0
Saturday 15 Sep 2018 19:27

پاراچنار، محرم سکیورٹی نیز اسلحہ کے حوالے سے آرمی جنرل کی بریفنگ(2)

پاراچنار، محرم سکیورٹی نیز اسلحہ کے حوالے سے آرمی جنرل کی بریفنگ(2)
رپورٹ: علی اصغر طوری

گذشتہ سے پیوستہ
انہوں نے بالکل حق بجانب کہا کہ کُل دین حسین کی ذات ہے اور یہ کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد امام حسین علیہ السلام ہیں۔ انہوں نے کہا، واضح رہے کہ امام حسین نے سلطنت کے حصول کے لئے قیام نہیں کیا کیونکہ اگر ایسا کرنے کا مقصد ہوتا تو وہ اسطرح بے سروسامانی اور بچوں اور خواتین کے ساتھ کربلا نہ جاتے۔ چنانچہ علامہ اقبال رح نے اسی ضمن میں کہا ہے:
مدعاء سلطنت بودی اگر
چوں نکردی باچنیں ساماں سفر

امام حسین علیہ السلام کے پیش نظر صرف اللہ اور اسکا دین اسلام تھا۔ چنانچہ امام حسین مسلمانوں کے مابین متنازعہ شخصیت نہیں ہیں بلکہ انہیں تو غیر مسلم ہندو اور سکھ بھی اپنا پیشوا تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کو ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہمارے علماء اور اہل منبر تقریبا تمام کے تمام ذمہ دار افراد ہیں، چنانچہ انکی جانب سے بالکل بےفکر رہیں۔ انشاء اللہ انکی جانب سے کبھی بھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ نہ ہی ہمارے علماء کوئی غیر ذمہ دار بات کرتے ہیں۔

اسکے بعد دوسرے موضوع یعنی اسلحہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حاجی عابد حسین نے کہا کہ اگر میں جے یو سی صاحب یا دیگر فوجی آفیسرز کو بریفنگ دینا چاہوں تو یہ حماقت ہوگی کیونکہ دنیا کے حالات پر انہیں ہم سے ہزار گنا زیادہ معلومات حاصل ہیں۔ تاہم از حیث تذکر اتنا کہوں کہ دنیا بھر میں تکفیری دہشتگردوں کو شکست پر شکست نصیب ہو رہی ہیں۔ عراق، شام اور مشرق وسطٰی میں جگہ جگہ یہ دہشتگرد ٹولے نہایت ذلت آمیز شکست سے روبرو ہوئے۔ تاہم بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دہشتگردوں کے سرپرست امریکہ، یورپ اور اسرائیل کی روز ازل سے ہی یہی دلی آرزو ہے کہ اسلام اور اسلام کے مضبوط قلعے پاکستان کو نابود کردے۔ چنانچہ انہوں نے اب ان دہشتگردوں کو پاکستان کی پشت یعنی افغانستان میں بسانے کی گھناؤنی سازش شروع کردی اور اس سازش کے تحت تیزی کے ساتھ انہیں افغانستان میں لاکر بسا رہے ہیں۔ جس کا ہر شخص کو بخوبی علم ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ تکفیریوں کے نظریئے سے سب واقف ہیں، وہ پاک فوج کو مرتد جبکہ شیعوں کو کافر کہتے ہیں۔ انکا پہلا ہدف پاک فوج اسکے بعد شیعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا اور بڑا سہارا اور وسیلہ اللہ تعالی اسکے بعد محمد وآل محمد ہیں اور اسکے بعد ہماری نظریں دھرتی کی محافظ پاک فوج پر ہیں کیونکہ یہ میجر عزیز بھٹی اور راشد منہاس شہید کے شاگرد ہیں۔ یہ انشاء اللہ جب تک مریں گے نہیں، پیچھے نہیں ہٹیں گے، تاہم بارڈر پر تو فوج کی تعداد اتنی بھی نہیں ہے۔ خدا نخواستہ اگر دہشتگردوں نے بڑی افرادی قوت اور طاقت کے ساتھ اس بارڈر سے پاکستان پر حملہ کیا۔ تو موقع پر موجود فوجی جوان تو اپنی جان کا نذرانہ پیش کریں گے۔ اسکے بعد وہ آگے بڑھ کر ہمیں اپنی جنایت و بربریت کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی چند ہی ایام کی بات ہے کہ افغان صوبے غزنی پر تکفیریوں نے حملہ کیا تو موقع پر موجود معمولی سی افغان فوج نے کسی حد تک مزاحمت تو کی، مگر جب ان میں سے کچھ کو مارا اور کچھ بھاگنے پر مجبور ہوگئے تو ان ظالموں نے پاس موجود شیعہ آبادی پر ہلہ بول دیا اور وہاں کے نہتے افراد کو بیدردی سے مار دیا۔ خواتین کو قیدی بنالیا جبکہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو مکانوں کے چھتوں سے گرا کر قتل کردیا۔
 
بالکل اسی طرح ہمارا بھی یہی حشر کیا جائیگا۔ انہوں نے آفیسرز نیز شرکاء سے نہایت معذرت خواہانہ لہجے میں کہہ کر انکی توجہ اس طرف مبذول کروائی اور کہا کہ اہلسنت کا موازنہ شیعوں کے ساتھ نہ کیا جائے کیونکہ جتنے دہشتگرد ہیں وہ مسلکا اہلسنت ہیں۔ ہاں اہلسنت خود دہشتگرد نہیں، تاہم دہشتگرد اہلسنت ہیں۔ طالبان، داعش، لشکر جھنگوی، جنداللہ، القاعدہ اور سپاہ صحابہ جتنی بھی دہشتگرد تنظیمی ہیں انکا مسلک اہل سنت ہے اور اہلسنت ہونے کے ناطے یہ لوگ انکی طرف نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ یہاں گھس آنے کی صورت میں انکا پہلا نشانہ پاک فوج، جبکہ اگلا نشانہ یہاں کے شیعہ قبائل ہی ہونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ جو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ یہاں لڑائیاں مذہب کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے، یہ لوگ بیشک مذہبی ہیں، تاہم اتنے بھی نہیں، کہ وہ مذہب کی بنیاد پر اتنی خطرناک لڑائیاں لڑیں۔ مذہبی ہوتے تو واجبات یعنی خمس وزکواۃ اور صدقات وغیرہ بروقت ادا کرتے۔ چنانچہ ایسا نہیں۔ بلکہ یہاں 99 فیصد لڑائیاں اراضی (پہاڑوں، بنجر زمین، صحرا، شاملات، مکانات، مارکیٹوں، پانی اور پانی کی نہروں) پر ہوتی ہیں۔ ہم نے حکومت سے بار بار مطالبہ بھی کیا ہے، کہ اس سلسلے میں ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دیں اور ان مسائل کا حل ریونیو ریکارڈ کے مطابق جلد از جلد نکالیں۔ تب ہمارے درمیان کوئی مسئلہ رہے گا اور نہ ہی کوئی لڑائی ہوگی۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ ہم ریاست نیز حکومت کے حامی ہیں۔ ہم اس ملک میں ایک مضبوط حکومت کے خواہاں ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کا فرمان ہے، "جہاں حکومت نہ ہو، وہاں سے ہجرت کرنا چاہیئے"۔ اور سب کو پتہ ہے کہ 2007ء کے فسادات کے دوران ہم نے طالبان سے اس علاقے کو بھی بچا کے رکھا اور ساتھ ہی پاکستانی پرچم کو بھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اور حکومت کی رٹ ہم ہی نے قائم رکھی۔ چنانچہ یہ ممکن ہی نہیں کہ ہم وطن عزیز یا حکومت کی مخالفت کریں۔ پاک فوج کی حمایت ہمیشہ جاری رکھیں گے اور ہر میدان میں انکے شانہ بشانہ لڑتے رہیں گے۔ اسکے ساتھ ہی پروگرام کا اختتام ہوگیا۔ اہلیان کرم کی صحیح نمائندگی کرنے پر شرکاء جلسہ میں سے عمائدین نیز سرکاری افسران نے انکو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
خبر کا کوڈ : 750004
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے