلانا، ماتمی جلوسوں کے دوران چھتوں پر افراد کی موجودگی، متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر جلوسوں و مجالس کا انعقاد، محرم کے جلوسوں اور مجالس کے سوا افراد کے جمع ہونے، کیبل آپریٹرز کے اشتعال انگیز اور نفرت انگیز آڈیو، وڈیو کیسٹ چلانے پر پابندی ہوگی، 8، 9 اور 10 محرم الحرام کے روز موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، میڈیا چینلز کی جانب سے ہیلی کیم سے ریکارڈنگ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے اسلحہ لیکر چلنے کے اجازت نامہ مذکورہ عرصہ میں منسوخ تصور کئے جائیں گے، جبکہ 12 سال سے کم عمر بچے، بزرگ شہری، صحافی، وردی میں ملبوس قانون نافذ کرنے والے اداروں، سکیورٹی ایجنسیز کے اہلکار اور اور ضروری سروسز کے افراد موٹر سائیکل کی ڈبل سواری کی پابندی سے مستثنیٰ ہونگے۔ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے محرم الحرام کے حوالے سے تمام ذونل ڈی آئی جی پی، ضلعی ایس ایس پی، ڈی ایس پیز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ محرم الحرام کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے امام بارگاہوں، مجالس اور مختلف علاقوں سے برآمد ہونے والے جلوسوں، مرکزی جلوسوں کی سکیورٹی کے اقدامات کو فول پروف بنائیں، محرم الحرام کی مناسبت سے شیعہ اور سنی علماء کرام و دیگر منتظمین سے باہمی رابطے میں رہیں اور انہیں آمادہ کریں کہ وہ احتیاطی طور پر اپنے اسکاؤٹس و رضاکاروں کو بھی پولیس نفری کے ہمراہ تعینات کریں، تاکہ مشکوک افراد کی نشاندہی میں مدد مل سکے۔

انہوں نے تمام ڈی آئی جی پیز کو ہدایت جاری کیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جلوسوں کے مقرر کردہ راستوں، اوقات اور جلوس کے آغاز و اختتام کے مقامات میں کسی انحراف یا جدت کی اجازت نہیں دیں گے اور مساجد، امام بارگاہوں اور چھوٹے بڑے جلوسوں پر اسکیل کے مطابق نفری تعینات کی جائے گی، مرکزی شاہراہوں اور گلیوں میں موٹر سائیکل گشت کرایا جائے، تاکہ عوام الناس کو مکمل تحفظ کا احساس ہو اور وہ بلاخوف و خطر آجا سکیں۔ تمام ڈی آئی جی پی انٹیلی جینس کلیکشن و شیئرنگ کے عمل کو تھانوں کی سطح پر مربوط اور مؤثر بنائیں، تاکہ دہشتگرد عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکے، کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند، انتہاء پسند یا ریاست مخالف عناصر موجودہ حالات کے پیش نظر محرم الحرام کے موقع پر دہشتگرد کارروائیاں عمل میں لا سکتے ہیں، لہٰذا دہشتگردوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، اہم تنصیبات و عوامی املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، ایس ایچ اوز کو پابند کیا جائے کہ وہ علاقہ گشت اور سکیورٹی ڈپلائمنٹ کو وقتاً فوقتاً ڈیوٹی پوائنٹ پر چیک کریں۔

سندھ رینجرز کی جانب سے بھی محرم الحرام کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ رینجرز کی جانب سے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام مکاتب فکر کی عبادت گاہوں، مجالس، امام بارگاہوں اور مساجد کے اطراف اسنیپ چیکنگ، موبائل پٹرولنگ اور موٹر سائیکل گشت کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کراچی سمیت بھر میں مختلف علاقوں میں رینجرز اور پولیس کی طرف سے مسلسل مشترکہ فلیگ مارچ بھی کئے جائیں گے۔ سندھ حکومت کی طرف سے دیئے گئے احکامات کی روشنی میں مربوط حکمت عملی بھی مرتب کی گئی ہے، جس کے تحت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ محرم الحرام کے موقع پر رینجرز کی بھاری نفری کراچی اور اندرون سندھ میں مرکزی جلوسوں کی نگرانی کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ جلوس کی گزرگاہ میں آنے والے راستوں کو مکمل سیل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور کسی بھی قسم کے اسلحے کی نمائش پر پابندی ہوگی۔

اس مناسبت سے سندھ رینجرز نے تمام مکتبہ فکر کے علماء کرام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ مروجہ قوانین اور ضابطہ اخلاق کی مکمل پاسداری کریں اور ساتھ ہی ساتھ عوام الناس سے بھی گزارش کی ہے کہ اخوت اور بھائی چارے کی فضاء کو قائم رکھیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا مشکوک چیز یا فرد کی اطلاع فورٍی طور پر قریبی چیک پوسٹ کو دیں یا رینجرز مددگار 1101 پر کال کریں۔ محرم الحرام کے حوالے سے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس کراچی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں میئر کراچی وسیم اختر، حاجی حنیف طیب، علامہ عباس کمیلی، یوسف سلیم عطاری، صدیق راٹھور، مولانا رسول اللہ، مفتی سلیم الدین، مولانا حسرت ولی، احمد اویس تھانوی، احمد مصطفیٰ تھانوی، مولانا فرقان حیدر عابدی، علامہ سید وقار حسین تقوی، شبر رضا، حاجی محمد عاطف بلو، شاہ اویس، مولانا آغا سید سبط حیدر موسوی اور دیگر علماءکرام سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ اجلاس میں محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے، جلوسوں، مجالس اور مذہبی اجتماعات کی سکیورٹی، صحت و صفائی کی صورتحال اور بنیادی سہولیات کی مسلسل فراہمی کے اقدامات پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ میں علمائے کرام کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے، تمام مسالک کی مشاورت سے طے کئے جانے ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کی سب سے زیادہ ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے، اس ضمن میں محرم الحرام میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ گورنر سندھ نے علماء کرام کی تجاویز کے مطابق محرم الحرام میں انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی وہ علماء کرام کے تعاون سے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائیں، کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے محفوظ رہنے کیلئے نگہبان کیمروں سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے محرم الحرام کے حوالے سے قائم کمیٹی کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی، وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر برائے مذہبی امور فراز حسین ڈیرو، سیکرٹری داخلہ سندھ، کمشنر کراچی، ایڈیشنل کمشنر، تمام ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنرز، پولیس کے اعلیٰ افسران اور دیگر افسران کے علاوہ اہل تشیع، اہلسنت، دیوبند، اہلحدیث سمیت تمام مسالک کے علما کرام نے شرکت کی۔

اس موقع پر تمام مکاتب فکر کے علما کرام کی جانب سے محرم الحرام کے ساتھ ساتھ ماہ ربیع الاول اور دیگر ماہ مقدس کے حوالے سے سکورٹی، امن و امان، صفائی ستھرائی سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے، عزاداران، ماتمی جلوسوں، مجالسوں اور ان میں شرکت کرنے والے عوام کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کیلئے سندھ حکومت اور ان کے ماتحت محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ علماء کرام کی صوبے میں پابندی کے حوالے سے نوٹیفیکیشن پر خود وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ہم نہیں چاہتے کہ جو علما کرام صوبے میں قیام امن میں کوشاں ہیں، چاہے ان کا کسی بھی مسلک سے تعلق ہو، ان پر پابندی عائد کی جائے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں بلدیاتی مسائل کے حل کیلئے ماہ محرم الحرام میں خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ کے الیکٹرک، واپڈا، حیسکو اور سیبکو کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ایام محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور مجالس کے مقامات کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔

اجلاس میں بلدیاتی، داخلہ اور ورکس اینڈ سروسز سمیت جن جن محکموں کے مسائل کی جانب توجہ دلائی گئی، ان تمام کے فوری ازالہ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس طرح کے اجلاس کا سلسلہ یوم عاشور کے بعد اور ہر تین ماہ میں ایک بار کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ سکیورٹی کا مقصد ان مجالس، محافل اور جلوسوں کو ٹارگٹ سے بچانا ہے اور اس کیلئے ہم تمام مکاتب فکر کے علماء کے مشکور ہیں کہ وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور تعاون کرتے ہیں، واٹر اور سیوریج کے علاوہ محکمہ بلدیات کے زیر انتظام تمام مسائل کے حل کیلئے پہلے ہی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ تمام مسائل کے تدارک کیلئے ایڈیشنل کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جہاں سندھ حکومت یا محکمہ بلدیات سے مدد کی ضرورت ہوئی، تو ہم اس کیلئے تیار ہیں۔ صوبائی وزرا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ علما کرام بھی اپنی سفارشات ہمیں مرتب کرکے دیں، تو ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ سندھ حکومت ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ کراچی میں محرم الحرام کے حوالے سے پولیس، رینجرز و دیگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے شہری حلقوں نے اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 749655
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب